امریکی مفادات کا شکنجہ اور وفاقی وزیر محمود علی

   
تاریخ : 
دسمبر ۱۹۹۸ء

کیبنٹ ڈویژن کے وفاقی وزیر جناب محمود علی کا تعلق بنگلہ دیش کے خطے سے ہے مگر وہ ہمیشہ پاکستان کے دوبارہ اتحاد کے لیے آواز اٹھاتے رہے ہیں۔ سقوطِ ڈھاکہ کے بعد انہوں نے وہاں جانے کی بجائے پاکستان میں قیام کو ترجیح دی ہے اور ان کا شمار محبِ وطن پاکستانیوں میں ہوتا ہے۔ روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی ۱۸ نومبر ۱۹۹۸ء کے مطابق انہوں نے خانپور میں ’’میٹ دی پریس‘‘ پروگرام میں اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو امریکہ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے کی بجائے اس سے تعلقات ختم کر لینے چاہئیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ وزیراعظم میاں محمد نواز شریف سے کہہ چکے ہیں کہ وہ امریکہ سے تعلقات ختم کر کے تیرہ کروڑ عوام سے رابطہ قائم کریں اور امریکہ کے خلاف ڈٹ جائیں۔

ہم سمجھتے ہیں کہ جناب محمود علی کا یہ جذبہ ہر محبِ وطن پاکستانی کے دل کی آواز ہے۔ اور امریکہ جس طرح پاکستان کو ہر طرف سے اپنے مفادات کے شکنجے میں جکڑنے کے لیے تانے بانے بُن رہا ہے، اس کے پیش نظر قومی حمیت و غیرت کا تقاضہ بھی یہی ہے کہ امریکہ کے سامنے جھکنے کی بجائے اس کے مطالبات کو یکسر مسترد کر دیا جائے۔ پاکستان کے عوام تو چاہتے ہی یہی ہیں، یقیناً اللہ تعالیٰ کی مدد بھی اسی صورت میں حاصل ہو گی۔

   
2016ء سے
Flag Counter