یومِ آزادی اور اس کا پیغام

   
تاریخ : 
۱۷ اگست ۲۰۰۳ء

۱۴ اگست کو پوری قوم نے یوم آزادی منایا۔ چھپن برس قبل ۱۴ اگست ۱۹۴۷ء کو برصغیر پاکستان، بھارت اور بنگلہ دیش نے برٹش استعمار کی غلامی سے آزادی حاصل کی تھی اور اسی روز دنیا کے نقشے پر ’’پاکستان‘‘ کے نام سے ایک نئی اسلامی ریاست نمودار ہوئی تھی۔ اس خوشی میں اس دن ہر سال یوم آزادی منایا جاتا ہے، ہر طبقہ اس خوشی میں شریک ہوتا ہے اور ہر طرف جشن کا سماں نظر آتا ہے، اس کے مختلف مناظر ہم نے بھی دیکھے۔

ایک منظر یہ تھا کہ ۱۲ اگست کو جب میں دوپہر کے وقت الشریعہ اکادمی سے گھر واپس آ رہا تھا کہ جس ویگن پر سوار تھا اس نے اچانک اپنا رخ جی ٹی روڈ سے شہر کے اندر جانے والی سڑک کی طرف موڑ لیا۔ کنڈیکٹر سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ یوم آزادی آ رہا ہے اور وزیر اعلیٰ پنجاب لاہور میں جو جلسہ کر رہے ہیں اس کے لیے لوگوں کو جمع کرنے کی غرض سے پولیس ویگنوں کو قبضہ میں لے رہی ہے، اس لیے ہم اندرونی سڑک کی طرف مڑ گئے ہیں، کیونکہ آگے پولیس کا ناکہ ہے سیدھے گئے تو پکڑے جائیں گے اور پھر دو تین روز تک گاڑی سمیت ہم پولیس کی تحویل میں ہوں گے۔ اس احتیاط کے باوجود وہ ویگن بچ نہیں سکی اور جب اندرونی سڑک سے چکر کاٹ کر ڈرائیور ویگن کو ایمن آبادی دروازے سے جی ٹی روڈ پر لایا تو ٹریفک پولیس کے دو کارندے موٹر سائیکل پر وہاں بھی کھڑے تھے، انہوں نے ویگن کو قابو کر لیا۔ مجھے تو وہیں اترنا تھا اس لیے پریشانی نہیں ہوئی مگر جن مسافروں نے آگے جانا تھا انہیں بھی وہیں اترنا پڑا۔

مجھے اگلے روز یوم آزادی ہی کی ایک تقریب کے سلسلہ میں لاہور جانا تھا۔ ’’بے کار‘‘ شخص ہوں پبلک ٹرانسپورٹ ہی میرا ذریعہ سفر ہوتا ہے، اس لیے فکر لاحق ہوئی کہ اگر ویگنوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ اسی طرح جاری رہا تو لاہور کا سفر کیسے کر سکوں گا؟ مگر خدا بھلا کرے ’’ق لیگ‘‘ والوں کا کہ انہوں نے سندھ و بلوچستان کے سیلاب زدگان کی ہمدردی میں لاہور کا جلسہ منسوخ کر دیا اور ویگنوں کی پکڑ دھکڑ کا سلسلہ ختم ہوا۔

دوسرا منظر جو میرے مشاہدے میں آیا وہ میرے ہی شہر گوجرانوالہ کے زندہ دلوں کی وہ ’’موٹر سائیکل ریس‘‘ تھی جو چودہ اگست کی شام کو جی ٹی روڈ پر شروع ہوئی اور رات گئے تک جاری رہی۔ سینکڑوں کی تعداد میں نوجوان موٹر سائیکلوں پر سوار گھومتے رہے۔ ایک ایک موٹر سائیکل پر چار چار پانچ پانچ سوار تھے۔ بعض نے غبارے پکڑ رکھے تھے، بعض جھنجھنے بجا رہے تھے، جن کے پاس اور کچھ نہیں تھا وہ اپنی زبان اور حلق سے کام لے رہے تھے۔ بعض منچلوں نے اپنی موٹر سائیکلوں کے سائیلنسر نکال رکھے تھے اور جب وہ تیز رفتاری کے ساتھ ادھر ادھر جاتے تو ایسے لگتا کہ کانوں کے پردے پھٹنے لگے ہیں۔ میں رات دس بجے کے قریب سیالکوٹ روڈ پر یوم آزادی کی ایک تقریب میں شرکت کے بعد مولانا حافظ محمد ارشد کے ہمراہ ان کی موٹر سائیکل پر گھر واپس آ رہا تھا تو ان زندہ دل نوجوانوں کے درمیان سے گزرنے کا موقع ملا اور انہیں ’’انجوائے‘‘ کرتے دیکھ کر دل میں یہ خیال آیا کہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے، ہم نے انہیں آزادی کا جو مفہوم بتایا ہے اور آزادی کا جو ماحول فراہم کیا ہے، اس میں یہ اس کے سوا اور کر بھی کیا سکتے ہیں؟

اس سال یوم آزادی کے حوالے سے تین تقریبات میں شرکت کا موقع ملا۔ ۱۳ اگست کو مغرب کے بعد مسجد امن باغبانپورہ لاہور میں پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمٰن اختر نے ’’آزادی اور اس کے تقاضے‘‘ کے عنوان سے سیمینار کا اہتمام کر رکھا تھا۔

۱۴ اگست کو ظہر کے بعد مدرسہ فاروقیہ چوک امام صاحبؒ سیالکوٹ میں اسی عنوان پر تقریب منعقد ہوئی اور رات کو عشاء کے بعد جمعیۃ اہل سنت گوجرانوالہ کے سیکرٹری جنرل مولانا حافظ گلزار احمد آزاد نے مسجد ختم نبوت ابوبکر ٹاؤن میں تقریب کا اہتمام کیا ہوا تھا۔ ان تقریبات میں راقم الحروف نے جو گزارشات پیش کیں ان میں بنی اسرائیل کی اس تحریک آزادی کا تذکرہ بھی شامل تھا جو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں بپا ہوئی اور جس کے مختلف مراحل کا قرآن کریم میں تذکرہ موجود ہے۔ اس کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے کوہ طور پر جب ہم کلامی کے شرف اور نبوت و رسالت سے سرفراز کیا اور ان کے ساتھ ان کے بھائی حضرت ہارون علیہ السلام کو بھی نبوت عطا فرمائی تو انہیں فرعون کے پاس دو پیغام دے کر بھیجا۔ ایک پیغام اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے اور اس کی وحدانیت کو تسلیم کرنے کے بارے میں تھا اور دوسرا بنی اسرائیل کو غلامی سے آزاد کرنے کے حوالے سے ان الفاظ میں تھا کہ ’’ان ارسل معنا بنی اسرائیل ولا تعذبہم‘‘ بنی اسرائیل کو غلامی کے عذاب سے نجات دو اور آزادی دے کر ہمارے ساتھ بھجوا دو۔ گویا حضرت موسیٰ علیہ السلام کے مشن کے دو حصے تھے۔ ایک اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور حاکمیت کا پرچار اور دوسرا بنی اسرائیل کو فرعون کی غلامی سے آزادی دلوانا۔ چنانچہ جب فرعون نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اس دعوت اور مطالبے کے جواب میں اپنے احسانات یاد دلائے کہ ہم نے کس طرح بچپن میں آپ کی پرورش کی اور آپ کو پال پوس کر جوان کیا تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون کو یہ تاریخی جواب دیا کہ ’’و تلک نعمتہ تمنھا علی ان عبدت بنی اسرائیل‘‘ تم مجھ پر اس احسان کو جتلا رہے ہو کہ تم نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے؟

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قیادت میں اس مہم میں کامیابی عطا فرمائی اور آزادی کی منزل سے ہمکنار کیا۔ بنی اسرائیل بحیرہ قلزم پار کر کے صحرائے سینا میں پہنچ گئے اور فرعون اپنے لشکر سمیت سمندر میں غرق ہوا۔ صحرائے سینا میں بنی اسرائیل نے کیمپ لگائے اور اللہ تعالیٰ نے ’’من و سلویٰ‘‘ کی بارش کی تو قوم نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے قانون اور شریعت کا تقاضا کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہ طور پر گئے، چالیس راتیں وہاں رہے اور واپسی پر توراۃ کی صورت میں شریعت اور دستور لے کر آئے، مگر بنی اسرائیل کا ایک بڑا حصہ ان کی واپسی کا انتظار کیے بغیر بچھڑے کو خدا بنا چکا تھا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کو پہلے ان سے نمٹنا پڑا، پھر حالات نارمل ہونے پر بنی اسرائیل کے سامنے توراۃ کی صورت میں شریعت پیش کی تو بنی اسرائیل نے اسے یہ کہہ کر ماننے سے انکار کر دیا کہ یہ قوانین بہت سخت ہیں، ان پر عمل کرنا ہمارے لیے بہت مشکل ہے، اس لیے ان میں رد و بدل کیا جائے اور ان کی جگہ دوسرے قوانین لائے جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس حکم عدولی پر سزا کے لیے کوہ طور کو ان کے سروں پر اٹھا دیا اور خوفناک سزا کی دھمکی دی جس پر بنی اسرائیل نے توراۃ کو قبول کرنے کا راستہ اختیار کیا۔

اس کے بعد دوسرا مرحلہ فلسطین کو دشمنوں کے قبضے سے چھڑانے اور بیت المقدس میں داخل ہونے کا تھا جس کے لیے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے بنی اسرائیل کو جہاد کا حکم دیا، مگر غلامی کی ماری ہوئی اس قوم نے جہاد کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن کی قوم بڑی طاقتور اور سخت ہے۔ ہم اس کے مقابلہ کی طاقت نہیں رکھتے، اس لیے ہم ان سے جنگ کرنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ قرآن کریم کے ارشاد کے مطابق حضرت موسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو خدا کا خوف دلایا اور دوبارہ کہا کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر یہ جہاد فرض کیا ہے اور کامیابی دلانے کا وعدہ کیا ہے، اس لیے ہمت کر کے میدان میں نکلو اور بیت المقدس کی آزادی کے لیے جہاد کرو، مگر بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو یہ کہہ کر صاف جواب دے دیا کہ ہم تو کسی صورت جہاد کے لیے تیار نہیں ہیں، اگر یہ جہاد ضروری ہے تو آپ اور آپ کا رب دونوں جا کر جنگ لڑیں ہم یہیں بیٹھے ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے اس حکم عدولی کی بنی اسرائیل کو یہ سزا دی کہ چالیس سال تک انہیں صحرا میں بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا اور فرمایا کہ اب تم چالیس برس تک اسی صحرا میں سرگرداں پھرتے رہو گے۔ چنانچہ بنی اسرائیل کی اس نسل نے انہی صحرائی کیمپوں میں زندگی بسر کی۔ حضرت ہارون علیہ السلام کی وفات وہیں ہوئی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وفات بھی اسی صحرا میں ہوئی۔ بیت المقدس کے لیے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی تڑپ اور جذبات کا اندازہ اس بات سے کر لیں کہ بخاری شریف کی روایت کے مطابق وفات کے وقت انہوں نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی کہ زندگی میں بیت المقدس تک نہیں پہنچ سکا تو کم از کم وفات کے بعد میری قبر ہی بیت المقدس کے قریب کر دی جائے۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم پر فرشتوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قبر کو بیت المقدس کے اتنا قریب کر دیا جتنی دور تک پتھر پھینکا جا سکتا ہے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے جلیل القدر پیغمبر تھے، مگر ان کی تمام تر عظمت اور بزرگی کے باوجود چونکہ ان کی قوم نے ساتھ دینے سے انکار کر دیا، اس لیے جہاد کے جذبہ اور بیت المقدس کی آزادی کی خواہش کے باوجود انہیں قوم کے ساتھ صحرائے سینا میں ہی زندگی بسر کرنا پڑی۔ اور ان کی وفات کے بعد چالیس سال کا عرصہ گزرنے پر ان کے جانشین حضرت یوشع بن نون علیہ السلام کی قیادت میں جہاد کر کے بنی اسرائیل نے بیت المقدس کو دشمنوں سے آزاد کرایا اور وہاں بنی اسرائیل کی حکومت قائم ہوئی۔

بنی اسرائیل کی اس تحریک آزادی کے تذکرہ سے میری غرض یہ ہے کہ ہم بھی اسی قسم کے حالات سے گزر رہے ہیں اور ان جیسی حرکتوں کے مرتکب ہیں۔ ہمیں اللہ تعالیٰ نے انگریزوں کی غلامی سے نجات دلائی اور ہندوؤں سے الگ کر کے پاکستان جیسی عظیم اسلامی ریاست دلوائی، مگر جب پاکستان میں شریعت اسلامی کے نفاذ کا مرحلہ آیا تو ہم نے اس سے انکار کر دیا، اور جہاد کا موقع آیا تو ہم اس کے لیے بھی تیار نہ ہوئے۔ دونوں جگہ ہمارا عذر وہی ہے جو بنی اسرائیل کا تھا۔ نظامِ شریعت کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ قوانین بہت سخت ہیں، آج کے دور میں قابل عمل نہیں ہیں اور اتنے سخت قوانین کے مطابق زندگی بسر کرنا ہمارے لیے بہت مشکل ہے۔ جبکہ جہاد کے حوالے سے ہمارا موقف یہ ہے کہ دشمن ہم سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے، اس کے پاس فوجیں زیادہ ہیں، ٹیکنالوجی زیادہ ہے، قوت زیادہ ہے، اس لیے ہم اس سے لڑنے کی سکت نہیں رکھتے ہیں اور نہ ہی اس کے لیے تیار ہیں۔

اس کے بعد اگلا مرحلہ ’’صحرا میں بھٹکتے پھرنے‘‘ کی سزا کا ہے اور اگر ہم سب کی حس مردہ نہیں ہو گئی اور ہم سب کا شعور جواب نہیں دے گیا تو ہم پر یہ سزا نافذ ہو چکی ہے اور یہ عذاب ہم پر پوری طرح مسلط ہے۔ ہم دنیا کے اس صحرا میں بے بسی اور لاچاری کے عالم میں بھٹکتے پھر رہے ہیں۔ کوئی ہمارا ہاتھ تھامنے والا نہیں ہے اور کوئی ہمیں راستہ بتانے والا نہیں۔ صرف اتنا فرق ہے کہ بنی اسرائیل کے پاس پیغمبر موجود تھے جنہوں نے سزا کی مدت بیان کر دی تھی کہ یہ سزا چالیس سال تک جاری رہے گی، مگر ہمارے پاس سزا کی مدت بیان کرنے والا کوئی نہیں ہے کہ ہم نے کب تک مجبوری اور ذلت کے اس صحرا میں سرگرداں رہنا ہے۔

اس لیے حالیہ یوم آزادی کا ہم سے سب سے بڑا تقاضا یہ ہے کہ ہم احساس اور شعور کی مردگی کے ماحول سے نکلنے کی کوشش کریں، اپنے موجودہ حالات کا ادراک حاصل کریں، آزادی کا مطلب پہچانیں، پاکستان کی نعمت کی قدر کریں، اپنی نئی نسل کو آزادی کے تحفظ اور پاکستان کی ترقی کے لیے تیار کریں، دشمن اور اس کے طریق واردات کو سمجھیں، اگلی پود کو اس کے مقابلہ کے لیے تیاری کرائیں، اور اپنے عقیدہ، دین، شریعت، تہذیب اور روایات کو اگلی نسل تک صحیح صورت میں منتقل کرنے کی کٹھن ڈیوٹی سے عہدہ برآ ہونے کی جدوجہد کریں۔ ہو سکتا ہے کہ ان میں کوئی ’’یوشع بن نون‘‘ پیدا ہو جائے اور اس کی قیادت میں قوم آزادی کی اصل منزل سے ہمکنار ہو جائے۔

   
2016ء سے
Flag Counter