تیتو میر کون تھے؟

   
اپریل ۱۹۹۰ء

سوال: تحریکِ آزادی کے حوالہ سے بعض مضامین میں تیتومیرؒ کا ذکر آتا ہے، یہ کون بزرگ تھے اور تحریکِ آزادی میں ان کا کردار کیا ہے؟ (محمد عاصم بٹ، گکھڑ ضلع گوجرانوالہ)

جواب: تیتومیرؒ کا نام نثار علی تھا، بنگال کے رہنے والے تھے، اپنے گاؤں نوکل باڑیہ میں لٹھ مار قسم کے نوجوان شمار ہوتے تھے۔ یہ اس دور کی بات ہے جب امیر المؤمنین سید احمد شہیدؒ اور امام المجاہدین شاہ اسماعیل شہیدؒ جہادِ آزادی کی تیاری کے سلسلہ میں حجاز مقدس گئے ہوئے تھے۔ نثار علی بھی اسی سال حج کے لیے گئے، سید احمد شہیدؒ سے ملاقات ہوئی، ان کی صحبت نے ذہن کا رخ بدل دیا، دل میں آزادی کا جذبہ انگڑائی لینے لگا، واپس آکر علاقہ کے ہندو زمینداروں اور جاگیرداروں کے خلاف نوجوانوں کو منظم کرنا شروع کر دیا اور دینی اقدار کی ترویج کے لیے جدوجہد کی۔ نثار علی کی محنت سے نوجوانوں کا ایک اچھا خاصا گروہ دینداری کی طرف مائل ہوا، نماز کی پابندی کے ساتھ داڑھی کی سنت بھی زندہ ہونے لگی، ہندو جاگیرداروں نے دینی بیداری کو خطرہ سمجھتے ہوئے اس رجحان کو قوت کے زور سے دبانا چاہا اور داڑھی پر ٹیکس لگا دیا۔ نثار علی کے گروہ نے ٹیکس دینے سے انکار کر دیا، کشمکش بڑھی اور محاذ آرائی کی صورت پیدا ہوگئی۔

نثار علی نے ہزاروں ساتھیوں کے ساتھ اپنے گاؤں میں مورچہ بندی کر لی اور اردگرد کے علاقہ پر قبضہ کر کے انگریزی اقتدار کے خاتمہ اور مسلمانوں کی حکومت کے قیام کا اعلان کر دیا۔ ہزاروں مجاہدین کے ساتھ نثار علی نے یلغار شروع کی، انگریزی فوج اس کا سامنا نہ کر سکی اور بالآخر کلکتہ سے کمانڈر الیگزینڈر کی قیادت میں انگریزی لشکر مقابلہ کے لیے آیا لیکن اسے بھی شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے بعد کلکتہ سے دوسرا انگریزی لشکر آیا جس سے مقابلہ کرتے ہوئے نثار علی نے، جو اَب تیتومیر کے لقب سے مشہور ہو چکے تھے، جامِ شہادت نوش کیا اور ان کے متعدد ساتھیوں کو گرفتار کر کے بعد میں پھانسی دے دی گئی۔ امیر المؤمنین سید احمد شہیدؒ نے بالاکوٹ میں مئی ۱۸۳۱ء میں جامِ شہادت نوش کیا جبکہ ان کے تربیت یافتہ بنگالی مجاہد نثار علی عرف تیتومیرؒ اسی سال نومبر یا دسمبر میں عروسِ شہادت سے ہمکنار ہوئے۔

   
2016ء سے
Flag Counter