اراکان کے مسلمان کسمپرسی کی حالت میں

   
تاریخ : 
۵ فروری ۲۰۰۴ء

بنگلہ دیش کے حالیہ سفر میں چاٹگام جانے اور دو تین روز رہنے کا اتفاق ہوا تو ہمیں یہ بات معلوم تھی کہ چاٹگام سے تھوڑے فاصلے پر کاکس بازار ہے، جہاں برما کے صوبہ اراکان سے ہجرت کر کے آنے والے مسلمان پناہ گزینوں کے کیمپ ہیں اور کاکس بازار بنگلہ دیش کو اراکان سے ملانے والے راستے پر واقع ہے۔ لیکن یہ بات ہمارے علم میں نہیں تھی کہ خود چاٹگام بھی صوبہ اراکان کا حصہ رہا ہے اور برما پر مسلمانوں اور بدھوں کی حکومتوں کے ادوار میں یہ اراکان ہی کا علاقہ متصور ہوتا تھا۔ خیال تھا کہ اگر وقت ملا تو مہاجر اراکانی مسلمانوں کے کسی کیمپ میں جا کر ان کے حالات معلوم کیے جائیں گے، لیکن ہمارے میزبانوں نے شیڈول ایسا ٹائٹ رکھا ہوا تھا کہ اس کی گنجائش نہ نکل سکی۔ البتہ واپسی پر اراکان سے تعلق رکھنے والے چند علماء سے ملاقات ہوئی اور اراکان ہی کے ایک عالم دین مولانا حافظ محمد صدیق اراکانی کی کتاب ’’تذکرہ اراکان برما‘‘ نظر سے گزری، جس سے معلوم ہوا کہ چاٹگام بھی صدیوں تک اراکان کا حصہ شمار ہوتا تھا۔ حتیٰ کہ جب برطانوی استعمار نے اس خطہ پر قبضہ کیا، اس وقت بھی چاٹگام اراکان کا حصہ تھا اور ۱۹۴۷ء میں قیام پاکستان کے موقع پر بھی چاٹگام کو اراکان ہی سے کاٹ کر مشرقی پاکستان کا حصہ بنایا گیا تھا۔ نیز مغل دور کے ’’آئین اکبری‘‘ میں چاٹگام کو اراکان کی بندرگاہ لکھا گیا ہے۔

ان حضرات کی فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق پاکستان کے سابق نائب صدر جناب نور الامین مرحوم نے جو مشرقی پاکستان کے سرکردہ سیاسی رہنماؤں میں سے تھے، متعدد پبلک جلسوں میں اس بات کا اظہار کیا تھا کہ جس طرح مغربی پاکستان کی تکمیل کشمیر کے بغیر نہیں ہو سکتی، اسی طرح اراکان کے بغیر مشرقی پاکستان بھی مکمل نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ قیام پاکستان کے وقت مسلم اکثریت کے علاقہ اراکان کے ایک تھوڑے سے حصے کو پاکستان کا حصہ بنایا گیا تھا اور بیشتر علاقہ برما کی بدھ حکومت کے سپرد کر دیا گیا۔ اس بنیاد پر اراکان کے بعض مسلم راہنماؤں کا کہنا ہے کہ ہمارا کیس بھی کشمیر ہی کی طرح کا ہے، لیکن اس پر توجہ نہیں دی گئی اور اس بے توجہی کے باعث لاکھوں اراکانی مسلمان جبر و تشدد، نقل وطن اور دیگر مصائب کا مسلسل شکار ہو رہے ہیں۔

اراکان اس وقت میانمار (برما) کے چودہ صوبوں میں سے ایک ہے، جس کی آبادی مسلم اکثریت پر مشتمل ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس صوبے میں مسلمانوں کا تناسب ستر سے پچھتر فی صد تک ہے۔ خلیج بنگال کے ساتھ یہ ایک شمالاً جنوباً لمبی پٹی ہے، جس کے ایک طرف بنگلہ دیش ہے، دوسری طرف خلیج بنگال ہے اور تیسری طرف بلند و بالا کوہِ اراکان کا سلسلہ ہے، جس کی دوسری طرف میانمار (برما) ہے اور وہاں کے حضرات کا یہ بھی کہنا ہے کہ اراکان کا برما کے ساتھ زمینی سفر کا کوئی راستہ نہیں ہے بلکہ فضا یا سمندر کے ذریعے لوگ عام طور پر سفر کرتے ہیں۔ چاول اور مچھلی کے علاوہ ناریل، گنا اور سبزیاں یہاں کی عام پیداوار ہے اور اس کے ایک حصے میں تیل پائے جانے کے شواہد بھی موجود ہیں۔

تاریخی روایات کے مطابق امیر المؤمنین حضرت عمرؓ کے دور میں حضرت عثمان بن ابی العاص ثقفیؓ اپنے رفقاء کے ہمراہ اس علاقہ میں آئے اور اسی وقت سے یہاں کے لوگ اسلام سے متعارف ہیں، جبکہ پندرہویں صدی عیسوی کے وسط سے اٹھارہویں صدی کے اختتام تک کم و بیش ساڑھے تین سو سال تک اراکان میں مستقل اور آزاد اسلامی حکومت رہی ہے اور اس دوران پچاس کے لگ بھگ خود مختار مسلم حکمرانوں نے اراکان پر حکومت کی ہے، مگر ۱۷۸۴ء میں برما کے بدھ راجہ نے اس پر قبضہ کر کے اسے برما میں شامل کر لیا اور تب سے اراکان کے مسلمان برما کی بدھ اکثریت کے مظالم کا شکار چلے آ رہے ہیں۔

اراکان کو سب سے قریبی علاقہ بنگلہ دیش کا لگتا ہے، چنانچہ برما کی بدھ حکومت کے مظالم کا نشانہ بننے والے اراکانی مسلمانوں نے تاریخ میں کئی بار بنگلہ دیش کے علاقہ کی طرف ہجرت کی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ صرف ۱۹۷۸ء میں چار لاکھ سے زیادہ افراد نے بنگلہ دیش میں پناہ لی اور ایک لاکھ کے لگ بھگ جام شہادت نوش کر گئے یا لاپتہ ہوئے، جبکہ ۱۹۹۱ء میں ہجرت کرنے والوں کی تعداد تین لاکھ تھی۔ ایک مرحلہ پر اراکان کے ان مسلمانوں کو جو نسلی طور پر روہنگیا کہلاتے ہیں، برمی قوموں میں شمار کرنے سے انکار کر دیا گیا اور کہا گیا کہ جو لوگ برما کے اصل باشندے نہیں ہیں وہ برما سے چلے جائیں۔ اس موقع پر بہت قتل عام ہوا اور بے شمار مسلمان وطن چھوڑ گئے۔

مولانا حافظ محمد صدیق اراکانی نے مختلف اخبارات و جرائد میں شائع ہونے والی رپورٹوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ اب تک اس علاقہ سے سولہ لاکھ مسلمان ہجرت کر چکے ہیں، تین لاکھ سے زائد مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا اور ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد مسلمانوں کو بدھ مذہب اختیار کرنے پر مجبور کیا گیا۔ جبکہ اس وقت بنگلہ دیش کے مختلف کیمپوں میں چھ لاکھ کے قریب اراکانی اور برمی مسلمان مہاجر بے کسی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔

اراکان کے بعض مسلم راہنماؤں کا کہنا ہے کہ ایک دور میں مولانا محمد علی جوہرؒ نے اس خطہ کے مسلمان لیڈروں سے ملاقات کی اور ان سے تقاضا کیا کہ وہ مسلم اکثریت کے اس خطے کی حالت زار کی طرف توجہ دیں اور اسے برما میں شامل ہونے سے بچائیں تاکہ یہاں کے لوگ پاکستان کا حصہ بن کر اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ آزادی کی زندگی گزار سکیں۔ لیکن کشمیر کی طرح اراکان بھی برصغیر کی تقسیم کے غلط طریق کار کی نذر ہو گیا اور جس طرح کشمیر کا تھوڑا سا حصہ آزاد کشمیر کے نام سے پاکستان کے ساتھ شامل ہوا، اسی طرح اراکان کا بھی صرف چٹا گانگ والا حصہ مشرقی پاکستان میں شامل کر کے باقی پورے علاقے کو برما کے حوالہ کر دیا گیا۔

اس پس منظر میں اراکان کے مسلمانوں کے دو مسئلے خصوصی توجہ کے طالب ہیں:

  1. ایک اس خطہ کے مسلمانوں کے سیاسی مستقبل کا مسئلہ ہے کہ انہیں اپنے ہی ملک میں رہتے ہوئے سیاسی حقوق اور شہری آزادیاں حاصل نہیں ہیں، انہیں مذہبی اور نسلی تعصب کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، مختلف نوعیت کے مظالم اور دباؤ کے باعث انہیں اپنا وطن اور گھر بار چھوڑنے پر مجبور کیا جا رہا ہے، ان کی مساجد اور دینی مدارس مسلسل انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بن رہی ہیں اور حالات کو اس رخ پر لایا جا رہا ہے کہ اراکان کے مسلمان یا تو میانمار (برما) کی بدھ حکومت کے ریاستی جبر کے سامنے ہتھیار ڈالتے ہوئے اپنے مذہبی تشخص سے دستبردار ہو جائیں اور یا پھر وطن چھوڑ کر بنگلہ دیش کے پناہ گزینوں کے کیمپوں میں کسمپرسی کے عالم میں باقی ماندہ زندگی گزاریں۔

    یہ مسئلہ مسلم دانشوروں اور عالم اسلام کے بین الاقوامی اداروں بالخصوص مسلم سربراہ کانفرنس اور اس کے ساتھ انسانی حقوق کا ہر وقت واویلا کرنے والی عالمی تنظیموں کی خصوصی توجہ کا مستحق ہے کہ وہ اس سنگین صورت حال کا جائزہ لیں اور ان مظلوموں کے حق میں عالمی سطح پر کلمہ خیر بلند کرنے کا اہتمام کریں۔

  2. اور دوسرا مسئلہ ان لاکھوں پناہ گزینوں کی حالت زار کا ہے جو مختلف کیمپوں میں جانوروں جیسی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔ عالمی ادارے ان کے لیے تھوڑا بہت کام کرتے ہیں اور متعدد این جی اوز ان کی امداد کے لیے متحرک ہیں۔ لیکن ان میں سے اکثر عملاً مسیحی مشنریاں ہیں جو امداد کم کرتی ہیں اور مسلمانوں کو ان کے دین اور ثقافت سے برگشتہ کرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتی ہیں۔ اس لیے یہ ضروری ہے کہ مسلم رفاہی ادارے اور اصحاب خیر اس صورت حال کی طرف توجہ دیں اور اپنے مظلوم اور بے گھر مسلمان بھائیوں کو پناہ گزین کیمپوں میں ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے کے لیے تعاون کریں۔ اراکان کے ان مسلم مہاجرین کے لیے ایک رفاہی ادارہ مولانا عبد القدوس کی نگرانی میں کام کر رہا ہے، جن سے ’’اسلام میڈیکل سٹور، برمی کالونی، گلی نمبر ۳، جی ۳۶، لانڈھی کراچی نمبر ۳۰‘‘ کے پتہ پر مزید معلومات کے لیے رابطہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

اربابِ فکر و دانش اور اصحابِ خیر کے دونوں طبقوں سے ہماری گزارش ہے کہ وہ لاکھوں مسلمانوں کی اس مظلومیت اور بے بسی پر خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے کے بجائے اپنے اپنے شعبہ میں جو تعاون بھی ان کے بس میں ہو، اس سے گریز نہ کریں۔ اللہ تعالیٰ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں پر رحم فرمائیں اور ہم سب کو اپنے اپنے دائرہ میں ان کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter