جارج ڈبلیو بش کی کامیابی اور عالمِ اسلام

   
تاریخ : 
۱۰ نومبر ۲۰۰۴ء

جارج ڈبلیو بش (George Walker Bush) دوسری مدت کے لیے امریکہ کے صدر منتخب ہو چکے ہیں اور ان کے حریف جان کیری نے اپنی شکست تسلیم کرتے ہوئے انہیں مبارکباد دی ہے۔ اس پر حسبِ توقع دنیا بھر میں تبصروں کا سلسلہ جاری ہے، فتح کے اسباب کا ذکر ہو رہا ہے اور مستقبل کے نقشے کے بارے میں مختلف قیاس آرائیاں کی جا رہی ہیں۔

امریکہ کی صدارتی الیکشن مہم کے دوران راقم الحروف نے آٹھ دس دن واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں گزارے اور اس الیکشن کے بارے میں مسلمانوں کے جذبات اور کوششوں کا تذکرہ اپنے ایک کالم میں کر چکا ہوں۔ یہ درست ہے کہ امریکہ میں مقیم مسلمانوں کی بڑی اکثریت صدر بش کے خلاف تھی اور صرف اسی وجہ سے جان کیری کو نہ صرف ووٹ دیے گئے بلکہ ان کی حمایت میں بعض مسلمان حلقوں کی طرف سے مہم بھی چلائی گئی۔ لیکن اس کے باوجود حالات پر نظر رکھنے والے متعدد مسلم راہنماؤں کی رائے یہ تھی کہ اس الیکشن میں جارج واکر بش ہی کامیاب ہوں گے۔ ان کا خیال تھا کہ جان کیری ذاتی طور پر خود کو ایک مضبوط اور باعثِ کشش امیدوار کے طور پر پیش نہیں کر سکے اس لیے وہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی کے محفوظ ووٹ ہی حاصل کر پائیں گے، یا انہیں صدر بش سے ناراضگی کا اظہار کرنے والوں کے ووٹ ملیں گے۔

جبکہ دوسری طرف صدر بش امریکی رائے عامہ کو متعدد حوالوں سے اپنی ضرورت کا احساس دلانے میں کامیاب رہے ہیں۔ جن میں مبینہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ان کا بے لچک موقف اور کردار سرفہرست ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے امریکی عوام کو یہ باور کرا دیا ہے کہ جن عناصر کو دہشت گرد قرار دے کر وہ جنگ لڑ رہے ہیں وہ فی الواقع ایسے دہشت گرد ہیں جن سے عالمی امن کے ساتھ ساتھ امریکی سلامتی کو بھی خطرہ ہے، اس جنگ میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے وہ جو کچھ بھی کر رہے ہیں وہ جنگ جیتنے یا امریکی سلامتی کے تحفظ کے لیے ناگزیر ہے۔

اس عمومی تاثر کے بعد امریکی عوام سے یہ توقع رکھنا عبث تھا کہ وہ صدر بش کے علاوہ اس موقع پر امریکہ کی قیادت کے لیے کسی اور کو ترجیح دیں گے۔ اس لیے بہت سے مسلم راہنماؤں نے مجھ سے کہا کہ اگرچہ ہمارے حلقوں میں افغانستان، عراق اور فلسطین کے حوالے سے صدر بش کی پالیسیوں کے خلاف ناراضگی کے اظہار کے طور پر جان کیری کو ووٹ دینے کا رجحان غالب ہے، لیکن کامیابی کا امکان صدر بش کا ہی زیادہ ہے۔

جہاں تک مسلمانوں کے جذبات کی بات ہے، اس کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ مجھے ایک مسلمان ٹیکسی ڈرائیور نے، جو واشنگٹن ڈی سی کے علاقے میں ٹیکسی چلاتا ہے، بتایا کہ ہم پانچ سو مسلمان ڈرائیوروں نے یہ فیصلہ کیا ہے اور اس کا اعلان بھی کر دیا ہے کہ ہم الیکشن والے دن کام نہیں کریں گے۔ اور جو مسلمان فیملی اس روز جان کیری کو ووٹ دینے کی غرض سے پولنگ اسٹیشن تک جانے کے لیے ہماری ضرورت محسوس کرے گی، اسے مفت ٹیکسی سروس فراہم کریں گے۔

مسلمانوں کی طرح یہودیوں کی اکثریت نے بھی صدر بش کے خلاف ووٹ دیا ہے۔ اخبارات میں شائع ہونے والی ایک سروے رپورٹ کے مطابق جان کیری کو ۷۸ فیصد یہودیوں کے ووٹ ملے ہیں، لیکن اس سب کچھ کے باوجود الیکشن میں کامیابی جارج واکر بش کے حصے میں آئی ہے، انہوں نے اسے اپنی پالیسیوں پر امریکی عوام کی طرف سے اعتماد کا اظہار قرار دیتے ہوئے ان پالیسیوں کو جاری رکھنے کا اعلان کر دیا ہے۔

صدر بش کی اس کامیابی کے عوامل میں ایک بڑی بات مذہبی اقدار کے ساتھ ان کی دلچسپی اور خاندانی نظام کے تحفظ کے بارے میں ان کے جذبات بھی ہیں، جن کا اظہار انہوں نے الیکشن مہم کے دوران کامیابی کے ساتھ کیا ہے۔ جارج بش اپنے چار سالہ دورِ صدارت، پھر الیکشن مہم کے دوران یہ تاثر دینے میں کامیاب رہے ہیں کہ وہ مذہب اور مذہبی اقدار کے ساتھ دلی وابستگی رکھتے ہیں، اور سوسائٹی میں مذہبی اقدار کی بحالی و فروغ کے لیے کردار ادا کر سکتے ہیں۔ اسی طرح انہوں نے جس دوٹوک انداز میں ہم جنس پرستی کی مخالفت کی ہے اور کہا ہے کہ شادی صرف مرد اور عورت کے درمیان ہی ہو سکتی ہے، بلکہ اس مقصد کے لیے انہوں نے امریکی دستور میں ترمیم کی ضرورت کا بھی بعض مواقع پر ذکر کیا، ان کے اس موقف نے امریکہ کے مذہبی حلقوں میں ان کے لیے کشش پیدا کی ہے۔

واشنگٹن (ڈی سی) میں بھی ایک دوست نے مجھے بتایا کہ امریکہ کے بہت سے چرچ اور مذہبی رہنما صدارتی الیکشن میں صدر بش کی کامیابی کے لیے متحرک ہیں۔ ہمارے خیال میں صدر بش اور جان کیری کے درمیان انتخابی مہم کے دوران اگرچہ بہت سے دوسرے مسائل سرفہرست رہے ہیں، لیکن پس پردہ سب سے بڑا محرک یہی فرق سمجھ آ رہا ہے کہ صدر بش کی مذہبی اقدار و خاندانی نظام کے تحفظ کے بارے میں دلچسپی، جبکہ جان کیری کا ان معاملات میں لبرل انداز، امریکی ووٹروں کی توجہ کا مرکز رہے ہیں۔ الیکشن کے بعد جان کیری نے اپنے تبصرے میں امریکی قوم کے دو حصوں میں تقسیم ہو جانے کے جس خدشے کا اظہار کیا ہے، اس کا پس منظر بھی ہمارے نزدیک یہی ہو سکتا ہے۔

امریکی معاشرے کو قریب سے دیکھنے والے حضرات اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ دنیا کے اس سب سے زیادہ ترقی یافتہ اور طاقتور ملک کے عوام میں ایک خاموش کشمکش بدستور جاری ہے- جس میں وہ جو ’’قدامت پسند‘‘ کہلاتے ہیں اور سوسائٹی کے اجتماعی معاملات میں ،مکمل طور پر نہ سہی، مگر کسی نہ کسی حد تک مذہبی اقدار کی بحالی کے حق میں ہیں، وہ خاندانی سسٹم پر یقین رکھتے ہیں اور اس کے منافی اقدار کے مسلسل فروغ سے ناخوش ہیں۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ اس الیکشن میں انہوں نے زیادہ منظم انداز میں اپنی رائے کا اظہار کیا ہے جو ظاہر ہے کہ صدر جارج بش کے حق میں تھی، غالباً اسی کو دیکھتے ہوئے امریکی قوم کے تقسیم ہو جانے کا خدشہ شکست خوردہ صدارتی امیدوار جان کیری کی زبان پر آیا ہے۔

صدر بش کامیابی کے بعد اپنے اگلے چار سالہ دور کے لیے نئی صف بندی میں مصروف ہیں۔ وہ اپنے ایجنڈے اور مشن کو اس مدت میں بہرحال پورا کرنے کے لیے تازہ دم ٹیم کو میدان میں اتارنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ الیکشن میں واضح کامیابی نے انہیں اپنے پروگرام اور عزائم کے حوالے سے نیا اعتماد اور حوصلہ بخشا ہے۔ سینٹ اور ایوانِ نمائندگان میں ری پبلک پارٹی کی برتری نے ان کی قوت میں اضافہ کیا ہے، اس لیے اب اس بات میں کسی شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ عالمی سطح پر وہ مسائل کو جس طرح ڈیل کر رہے ہیں اور جس جس محاذ پر پیشرفت کر رہے ہیں اس کا تسلسل اگلے چار سال تک نہ صرف باقی رہے گا بلکہ اس کی شدت میں مزید اضافہ ہو گا۔

جہاں تک عالمِ اسلام کے مختلف حصوں میں امریکہ اور اس کے ہمنواؤں کے خلاف مسلح مزاحمتی تحریکوں کا تعلق ہے، وہ القاعدہ ہو یا اس طرز کے دوسرے گروپ، وہ اپنی پالیسی اور طریق کار میں کسی قسم کی تبدیلی کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے، یا یوں سمجھ لیجئے کہ اس کی گنجائش نہیں پا رہے، کیونکہ انہیں ایسی کسی تبدیلی کے بارے میں سوچنے کا موقع ہی نہیں دیا جا رہا، اور ان کے مکمل خاتمے کو ہی اصل اور آخری ہدف قرار دے دیا گیا ہے۔ لہٰذا اس محاذ کے حوالے سے ’’دیکھئے اور نتائج کا انتظار کیجئے‘‘ کے سوا سرِدست کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

باقی رہی بات مسلم حکومتوں کی، تو ان کی بے بسی اور لاچاری میں امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج نے مزید اضافہ کر دیا ہے اور وہ ’’ٹک ٹک دیدم، دم نہ کشیدم‘‘ کی عملی تصویر بن کر رہ گئی ہیں۔ اگرچہ عالمی سطح پر ان کی تنظیم (او آئی سی) موجود ہے، مسلم سربراہوں کی کانفرنسیں بھی وقتاً فوقتاً ہوتی رہتی ہیں، لیکن ان کانفرنسوں کی عملی حیثیت گپ شپ کے فورم اور رسمی قراردادوں کے اعلان سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔ اس لیے ان سے یہ توقع رکھنا عبث ہو گا کہ وہ موجودہ صورتحال میں حالات کے مزید بگاڑنے کو روکنے کے لیے کوئی کردار ادا کر سکیں گے۔

اس صورتحال پر آزادانہ سوچ بچار اور معروضی حقائق کے ادراک کے ساتھ مسلم اُمہ کی صحیح سمت رہنمائی کے لیے ایک ہی فورم باقی رہ جاتا ہے، جس سے کسی درجے میں کوئی توقع کی جا سکتی ہے۔ اور وہ عالمِ اسلام کے اربابِ فہم و دانش ہیں جو تدبر، حریتِ فکر، مِلی حمیت اور اعتماد و حوصلے سے بہرہ ور ہیں اور ملت کی بہتری کے لیے کچھ کرنے کی خواہش بھی رکھتے ہیں۔ دنیا کے کسی بھی حصے کا مسلم معاشرہ ایسے اصحابِ فکر اور اربابِ دانش سے خالی نہیں ہے۔ جبکہ عالمِ اسلام کی اس وقت سب سے بڑی ضرورت بھی یہی ہے کہ ان کی فکری رہنمائی کے لیے ایسے بے لوث حضرات سامنے آئیں جو حکومتوں اور لابیوں کے اثرات سے آزاد رہتے ہوئے معروضی حقائق کا جائزہ لیں اور کسی رو رعایت کے بغیر غلطیوں اور کوتاہیوں کی نشاندہی کریں، مسلم رائے عامہ کے سامنے معروضی حالات کا صحیح نقشہ پیش کریں، آنے والے حالات اور خدشات و خطرات سے آگاہ کریں، اور اس دلدل سے نکلنے کے لیے امتِ مسلمہ کی قابلِ عمل راستوں کی طرف رہنمائی کریں۔

ہم یہ تو نہیں کہہ سکتے کہ اس سے حالات کا رخ تبدیل ہو جائے گا لیکن اتنا ضرور سمجھتے ہیں کہ اگر ایسا کوئی اجتماعی فورم سامنے آ جائے تو امتِ مسلمہ کے بہتر مستقبل کے لیے اس کی نئی نسل کو کوئی صحیح اور قابلِ عمل راستہ یقیناً دکھایا جا سکتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter