طالبان اور شمالی اتحاد: وزیر خارجہ پاکستان کے بیان کا جائزہ

   
تاریخ : 
۱۵ مارچ ۱۹۹۸ء

وزیر خارجہ جناب گوہر ایوب خان نے کہا ہے کہ پاکستان، افغانستان میں طالبان اور شمالی اتحاد کے لیڈروں کو مذاکرات کی میز پر بٹھانا چاہتا ہے۔ اور اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا ہے کہ ’’ہمارے نزدیک دونوں برابر ہیں‘‘۔ خدا جانے خان صاحب نے یہ بات کس ترنگ میں آ کر کہہ دی ہے، ورنہ جہاں تک حقائق کا تعلق ہے وہ اس کی کسی طرح بھی تائید نہیں کرتے اور ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر خارجہ کی ’’معلومات‘‘ کے لیے آج کی نشست میں طالبان اور شمالی اتحاد کے لیڈروں کا کچھ تھوڑا سا پس منظر عرض کرنا چاہتے ہیں۔

شمالی اتحاد کے لیڈروں میں جنرل رشید دوستم کے بارے میں تو زیادہ کہنے کی ضرورت نہیں، اس لیے کہ سب جانتے ہیں کہ وہ ان جرنیلوں میں سے ہیں جنہوں نے روسی افواج کے شانہ بشانہ افغان عوام کا قتل عام کیا، اور جب تک روسی جرنیلوں کے اعصاب نے جواب نہیں دے دیا وہ اس وقت تک افغانستان کو روس کے زیرِ تسلط رکھنے کی کوشش میں ان کے ساتھ عملاً شریک رہے۔ البتہ روسی افواج کی واپسی کا فیصلہ ہوتے ہی دوستم صاحب نے پینترا بدلا اور کمانڈر احمد شاہ مسعود کے زیرِ سایہ مستقبل کی نئی منصوبہ بندی میں مصروف ہو گئے۔ اس کے بعد انہوں نے افغانستان میں شمال اور جنوب کے فرق کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا سب کچھ وقف کر دیا، وہ اس مقصد کے لیے امریکہ بھی گئے اور تب سے افغانستان کی تقسیم اور کابل اور وسطی ایشیا کے درمیان ایک بفر اسٹیٹ کے قیام کے منصوبے کے لیے سرگرم عمل ہیں۔

شمالی اتحاد کے لیڈروں میں ایک اہم نام کمانڈر احمد شاہ مسعود کا ہے جو بلاشبہ افغانستان میں روسی افواج کے خلاف گوریلا جنگ لڑنے اور جیتنے والے کمانڈروں میں سب سے نمایاں نام ہے۔ روس کی طاقت اور مسلح افواج جن کمانڈروں کے ہاتھوں زچ ہو کر افغانستان سے نکلنے پر مجبور ہوئیں ان میں مولوی جلال الدین حقانی، جنرل اسماعیل اور انجینئر حکمتیار کے ساتھ احمد شاہ مسعود بھی ایک بڑا نام ہے، لیکن حالات کا سفر اس نکتہ پر آ کر رکا نہیں بلکہ بدقسمتی سے اس کے بعد کے سفر نے اس نام کے گرد شکوک و شبہات کے ایسے جالے بن دیے ہیں کہ احمد شاہ مسعود کی بارہ سال قبل کی تصویر کو آج کی تصویر کے ساتھ رکھ کر دونوں کو ایک ہی شخص کی تصویریں قرار دینا مشکل ہو گیا ہے۔

راقم الحروف مورچوں کا آدمی نہیں اور قلم کو ہی اپنا سب سے بڑا ہتھیار سمجھتا ہے لیکن جہادِ افغانستان کے دوران مجاہدین کی حوصلہ افزائی اور حالات سے صحیح واقفیت کے لیے ان کے مورچوں میں جاتا رہا ہے۔ اس دوران جب کہ کابل بلکہ خوست کی فتح بھی ابھی بہت دور تھی، راقم الحروف نے حالات کا رخ دیکھ کر بعض ساتھیوں سے، جن میں مولانا فضل الرحمٰن خلیل بھی شامل ہیں، یہ کہہ دیا تھا کہ کابل کے قبضے کے لیے احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمتیار میں جنگ ہوگی اور دونوں اس کی تیاریوں میں مصروف نظر آتے ہیں۔ خوست کی فتح سے بہت پہلے مجھے یاور کے تربیتی مرکز اور راغبیلی کی پہاڑیوں میں قائم مجاہدین کے مورچوں میں جانے کا موقع ملا، اور اس سفر میں انجینئر حکمتیار کے ذخیرہ کیے ہوئے اسلحہ کے انبار اور طویل سرنگوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہوئیں جو جہاد میں استعمال ہونے کی بجائے ’’ریزرو‘‘ رکھا جا رہا تھا تو تاثر یہی تھا اور اس وقت اس کا اظہار بھی کر دیا تھا کہ یہ اسلحہ کابل کی فتح کے لیے ذخیرہ کیا جا رہا ہے۔

احمد شاہ مسعود شمال کی طرف سے اور انجینئر گلبدین حکمتیار جنوب کی طرف سے کابل کی طرف بڑھ رہے تھے، دونوں کے ذہن میں کابل کا بلاشرکت غیرے قبضہ تھا، اتنے میں سوویت یونین نے اپنی فوجیں واپس بلانے کا فیصلہ کر لیا اور افغانستان کی قومی (سرکاری) فوج کے جرنیلوں نے اپنے مستقبل کے بارے میں سوچنا شروع کیا۔ ان جرنیلوں میں جنوب مشرق کے پشتون جرنیل بھی تھے اور شمال کے فارسی بان جرنیل بھی تھے۔ وہ احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمتیار کے ذہنی رجحانات سے بے خبر نہ تھے، اس لیے جنرل بابا خان اور دیگر پشتون جرنیلوں نے انجینئر حکمتیار کے دامن سے وابستگی اختیار کر لی، اور جنرل رشید دوستم اور دوسرے فارسی زبان جرنیلوں نے احمد شاہ مسعود کے ساتھ ساز باز میں عافیت محسوس کی۔

اب دونوں کیمپ بالکل واضح ہو چکے تھے اور کابل کے قبضے کے لیے دونوں میں معرکہ آرائی قریب ہوتی جا رہی تھی۔ احمد شاہ مسعود اور گلبدین حکمتیار میں ایک فرق تھا، وہ یہ کہ احمد شاہ مسعود گوریلا جنگ میں مہارت کی ساتھ ساتھ ڈپلومیسی کو بھی سمجھتے ہیں اور ضرورت کے مطابق لچک اور رابطوں کی پالیسی اپنے مقصد کے لیے اختیار کر لیتے ہیں۔ جبکہ حکمتیار کی سیاسی تربیت جماعتِ اسلامی کے کیمپ میں ہوئی ہے اس لیے وہ ’’صرف ہم ورنہ کوئی نہیں‘‘ کے مزاج پر راسخ ہو چکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کابل میں جناب مجددی کی سربراہی میں قائم ہونے والی مجاہدین کی پہلی حکومت کو اعتماد میں لینے میں احمد شاہ مسعود کو کامیابی حاصل ہوئی اور جناب حکمتیار یہ معرکہ سر نہ کر سکے۔

اس کے بعد کابل پر قبضہ کے لیے ان دونوں کے درمیان جو معرکے بپا ہوئے ان کی دلخراش تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں، سب روز روشن کی طرح واضح ہے۔ ان معرکوں میں حزبِ وحدت اور بعض دوسرے گروپ بھی اپنا اپنا لچ تلتے رہے مگر تخت کابل کے لیے اصل لڑائی ان دونوں میں تھی، جس نے نہ صرف افغانستان کے رہے سہے امن کو تباہ کیا بلکہ جہادِ افغانستان کے نظریاتی اور منطقی نجائے کو سبوتاژ کر کے رکھ دیا۔ اس دوران افغان مجاہدین کے مختلف گروپوں کے درمیان متعدد معاہدے ہوئے حتیٰ کہ ایک معاہدہ بیت اللہ شریف کے اندر بھی ہوا مگر احمد شاہ مسعود اور حکمتیار کی اقتدار کی جنگ کے سامنے سب بے بس ہو کر رہ گئے۔

طالبان کی تحریک انہی حالات کا ردِ عمل تھی اور یہ طالبان انہی افغان گروپوں کے سپاہی تھے جنہوں نے جہادِ افغانستان میں حصہ لیا تھا اور اب ان کے لیڈر آپس کی اقتدار کی جنگ میں مصروف تھے۔ طالبان نے اپنے اپنے لیڈروں کے خلاف بغاوت کی اور قندھار کے ایک نیک اور سادہ دل عالمِ دین ملا محمد عمر کی قیادت میں متحد ہو گئے۔ یہ ان کا خلوص اور دینی حمیت تھی کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہوئی اور حالات کی بہتری کی خواہش رکھنے والے عناصر اور قوتوں نے بھی ان کا ساتھ دیا، جس کی وجہ سے وہ نہ صرف افغانستان کے ایک بڑے حصے پر کنٹرول حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے، بلکہ افغان عوام کو اسلامی قوانین اور امن کی منزل سے بھی ہمکنار کر دیا۔ جو لوگ مختلف اوقات میں افغانستان گئے ہیں وہ اس بات کی شہادت دیں گے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت نے سادگی، قناعت اور دیانت کے اسلامی اصولوں کا عملی نمونہ پیش کیا ہے اور جرائم پر کنٹرول کر کے اسلامی قوانین کی برکت سے امن قائم کر کے دکھا دیا ہے۔

جناب وزیر خارجہ! ایک اور حوالے سے بھی صورتحال کا جائزہ لینا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ کابل پر جناب ربانی کی حکومت کے قیام کے بعد وسطی ایشیا، کابل اور دہلی کے روابط نے جو رخ اختیار کر لیا تھا اس میں پاکستان کے مفادات کا تناسب کیا تھا؟ اور وسطی ایشیا میں پاکستان کے اثر رسوخ کو روکنے کے لیے دہلی اور تہران نے جس حکمتِ عملی کو آگے بڑھانے کا عمل شروع کر دیا تھا اس میں پاکستان کو کس کونے میں جگہ دی گئی تھی؟ اگر گوہر ایوب صاحب کے لیے خود ان حالات کا ادراک مشکل ہو گیا ہے تو دفتر خارجہ کے کسی سمجھ دار افسر سے بریفنگ لے لیں۔

آج صورتحال یہ ہے کہ پاکستان، کابل اور وسطی ایشیا میں ہم آہنگی اور تجارتی و سیاسی تعاون کے امکانات سے بہت سی قوتیں خائف ہیں۔ دہلی کو اس سے ’’مغل ایمپائر‘‘ زندہ ہوتا نظر آ رہا ہے اور واشنگٹن اور ماسکو ’’اسلامی بنیاد پرستی‘‘ کی اس پوری بیلٹ کے یکجا ہونے کو اسلام اور اسلامی نظامِ حیات کے اَحیا و نفاذ کا باعث سمجھ رہی ہیں، جبکہ تہران اپنے سیاسی و تجارتی اثر رسوخ کی خاطر وسطی ایشیا کی طرف پاکستان کے بڑھتے ہوئے قدم روکنا چاہتا ہے۔ اس وسیع تناظر میں حالات کا ٹھنڈے دل و دماغ سے جائزہ لیں اور آنکھیں کھول کر دیکھیں کہ اس معرکہ میں طالبان کس کی لڑائی لڑ رہے ہیں اور شمالی اتحاد کن قوتوں کا ہراول دستہ بنا ہوا ہے؟

ان حالات میں اگر جناب گوہر ایوب طالبان اور شمالی اتحاد کو ’’ہماری نظر میں برابر‘‘ قرار دے رہے ہیں تو انتہائی افسوس کے ساتھ اس کے سوا کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ امریکی وزارتِ خارجہ کے جنوبی ایشیا ڈیسک کی کسی فائل کا عنوان تو ہو سکتا ہے، حقائق اور واقعات اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے مفادات کی ترجمانی ہر گز نہیں۔

   
2016ء سے
Flag Counter