جاحظیہ کون تھے؟

   
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۱۹۹۰ء

سوال: جاحظیہ کون تھے اور ان کے عقائد کیا تھے؟ (محمد عبد اللہ، وہاڑی)

جواب: جاحظیہ، معتزلہ کی ایک شاخ ہیں۔ یہ لوگ عمرو بن بحرین الجاحظ کے پیروکار تھے جو معتصم باللہ اور متوکل علی اللہ عباسی خلفاء کے دور (دوسری صدی ہجری کے نصف اول) میں ایک بڑا عالم تھا۔ ان کے چند ایک عقائد کا یہاں تذکرہ کیا جاتا ہے جو جمہور معتزلہ سے جدا ہیں:

(۱) عقائد (علمِ الٰہی) بالکلیۃ ضروری ہیں اور ہر انسان ان کو طبعی طور پر جانتا ہے حتٰی کہ خدا اور نبی کا مفہوم بھی جانتا ہے۔

(۲) اہلِ جہنم کو جسمانی سزا نہیں ملے گی بلکہ آگ ان کو اپنے اندر جذب کر لے گی اور وہ آگ ہی بن جائیں گے۔

(۳) تمام صفاتِ باری تعالٰی (علم، حیات، ارادہ، قدرت، سمع، بصر وغیرہ) کے اصلاً منکر ہیں۔

(۴) خلقِ قرآن کے بارے میں اس حد تک معتقد تھے کہ ان کے نزدیک قرآن مرد اور عورت کی شکل بھی اختیار کر سکتا ہے۔

(الملل والنحل للامام الشہرستانیؒ ج ۱ ص ۹۱ ۔ ۹۴)
   
2016ء سے
Flag Counter