مکالمہ بین المذاہب: ضرورت، اہمیت اور تقاضے

   
۱۰ و ۱۱ جنوری ۲۰۰۷ء

جامعہ اسلامیہ کامونکی ضلع گوجرانوالہ میں قائم مطالعہ مذاہب کا مرکز اپنے اہداف کی طرف سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے اور اس طرح وہ دینی مدارس کے ماحول میں وقت کی ایک اہم ضرورت کا احساس اجاگر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جامعہ کے سربراہ مولانا عبد الرؤف فاروقی نے اس مقصد کے لیے ایک ماہوار جریدہ ”مکالمہ بین المذاہب“ کا آغاز بھی کر دیا ہے، جس کی ادارت کے لیے مولانا منظور احمد چنیوٹیؒ کے خصوصی شاگرد مولانا مشتاق احمد چنیوٹی کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔ وہ قادیانیت کے ساتھ ساتھ مسیحیت کے مطالعہ کا بھی خصوصی ذوق رکھتے ہیں، مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ کی زندگی کے آخری برسوں میں ان کے معاون کے طور پر ادارہ مرکزیہ دعوت و ارشاد چنیوٹ میں علماء کرام کی خصوصی کلاسوں کو یہ مضامین پڑھاتے رہے ہیں اور اب ”مرکز مطالعہ مذاہب“ میں مستقل خدمات سرانجام دینے کے لیے کامونکی میں منتقل ہو گئے ہیں۔

اس مرکز کے تحت گزشتہ دو برسوں سے یہ سلسلہ جاری ہے کہ ہر تین چار ماہ کے بعد کسی ایک یا دو مذہبوں کے حوالے سے مطالعاتی سیمینار ہوتا ہے، علماء کرام اور طلبہ دو تین روز اکٹھے ہوتے ہیں، اس مذہب کا مطالعہ رکھنے والے حضرات انہیں مختلف پہلوؤں پر اپنی معلومات اور علمی تجربات سے آگاہ کرتے ہیں، بلکہ خود اس مذہب سے تعلق رکھنے والے رہنماؤں کو بھی زحمت دی جاتی ہے، جو اپنے مذہب کے بارے میں ضروری معلومات فراہم کرتے ہیں اور کوشش کی جاتی ہے کہ سیمینار کے شرکاء متعلقہ مذہب کے حوالے سے مستند ضروری معلومات اور بریفنگ سے زیادہ سے زیادہ استفادہ کریں۔

اب تک مسیحیت، یہودیت، بدھ مت، ہندو مت، سکھ مت، قادیانیت، بہائیت، ذکری مذہب اور مجوسیت وغیرہ کے موضوعات پر ابتدائی سطح کے سیمینار وقفہ وقفہ سے منعقد ہو چکے ہیں اور اب گزشتہ ماہ اس کے دوسرے دور کے آغاز کے طور پر تئیس تا پچیس دسمبر کو مسیحیت پر تین روزہ سیمینار منعقد ہوا، جس میں پنجاب یونیورسٹی سے ڈاکٹر غلام علی خان محمد، سابق مسیحی پادری گلزار احمد، مولانا مشتاق احمد، مولانا عبد الرؤف فاروقی، میر پور خاص سے افتخار احمد اور دیگر حضرات کے خطاب کے علاوہ راقم الحروف کو بھی دو موضوعات ”مکالمہ بین المذاہب کی اہمیت اور تقاضے“ اور ”صلیبی جنگوں کا مرحلہ وار جائزہ“ پر اظہارِ خیال کے لیے کہا گیا اور دو نشستوں میں ان عنوانات پر قدرے تفصیلی گفتگو کا موقع ملا، جبکہ جامعہ اشرفیہ لاہور کے نائب مہتمم مولانا فضل الرحیم نے اختتامی خطاب فرمایا اور شرکاء میں اسناد تقسیم کیں۔

آج کے کالم میں مکالمہ بین المذاہب کے عنوان پر کی جانے والی گفتگو کا خلاصہ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

مختلف مذاہب کے افراد کے مابین مذہب کے حوالے سے ہونے والی گفتگو کو مقاصد کے لحاظ سے پانچ درجوں یا مراحل میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

(۱) جب کسی غیر مسلم کو اسلام قبول کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ اپنی موجودہ پوزیشن کے دفاع اور اسلام قبول نہ کرنے کی وجہ کے طور پر کچھ نہ کچھ ضرور کہتا ہے اور تھوڑی بہت بحث ہوتی ہے، جسے میرے خیال میں مکالمہ بین المذاہب کی ابتدائی سطح قرار دیا جا سکتا ہے اور قرآن کریم میں حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی دعوت اور ان کی قوموں کی طرف سے جواب کے جو بیسیوں واقعات بیان کیے گئے ہیں ان میں اسی مکالمہ کا ذکر ہے۔ حضرت نوح علیہ السلام سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تک اللہ تعالیٰ کے جس پیغمبر نے بھی اپنی قوم کو توحید، رسالت اور قیامت کو بطور عقیدہ قبول کرنے کی دعوت دی ہے، ان کی قوم نے اس کا جواب دیا ہے اور اس دعوت کو قبول نہ کرنے کی وجہ بیان کی ہے، جس کا حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی طرف سے جواب دیا گیا ہے۔

آپ اس پہلو سے قرآن کریم کا مطالعہ کریں گے تو ایک بات آپ کو ان سب میں قدرِ مشترک کے طور پر دکھائی دے گی، وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کے ہر پیغمبر کی دعوت میں توحیدِ الٰہی کے بعد رسالت اور بعث بعد الموت کی بات کی گئی ہے اور کم و بیش ہر قوم نے اپنے پیغمبر کو جواب دیتے ہوئے دو باتیں کہی ہیں، ایک یہ کہ ہمارے جیسا انسان پیغمبر کیسے ہو سکتا ہے؟ اور جب ہم مرنے کے بعد خاک میں مل جائیں گے تو قبروں سے ہمیں دوبارہ کیسے اٹھایا جا سکے گا؟ یہ دو باتیں آپ کو تمام قوموں میں مشترک دکھائی دیں گی۔ یا مثلاً فرعون کو جب حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف دعوت دی اور نشانی کے طور پر معجزات پیش کیے تو اس نے اس دعوت کو رد کرتے ہوئے کہا کہ ”یہ صاحب جادو کے ذریعے ہمیں ہمارے ملک اور اقتدار سے محروم کرنا چاہتے ہیں اور ہماری مثالی تہذیب و ثقافت کو ختم کرنے کے درپے ہیں۔“ اس قسم کا مطالعہ/ مکالمہ آپ کو قرآن کریم میں سینکڑوں مقامات پر ملے گا۔

(۲) مختلف مذاہب کے افراد کے درمیان مکالمہ کا دوسرا مرحلہ یہ ہے جب وہ ایک دوسرے پر اپنے مذہب کی برتری ثابت کرنے کے لیے بحث کرتے ہیں اور دلائل دیتے ہیں، اسے عام اصطلاح میں مناظرہ کہا جاتا ہے اور قرآن کریم نے اس کو مجادلہ قرار دیتے ہوئے مسلمانوں کو تلقین کی ہے کہ اگر وہ غیر مسلموں کے ساتھ اپنے دین کی حقانیت کے بارے میں بحث و جدال کریں تو اس میں اچھا اسلوب اختیار کریں۔

قرآن کریم میں اس مکالمہ و مباحثہ کی مثالیں بھی موجود ہیں، مثلاً حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنی قوم کے ساتھ مکالمہ جس میں قوم کے سردار لاجواب ہوئے، وقت کے بادشاہ نمرود کے ساتھ اس کے دربار میں مکالمہ جس میں نمرود حضرت ابراہیم علیہ السلام کے دلائل کے سامنے مبہوت ہو کر رہ گیا اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اپنے باپ آذر کے ساتھ مکالمہ جس کے نتیجے میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کو اپنے وطن اور قوم سے علیحدگی اختیار کرنا پڑی اور اسی طرح فرعون کے ساتھ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا متعدد بار مکالمہ اور دیگر بہت سے مکالمات اسی نوعیت کے مکالمے کی مختلف صورتیں ہیں۔

یہ مکالمہ کبھی تو دو افراد کے مابین دو بدو گفتگو کی صورت میں ہوتا ہے جیسا کہ مناظرہ کی معروف صورت ہے اور کبھی اس طور پر بھی ہوتا ہے کہ ایک مشترکہ عوامی اجتماع میں مختلف مذاہب کے رہنما متعلقہ موضوعات پر اپنے طور پر اظہار خیال کرتے ہیں اور فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس قسم کا مکالمہ ہمارے ہاں کم و بیش ڈیڑھ صدی قبل کے ماحول میں ”میلہ خدا شناسی“ کے نام سے ملتا ہے، جس میں مختلف مذاہب کے رہنما بہت بڑے عوامی اجتماع کے سامنے اپنے مذہب کی خصوصیات، خوبیوں اور حقانیت پر گفتگو کرتے تھے اور یہ سلسلہ کئی روز تک چلتا تھا۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمہ اللہ اور ہمارے بہت سے دیگر اکابر کے معرکۃ الآراء خطابات کا تذکرہ اس ”میلہ خدا شناسی“ کے حوالے سے تاریخ میں ملتا ہے اور بعض خطابات آج بھی محفوظ صورت میں موجود ہیں۔ یہ مکالمہ اپنے مذہب کی حقانیت ثابت کرنے اور دلائل کے ساتھ لوگوں کو قائل کرنے کے لیے ہوتا ہے اور ہر دور کی طرح آج بھی اس کی ضرورت و اہمیت مسلم ہے۔

(۳) مختلف مذاہب کے رہنماؤں کے درمیان مکالمہ اور گفتگو کا ایک مرحلہ یہ بھی ہوتا ہے کہ ہر مذہب کے افراد اپنے مذہب پر کاربند رہیں، لیکن ایک سوسائٹی میں اکٹھے رہنے کی صورت میں باہمی معاملات کی حدود طے کر لیں، تاکہ آپس میں تصادم نہ ہو اور سب مل جل کر امن و امان کے ساتھ رہ سکیں۔ اس کے لیے ”میثاقِ مدینہ“ کو ایک آئیڈیل معاہدہ کی صورت میں پیش کیا جا سکتا ہے، جس میں ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کیا گیا ہے، مذاہب کے اختلاف کے باوجود اکٹھے رہنے کی قابلِ قبول معاشرتی صورت اختیار کی گئی ہے اور باہمی معاملات کی حدود کار طے کی گئی ہیں۔ یہ مکالمہ اور گفتگو ہر دور کی ضرورت رہی ہے اور رہے گی۔

میرے خیال میں دستورِ پاکستان میں اقلیتوں کے ساتھ معاملات کا جو فریم ورک طے کیا گیا ہے، وہ بھی اسی نوع کا مکالمہ ہے اور چونکہ آج کے دور میں دنیا کے کم و بیش ہر حصے میں مختلف مذاہب کے افراد کے درمیان معاشرتی تعلقات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، اس لیے اس مکالمے کی ضرورت و اہمیت بھی اسی تسلسل کے ساتھ بڑھتی جا رہی ہے کہ اپنے اپنے مذاہب پر قائم رہتے ہوئے باہمی معاشرت کے اصول و ضوابط طے کیے جائیں اور مکالمہ اور گفتگو کے ذریعے باہمی برداشت، تحمل اور تعلقاتِ کار کی حدود کا تعین کیا جائے۔

(۴) مکالمہ بین المذاہب کا ایک چوتھا درجہ اور مرحلہ بھی ہے جس پر صدیوں سے کام ہوتا آ رہا ہے اور اب بھی ہو رہا ہے، اور وہ یہ ہے کہ مختلف مذاہب کی باتوں کو جمع کر کے ایک مشترکہ مذہب تشکیل دیا جائے اور ایسا کرنے والوں کا خیال ہے کہ تمام مذاہب کی سچائیوں اور خوبیوں کو ایک ہی مذہب کی صورت میں جمع کر لیا جائے۔ ماضی میں مغل حکمران اکبر بادشاہ نے ”دین الٰہی“ کے نام سے جو نیا مذہب تشکیل دیا تھا، اس کی بنیاد اسی تصور پر تھی۔ چونکہ اس کی رعیت میں مختلف مذاہب کے لوگ کثیر تعداد میں شامل تھے، اس لیے یہ اس کی سیاسی ضرورت بھی تھی کہ ان مذاہب کے الگ الگ تشخص کو کسی ایک مذہب میں تحلیل کر کے ایک نیا اور مشترکہ مذہب کھڑا کر دیا جائے۔ اکبر بادشاہ کو اس مقصد میں کامیابی نہ ملی اور اس کے بعد یہ پرچم ماضی قریب میں ایران کے بہائیوں نے اٹھا لیا۔ مرزا بہاء اللہ شیرازی کے پیروکاروں کا کہنا ہے کہ تمام انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات اور تمام مذاہب کی سچائیاں مرزا بہاء اللہ شیرازی کی تعلیمات میں (نعوذ باللہ) اس طرح سمو دی گئی ہیں جیسے تمام دریا سمندر میں آ کر مل جاتے ہیں اور اس طرح بہائی مذہب اس کے پیروکاروں کے نزدیک وحدتِ ادیان کا علمبردار ہے۔

مجھے مولانا منظور احمد چنیوٹی رحمہ اللہ کے ہمراہ ایک بار شکاگو میں بہائیوں کے مرکز میں جانے کا موقع ملا تھا، وہاں ہم نے دیکھا کہ مرکز کے بڑے ہال کے مختلف حصوں میں مسلمانوں کی مسجد، ہندوؤں کا مندر، سکھوں کا گوردوارہ، عیسائیوں کا گرجا اور یہودیوں کا سینی گاگ وغیرہ بنائے ہوئے ہیں۔ اس مرکز کے ذمہ دار حضرات کا کہنا تھا کہ ہم تمام مذاہب کے لوگوں کو ایک چھت کے نیچے اپنے اپنے عقیدہ کے مطابق عبادت کا موقع فراہم کر کے وحدتِ ادیان کی عملی شکل پیش کر رہے ہیں۔

وحدتِ ادیان اور اتحاد بین المذاہب کے عنوان سے آج بھی دنیا کے مختلف حصوں میں کام ہو رہا ہے، اس پر بین الاقوامی کانفرنسیں ہوتی ہیں اور یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ تمام مذاہب کی سچائیاں اور خوبیاں ایک جگہ جمع کر لی جائیں اور جھگڑے کی باتوں کو چھوڑ دیا جائے۔ جس کی ایک مثال یہ ہے کہ توحیدِ خالص پر چونکہ مختلف مذاہب میں تنازع ہے، اس لیے اسے زیرِ بحث نہ لایا جائے اور بعض اخلاقیات پر سب مذاہب متفق ہیں، اس لیے انہی کو مذہب کی بنیاد بنا لیا جائے اور وہیں تک مذہب کو محصور رکھا جائے۔ ظاہر بات ہے کہ جب باہمی تنازع اور اختلاف کی ہر بات کو ترک کرنا ہو گا تو توحید سمیت بہت سے بنیادی عقائد سے دست برداری اختیار کرنا ہو گی اور چند انسانی اخلاقیات سے ہٹ کر کسی بات پر سب مذاہب کے پیروکاروں کا متفق ہونا ممکن نہیں ہے، اس لیے مذہب صرف ان متفقہ اخلاقیات کا نام رہ جائے گا۔

مکالمہ بین المذاہب کی پہلی تینوں صورتوں کی درجہ بدرجہ ضرورت تسلیم کرتے ہوئے اس چوتھی صورت اور پہلو کو قبول کرنے سے ہم صراحتاً انکار کرتے ہیں، کیونکہ اس کو قبول کرنے کا مطلب اسلام کے جداگانہ تشخص اور اس کے بنیادی عقائد سے خدانخواستہ دست برداری ہے، اس لیے کوئی مسلمان اس کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔

ہمیں اس سلسلے میں قرآن کریم سے واضح رہنمائی ملتی ہے کہ جب قریشِ مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اجتماعی طور پر پیش کش کی کہ آپ ہمارے بتوں کی نفی کرنا چھوڑ دیں اور ہم آپ کے دین کے بارے میں کچھ لچک پیدا کر لیتے ہیں اور اس طرح مل جل کر گزارہ کر لیتے ہیں تو قرآن کریم میں سورۃ الکافرون کے ذریعے اس پیش کش کو کلیتاً مسترد کر دیا گیا اور ہمیشہ کے لیے اعلان کر دیا گیا کہ عقیدہ کے بارے میں کسی قم کی کوئی لچک یا ایڈجسٹمنٹ قابلِ قبول نہیں ہے۔

(۵) مکالمہ بین المذاہب کی ایک پانچویں شکل بھی ہے جس پر آج کی دنیا میں عالمی سطح پر سب سے زیادہ کام ہو رہا ہے، لیکن میرے نزدیک یہ مکالمہ کی بجائے دجل و تلبیس کی ایک صورت ہے، جسے سمجھنا علماء کرام اور دینی کارکنوں کے لیے انتہائی ضروری ہے۔ اس لیے کہ عالمی سطح پر جوں جوں تہذیبی کشمکش بڑھ رہی ہے، مکالمہ بین المذاہب کے عنوان سے اس کی شدت کو کم کرنے کی کوششوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ لیکن یہاں ایک بات بنیادی طور پر قابلِ توجہ ہے کہ موجودہ عالمی کشمکش جو سیاسی، معاشی اور عسکری ہونے کے ساتھ ساتھ فکری اور ثقافتی کشمکش بھی ہے یہ دراصل مذاہب کے درمیان نہیں ہے، بلکہ مغرب کے فکر و فلسفہ اور اسلام کے درمیان بڑھتے ہوئے تصادم کو فکری اور نظریاتی حوالے سے دیکھا جائے تو یہ جنگ مذاہب کے درمیان نہیں، بلکہ مذہب اور لامذہبیت کے درمیان ہے۔ ایک طرف مغرب کا فکر و فلسفہ ہے جس کی بنیاد مذہب کے اجتماعی اور معاشرتی کردار کی نفی پر ہے اور دوسری طرف اسلام ہے جو دین کو معاشرہ، ریاست اور حکومت تینوں کی اساس قرار دیتا ہے۔

اس کشمکش میں مسیحیت کا بطورِ مذہب کوئی کردار نہیں ہے اور اگر مسیحی مذہب کے کسی ممکنہ کردار کو تلاش کیا جائے تو وہ بائبل کی تعلیمات کی روشنی میں لامذہبیت کے خلاف مذہب کے معاشرتی کردار کی حمایت کا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے موجودہ عالمی فکری و تہذیبی کشمکش کو مذاہب کے درمیان کشمکش قرار دے کر اسے باہمی مکالمہ کے ذریعے کم کرنے کی بات ایک دھوکا اور فریب کے سوا کچھ نہیں ہے اور میرے خیال میں مغرب کی لامذہبیت اسلام کے مقابلے میں خود کو بے بس محسوس کرتے ہوئے اب مسیحی مذہب کی آڑ لینے کی کوشش کر رہی ہے اور بہت سے مسیحی مذہبی رہنما مسیحی مذہب کی بجائے مغرب کی لامذہبیت کے دفاع کے لیے کوشاں نظر آ رہے ہیں۔

مجھ سے چند سال قبل پاکستان کے ایک مسیحی رہنما نے کہا کہ آپ سے انسانی حقوق کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں۔ میں نے ان سے گزارش کی کہ میں آپ سے اس موضوع پر بات نہیں کرنا چاہتا، اس لیے کہ میں آپ کو انسانی حقوق کے عالمی فورم کا نمائندہ تسلیم نہیں کرتا۔ انسانی حقوق کے موجودہ بین الاقوامی فریم ورک کی نمائندگی سیکولر قوتوں کے پاس ہے، اس لیے اس حوالے سے بات جب بھی ہو گی انہی سے ہو گی۔ پادری صاحبان کے ساتھ گفتگو کا موضوع انسانی حقوق نہیں، بلکہ بائبل کی تعلیمات ہیں، کیونکہ وہ بائبل کی نمائندگی کرتے ہیں اور ان سے اسی کے حوالے سے گفتگو کی جا سکتی ہے۔

آج کی عالمی فکری و تہذیبی کشمکش کے حوالے سے مکالمہ بین المذاہب کو فروغ دینے میں فریب کاری کا ایک پہلو بھی قابلِ توجہ ہے کہ اس مکالمہ میں سب سے زیادہ زور مذہبی شدت پسندی کو کم کرنے اور مذہب کے لیے طاقت کے استعمال کو ترک کرنے پر دیا جاتا ہے، جس کا واحد مقصد دنیا کے مختلف حصوں میں مسلم مجاہدین کی اس جدوجہد کی نفی کرنا ہے جو وہ مغرب کے لادینی فلسفہ و نظام کے تسلط کی راہ میں مزاحمت کے طور پر کر رہے ہیں۔ اس مکالمہ کی غرض صرف اتنی ہے کہ مسلم علماء اور دانشوروں کو مجاہدین کی اس مزاحمتی جدوجہد کی نفی اور مذمت پر تیار کیا جائے، تاکہ جو تھوڑی بہت مزاحمت پائی جاتی ہے، اسے بھی ختم کیا جا سکے۔

کچھ عرصہ قبل مجھے اس سلسلے میں ایک مکالمہ میں شرکت کی دعوت دی گئی تو میں نے عرض کیا کہ اس بارے میں میرے دو تحفظات ہیں۔

(۱) ایک یہ کہ یہ مکالمہ اس کے اصل فریقوں یعنی مسلم علماء اور مسیحی مذہبی رہنماؤں میں ہونا چاہیے۔ اس مکالمے کے اصل فریق صدر بش، ٹونی بلیئر، حسنی مبارک یا پرویز مشرف نہیں، بلکہ پاپائے روم، آرچ بشپ آف کنٹربری، شیخ الازہر اور امام حرمین جیسی مذہبی شخصیات ہیں۔ اس مکالمے کو حکومتوں کے درمیان لے جانا یا حکومتوں کے زیرِ سایہ اس مکالمہ کو بڑھانا مکالمہ بین المذاہب نہیں، بلکہ سیاسی مقاصد کے لیے مکالمہ کا استعمال تصور ہو گا۔

(۲) دوسری بات یہ ہے کہ اس کا ایجنڈا یکطرفہ اور ادھورا ہے، اس میں صرف مذہب کے مبینہ طور پر غلط استعمال کو موضوعِ بحث بنایا جاتا ہے۔ ہمیں اس پر گفتگو سے انکار نہیں ہے اور ہم اس پر کھلے دل و دماغ کے ساتھ مباحثہ کے لیے تیار ہیں، لیکن اس کے ساتھ اس موضوع کے دوسرے پہلو پر گفتگو بھی ہمارے نزدیک ضروری ہے، وہ یہ کہ اجتماعی اور معاشرتی امور میں مذہب کے کردار کی نفی کے انسانی سوسائٹی پر کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں اور مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی سے پیدا ہونے والے مسائل کا حل کیا ہے؟ مغرب ہم سے مذہب کے (اس کے بقول) غلط استعمال پر بات کرنا چاہتا ہے اور ہم اس سے مذہب کے معاشرتی کردار کی نفی کے نتائج پر گفتگو کرنا چاہتے ہیں۔

مکالمہ دونوں موضوعات پر ہو اور اصل فریقوں کے درمیان ہو تو ہم ہر وقت اس کے لیے حاضر ہیں، لیکن اگر مغرب اس مکالمہ کو اپنی ثقافتی یلغار کے لیے استعمال کرنا چاہتا ہے اور اس سے یکطرفہ مقاصد حاصل کرنے کا خواہش مند ہے تو ہم اس کو مکالمہ بین المذاہب کے طور پر قبول کرنے سے انکار کرتے ہیں۔

یہ آج کے عالمی تناظر میں مکالمہ بین المذاہب کے حوالے سے کی جانے والی کوششوں کے چند اہم پہلو ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم معاملات کو ان کے اصل تناظر میں صحیح طور پر سمجھتے ہوئے ان کے لیے صحیح لائحہ عمل اختیار کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter