ملٹی نیشنل کمپنیوں کو لیز پر اراضی دینے کا فیصلہ

   
جولائی ۲۰۰۲ء

روزنامہ خبریں لاہور ۲۰ جون ۲۰۰۲ء کی خبر کے مطابق وفاقی کابینہ نے صدر جنرل پرویز مشرف کی زیرصدارت اجلاس میں ملک میں کارپوریٹ فارمنگ کے لیے زرعی زمین غیر ملکی کمپنیوں کو لیز پر دینے کے پروگرام کی منظوری دے دی ہے۔ جس کے بعد غیر ملکی ادارے پاکستان میں کارپوریٹ فارمنگ کے لیے زرعی زمین لیز پر حاصل کر سکیں گے، اور انہیں ان فارموں کی تیاری اور چلانے کے لیے دیگر تمام ضروری سہولتیں بھی فراہم ہوں گی۔

کچھ عرصہ قبل یہ خبر آئی تھی کہ حکومت ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں زرعی اراضی خریدنے کی اجازت دینے پر غور کر رہی ہے۔ جس پر مختلف حلقوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا گیا تھا کہ اس طرح ملٹی نیشنل کمپنیاں کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر ملک کی بیشتر اراضی خرید لیں گی، اور کم و بیش وہی صورتحال پیدا ہو جائے گی جو فلسطین میں بیرون ملک سے آنے والے یہودیوں کو فلسطین کی زمین بلا روک ٹوک خریدنے کی اجازت مل جانے کے نتیجے میں سامنے آ چکی ہے، اور جس فلسطین میں آج سے ایک صدی قبل تک کوئی یہودی خاندان آباد نہیں تھا، اس کا بیشتر حصہ آج یہودیوں کے قبضے میں ہے۔

خلافتِ عثمانیہ نے فلسطین میں یہودیوں کو زمین بیچنے پر پابندی عائد کر رکھی تھی، مگر خلافتِ عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد فلسطین پر برطانوی اقتدار قائم ہوا تو یہودیوں کو فلسطین کی زمین خریدنے کی اجازت دے دی گئی۔ جس پر اس وقت کے عالمِ اسلام کے بڑے بڑے علماء نے فتویٰ دیا کہ یہودیوں پر فلسطین کی زمین کو فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے کیونکہ وہ اس طرح فلسطین پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔ ان میں سے ایک فتویٰ حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب ’’بوادر النوادر‘‘ میں ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر علماء کرام کے اس فتویٰ کی پروا نہ کرتے ہوئے فلسطینیوں نے دگنی تگنی قیمت کے لالچ میں یہودیوں پر زمین بیچنے کا سلسلہ جاری رکھا اور اس کے نتیجے میں آج فلسطین پر یہودی قابض ہیں اور خود فلسطینی دربدر دھکے کھاتے پھر رہے ہیں۔

ہم اس بات کا شدید خطرہ محسوس کر رہے ہیں کہ پاکستان میں بھی اس قسم کا کھیل کھیلا جانے والا ہے، اور ملٹی نیشنل کمپنیاں جن کی اکثریت پر یہودیوں کا کنٹرول ہے، پاکستان میں بے بہا دولت خرچ کر کے کارپوریٹ فارمنگ اور زرعی ترقی کے نام پر پاکستان کی اکثر و بیشتر اراضی کا کنٹرول حاصل کر لیں گی، اور پاکستانی فلسطینیوں کی طرح اپنے ہی ملک میں خدانخواستہ بے وطن ہو کر رہ جائیں گے۔ اگرچہ وفاقی کابینہ نے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں زرعی اراضی خریدنے کا حق دینے کی بجائے لیز پر حاصل کرنے کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن مذکورہ فیصلے کی رو سے لیز کی میعاد اور حاصل کی جانے والی زمین کی حد کا کوئی تعین نہیں کیا گیا، اور ان دونوں کے غیر محدود ہونے سے ملکیت اور لیز میں عملی طور پر کوئی فرق باقی نہیں رہے گا۔ اس لیے ہم حکومت کے سنجیدہ عناصر اور ملک بھر کے محب وطن حلقوں کو اس خطرناک فیصلہ کی سنگینی کی طرف توجہ دلانا اپنا فرض سمجھتے ہیں، اور ہماری گزارش ہے کہ اس کا فوری طور پر نوٹس لے کر پاکستان میں فلسطین جیسی صورتحال پیدا ہو جانے کے خطرات کی بروقت روک تھام کی جائے۔

   
2016ء سے
Flag Counter