افغانستان میں این جی اوز کی ارتدادی سرگرمیاں

   
۲۲ و ۲۳ اگست ۲۰۰۱ء

افغانستان میں مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والی این جی اوز کے عیسائیت کی تبلیغ کرنے والے افراد کی گرفتاری اور طالبان حکومت کی طرف سے انہیں شریعت کے مطابق سزا دینے کے اعلان نے ایک بار پھر عالمی حلقوں میں ہلچل پیدا کر دی ہے، اور بہت سے سفارتکار خفیہ اور اعلانیہ طور پر اس سلسلہ میں متحرک ہو گئے ہیں۔ طالبان حکومت کا کہنا ہے کہ این جی اوز کے یہ افراد رفاہی کاموں کے حوالے سے افغانستان میں آئے تھے اور انہیں ایک معاہدہ کے تحت کام کرنے کی اجازت دی گئی تھی، لیکن انہوں نے افغانستان کے قوانین اور مذکورہ معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے افغانستان کے مسلمانوں کو ورغلانے اور عیسائی بنانے کے لیے سرگرمیاں شروع کر دیں، اور اسلام آباد میں افغان سفیر ملا عبد السلام ضعیف کے بقول ’’روٹی کے عوض افغان مسلمانوں کا ایمان خریدنے‘‘ کی کارروائیوں میں مصروف ہو گئے۔ جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا ہے اور ان سے جو دستاویزات ملی ہیں ان کے مطابق ان کا جرم ثابت ہو گیا ہے۔ اس لیے انہیں افغانستان کے قانون کے مطابق سزا ملے گی۔

’’امارتِ اسلامی افغانستان‘‘ کا سرکاری دین اسلام ہے، اور اسلام صرف رسمی سرکاری مذہب نہیں بلکہ شرعی قوانین ملک میں عملاً نافذ ہیں۔ اس لیے ظاہری بات ہے کہ یہ سزا شرعی قانون کے مطابق ہو گی، اور اسلامی شریعت میں مرتد ہونے اور ارتداد پھیلانے کی سزا موت ہے۔ اس سلسلہ میں چند شبہات اور اعتراضات کا جائزہ لینے سے قبل مرتد کے لیے قتل کی سزا کے شرعی قانون ہونے پر دو تین حوالے پیش کرنا چاہتا ہوں۔

➊ پہلا حوالہ بائیبل کا ہے۔ بائیبل کے عہدنامہ قدیم کی کتاب ”استثناء“ باب ۱۳، آیت ۶ تا ۱۱ کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو یہ ہدایت فرمائی تھی کہ

’’اگر تیرا بھائی یا تیری ماں کا بیٹا یا تیری بیٹی یا تیرا بیٹا یا قیدی ہم آغوش بیوی یا تیرا دوست جس کو تو اپنی جان کے برابر عزیز رکھتا ہے تجھ کو چپکے چپکے پھسلا کر کہے کہ چلو ہم اور دیوتاؤں کی پوجا کریں جن سے تو اور تیرے باپ دادا واقف بھی نہیں یعنی ان لوگوں کے دیوتا جو تمہارے گردا گرد تیرے نزدیک رہتے ہیں یا تجھ سے دور زمین کے اس سرے سے اس سرے تک بسے ہوئے ہیں تو تو اس پر اس کے ساتھ رضامند نہ ہونا اور نہ اس کی بات سننا، تو اس پر ترس بھی نہ کھانا اور نہ اس کی رعایت کرنا اور نہ اسے چھپانا، بلکہ تو اس کو ضرور قتل کرنا اور اس کو قتل کرتے وقت پہلے تیرا ہاتھ اس پر پڑے، اس کے بعد سب قوم کا ہاتھ۔ اور تو اسے سنگسار کرنا تاکہ وہ مر جائے کیونکہ اس نے تجھ کو خداوند، تیرے خدا سے جو تجھ کو ملک مصر یعنی غلامی کے گھر سے نکال لایا برگشتہ کرنا چاہا، تب سب اسرائیل سن کر ڈریں گے اور تیرے درمیان پھر ایسی شرارت نہیں کریں گے۔‘‘

بائیبل کی یہ ہدایت بالکل واضح ہے اور اس کی مزید تفصیل بیان کرنے کی ضرورت نہیں ہے جب کہ موسوی شریعت کا یہی قانون ہے جسے اسلام نے بھی اسی حالت میں قائم رکھا ہے اور سرور کائنات نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’من ارتد قاتلوہ‘‘ جو شخص مسلمان ہونے کے بعد دین سے پھر جائے اسے قتل کر دو۔

➋ اس سلسلہ میں مسلم شریف كتاب الامارۃ میں روایت ہے کہ سرور کائنات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ کو یمن میں سرکاری عامل کے طور پر بھیجا اور ان کے بعد حضرت معاذ بن جبلؓ کو قاضی کی حیثیت سے ان کے پاس بھجوایا۔ حضرت معاذؓ جب حضرت ابو موسٰیٰؓ کے پاس پہنچے تو ان کے پاس ایک شخص بندھا ہوا تھا۔ دریافت کیا تو بتایا گیا کہ یہ شخص یہودی تھا جو مسلمان ہو گیا تھا، لیکن اب پھر مرتد ہو گیا ہے۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ سے تقاضہ کیا کہ اسے شرعی قانون کے مطابق قتل کیا جائے۔ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے کہا کہ حضرت! آپ تشریف رکھیں، اس کے بعد اس معاملہ کو بھی نمٹا لیں گے، مگر حضرت معاذ بن جبلؓ نے یہ کہہ کر سواری سے اترنے سے انکار کر دیا کہ جب تک شرعی قانون کے مطابق اس کو سزا نہیں دی جاتی میں سواری سے نہیں اتروں گا۔ چنانچہ حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے اس کے قتل کا حکم صادر فرمایا تو حضرت معاذؓ سواری سے اترے۔

یہ دورِ نبویؐ کا واقعہ ہے جسے حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ خود روایت کر رہے ہیں۔ اس لیے یہ سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موسوی شریعت کے تسلسل کو قائم رکھتے ہوئے مرتد کے لیے قتل کی سزا کو اسلامی شریعت میں بھی بحال رکھا ہے۔

اور یہ سزا صرف اس شخص کے لیے نہیں جو اسلام کو ترک کر کے دوسرا مذہب اختیار کر لے بلکہ جو شخص اسلام کے دعویٰ پر قائم رہتے ہوئے دینی مسلّمات سے انحراف اور الحاد کا راستہ اختیار کرے، شریعتِ اسلامیہ میں اس کے لیے بھی یہی سزا رکھی گئی ہے۔ جیسا کہ امام شاطبیؒ (الاعتصام ص ۲۷۰/۳۰۳ میں واقعہ نقل کرتے ہیں کہ امیر المومنین حضرت عمر بن الخطابؓ کے دورِ خلافت میں جب کہ شام پر حضرت معاویہؓ کے بڑے بھائی حضرت یزید بن ابی سفیانؓ خلافت کی طرف سے گورنر تھے، شام کے کچھ حضرات اس جرم میں گرفتار ہوئے کہ وہ نہ صرف شراب پیتے ہیں بلکہ قرآن کریم کی ایک آیت کریمہ (سورۃ المائدۃ آیت ۹۳) کی غلط تاویل کرتے ہوئے شراب کو اپنے لیے حلال بھی قرار دیتے ہیں۔ امیر یزیدؓ نے یہ مقدمہ امیر المومنین حضرت عمرؓ کے پاس بھجوایا اور انہوں نے اس پر اکابر صحابہ کرامؓ کی مشاورت طلب کر لی۔ مشورہ میں بعض حضرات نے کہا کہ ان لوگوں نے دین میں تحریف کی راہ نکالی ہے اس لیے انہیں قتل کر دیا جائے، جب کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا کہ انہیں ایک بار توبہ کا موقع دیا جائے، اگر الحاد سے توبہ کر لیں تو انہیں صرف شراب نوشی پر اسی کوڑوں کی سزا دی جائے، اور اگر وہ شراب کو حلال قرار دینے سے توبہ نہ کریں تو اس کے بعد انہیں الحاد اور ارتداد کے جرم میں قتل کر دیا جائے۔ چنانچہ حضرت عمرؓ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مشورہ کے مطابق فیصلہ کر کے حکم نامہ امیر شام کو بھجوا دیا۔

سرور کائنات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ارشادات اور حضرات صحابہ کرامؓ کے اجتماعی تعامل سے یہ بات بالکل واضح ہے کہ دینِ حق اختیار کر لینے کے بعد اس سے پھر جانے، اس میں الحاد و تحریف کی راہ نکالنے، اور دوسرے لوگوں کو ارتداد پر اکسانے کی سزا آسمانی شریعت میں یہی ہے کہ ایسا کرنے والے شخص کو قتل کر دیا جائے۔ البتہ اس سلسلہ میں کچھ اشکالات سامنے لائے جا رہے ہیں جن کا جائزہ اگلے کالم میں لیا جائے گا۔

مرتد کے لیے قتل کی شرعی سزا کا جب بھی تذکرہ ہوتا ہے تو ذہنوں میں کچھ سوالات اور اشکالات خودبخود ابھرنے لگتے ہیں جن کے بارے میں سمجھا جاتا ہے کہ یہ فطری سوالات ہیں۔ اس لیے ہر پڑھا لکھا شخص ان سوالات کو اپنے ذہن میں محسوس کرتا ہے، لیکن یہ بات درست نہیں ہے، کیونکہ یہ سوالات موجودہ عالمی ماحول کے پس منظر میں جنم لیتے ہیں اور عالمی حالات غلط ہوں یا صحیح، ہر شخص پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ اس لیے ان کے پس منظر میں جنم لینے والے اشکالات و سوالات بھی کم و بیش ہر شخص کے ذہن میں جگہ بنانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس لیے ہمیں ان دونوں باتوں میں فرق کرنا ہوگا۔ فطرت اور چیز ہے، اور عالمی حالات کا کوئی رخ اختیار کر جانا اس سے بالکل مختلف چیز ہے۔ ضروری نہیں ہے کہ عالمی حالات اور رجحانات جو رخ اختیار کر لیں وہ فطرت کے مطابق بھی ہو۔

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جس وقت مکہ مکرمہ میں صفا پہاڑی پر کھڑے ہو کر اپنے عقیدہ اور دین کا اعلان کیا تھا اور اس کی طرف لوگوں کو دعوت دی تھی، اس وقت عالمی حالات اور رجحانات کا رخ بالکل ان کی مخالف سمت تھا، لیکن فطرت جناب نبی اکرمؐ کے ساتھ تھی، اس لیے انہیں ابتدا میں بالکل تنہا اور پھر تھوڑے سے ساتھیوں کے ہمراہ چند سالوں میں کامیابی کی منزل حاصل ہو گئی، اور ان کی تعلیمات اسی طرح دھیرے دھیرے عالمی افق پر پھیلتی چلی گئیں، جس طرح رات کی تاریکی میں ڈوبے ہوئے پورے ماحول کو صبح کی روشنی بتدریج پیچھے دھکیلتی چلی جاتی ہے۔

اس لیے کسی سوال یا اشکال کے عام لوگوں کے ذہنوں میں جگہ بنا لینے سے یہ ضروری نہیں ہو جاتا کہ اس کا فطرت سے بھی کوئی تعلق ہے، بلکہ اکثر ایسا ہوتا ہے کہ وقتی حالات، مفادات اور خواہشات کا کوئی ملغوبہ عقل و ذہن کے عمومی دائرہ کو احاطے میں لے لیتا ہے، اور ظاہر بین لوگ اسے ’’کامن سینس‘‘ یا ’’عقلِ عام‘‘ سمجھ کر اس کا رشتہ فطرت سے جوڑنے اور اس کی پیروی کو وقت کا تقاضہ قرار دینے لگتے ہیں۔ حالانکہ فطرت اور عقلِ عام دونوں کے سرچشمے الگ الگ ہیں۔ فطرت کا سرچشمہ ذات باری تعالیٰ اور اس کی تعلیمات یعنی وحی الٰہی اور آسمانی ہدایات ہیں، جبکہ کامن سینس اور عقلِ عام کا منبع انسانی سوسائٹی کی داخلی کیفیات، خواہشات، مفادات اور ضروریات ہوتی ہیں۔ اس لیے عقلِ عام اور کامن سینس کی ہر بات کو فطرت کا تقاضہ سمجھ لینا دانشمندی نہیں ہے، اور یہی وہ بھنور ہے جس کا شکار ہو کر اچھے بھلے دانشوروں کی سٹی گم ہو جاتی ہے۔

تمہید لمبی ہو گئی، بات مرتد کی شرعی سزا کی ہو رہی تھی کہ اس کے بارے میں بعض اشکالات سامنے آ رہے ہیں۔ مثلاً یہ کہ یہ آزادئ رائے کے منافی ہے اور قرآن کریم نے آزادئ ضمیر اور آزادئ رائے کی یہ کہہ کر ضمانت دی ہے کہ ’’لا اکراہ فی الدین‘‘ دین میں کوئی جبر نہیں۔ تو کسی شخص کے اسلام سے پھر جانے کی صورت میں اس قدر جبر کیوں ہے کہ اسے موت کی سزا دی جا رہی ہے؟ گزارش ہے کہ کسی شخص کو اسلام میں داخل کرنے کے لیے فی الواقع کوئی جبر نہیں ہے۔ ایک اسلامی ملک میں کوئی غیر مسلم اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے معاہدہ کے تحت رہنا چاہے تو اس کے لیے اپنے مذہب پر قائم رہنے، عبادت کرنے، اپنی کمیونٹی کے لیے عبادت خانہ قائم کرنے اور اس کی حدود میں مذہبی تعلیم اور تبلیغ و اصلاح کی سرگرمیاں جاری رکھنے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے۔ اسلام اس کا یہ حق تسلیم کرتا ہے اور اس حد تک تسلیم کرتا ہے کہ امیر المومنین حضرت عمرؓ نے اپنے ایک گورنر کو صرف اس لیے معزول کر دیا تھا کہ وہ اپنے علاقہ میں ایک عیسائی خاندان پر قبولِ اسلام کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا۔ لیکن کسی غیر مسلم کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ ریاست کے اکثریتی مذہب کے افراد کو ورغلائے اور انہیں ان کے مذہب سے برگشتہ کر کے ریاست کی نظریاتی حیثیت پر اثرانداز ہو۔

➌ اسی طرح کسی غیر مسلم کو یہ حق تو حاصل ہے کہ وہ اسلام قبول نہ کرے، لیکن جب اس نے اسلام قبول کر لیا ہے تو اب اسے اس سے پھر جانے کی اجازت نہیں ہے۔ اور اس کی مثال ایسے ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی ملک کا شہری نہیں ہے تو وہ زندگی بھر اس کا شہری نہ بنے، دنیا کی کوئی طاقت اسے اس پر مجبور نہیں کر سکتی۔ لیکن اگر وہ اپنے اختیار سے کسی ملک کا شہری بن گیا ہے، اور نیشنلٹی کی درخواست پر کرنے کے بعد اس پر دستخط کر کے اس نے شہریت اختیار کر لی ہے، تو اب اسے اس ریاست کے دستور سے بغاوت کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اور اگر وہ شہریت اختیار کر لینے کے باوجود اس ملک کے دستور سے بغاوت کرے گا، یا دستور کو اپنی مرضی کے معنی پہنا کر من مانی کرنا چاہے گا، تو اس کے لیے ’’پھانسی کے پھندے‘‘ کے سوا کوئی جگہ نہیں ہو گی۔ اور دنیا کا کوئی فلسفہ، ضابطہ یا قانون، آزادئ رائے یا آزادئ ضمیر کے نام پر اسے اپنے ملک کے دستور سے بغاوت کرنے کا حق نہیں دے گا۔

کوئی شخص امریکہ کا شہری نہیں بننا چاہتا نہ بنے، سو دفعہ نہ بنے، امریکہ کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا، لیکن اگر وہ اپنی مرضی سے امریکہ کا شہری بن گیا ہے تو اسے امریکی دستور کی وفاداری کو برقرار رکھنا ہوگا۔ اس کا ضمیر اجازت دے یا نہ دے، اس کی عقل اسے قبول کرے یا نہ کرے، اسے امریکہ کی ریاستی اتھارٹی کا بہرحال وفادار رہنا ہوگا۔ اور اگر وہ ریاستی اتھارٹی اور دستور سے کسی بھی مرحلہ میں بغاوت کرے گا تو امریکہ کا نظام اس بات کو برداشت نہیں کرے گا، اور اس شخص کو بغاوت کے جرم میں امریکہ میں بھی موت ہی کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔

بس اتنی سی بات سمجھنے کی ضرورت ہے، کیونکہ ایک اسلامی ریاست میں اسلام کو صرف رسمی مذہب کی حیثیت حاصل نہیں ہوتی، بلکہ وہ ریاستی دستور اور اتھارٹی کی حیثیت رکھتا ہے اور ریاست کے پورے سسٹم کا مدار اس پر ہوتا ہے۔ اس لیے جس طرح کسی دوسرے ملک میں ریاستی دستور، اتھارٹی اور سسٹم سے بغاوت کی سزا موت ہے، اسی طرح ایک اسلامی ریاست میں بھی ریاستی دستور، اتھارٹی اور سسٹم سے انحراف کی سزا موت ہے۔ اور جس طرح ان ممالک میں بغاوت پر موت کی سزا کو آزادئ ضمیر، آزادئ مذہب اور آزادئ رائے کے ’’انسانی حقوق‘‘ کے ترازو میں تولنے کو روا نہیں رکھا جاتا، اسی طرح اسلامی ریاست میں بھی مرتد کی شرعی سزا کو اس معیار پر پرکھنا انصاف اور دیانت کا تقاضہ نہیں ہے۔

ایک دوست نے اس سلسلہ میں یہ اشکال بھی پیش کیا کہ مولوی صاحب! ہم تو مغربی ممالک میں جا کر اسلام کی تبلیغ کرتے ہیں اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں غیر مسلموں کو اسلام کے دائرہ میں داخل کر رہے ہیں تو انہیں مسلمان ملکوں میں عیسائیت کی تبلیغ کی اجازت کیوں نہیں دیتے؟ میں نے عرض کیا، اس لیے کہ ان ممالک کی ریاستی بنیاد مذہب پر نہیں ہے اور انہوں نے مذہب کو ریاستی اتھارٹی سے خارج کر کے سیکولر سسٹم اختیار کر رکھا ہے، جس میں ریاست کو شہریوں کے مذہب سے کوئی سروکار نہیں ہے۔ اس طرح ان ممالک کے داخلی قوانین اور سسٹم کے تحت ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہم وہاں اسلام کی تبلیغ کریں اور وہاں کے شہریوں کو حق حاصل ہے کہ وہ کوئی کبھی مذہب اختیار کر لیں۔ اس لیے ہم وہاں اسلام کی تبلیغ کر کے ان کے دستور اور قانون کی کوئی خلاف ورزی نہیں کرتے۔

البتہ اگر وہ بھی ہماری طرح آسمانی تعلیمات، وحی الٰہی اور دین و مذہب کو ریاستی اتھارٹی، دستور اور سسٹم کے طور پر قبول کر لیں، اپنے ملکوں میں ریاستی مذہب کے خلاف تبلیغ پر پابندی لگا دیں، اور ان ممالک میں ہمارے جانے کے امیگریشن معاہدہ میں یہ بات شامل ہو، تو ہم بھی معاہدہ کی رو سے اس بات کے پابند ہو جائیں گے کہ ان کے ملک میں ان کے ریاستی مذہب کے خلاف کوئی آواز نہ اٹھائیں۔ جس طرح طالبان حکومت کہہ رہی ہے کہ این جی اوز کے جو افراد افغانستان میں رفاہی کاموں کے لیے آتے ہیں وہ ایک معاہدہ پر دستخط کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کے قوانین اور سسٹم کی پابندی کریں گے۔ اس لیے اگر کسی این جی او کے کارندے اس معاہدہ کی خلاف ورزی کر کے افغانستان کے قوانین کے خلاف سرگرم عمل ہوں گے تو انہیں سزا تو ملے گی۔ اور ظاہر بات ہے کہ وہ سزا اسی قانون کے تحت ملے گی جو افغانستان میں رائج الوقت ہے اور جس کی پابندی کا انہوں نے معاہدہ میں وعدہ کر رکھا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter