جہاد کشمیر اور بعض حلقوں کے تحفظات

   
۲۳ اپریل ۲۰۰۱ء

پشاور کی ’’خدمات دارالعلوم دیوبند کانفرنس‘‘ میں جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ مولانا سید اسعد مدنی کی شمولیت کے حوالہ سے اخبارات میں بعض امور پر گفتگو کا سلسلہ چل نکلا ہے اور مختلف مضامین اور کالموں میں ملے جلے خیالات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ مجھے یہ بات اسی وقت کھٹک گئی تھی جب اس کانفرنس میں مولانا سید اسعد مدنی کی شرکت کا اعلان ہوا تھا اور میں نے بعض دوستوں سے اس کا اظہار بھی کر دیا تھا کہ اس سے مسائل پیدا ہوں گے۔ میرے خیال میں کانفرنس کے منتظمین نے ہجوم اکٹھا کرنے اور زیادہ سے زیادہ دیوبندیوں کو جمع کر کے قوت کے مظاہرہ کا اہتمام کرنے میں زیادہ دلچسپی لی ہے اور اس کے لیے کم و بیش تمام حلقوں سے رابطے قائم کیے ہیں جس کا نتیجہ بھی شاندار کامیابی کی صورت میں انہوں نے حاصل کر لیا ہے لیکن کانفرنس کی حکمت عملی طے کرنے اور اس کی مقصدی ترجیحات کے تعین کی طرف زیادہ توجہ نہیں دی اور اس سلسلہ میں بہی خواہ حلقوں سے مشاورت کی ضرورت محسوس کرنے کی بجائے جماعتی ترجیحات پر ہی بھروسہ کیا ہے جس کی وجہ سے اس قسم کے مسائل پیدا ہوگئے ہیں ورنہ حضرت مولانا اسعد مدنی کی تشریف آوری کے باوجود ایسے معاملات کی پیش بندی کی جا سکتی تھی اور مولانا مدنی کی شرکت کو بھی زیادہ بہتر انداز میں کیش کرایا جا سکتا تھا۔

حضرت مولانا اسعد مدنی سے میری پرانی نیاز مندی ہے اور میں ان کے معتقدین میں شامل ہوں۔ وہ بھارتی شہری ہیں، جمعیۃ علماء ہند کے سربراہ ہیں اور کانگریس کے روایتی حلیف ہیں۔ ان کی کمزوری یا خوبی یہ ہے کہ انہوں نے اس سلسلہ میں کبھی اخفا یا ابہام سے کام نہیں لیا اور جہاں بھی کچھ کہنا پڑا ہے صاف لہجے میں اپنی بات کہہ دی ہے۔ وہ ڈپلومیسی کی زبان بولنے کی بجائے دو ٹوک بات کرنے کے عادی ہیں اور یہی بات بعض دوستوں کے لیے الجھن کا باعث بنتی ہے۔ ورنہ جو باتیں کشمیر کے حوالہ سے ان سے منسوب کی جا رہی ہیں وہ اگر آل انڈیا مسلم لیگ کے کسی موجودہ عہدہ دار یا بھارتی پارلیمنٹ کے کسی مسلم لیگی رکن سے دریافت کی جائیں تو معنی و مفہوم کے لحاظ سے ان کا جواب بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا جس کا ملزم مولانا اسعد مدنی کو ٹھہرایا جا رہا ہے۔ فرق صرف لہجے کا ہوگا اور زبان کے ڈپلومیٹک انداز کا ہوگا جس کا تعلق کسی شخص یا جماعت کے موقف سے نہیں بلکہ مزاج سے ہوا کرتا ہے۔ لیکن اس سے قطع نظر موجودہ اخباری بحث کے حوالہ سے دو باتوں کا ذکر مناسب سمجھوں گا۔

ایک یہ کہ اس موقع پر بھی قومیت کے بارے میں مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کے مباحثہ کا بعض مضامین میں ذکر کیا گیا ہے کہ مولانا حسین احمد مدنی نے فرمایا تھا کہ قوم وطن کی بنیاد پر تشکیل پاتی ہے جس پر علامہ اقبالؒ نے یہ کہہ کر اعتراض کیا تھا کہ قومیت کی بنیاد وطن پر نہیں بلکہ مذہب پر ہوتی ہے۔ اور اس کے بعد علامہ اقبال کے اشعار اور مولانا مدنی کے ساتھ ان کی بالواسطہ مراسلت کا تذکرہ شروع ہو جاتا ہے۔ یہ روایت اب بھی موجود ہے اور کچھ مضامین میں اس کا ذکر کیا گیا ہے لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اب یہ بحث بے مقصد اور فضول ہو چکی ہے اس لیے کہ علامہ محمد اقبال کے فلسفہ پر جو ملک ایک اسلامی ریاست کے طور پر پاکستان کے نام پر نصف صدی قبل وجود میں آیا تھا اس میں قومیت کے حوالہ سے علامہ اقبال کے فکر و فلسفہ کی بجائے عملی طور پر مولانا سید حسین احمد مدنی کے بیان کردہ فلسفہ کو اپنایا گیا ہے۔ پاکستان کے جغرافیہ اور وطن کی حدود میں رہنے والے تمام افراد خواہ وہ مسلمان ہوں، سکھ ہوں، ہندو ہوں، عیسائی ہوں، پارسی ہوں، قادیانی ہوں یا بہائی ہوں، سب قومیت کے حوالہ سے ’’پاکستانی‘‘ کہلاتے ہیں اور پاسپورٹ سمیت تمام سرکاری دستاویزات میں ان کو پاکستانی لکھا جاتا ہے۔ ظاہر بات ہے کہ اس مشترکہ قومیت کی بنیاد مذہب نہیں بلکہ وطن ہے اور یہ وہی ’’متحدہ قومیت‘‘ ہے جس کی طرف مولانا سید حسین احمد مدنی نے ارشاہ کیا تھا۔ اس لیے میرے خیال میں اب اس بے مقصد بحث میں الجھنا محض وقت ضائع کرنا ہے۔

دوسرا مسئلہ صرف وہاں کے دیوبندی علماء کا نہیں بلکہ بھارت میں تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام اور مسلمان جماعتیں یکساں نوعیت کے حالات اور ضروریات سے دوچار ہیں۔ اس لیے ان میں سے کسی ایک کا اس مسئلہ میں الجھنا سرے سے غلط بات ہے۔ البتہ پاکستان کے جن حلقوں کے تحفظات کا برادرم حامد میر صاحب نے تذکرہ کیا ہے ان کے موقف کو جھٹکے کے انداز میں مسترد کر دینے کی بجائے ان کی ذہنی الجھن کو سامنے لانے اور دلیل و منطق کے ساتھ اسے صاف کرنے کی ضرورت ہے۔

پاکستان کے بعض علمی حلقوں اور شخصیات کو اشکال ہے کہ کشمیر کا جہاد افغانستان کی طرح کا نہیں ہے اس لیے کہ افغانستان میں جہاد کا فتویٰ علماء نے دیا تھا اور جہادی گروپ اس کی بنیاد پر روسی استعمار کے خلاف جہاد کر رہے تھے، جبکہ ان کے خیال میں کشمیری مجاہدین کا معاملہ اس سے مختلف ہے، وہ اپنے عمل اور فیصلوں میں آزاد نہیں ہیں بلکہ ایجنسیوں کا کنٹرول ان پر حاوی ہے اور کنٹرولر قوت نے خود جہاد کا کوئی اعلان نہیں کیا، اس لیے ان حضرات کے نزدیک جہاد کشمیر کو افغانستان کی طرح کے شرعی جہاد کا درجہ نہیں دیا جا سکتا۔ لیکن میرے نزدیک اس کی حیثیت ایک مغالطہ کے سوا کچھ نہیں ہے اس لیے کہ یہ مفروضہ صرف اس صورت میں قبول کیا جا سکتا ہے جب جہاد کشمیر کا نقطۂ آغاز موجودہ جہادی گروپوں کی حالیہ جدوجہد کو قرار دیا جائے جبکہ فی الواقع صورتحال یہ نہیں ہے۔ بلکہ اصل تاریخی تناظر یہ ہے کہ ۱۹۴۷ء میں قیام پاکستان کے بعد کشمیری علماء نے جن میں امیر شریعت مولانا عبد اللہ کفل گڑھی، مولانا غلام حیدر جنڈالوی، مولانا محمد یوسف خان آف پلندری، مولانا عبد الحمید قاسمی، مولانا محمد عبد اللہ سیاکھوی، مولانا مظفر حسین ندوی اور دیگر سرکردہ علماء شامل تھے، ڈوگرہ حکمرانوں کے تسلط کے خلاف جہاد کا فتویٰ جاری کیا تھا اور اس کی بنیاد پر خود میدان جہاد میں نکل کر آزادیٔ کشمیر کے لیے جہاد کا آغاز کیا تھا جس کے نتیجے میں آزاد کشمیر کی موجودہ ریاست قائم ہوئی۔ اس کے بعد نہ ان علماء نے اپنا یہ فتویٰ واپس لیا اور نہ ہی کشمیری عوام آزادی کے مطالبہ اور جدوجہد سے دستبردار ہوئے۔

اس لیے جہاد کشمیر کا موجودہ راؤنڈ اسی تسلسل کا حصہ ہے اور اس کی شرعی اساس بھی مذکورہ بالا علماء کرام کے اسی فتویٰ پر ہے جس کے ذریعے انہوں نے ڈوگرہ استعمار سے جنگ لڑ کر آزاد کشمیر کا خطہ آزاد کرایا تھا۔ اور یہی وجہ ہے کہ آج بھی جہاد کشمیر میں زیادہ تر حصہ دینی جماعتوں، دینی مدارس کے طلبہ اور علماء کرام کا ہے جو اصل فریق ہیں جبکہ حکومت پاکستان اور ایجنسیوں کی حیثیت آج بھی اسی طرح کے معاون کی ہے جس طرح کی معاونت ان کی طرف سے جہاد افغانستان کو حاصل رہی ہے۔ البتہ سرحدی حالات اور علاقائی مجبوریوں کا دائرہ اس سے قطعی مختلف ہے اور وہی فرق بعض ذہنوں کو بلاوجہ الجھن میں ڈالے ہوئے ہے۔ میرا خیال ہے کہ جہاد کشمیر کے بارے میں تحفظات کا اظہار کرنے والے حضرات اس مسئلہ کو وقتی حالات کی بجائے تاریخی تناظر کے وسیع دائرہ میں دیکھیں تو ان کا اشکال خود بخود رفع ہو جائے گا اور وہ بھی اس بات کو تسلیم کریں گے کہ کشمیری عوام کی یہ جدوجہد شرعی جہاد کا درجہ رکھتی ہے جس کی حمایت و امداد ہماری دینی ذمہ داریوں میں شامل ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter