نفاذِ اسلام کی جدوجہد

   
۲۰۱۷ء

پاکستان میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد کن معاملات اور کن مراحل سے گزری۔ اس میں پہلی بات تو یہ ہے کہ جب پاکستان بنا تو اس میں شامل بہت سی ریاستوں میں عدالتی دائرے میں قوانین نافذ تھے۔ پاکستان میں ریاست سوات، دیر، چترال، ریاست امبھ، خیرپور، بہاولپور، قلات یہ بہت بڑا علاقہ تھا جو ریاستوں پر مشتمل تھا۔

انگریزی دور میں برصغیر میں سینکڑوں ریاستیں تھیں۔ ان ریاستوں کا الگ نظام تھا اور اسٹیبلشڈ ایریا کا نظام الگ تھا۔ اسٹیبلشڈ ایریا وہ علاقہ کہلاتا تھا جو برطانوی حکومت کے براہ راست کنٹرول میں تھا۔ پنجاب، یو پی اور بنگال میں براہ راست تاجِ برطانیہ کی حکومت تھی۔ لیکن سینکڑوں علاقائی ریاستیں ایسی تھیں جن کے ساتھ برطانوی حکومت نے یہ معاہدہ کر رکھا تھا کہ اندرونی طور پر ان کے نواب اور سردار خود مختار ہیں، وہ نظام جس طرح بھی چلانا چاہیں چلائیں، برطانوی حکومت کو کوئی سروکار نہیں ہے۔ لیکن ایک مرکزی وفاقی نظام ہو گا اس میں وہ پابند ہوں گے۔ دفاع، امن و امان، کرنسی اور مواصلات وغیرہ ، ان علاقوں میں مشترک مسائل میں مرکزی حکومت کی پالیسی چلتی تھی، لیکن داخلی مسائل کہ قانون کیا ہے، ضابطہ کیا ہے، اندرونی طور پر حکومت کا نظام کیا ہے، شورائی ہے یا نہیں ہے، انہیں یہ خود مختاری حاصل تھی۔

کہا جاتا ہے کہ جب یہاں سے انگریز گیا تو جنوبی ایشیا میں اس قسم کی پانچ سو کے لگ بھگ ریاستیں تھیں، کچھ چھوٹی اور کچھ بڑی۔ قلات کی ریاست بہت بڑی تھی، اس میں آدھا بلوچستان تھا۔ ریاست خیرپور الگ ریاست تھی، اس میں سندھ کا بہت بڑا حصہ تھا، اسی طرح کشمیر اور جونا گڑھ۔ اس طرح کی بہت سی نیم خود مختار ریاستیں تھیں۔ کشمیر کا جھگڑا بھی اس لیے کھڑا ہوا تھا کہ جب تقسیم ہوئی تو طے یہ ہوا کہ جو ہندو اکثریت کے علاقے ہیں وہ انڈیا کے ساتھ، اور جو مسلم اکثریت کے علاقے ہیں وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہوں گے۔ مگر ریاستوں کے حکمرانوں کو اختیار حاصل تھا کہ وہ جس کے ساتھ الحاق کرنا چاہیں کر سکتے ہیں، وہ خود مختار ہیں۔ اس حوالے سے بڑی دلچسپ داستانیں ہیں۔ کشمیر مسلم اکثریت کا علاقہ تھا لیکن اس کا راجہ مسلمان نہیں تھا، غیر مسلم تھا، اس نے انڈیا کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ جونا گڑھ ہندو ریاست تھی وہاں ہندو راجہ تھا، اس نے پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کر دیا۔ یہ عجیب قصہ تھا۔ قلات مسلمان ریاست تھی، یہ بھی انڈیا کے ساتھ الحاق کرتے کرتے رہ گئے اور بچ گئے۔ لیکن بہرحال ریاستوں کے حکمرانوں کو اختیار حاصل تھا کہ وہ جس کے ساتھ چاہیں الحاق کریں۔ کشمیر کے راجہ نے انڈیا کے ساتھ الحاق کا اعلان کیا تو مسلمان عوام نے بغاوت کر دی کہ ہم پاکستان کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ پاکستان سے فوجیں کشمیر میں داخل ہوئیں تو اقوام متحدہ نے لڑائی رکوا دی۔ کشمیر میں وہی جھگڑا ابھی تک چل رہا ہے۔ حیدرآباد دکن کی ریاست مسلمان حکومت تھی، وہاں مسلمان نواب تھے جو پاکستان کے ساتھ آنا چاہتے تھے لیکن انڈیا نے فوجیں بھیج کر اس پر قبضہ کر لیا اور جونا گڑھ پر بھی قبضہ کر لیا۔

’’شریعت بل‘‘ یعنی شریعت کے نفاذ کے لیے مسودۂ قانون، اس نام سے جدوجہد کا آغاز انگریزوں کے دور میں ہی ہو گیا تھا۔ ۱۹۳۵ء میں جب برطانوی استعمار نے یہاں داخلی خود مختاری دے کر ریاستوں کے انتخابات کروائے تھے اور صوبائی حکومتیں قائم ہوئی تھیں، اس زمانے میں جمعیت علماء ہند اور مسلم لیگ نے مل کر پہلا انتخاب لڑا تھا۔ پورے برصغیر میں بہت سے صوبوں میں مسلم لیگ کی حکومتیں بنی تھیں اور بہت سے صوبوں میں کانگریس کی حکومتیں بنی تھیں ۔ صوبہ سرحد میں کانگریس کی حکومت بنی تھی، جمعیت علماء ہند بھی اس وقت کانگریس کے ساتھ تھی اور صوبہ سرحد اسمبلی میں جمعیت علماء ہند کے نمائندے ٹانک اور کلاچی کے علاقے سے منتخب ہوئے۔

اس وقت جمعیت علماء ہند نے صوبہ سرحد میں یہ تحریک کی تھی کہ وراثت کی شرعی تقسیم کا قانون نافذ ہونا چاہیے۔ چونکہ پنجاب کے زمینداروں ، سندھ کے جاگیرداروں ، صوبہ سرحد کے بڑے خانوں اور بلوچستان کے سرداروں میں یہ علاقائی رواج چلا رہا تھا کہ عورتوں کو وراثت میں حصہ نہیں ملتا تھا، اور لڑکوں میں سے بھی بڑا لڑکا وارث ہوتا تھا۔ اب بھی تقریبا جاگیرداری اور سرداری سسٹم میں یہی معاملہ ہے۔ چنانچہ بر صغیر میں عورتوں کے وراثتی حقوق کی بحالی کے لیے سب سے پہلے جمعیت علماء ہند نے ۱۹۳۵ء کے الیکشن کے بعد صوبہ سرحد میں شریعت بل کے نام سے ایک بل پیش کیا تھا، جس میں کہا گیا تھا کہ روایتی طریقہ ختم کر کے شریعت کے مطابق وراثت کی تقسیم کا نظام رائج کیا جائے۔ اس زمانے میں سرحد میں بھی عورتوں کی وراثت اور ان کی مالی ملکیت کے استحقاق کا یہ کام ہوا۔ اور پنجاب اور یو پی (اترپردیش) میں حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ نے لوگوں کو ترغیب دینے کے لیے عوامی سطح پر یہ مہم چلائی تھی کہ لوگوں کو وراثت کی تقسیم شریعت کے مطابق کرنی چاہیے اور عورتوں، لڑکیوں، بہنوں اور بیویوں کو وراثت میں حصہ دینا چاہیے۔ سرحد میں یہ تحریک اسمبلی میں تھی اور پنجاب میں یہ تحریک عوامی وعظ و نصیحت کے ذریعے تھی۔ مولانا اشرف علی تھانویؒ نے مولانا مفتی عبد الکریم گمتھلویؒ کو، جو مولانا مفتی عبد الشکور ترمذیؒ کے والد تھے، باقاعدہ مہم دے کر پنجاب کے مختلف علاقوں میں بھیجا تھا ۔ جبکہ اِدھر سرحد اسمبلی میں یہ بل پیش ہوا جس کا نام شریعت بل تھا، اس میں تقاضہ کیا گیا تھا کہ قانوناً پابندی لگا دی جائے کہ وراثت کی تقسیم شریعت کے مطابق ہو اور عورتوں کو مرنے والے کی وراثت سے شریعت کے مطابق حصہ ملے۔

اس شریعت بل پر ایک بڑا اشکال پیش ہو گیا تھا جس پر اس زمانے میں بڑی بحث ہوئی تھی کہ کیا ایک باطل نظام میں شریعت کا مطالبہ درست ہے؟ کیونکہ اس وقت انگریزوں کی حکومت تھی، برطانوی استعمار کا تسلط تھا، اسمبلیاں بھی برطانوی نظام کے تحت وجود میں آئی تھیں، اوپر ملکہ برطانیہ تھی، جس کے تحت ہندوستان میں وائسرائے کی حکومت تھی۔ یہ ایک باطل نظام تھا تو کیا ایک کافر حکومت اور باطل نظام کے تحت شریعت کے کسی قانون کے نفاذ کا مطالبہ درست بھی ہے یا نہیں ؟ اس پر بڑی لمبی بحث چلی تھی اور آپس میں بہت مباحثے ہوئے۔ اس وقت جمعیت علماء ہند کے صدر مفتی اعظم ہند مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ تھے ۔ ان کی خدمت میں یہ مسئلہ پیش کیا گیا کہ سرحد اسمبلی جو کہ ایک کافر نظام کے تحت، انگریزوں کی حکومت کے تحت قائم ہوئی ہے، کیا سرحد اسمبلی میں شریعت بل کے نام سے بل پیش کرنا اور اس سے مطالبہ کرنا کہ وہ شریعت کا قانون کسی شعبے میں نافذ کرے شرعا جائز ہے یا نہیں؟

اس پر مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ نے بحیثیت مفتی اور بحیثیت صدر جمعیت علماء ہند یہ فیصلہ دیا تھا کہ سرحد اسمبلی میں شریعت بل کا پیش کرنا درست ہے اور مسلمانوں کو اس کی کامیابی کے لیے جدوجہد کرنی چاہیے۔ ان کا یہ فیصلہ جمعیت علماء ہند کے اخبار ہفت روزہ الجمعیۃ میں بھی شائع ہوا تھا۔ اس کی تفصیل مولانا مفتی کفایت اللہؒ کے فتاوٰی کے مجموعہ ’’کفایت المفتی‘‘ میں چھپی ہوئی ہے۔ مفتی اعظم ہندؒ نے اس کی اجازت دی کہ سرحد اسمبلی میں شریعت بل پیش کیا جا سکتا ہے، جو اس وقت پاس نہیں ہوا، لیکن بہرحال یہ پہلا شریعت بل تھا جو سرحد اسمبلی میں ۱۹۳۵ء کے الیکشن کے بعد پیش ہوا تھا ، جس میں وراثت کی شرعی تقسیم کو قانونی حیثیت دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔

پنجاب میں یہ مسئلہ بعد میں پیش آیا جب پاکستان بن گیا تو ایک طرف سے کمیونزم کی یلغار تھی تو زمینداروں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ایک انجمن بنائی۔ چونکہ انڈیا میں زمینداریاں اور نوابیاں ختم کر دی گئی تھیں تو پنجاب اور سندھ میں زمینداروں نے ”انجمنِ تحفظِ حقوقِ زمینداراں“ کے نام سے اپنی ایک انجمن بنائی اور اپنی ملکیت اور حقوق کے تحفظ کے لیے بڑے بڑے زمیندار اکٹھے ہو گئے۔ اس انجمن میں نوابزادہ نصر اللہ خان بھی تھے جو پاکستان بننے سے پہلے آل انڈیا مجلسِ احرارِ اسلام کے سیکرٹری جنرل تھے اور قومی رہنماؤں میں سے تھے۔ مجھے بھی الحمد للہ ان کے ساتھ سالہا سال تک پاکستان قومی اتحاد کی تحریک اور دوسری تحریکات میں کام کرنے کا موقع ملا۔ وہ ہمارے قومی لیڈروں میں سے اور بڑے اچھے رہنماؤں میں سے تھے۔ نوابزادہ نصر اللہ خان بھی بڑے زمیندار تھے تو اس انجمن میں شامل ہوئے اور کوشش کر کے اس میں ایک لفظ شامل کروا دیا ’’انجمنِ تحفظِ حقوقِ زمینداراں تحت الشریعہ‘‘۔ اس میں تحت الشریعہ کا لفظ بڑھایا اور کہا کہ ہم حقوق مانگتے ہیں لیکن شریعت کے تحت حقوق کا تحفظ بھی کریں گے۔ بعد میں یہ تحریک زیادہ نہیں چلی لیکن میں تاریخ کا ایک حصہ بتا رہا ہوں کہ یہ بھی ہوا کہ پاکستان بننے کے بعد جب زمینداروں نے اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے جدوجہد کی تو اس میں جو ہمارے نمائندے موجود تھے نوابزادہ نصر اللہ خان، انہوں نے کوشش کر کے یہ شق شامل کروائی کہ ہم شریعت کے تحت سارے حقوق کی بات کرتے ہیں۔ یہ میں ماضی کی بات کر رہا ہوں کہ یہاں شریعہ کا لفظ پہلے بھی چلا آتا رہا ہے۔

پاکستان کے حصے میں جو ریاستیں آئیں یعنی قلات، خیرپور سندھ، بہاولپور، سوات، دیر، امبھ اور چترال ، یہ اندرونی طور پر خود مختار تھیں۔ ان کا عدالتی نظام وہی تھا جو مغلیہ دور میں فقہ حنفی کی بنیاد پر چلا آ رہا تھا اور لوگوں کے مقدمات کے فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے تھے۔

پاکستان بننے کے بعد ان ریاستوں کے ساتھ بات چیت چلی کہ ان کا پاکستان میں باقاعدہ ادغام ہونا چاہیے۔ یہ ادغام صدر ایوب خان کے دور میں ہوا کہ ریاستوں کو ختم کر کے ان کو باقاعدہ پاکستان کا حصہ بنایا گیا۔ اس وقت ان کا عدالتی نظام ختم کر کے جو پاکستان میں انگریزی اور برطانوی عدالتی نظام تھا وہ وہاں تک وسیع ہو گیا۔

میں عرض کیا کرتا ہوں کہ پاکستان شرعی قوانین کے نفاذ کے لیے بنا تھا، لیکن پاکستان بننے کے بعد ان ریاستوں کے الحاق کے بعد جہاں جہاں کچھ تھوڑے بہت شرعی قوانین نافذ تھے وہ بھی منسوخ ہو گئے۔ اگر اس خطے کا اندازہ کریں تو آدھا پاکستان نہیں تو تیسرا حصہ ضرور بنتا ہے۔ وہاں کسی درجے میں شریعت کے قوانین نافذ تھے جو کہ پاکستان بننے کے بعد ختم ہو گئے، یہ ہماری تلخ داستان ہے۔ بجائے اس کے کہ باقی علاقوں میں بھی شریعت کے قوانین نافذ ہوتے، عملاً یہ ہوا کہ جن علاقوں میں کچھ شرعی قوانین تھے وہاں سے بھی ختم ہو گئے۔ حالانکہ ریاستوں کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے وقت قلات اور سوات کا تو باقاعدہ معاہدہ ہوا کہ ہمارا عدالتی نظام باقی رکھیں گے، اور بہاولپور کا بھی معاہدہ ہوا لیکن اس کی پابندی نہیں کی گئی۔ چنانچہ قلات کے لوگ اب جو ناراض ہیں اور وہاں کے سابق نواب ناراض ہو کر لندن میں بیٹھے ہوئے ہیں، ان کے مطالبات اور شکایتوں میں ایک یہ بھی ہے کہ ہم نے جن شرطوں پر اور جس معاہدے کے تحت الحاق کیا تھا اس معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

سوات میں جو صورتحال ہے اور جو معرکے ہوئے ہیں اس کا پس منظر بھی یہی ہے۔ کچھ عرصہ پہلے مولانا صوفی محمد نے ایک تحریک چلائی جس کا بنیادی مطالبہ یہی تھا کہ شرعی عدالتی نظام ختم ہونے اور انگریزی نظام آنے سے ہمارے لیے مشکلات پیدا ہوئی ہیں۔ پہلے ہمارے ہاں انصاف فری ہوتا تھا اب پیسے خرچ ہوتے ہیں۔ پہلے شرعی قوانین تھے ، فیصلے عدالت میں آسانی سے ہو جاتے تھے، اب اپیل در اپیل کے چکر میں پڑے رہتے ہیں اور کئی سال گزر جاتے ہیں۔ پہلے مسجد میں قاضی صاحب بیٹھتے تھے، آسانی سے دو چار پیشیوں میں فیصلہ ہو جاتا تھا، اب سالہا سال مقدمے چلتے رہتے ہیں اور فیصلوں پر اطمینان بھی نہیں ہوتا۔ ان کا ابتدائی مطالبہ بالکل سادہ سا تھا کہ ہمارا پہلا عدالتی نظام واپس لایا جائے کہ اس میں سہولت تھی، اس میں انصاف بھی تھا اور شریعت بھی تھی۔

اس پر سوات کی عوام سڑکوں پر آئے تو سوات کے عوام سے باقاعدہ معاہدہ کیا گیا کہ ٹھیک ہے مالاکنڈڈویژن میں پرانا عدالتی نظام اور پرانی عدالتیں بحال کی جائیں گی، اس کا باقاعدہ اعلان ہوا۔ میں بھی ان دنوں سوات گیا، وہاں کا دورہ کیا، ساری صورتحال کا جائزہ لیا اور ہم نے وہ پوری رپورٹ چھاپی تھی۔ یہ معاہدہ تقریباً دو دفعہ ہوا ہے۔ ان کا مطالبہ وہی ہے لیکن اضافہ اتنا ہوا ہے کہ اب انہوں نے ہتھیار اٹھا لیے۔ ہم نے ان کے ہتھیار اٹھانے سے اتفاق نہیں کیا لیکن ان کا مطالبہ ٹھیک ہے۔

لطف کی بات یہ ہے کہ اس وقت بلوچستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین لشکر رئیسانی تھے جو کہ اب بھی پیپلز پارٹی کے رہنما ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ قلات میں سابقہ شرعی عدالتی نظام بحال کیا جائے کیونکہ لوگوں کو اس میں سہولتیں ہیں، آسانی ہے اور انصاف ہے۔ پاکستان میں نفاذ شریعت کے حوالے سے ایک تناظر تو یہ ہے۔

ہمارا ماضی قریب کا جو شریعت بل تھا اس کا پس منظر یہ ہوا کہ جنرل ضیاء الحق مرحوم نے جب غیر جماعتی بنیادوں پر مجلسِ شورٰی قائم کی اور سینٹ کو بحال کر کے اس کے انتخابات کروائے ، تو سرحد کی طرف سے جو سینیٹر منتخب ہوئے ان میں ہمارے دو محترم بزرگ مولانا قاضی عبد اللطیفؒ کلاچی اور مولانا سمیع الحقؒ اکوڑہ خٹک سینیٹر منتخب ہوئے۔ یہ اس دور میں تقریباً چھ سال سینٹ کے ممبر رہے۔ ۱۹۸۷ء میں انہوں نے سینٹ آف پاکستان میں ’’شریعت بل‘‘ پیش کیا جس میں بنیادی شق یہ تھی کہ دستور میں قرآن و سنت کی بالادستی کو تسلیم کیا جائے کہ ملک میں قرآن و سنت سے متصادم کوئی قانون نہیں بنے گا، اگر کوئی ایسا قانون نافذ ہے تو اس دفعہ کے نفاذ کے بعد وہ خودبخود ختم ہو جائے گا۔ ملک کا کوئی قانون، ضابطہ یا روایت اگر شریعت کے منافی ہے تو وہ اس قانون کے نفاذ کے بعد خودبخود ختم ہو جائے گی۔ گویا یوں سمجھ لیجیے کہ قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کو غیر مشروط طور پر تسلیم کرانے کا بل تھا۔

سینٹ آف پاکستان میں یہ بل پیش ہوا۔ پورے ملک میں بحث مباحثہ ہوا۔ ملک بھر میں شریعت بل مہم چلی اور تمام مکاتبِ فکر کا ایک مشترکہ فورم ’’متحدہ شریعت محاذ‘‘ کے نام سے تشکیل پایا۔ مولانا عبد الحق صاحبؒ اکوڑہ والے اس کے صدر تھے، قاضی حسین احمد مرحوم جماعت اسلامی کے سابقہ امیر اس کے سیکرٹری جنرل، بریلوی مکتبِ فکر کے بڑے عالم مفتی محمد حسین نعیمی نائب صدر، اہلِ حدیث رہنما مولانا عبد الغفار روپڑی نائب صدر اور میں سیکرٹری اطلاعات تھا۔ تقریباً تمام مکاتبِ فکر کی ایک ٹیم بن گئی تھی۔ ہم سب نے مل جل کر ’’متحدہ شریعت محاذ‘‘ بنایا۔ اس میں ڈاکٹر اسرار احمدؒ بہت متحرک تھے، اور سوادِ اعظم اہلِ سنت کراچی کے مولانا اسفند یار خان، مفتی احمد الرحمنؒ اور حضرت مولانا سلیم اللہ خانؒ، یہ سب حضرات سواد اعظم کے قائد تھے اور شریعت بل کی تحریک میں مکمل طور پر ہمارے ساتھ تھے۔

جب شریعت بل کی تحریک چلی تو جماعتی معاصرت کے باعث مولانا فضل الرحمٰن نے ابتدا میں مخالفت کی لیکن بالآخر وہ بھی ہماری تحریک میں ہمارے ساتھ آئے۔ راولپنڈی کے ایک ہوٹل میں بڑا کنونشن ہوا جس کی ایک نشست کی صدارت مولانا فضل الرحمٰن اور دوسری نشست کی صدارت مولانا محمد خان شیرانی نے کی۔ سب اکٹھے ہو گئے اور دوسری جماعتیں بھی تھیں۔ اس زمانے میں شریعت بل کی منظوری کے لیے پورے ملک میں تحریک چلی۔ جلوس، جلسے، مظاہرے ہوئے۔ ہم نے پارلیمنٹ کے سامنے بہت بڑا مظاہرہ کیا تھا، میں بھی اس میں شریک ہونے والوں اور کام کرنے والوں میں شامل تھا۔ یہ پورے ملک میں ایک متفقہ شریعت بل تھا۔

اس میں ایک فرق پڑا۔ یہ وہ دور تھا جب ایران کا انقلاب آ چکا تھا اور پاکستان میں نفاذِ فقہ جعفریہ کی تحریک کا آغاز ہو گیا تھا۔ علامہ عارف الحسینی پاکستان میں جناب آیت اللہ خمینی کے نمائندے کے طور پر متعارف تھے۔ وہ لکھتے بھی تھے کہ میں خمینی کا نمائندہ ہوں۔ اور ہمارے گوجرانوالہ کے مفتی جعفر حسین شیعہ کے بڑے علماء میں سے تھے، ان کی قیادت میں اور علامہ عارف الحسینی اور آغا حامد موسوی سے اس تحریک کا آغاز ہو گیا تھا۔ میں وہ تبدیلی بتانا چاہتا ہوں کہ پہلے جب ہم شریعت کے نفاذ کی جدوجہد کرتے تھے اس میں، اور شریعت بل کی تحریک میں دو بنیادی تبدیلیاں آئیں۔ وہ یہ کہ شیعہ ایران انقلاب کے بعد مفتی جعفر حسین کی قیادت میں تحریکِ نفاذِ فقہ جعفریہ کے نام سے منظم ہو گئے تھے ۔فقہ جعفریہ کے نفاذ کے مطالبے پر تحریک کا آغاز کیا تھا اور اسلام آباد وفاقی سیکرٹریٹ پر دھرنا دیا تھا اور اسلام آباد کے سول سیکریٹریٹ کا کافی دن گھیراؤ رکھا تھا۔ اس پر صدر ضیاء الحق نے ان کے کچھ مطالبات زکوٰۃ وغیرہ کے مانے بھی تھے۔

اس کے بعد پھر رخ تبدیل ہو گیا۔ سپاہِ صحابہ بعد میں وجود میں آئی ہے۔ اُس وقت سوادِ اعظم اہلِ سنت کراچی کا اور تحریکِ نفاذِ فقہ جعفریہ کا آمنا سامنا تھا۔ شیعہ کمیونٹی کی قیادت یہ تحریک کر رہی تھی اور دیوبندی مکتبِ فکر میں اہل سنت پر کام کرنے والوں کی قیادت سوادِ اعظم اہلِ سنت پاکستان کر رہی تھی۔ اس وقت ایک متحدہ سنی محاذ بھی بنا تھا، تمام دیوبندی جماعتیں اس کی محرک تھیں۔ لاہور شیرانوالہ میں ’’سواد اعظم کنونشن‘‘ ہوا تھا اور دیوبندی مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والی تمام جماعتیں متحدہ سنی محاذ کے نام سے متحد ہو گئی تھیں۔ مولانا مفتی احمد الرحمٰنؒ اس کے صدر تھے اور میں رابطہ سیکرٹری تھا، دیگر عہدیدار منتخب نہیں ہوئے تھے، ہم نے ایک نئے سرے سے آغاز کیا۔

یہ میں اس دور کا تناظر بیان کر رہا ہوں جب متحدہ شریعت محاذ تشکیل پایا۔ راولپنڈی میں جامعہ اسلامیہ میں میٹنگ تھی۔ مولانا عبد الحقؒ کی قیادت اور صدارت میں اجلاس ہو رہا تھا اور تمام مکاتبِ فکر دیوبندی، بریلوی، جماعت اسلامی اور اہل حدیث سب موجود تھے ۔ وہاں یہ مسئلہ پیش آیا کہ آیا شیعہ کو تحریک میں شامل کرنا چاہیے یا نہیں کرنا چاہیے؟ شیعہ تحریک میں شامل ہونے کے لیے تیار تھے۔ علامہ عارف الحسینی وفد لے کر اسلام آباد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ مجھے اشارہ کریں تو میں آتا ہوں، لیکن سوادِ اعظم اہلِ سنت والجماعت کا موقف یہ تھا کہ شیعہ کو تحریک میں شامل نہیں کرنا چاہیے۔ چنانچہ اس فیصلے کا احترام کیا گیا اور ان کو دعوت نہیں دی گئی۔ جس سے انہوں نے شریعت بل کی مخالفت کا اعلان کر دیا، اور اس کے بعد ملک میں بڑی معرکہ آرائی ہوئی۔

چونکہ میں اس تحریک کا کارکن ہوں، میں اپنے دل کی بات ضرور کروں گا کہ اس سے ہمیں یہ نقصان ہوا کہ وہ جو ہم نے علماء کے بائیس نکات کی صورت میں دنیا کو پیغام دیا تھا کہ پاکستان میں نفاذِ اسلام کے مسئلہ پر کوئی فرقہ وارانہ اختلاف نہیں ہے، ہمارا وہ موقف ختم ہو گیا اور اب پاکستان میں شریعتِ اسلامیہ متضاد موقف بن گئی کہ شیعہ الگ موقف پیش کر رہے ہیں اور سنی الگ موقف پیش کر رہے ہیں۔ ہمارا کیمپ الگ ہو گیا اور شیعہ کا کیمپ الگ ہو گیا۔ وہ فقہ جعفریہ کے نفاذ کی بات کرنے لگے، اور ان کے ردعمل میں ہمارے دوستوں نے جب نفاذِ فقہ حنفی کا نعرہ لگایا تو اہلِ حدیث حضرات بھی ہمارے مخالف ہو گئے۔ یہ حکمتِ عملی کی بات ہوتی ہے، ہم نے پاکستان میں کبھی فقہ حنفی کے نفاذ کا نعرہ نہیں لگایا، اس لیے کہ جب بھی نافذ ہونی ہے تو فقہ حنفی ہی ہونی ہے کیونکہ پاکستان میں اکثریت اس کی ہے۔ لیکن جب نفاذِ فقہ جعفریہ کی بات ہوئی اور جواب میں فقہ حنفی کی بات ہوئی تو اس کے جواب میں اہل حدیث کا بہت بڑا گروپ ہمارے سامنے کھڑا ہو گیا۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر مرحوم نے پورے ملک میں شریعت بل کے خلاف مہم چلا دی کہ یہ حنفیوں کی فقہ ہے۔ وہ میرے ذاتی بے تکلف دوست تھے لیکن میں ان کو قائل نہیں کر سکا۔ مولانا معین الدین لکھنوی ہمارے ساتھ تھے، جبکہ علامہ احسان الٰہی ظہیر اپنے پورے گروپ سمیت شریعت بل کے مخالف تھے۔ اخبارات میں بیانات آتے، مضامین لکھتے اور تقاریر میں مخالفت کرتے رہے۔

اس کا پس منظر میں نے یہ عرض کیا ہے کہ شیعہ کو متحدہ محاذ میں شریک نہ کرنا، اس پر نفاذِ فقہ جعفریہ کا مطالبہ، پھر نفاذِ فقہ حنفی کا مطالبہ اور پھر اہل حدیث حضرات کا یہ رد عمل۔ یہ اچھا خاصا کھچڑا پک گیا، لیکن جو ہونا تھا ہو گیا۔ اب اس فضا میں کچھ اور مسائل کھڑے ہو گئے۔ شریعت بل کی تحریک میں ہمیں دو تین نئے محاذوں کا سامنا تھا جن کا ہمیں پہلے کبھی سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔

شریعت بل کے حوالے سے دو بحثیں ہوئیں۔ مذاکرات میں قاضی عبد اللطیف، مولانا سمیع الحق، ڈاکٹر اسرار احمد، قاضی حسین احمد تھے، میں بھی تھا۔ ادھر سے ہمارے دوست وفاقی وزیر مذہبی امور اقبال احمد خان مرحوم اور وزیر قانون وسیم سجاد تھے جو بعد میں سینٹ کے چیئرمین بھی رہے ہیں ملک کے معروف قانون دان ہیں۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے ہم قرآن و سنت کو ملک کا سپریم لاء تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں، آئین میں طے کر دیتے ہیں، لیکن ایک شرط پر کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح میں آپ پارلیمنٹ کو اتھارٹی تسلیم کریں کہ اس کی اکثریت جو تعبیر طے کر دے وہی تسلیم ہو گی۔ یہ بات آپ مان لیں، وہ بات ہم مان لیتے ہیں۔ لیکن یہ بات ماننے کی نہیں تھی کیونکہ پارلیمنٹ کا ممبر ہونے کے لیے سورہ فاتحہ کا ترجمہ جاننا بھی شرط نہیں ہے۔ وہ آدمی جو سورہ فاتحہ کا ترجمہ نہیں جانتا اس سے سورہ طلاق کے احکام و مسائل پوچھے جائیں تو وہ کیا کرے گا۔ جس پارلیمنٹ کی رکنیت کے لیے سورہ فاتحہ اور سورہ اخلاص بھی پڑھنا شرط نہ ہو، اس پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح کا اختیار دیں گے تو اس کا کیا نتیجہ سامنے آئے گا۔ اس پر میں نے وزیر مذہبی امور کو لطیفہ سنایا جو مولانا روم نے مثنوی میں ذکر کیا ہے۔

مولانا روم نے مثنوی میں بڑی عجیب کہاوتیں اور مثالیں بیان کی ہیں۔ انہوں نے یہ واقعہ لکھا ہے کہ ایک زمانے میں جب چھاپہ خانے نہیں ہوتے تھے تو قرآن پاک ہاتھ سے لکھے جاتے تھے۔ لوگ پڑھنے کے لیے کاتب سے نسخہ لکھوا لیتے تھے۔ ایک آدمی نے کسی کاتب سے کہا کہ مجھے قرآن پاک کا ایک نسخہ لکھ دو۔ اس نے کہا ٹھیک ہے لکھ دوں گا۔ ہدیہ طے ہوا کہ اتنا ہدیہ ملے گا۔ اس نے مدت بھی طے کر دی کہ دو تین مہینے میں لکھ دوں گا۔ لہٰذا اس نے دوسرے نسخے سے دیکھ کر لکھ کر مکمل کر لیا۔ جب وہ آدمی کاتب کے پاس نیا نسخہ لینے کے لیے گیا تو اس سے پوچھا کہ دھیان سے لکھا ہے، اس میں کوئی غلطی تو نہیں ہے؟ کاتب نے کہا کہ میں نے بڑی توجہ سے لکھا ہے اور بڑی محنت اور کوشش کی ہے کہ کوئی غلطی نہ ہو، لیکن جس قرآن پاک کو دیکھ کر میں نے یہ نسخہ لکھا ہے اس میں دو تین غلطیاں تھیں وہ میں نے صحیح کر دی ہیں۔ اس آدمی نے پوچھا وہ کون سی غلطیاں تھیں تو کاتب نے کہا کہ اس قرآن میں لکھا ہوا تھا ’’وعصیٰ آدم ربہ فغویٰ‘‘۔ میں نے سوچا کہ عصا حضرت آدم ؑکا تو نہیں تھا حضرت موسٰیؑ کا تھا۔ اس لیے میں نے اسے ٹھیک کر کے لکھ دیا ’’وعصی موسٰی ربہ فغوی‘‘۔ اس نسخے میں دوسری غلطی یہ تھی کہ اس میں لکھا ہوا تھا ’’ولقد نادانا نوح‘‘ میں نے سوچا کہ نوح علیہ السلام تو پیغمبر تھے اور پیغمبر نادان تو نہیں ہوتا وہ تو عقلمند اور دانا ہوتا ہے، تو میں نے اس کو لکھ دیا ’’ولقد دانا نوح‘‘۔ اس قرآن میں تیسری جگہ لکھا ہوا تھا ’’خر موسٰی صعقا‘‘ میں نے سوچا کہ خر حضرت موسٰیؑ کا تو نہیں تھا حضرت عیسٰیؑ کا تھا۔ خرِ عیسٰی مشہور ہے تو وہ غلطی بھی میں نے ٹھیک کر دی اور ’’خر عیسٰی صعقا‘‘ لکھ دیا۔ اس کے بعد کاتب نے کہا کہ جو نسخہ تم دے کر گئے تھے اس میں ایک غلطی بہت زیادہ مرتبہ دہرائی گئی تھی۔ اس میں جگہ جگہ شیطان اور فرعون کا نام آیا ہوا تھا جو مجھے اچھا نہیں لگا۔ کیونکہ قرآن پاک تو اللہ کا کلام ہے، اس کے ہر حرف پر دس دس نیکیاں ملتی ہیں، نماز میں قرآن پڑھا جاتا ہے تو کیا نماز میں بھی شیطان اور فرعون کا نام لیں گے ۔فرعون کا نام قرآن مجید کے لفظ کے طور پر پڑھیں گے تو پچاس نیکیاں ملیں گی؟ میں نے سوچا کہ قرآن مجید کے ہر حرف پر تو دس نیکیاں ملتی ہیں اس میں فرعون اور شیطان کا کیا کام، تو یہ دو لفظ میں نے ہر جگہ بدل دیے اور ایک کی جگہ اپنے باپ کا نام لکھ دیا اور ایک ہی جگہ تمہارے باپ کا نام لکھ دیا۔

میں نے مذاکرات میں اقبال احمد خان سے کہا کہ ٹھیک ہے یہ بات طے کر لیتے ہیں جو آپ کہہ رہے ہیں، لیکن پھر یہ بتا دیں کہ نام کس کس کے آئیں گے؟ اس پر وہ سٹپٹائے۔

شریعت بل کے حوالے سے جو بحثیں پیدا ہوئیں ان میں ہمارے جدید دانشوروں کی طرف سے ایک بحث اب تک چل رہی ہے کہ جب آپ کہتے ہیں کہ قرآن و سنت ملک کا سپریم لاء ہو گا اور ہر چیز اس کے مقابلے میں ختم ہو جائے گی، تو یہ فیصلہ کرنا کس کا کام ہو گا کہ کون سی چیز قرآن و سنت کے مطابق ہے اور کون سی چیز ان کے مطابق نہیں ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ یہ فیصلہ پارلیمنٹ کرے گی۔ جب کہ ہمارا موقف یہ تھا کہ اگر فیصلے کی آخری اتھارٹی پارلیمنٹ ہو تو وہ اپنی مرضی کی شریعت نافذ کرے گی، جدھر ووٹ زیادہ ہوں گے، وہ شریعت ہو گی اور جدھر ووٹ کم ہوں گے وہ شریعت نہیں ہو گی۔ اس سے بڑا کنفیوژن پیدا ہو گیا۔ یہ باریک نکتہ سمجھیں۔ وہ یہ نہیں کہہ رہے کہ قرآن و سنت کا حکم ماننا ہے۔ وہ یہ بات کہہ رہے ہیں کہ قرآن و سنت کے مطابق قرار دینا یا نہ قرار دینا، اس میں اتھارٹی کون ہے؟ اس میں پارلیمنٹ سے ہٹ کر کوئی اتھارٹی ہو گی تو پارلیمنٹ کی خودمختاری کہاں گئی؟

اسی بحث میں یہ مطالبہ کیا گیا کہ پارلیمنٹ کا حقِ اجتہاد تسلیم کیا جائے۔ یہ علامہ اقبال مرحوم کی پرانی تجویز تھی ان کے بیٹے ڈاکٹر جاوید اقبال نے لا کر سامنے کر دی کہ پارلیمنٹ کا حقِ اجتہاد تسلیم کیا جائے۔ پارلیمنٹ اپنے اصول طے کرے اور اجتہاد بھی کرے۔ ہمارے لیے یہ موقف قابلِ قبول نہیں تھا۔ اگرچہ علامہ اقبال نے درمیان کی راہ اختیار کی تھی، جو بات یہ کہتے ہیں وہ نہیں کہی تھی۔ علامہ اقبال نے اپنے خطبات میں لکھا ہے۔ علامہ اقبال کے خطبات جدید دور میں اسلامائزیشن کے لیے بڑی فکری اہمیت رکھتے ہیں، لیکن دونوں طرف اس کا غلط استعمال ہوا ہے۔ مخالفت میں بھی حد سے زیادہ بڑھ گئے اور حمایت میں بھی حد سے زیادہ بڑھ گئے۔ جو علامہ اقبال کا موقف تھا، بطور تجویز کے کوئی حرج نہیں تھی کہ اس میں غور کیا جائے کہ پارلیمنٹ کو ہی حق دے دیا جائے۔ لیکن پارلیمنٹ کے ساتھ جید علماء کی ایک کونسل ہو جس سے رہنمائی کی وہ پابند ہو۔ جیسے اب اسلامی نظریاتی کونسل وغیرہ ہیں۔ یہ اصل میں اقبال کی تجویز ہی تھی لیکن یہ جب بحث چلی تو ہمارے جدید دانشوروں کا ذہن تھا اور ہے کہ پارلیمنٹ کو ہی اجتہاد کا حق دے دیا جائے۔

یہ بحث کہ پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کی تعبیر اور تشریح میں اتھارٹی مان لیں تو ہم قرآن و سنت کو بطور قانون مان لیتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و سنت ہمارے حوالے کر دو، ہم اس کے ساتھ جو معاملہ کرنا چاہیں کریں۔ یہ بہت بنیادی جھگڑا ہے۔ میں اس حوالے سے ایک اور مذاکرہ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ انہی دنوں ملک کے اخبارات میں بحث چل رہی تھی کہ پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق ہے یا نہیں ہے؟ غالباً ۱۹۹۱ء کی بات ہے۔ لاہور میں روزنامہ نوائے وقت کا فورم تھا ایوانِ وقت، جس میں جسٹس صاحبان بھی تھے، صحافی حضرات بھی تھے، میں بھی تھا۔ اس زمانے میں میرا شمار اس تحریک کے سرکردہ لوگوں میں ہوتا تھا ، مجھے تحریک کا ترجمان سمجھا جاتا تھا۔ جسٹس جاوید اقبال اور جسٹس نسیم حسن شاہ، اس درجے کے لوگ اس فورم میں تھے۔ وہاں یہ مسئلہ زیر بحث تھا کہ پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دینا چاہیے یا نہیں دینا چاہیے؟ ہمارا معروف موقف تو یہ ہے کہ نہیں !پارلیمنٹ کو کیسے ہم اجتہاد مطلق کا حق دے سکتے ہیں ؟لیکن میں نے وہاں یہ بات نہیں کہی۔ مجھ سے جب سوال ہوا کہ مولانا! آپ کی کیا رائے ہے؟ میں نے کہا کہ پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق بالکل ہونا چاہیے۔ وہ میری طرف دیکھنے لگے کہ مولوی کیا کہہ رہا ہے۔ کیونکہ میں متحدہ شریعت محاذ کا نمائندہ تھا اور میں کہہ رہا تھا کہ پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دے دینا چاہیے۔

میں نے کہا کہ میں پارلیمنٹ کا حقِ اجتہاد تسلیم کرتا ہوں لیکن ایک شرط کے ساتھ کہ اجتہاد کی اہلیت کی شرائط طے کی جائیں کہ کون آدمی اجتہاد کے مرتبے کو پہنچتا ہے؟ میں نے کہا یہ بھی میں طے نہیں کرتا کہ مجتہد کے لیے کیا شرائط ہیں۔ سپریم کورٹ میں باقاعدہ ریفرنس دائر کیا جائے کہ اس دور میں ایک عالم کے مجتہد ہونے کے لیے کیا شرائط ہونی چاہئیں؟ یہ شرائط ہر زمانے میں مختلف ہوتی ہیں۔ سپریم کورٹ یہ طے کرے کہ آج کے دور میں اجتہاد کی صلاحیت حاصل کرنے کے لیے کیا شرائط اور کیا ریکوائرمنٹس ہیں۔ سپریم کورٹ سے طے کروانے کے بعد آپ ایسا کریں کہ الیکشن قوانین میں ترمیم کر کے پارلیمنٹ کا رکن بننے کے لیے ان شرائط کو ضروری قرار دیں کہ قومی اسمبلی کا اور سینٹ کا ممبر وہ ہو سکتا ہے جو اجتہاد کی یہ شرطیں پوری کرتا ہو، اور یوں پارلیمنٹ کو اجتہاد کا حق دے دیں۔ اگر ایسا کر لیں تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے؟ میں نے کہا مجھے کوئی اشکال نہیں ہے۔ اس پر سناٹا چھا گیا کہ یہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہ لطیفے کی بات میں نے اس لیے کی ہے کہ یہ بات کہنے کا اسلوب ہوتا ہے، کبھی بات کے لیے ڈنڈا نہیں مارا جاتا، بسا اوقات بغل میں جا کر بات کرنی پڑتی ہے۔

اس میں ذرا ان کا موقف بھی سن لیں ۔جدید دانشوروں کا موقف یہ ہے کہ علماء اجتہاد کی اہلیت نہیں رکھتے، اس لیے کہ علماء آج کے زمانے اور حالات، آج کے نظام اور ماحول، آج کی معاشرت اور سماجی ضروریات سے واقف نہیں ہیں۔ ان سے سوال ہوا کہ دین کا علم تو ان کے پاس ہے، تو انہوں نے کہا کہ اسلامی علوم کا متبادل تراجم کی صورت میں موجود ہیں۔ تفاسیر، حدیث، فقہ کے ترجمے موجود ہیں جن سے علمی خلا پر ہو سکتا ہے۔ لیکن حالاتِ زمانہ اور سسٹم سے ناواقفیت کا خلا پر نہیں ہو سکتا، اس کا کوئی متبادل نہیں ہے:

  • ہم کہتے ہیں کہ پارلیمنٹ کے رکن اجتہاد کی اہلیت نہیں رکھتے، اس لیے کہ وہ زمانے سے تو ضرور واقف ہیں لیکن جس چیز کو نافذ کرنا ہے اس سے واقف نہیں ہیں کیونکہ ان کے پاس قرآن پاک، سنتِ رسول اور فقہ اسلامی کا علم نہیں ہے۔
  • اور وہ کہتے ہیں کہ جہاں اس کو نافذ کرنا ہے اس جگہ کا علم علماء کو نہیں ہے۔

دونوں کی باتیں اپنی اپنی جگہ ٹھیک ہیں، ہمیں بھی موجودہ زمانے کے سسٹم حالات سے اتنی واقفیت نہیں ہے جو اجتہاد کی اہلیت کے لیے ضروری ہے، جبکہ امام شامیؒ کے بقول ہمارا فقہی اصول ہے ’’من لم یعرف اھل زمانہ فھو جاھل‘‘۔ جب ہم شریعت کے نفاذ کی بات کرتے ہیں تو جدید ذہن کے سامنے اشکالات اور اعتراضات ہوتے ہیں۔

ایک یہ اعتراض کہ شریعت کا نفاذ فرقہ وارانہ مسئلہ ہے۔ اس اشکال کا وہی حل تھا جو ہم نے بائیس نکات کی صورت میں پیش کیا، اس کا کوئی اور حل نہیں ہے۔ شیعوں کا اسلام یا وہابیوں کا اسلام یا حنفیوں کا، کونسا اسلام نافذ کریں؟ جب ہم آپس میں آمنے سامنے کھڑے ہو گئے کہ فقہ حنفی ، فقہ جعفری اور فقہ قرآن و سنت، تو پھر ہمارے پاس کوئی جواب نہیں ہو گا۔ اس کا حل وہی تھا جو ہمارے بزرگوں نے حکمتِ عملی سے دیا تھا بائیس نکات کی صورت میں۔

دوسرا بڑا مسئلہ پارلیمنٹ کی خود مختاری کا ہے۔ اس میں ہم نے درمیان کا راستہ اختیار کیا کہ کسی قانون کے اسلامی ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ تو اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کرے گی لیکن اس کو نافذ اسمبلی کرے گی۔ دونوں کو ہم نے توازن کے ساتھ جمع کیا اور درمیان کا راستہ نکالا گیا ۔ابھی تک ان حضرات کو یہ بات ہضم نہیں ہو رہی کہ اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کیوں قائم ہیں؟ ان کا کہنا ہے کہ ان کو ختم کرو، ان کی کیا ضرورت ہے؟ اس کے پیچھے یہی ذہنیت کار فرما ہے کہ پارلیمنٹ خود مختار ہے، اس کے ساتھ یہ ادارے جوڑ کر پارلیمنٹ کی ساورنٹی اور خود مختاری متاثر ہوتی ہے۔

شریعت بل میں اس موقع پر ہمیں کیا کیا مشکلات پیش آئیں اور کیا کیا مباحث پیش آئے اور اس شریعت بل کا کیا حشر ہوا؟ میں چونکہ اس موقع پر ذمہ دار لوگوں میں تھا تو ہمیں جو مسائل پیش آئے وہ ذکر کرتا ہوں۔

سینٹ میں مولانا سمیع الحقؒ اور مولانا قاضی عبد اللطیفؒ نے شریعت بل پیش کیا تھا۔ ترتیب یہ ہوتی ہے کہ کوئی بل قومی اسمبلی میں پاس ہو تو وہ سینٹ میں پیش ہوتا ہے اور سینٹ کی منظوری کے بعد قانون بنتا ہے۔ اور اگر بل سینٹ میں پہلے پاس ہو جائے تو وہ قومی اسمبلی میں آتا ہے اور قومی اسمبلی کی منظوری سے بل بنتا ہے۔ اس کو نہ اکیلے اسمبلی نافذ کر سکتی ہے اور نہ سینٹ۔ اگر سینٹ میں بل آیا منظور ہو گیا تو وہ نوے دن کے اندر اندر اسمبلی میں آئے گا ، اگر نوے دن کے اندر اندر اسمبلی میں پیش نہیں ہوا تو وہ ختم ہو جائے گا۔ اسی طرح قومی اسمبلی نے بل پاس کیا تو وہ نوے دن کے اندر سینٹ میں جانا ضروری ہے سینٹ میں نہیں گیا تو ختم ہو جائے گا۔ شریعت بل کئی مراحل سے گزرا۔

ملک کے عمومی دباؤ اور تمام جماعتوں کی مشترکہ محنت سے سینٹ آف پاکستان نے وہ بل جس طرح ہم چاہتے تھے ویسا ہی منظور کر لیا۔ اس پر ہم نے پورے ملک میں جشن منایا ۔ ہم نے راولپنڈی کے بڑے ہوٹل میں صدر محترم غلام اسحاق خان کو بہت بڑا استقبالیہ دیا ، اس میں میاں نواز شریف اور مولانا فضل الرحمٰن بھی شریک ہوئے اور تمام ملک کی قیادت آئی، ہم نے بڑی خوشی کا اظہار کیا کہ کبھی ہمارا بھی کوئی مطالبہ پورا ہوا ہے کہ سینٹ آف پاکستان نے شریعت بل کو ہماری مرضی کے مطابق پورے کا پورا منظور کر لیا۔ لیکن سینٹ میں منظور ہونے کے بعد اس بل نے نوے دن کے اندر اندر قومی اسمبلی میں پیش ہونا تھا لیکن نوے دن سے پہلے قومی اسمبلی تحلیل ہو گئی، حکومت ختم ہو گئی، نئے الیکشن کا اعلان ہو گیا اور شریعت بل بھی زیرو پوائنٹ پر جا کر کھڑا ہو گیا کیونکہ نوے دن میں پیش نہ ہو تو ویسے ہی قانون ختم ہو جاتا ہے۔

اس کے بعد الیکشن ہوئے جس میں محترم میاں نواز شریف وزیراعظم بنے تو ہمیں خوشی ہوئی کہ اس میں ہمیں ذرا آسانی ہو گی کیونکہ پہلے جونیجو کا دور تھا پھر بے نظیر کا دور تھا۔ لیکن اب شریعت بل آیا تو پراسس الٹا ہو گیا کہ پہلے قومی اسمبلی پاس کرے گی پھر سینٹ پاس کرے گی۔ جب بل قومی اسمبلی میں آیا تو وہاں بھی وہی مذاکرات، وہی پرانی شرطیں، وہی جھگڑے اور وہی تنازع اور بین الاقوامی حلقوں کا دباؤ کہ شریعت انسانی حقوق کے منافی ہے ساری باتیں چلتی رہیں۔ حکومت کی طرف سے بل آیا اس پر بحث ہوتی رہی اور ہمیں لگتا تھا کہ پاس ہو جائے گا ہمیں امید تھی۔

آخری مرحلے پر دو دن پہلے اخباری اطلاعات کے مطابق اسلام آباد کی امریکی سفارتخانے میں میٹنگ ہوئی اور امریکی سفارتخانے نے کہا کہ یہ بل ہمیں منظور نہیں ہے۔ یہ بات ریکارڈ پر ہے۔ اور دو دن بعد اسمبلی میں جب شریعت بل منظور ہوا تو جو بنیادی دفعہ تھی اس کے الفاظ یہ تھے قرآن و سنت ملک کا سپریم لاء ہوں گے بشرطیکہ سیاسی ڈھانچہ اور حکومتی نظام متاثر نہ ہو۔ قومی اسمبلی وہ بل پاس کر دیا لیکن اس شرط کے ساتھ جس سے وہ بل بالکل کالعدم ہو کر رہ گیا اور مسئلہ پہلے کھاتے میں واپس چلا گیا۔ یہ میں نے ان کی تکنیک ذکر کی ہے۔

قومی اسمبلی نے شریعت بل منظور کرتے ہوئے کہا کہ قرآن و سنت ملک کا سپریم لاء ہوں گے بشرطیکہ سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچہ متاثر نہ ہو۔ تو ہم نے ان سے پوچھا کہ سیاسی نظام اور حکومتی ڈھانچے میں شریعت نہیں آئے گی تو شریعت باقی کہاں آئے گی؟ مسجد میں تو شریعت ہے جتنی بھی ہے، ہم نماز پڑھتے ہیں۔ ہم ملک کا سیاسی نظام ہی تو تبدیل کرنا چاہتے ہیں اور حکومتی ڈھانچہ ہی تو بدلنا چاہتے ہیں۔ اگر یہ مستثنیٰ ہو جائیں تو پیچھے کیا رہ جاتا ہے۔

اس پر بھی ملک میں دوسرے حلقے کے لوگوں نے جشن بنایا لیکن اس وقت سب سے زیادہ تکلیف ہمیں ہوئی کہ جو کام کرنے والے تھے۔ اس پر میں نے ایک استفسار مرتب کیا اور ملک کے تمام مکاتب فکر کے علماء کو بھیجا۔ ان کے جواب آئے جسے ہم نے ماہنامہ الشریعہ میں شائع کیا، ریکارڈ میں وہ موجود ہے۔ علماء کرام نے اس استثنا کو مسترد کر دیا کہ یہ شریعت کے خلاف ہے، یہ شریعت کی بالادستی نہیں ہے بلکہ شریعت کو محدود کرنے کی کوشش ہے۔ اس پر ہم نے ملک میں کمپین کی، تقریباً تین چار سال ملک میں گہما گہمی رہی اور پھر کمپین اپنے اختتام کو پہنچی اور قرآن و سنت اب بھی ملک کا سپریم لاء ہے لیکن اسی معنی میں جس میں قومی اسمبلی نے منظور کیا تھا۔

میں نے تین طبقات کا ذکر کیا:

  1. ایک طبقہ تو کہتا ہے کہ مذہب کا ریاست سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
  2. اور یہ دوسرا طبقہ ہے جو ریاست سے مذہب کا تعلق تسلیم کرتا ہے۔ اسٹیبلشمنٹ اور ہماری رولنگ کلاس کا عملی طرز یہ ہے کہ وہ اسلام کی نفی بھی نہیں کریں گے، انکار بھی نہیں کریں گے، کلمہ بھی پڑھیں گے، پاکستان کو اسلامی ریاست بھی کہیں گے اور دستور کا اسلامی تشخص بھی تسلیم کریں گے، لیکن جب عملدرآمد کی بات ہو گی تو وہ اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کر کے کسی قانون کو نافذ نہیں ہونے دیں گے، یا اگر کوئی قانون نافذ ہو جائے گا تو اس پر عملدرآمد نہیں ہو گا۔ شریعت کے نفاذ کے حوالے سے یہ ہماری داخلی لڑائی ہے۔
  3. جبکہ تیسرا طبقہ ہمارا ہے جو ملک میں مکمل نفاذ اسلام چاہتے ہیں۔ لیکن ہماری کیفیت یہ ہے کہ ہم خود تقسیم ہیں۔ ہمارا موقف تو ایک ہے لیکن اس کے باوجود بکھرے ہوئے ہیں اور متحد ہو کر کوئی بات منوانے کی طرف نہیں آ رہے، جو مسائل کی بنیادی وجہ ہے۔ یہ ہماری کمزوری ہے کیونکہ دینی مکاتب فکر نے جب بھی پاکستان میں کسی مسئلے پر متفق ہو کر بات کی ہے تو ہمیں ناکامی نہیں ہوئی۔ ہم اکٹھے ہوتے ہیں اور ایک بات منوا کر پھر گھروں میں چلے جاتے ہیں اور آپس میں لڑنا شروع کر دیتے ہیں۔ جب تک ہماری یہ کمزوری رفع نہیں ہو گی کہ ہم مستقل محاذ بنا کر ملک میں نفاذِ اسلام کے لیے ان دونوں طبقوں، جن میں سے پہلا طبقہ تو اتنا مؤثر نہیں ہے، دوسرا طبقہ اصل رولنگ کلاس ہے، اس کو دباؤ میں لا کر بہت کچھ کیا جا سکتا ہے، بشرطیکہ ہم متحد ہوں۔ جس طرح ختمِ نبوت اور ناموسِ رسالت میں ہم متحد ہوتے ہیں اگر نفاذِ شریعت میں بھی متحد ہو جائیں تو میرے خیال میں بہت ساری باتیں ختم کروائی جا سکتی ہیں۔

ابتدا میں جب وفاقی شرعی عدالت بنی تو اس کو یہ اختیار دیا گیا کہ وہ ملک کے کسی بھی قانون کو خود یا کسی کے توجہ دلانے پر جائزہ لے کر قرآن و سنت کے مطابق ہونے یا نہ ہونے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ اور اگر وہ قانون قرآن و سنت کے مطابق نہیں تو اس کی نشاندہی کرے اور حکومت کو آرڈر کرے کہ یہ قانون ختم کر دیا جائے۔ اس میں یہ بھی تھا کہ اگر ایک مدت تک حکومت قانون ختم نہیں کرے گی تو وہ قانون خودبخود ختم ہو جائے گا۔

ابتدا میں دس سال کے لیے مالیاتی قوانین کو اس سے مستثنیٰ کر دیا گیا تھا کہ مالیاتی قوانین اور معیشت سے متعلقہ قوانین وفاقی شرعی عدالت میں زیر بحث نہیں آ سکتے تھے۔ دس سال گزرنے کے بعد کچھ دینی رہنماؤں نے، جس کا میں بھی کسی درجے میں حصہ ہوں، رٹ دائر کی کہ ملک میں جتنے بھی سودی قوانین ہیں وہ قرآن و سنت سے متصادم ہیں۔ اس لیے جن قوانین کا تعلق سود کے لین دین سے ہے ان کو ختم کیا جائے اور ان کے متبادل قوانین نافذ کیے جائیں، جو باقاعدہ تجویز کیے گئے۔ اس پر اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت دونوں نے کام کیا کہ سودی نظام سے متعلقہ قوانین کون کون سے ہیں، اور سودی نظام ختم کرنے سے جو خلا پیدا ہو گا اس کو کس طرح پر کریں گے۔

اس پر اسلامی نظریاتی کونسل کی ایک بڑی جامع رپورٹ ڈاکٹر جسٹس تنزیل الرحمٰن نے مرتب کی، جو کونسل کے چیئرمین تھے۔ وہ رپورٹ ریکارڈ پر موجود ہے، اس میں اشکالات کا حل اور ان کے جوابات بھی ہیں۔ کئی سال کی سماعت کے بعد وفاقی شرعی عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ ملک میں فلاں فلاں قانون سودی ہیں قرآن و سنت سے متصادم ہیں اس لیے حکومت انہیں ختم کرے اور اگر حکومت فلاں تاریخ تک ختم نہیں کرے گی تو یہ قوانین خودبخود ختم ہو جائیں گے۔ یہ وفاقی شرعی عدالت کو اختیار ہے کہ وہ مدت متعین کرے کہ فلاں تاریخ تک یہ قانون ختم نہیں کرو گے تو خودبخود ختم ہو جائے گا، بہت سے قوانین ختم ہوئے بھی ہیں، لیکن وفاقی شرعی عدالت کے اس فیصلے کو سپریم کورٹ کے اپیل بینچ میں چیلنج کر دیا گیا۔ ٹھیک ہے یہ قانونی طور پر حق تھا۔

سپریم کورٹ میں جسٹس مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور دوسرے فضلاء موجود تھے، انہوں نے فیصلہ دے دیا کہ وفاقی شرعی عدالت کا فیصلہ درست اور نافذ العمل ہے۔ سودی قوانین قرآن و سنت سے متصادم ہیں ان کو ختم ہونا چاہیے۔ یہ سپریم کورٹ کے فل بینچ کا فیصلہ تھا جس کو چیلنج نہیں کیا جا سکتا تھا۔ البتہ ایک کھڑکی موجود ہے کہ اسی بینچ سے نظر ثانی کی اپیل کر دی جائے کہ اس میں یہ یہ اشکالات ہیں، اس لیے دوبارہ غور کر لیا جائے۔ اس وقت میاں محمد نواز شریف کی حکومت تھی۔ حکومت نے خود اس فیصلے کو چیلنج نہیں کیا لیکن کچھ حضرات نے سپریم کورٹ میں نظر ثانی کی اپیل دائر کر دی کہ اس فیصلے پر ہمارے اشکالات اور تحفظات ہیں لہٰذا اس پر نظر ثانی کی جائے۔ اور نظرثانی کے لیے یہ اہتمام کر لیا گیا کہ جس بینچ نے فیصلہ دیا تھا وہ بینچ جب ختم ہو گیا اور نیا بینچ بنایا گیا تو اس کے سامنے یہ اپیل دائر کی گئی۔ اور اس پورے پراسس پر اٹھارہ سال لگے۔

وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شرعی بینچوں کی مجموعی بات یہ ہے کہ یہ مستقل جج نہیں ہوتے بلکہ کنٹریکٹ پر آتے ہیں، دو تین سال کے لیے ان سے معاہدہ ہوتا ہے، اس کے مطابق نظام چلتا ہے۔ اس معاملے میں انتظار کیا گیا کہ جن ججوں نے فیصلہ دیا تھا ان کی مدت ختم ہو جائے اور نئے جج آ جائیں تو اپیل دائر کی جائے۔ جب مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور ان دیگر ججوں کی مدت ختم ہو گئی جنہوں نے فیصلہ کیا تھا تو اس کے بعد ان سے کنٹریکٹ نہیں کیا گیا، بلکہ نئے ججز سے کنٹریکٹ کیا گیا اور نظر ثانی کی اپیل ان کے سامنے رکھ دی گئی۔ انہوں نے نظر ثانی کا عجیب فیصلہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ سماعت میں کوئی سقم رہ گیا ہے، اس لیے وفاقی شرعی عدالت دوبارہ سماعت کرے۔ یعنی اٹھارہ سال پہلے کی پوزیشن پر جہاں سے معاملہ شروع ہوا تھا وہاں سے دوبارہ شروع کریں۔

میں نے اس پر ایک کالم لکھا تھا جس میں کہا تھا کہ ہمیں لڈو کا سانپ ڈس گیا ہے۔ لڈو میں کبھی سیڑھی مل جاتی ہے تو ایک سے ۷۰ پر چلے جاتے ہیں، اور کبھی سانپ ڈس جاتا ہے تو ۹۰ سے ایک پر آ جاتے ہیں، تو اس معاملے میں ہمارے ساتھ بھی لڈو کے سانپ والا معاملہ ہو گیا ہے۔ سانپ نے ایسا ڈسا کہ ہم زیرو پر آ گئے۔ ہم آخری مرحلے پر پہنچ چکے تھے لیکن اٹھارہ سال پہلے کی پوزیشن میں آ گئے۔ میں طریقہ واردات بتا رہا ہوں اس طبقے کا جو اسلام کی نفی بھی نہیں کرتا لیکن اسلام پر عمل بھی نہیں کرنا چاہتا، وہ کیسے کیسے حیلے اختیار کرتا ہے۔ سپریم کورٹ نے وفاقی شرعی عدالت کو کیس واپس بھیج دیا کہ دوبارہ غور کرو۔ جس بینچ نے فیصلہ کیا تھا اس کے ایک جج صاحب سے میں نے پوچھا کہ آپ نے کیا کیا۔ فیصلے کو غلط کہا ہے؟ اس نے کہا ہم نے فیصلے کو غلط کہہ کر کافر نہیں ہونا تھا، ہم مسلمان ہیں، لیکن اس فیصلے کو روکنا بھی تھا، تو ہم نے اسے غلط بھی نہیں کہا اور روکنے کے لیے واپس بھیج دیا۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اسلام کی بات بھی کرتا ہے اور کوئی چیز وارا کھاتی ہو اسے تسلیم بھی کر لیتا ہے، لیکن اسلام کو بطور نظام کے قبول کرنے کو تیار نہیں، جس سے ان کا سسٹم متاثر ہو۔

2016ء سے
Flag Counter