جہادِ افغانستان کے علمبرداروں سے مغربی دنیا کی نا انصافی

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۳ دسمبر ۱۹۹۹ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

آج دیکھیے کہ افغانستان کے ہمارے مجاہد بھائی گھیرے میں ہیں۔ ان کے خلاف بھی الزام یہ ہے کہ ورلڈ کلچر کو قبول نہیں کر رہے، اقوامِ متحدہ کے منشور پر دستخط نہیں کر رہے، آج کے جو عالمی تقاضے ہیں انہیں قبول نہیں کر رہے۔ یہ عورت کے پردے کی بات کیوں کرتے ہیں؟ یورپ کی جو تمام بے حیائی اور فحاشی ہے، یہ یہاں پر اسے قبول کیوں نہیں کر رہے؟ دنیا میں ایک خطہ ایسا کیوں ہے جو انسانی خواہشات اور دنیا کی نفسانی خواہشات سے ہٹ کر آسمانی تعلیمات پر استوار ہوا؟ جہاں فیصلوں کی بنیاد یہ نہیں ہے کہ لوگ کیا چاہتے ہیں، جہاں فیصلوں کی بنیاد یہ ہے کہ خدا کیا کہتا ہے۔

اصل جھگڑا تو آخر اتنا ہی ہے کہ فیصلوں کی بنیاد کیا ہے؟ لوگ جو چاہتے ہیں وہ نافذ ہو، یا جو خدا چاہتا ہے اس کی پیروی ہو؟ آج افغانستان پر جو چارج شیٹ ہے وہ کیا ہے؟ اور پھر یہ کتنی منافقت ہے کہ ابھی کل امریکہ کے صدر کا بیان آپ نے پڑھا ہوگا کہ افغانستان والے دہشت گردوں کی سرپرستی کرتے ہیں اس لیے ہم انہیں سزا دینا چاہتے ہیں۔ میں نے ایک مضمون میں یہ بات پوچھی ہے اور اب بھی یہ عرض کرتا ہوں، اور آپ بھی اس پر غور فرما لیں کہ کیا افغانستان والوں نے یہ دہشت گردوں کی سرپرستی نئے سرے سے شروع کی ہے؟ یہ تو پندرہ سال سے یہی کام کر رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے بھی یہ الزام لگایا ہے کہ وہاں پر دنیا بھر سے افراد آتے ہیں اور جہاد کی ٹریننگ حاصل کرتے ہیں۔ بھئی، یہ کام اِسی سال تو شروع نہیں ہوا، یہ سلسلہ تو پندرہ سال سے چل رہا ہے۔ یہ بات کہ افغانستان والے وہاں دنیا بھر سے آنے والے مسلمانوں کو اسلحہ چلانے کی ٹریننگ دیتے ہیں، وہاں ٹریننگ کیمپ بنے ہوئے ہیں۔ میرا سوال یہ ہے کہ کیا یہ ٹریننگ کیمپ وہاں آج بنے ہیں؟ جب روس کے خلاف جنگ تھی اور امریکہ بھی اس جنگ میں ساتھی تھا، یہ کیمپ تو اس وقت بھی تھے۔ اس وقت بھی ان کیمپوں میں عرب لوگ آتے تھے، پاکستانی بھی جاتے تھے، ملائیشیا سے آتے تھے، بنگلہ دیش سے آتے تھے، ان میں چھوٹے بڑے سبھی ہوتے تھے، اس وقت بھی ان لوگوں کی داڑھیاں تھیں۔

جب روس کے خلاف مجاہدین جنگ لڑ رہے تھے تب بھی یہ نماز پڑھتے تھے، اس وقت بھی ان کی داڑھیاں تھیں، تب بھی یہ قرآن کی بات کرتے تھے، تب بھی ان کا جہاد ہی کا نعرہ تھا، تب بھی یہ عربوں کو اور دوسروں کو لڑائی کی تربیت دیتے تھے۔ میں نے خود دیکھے ہیں، میں ایک دفعہ افغانستان کے ایک شہر خوست گیا۔ اللہ اکبر کبیرا۔ اس زمانے میں خوست ابھی روس کے قبضے میں تھا اور فتح نہیں ہوا تھا، کابل تو ابھی دور کی بات تھی۔ میں ایک مورچے میں دو راتیں رہا۔ واپسی پر ایک عرب نوجوان جو کوئی سولہ سترہ سال کا ہوگا، وہ ہماری گاڑی کا ڈرائیور تھا اور ہمارے سرحدی شہر میرانشاہ ہمیں چھوڑنے آرہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا، تم کہاں کے ہو؟ اس نے کہا، مدینہ منورہ کا ہوں۔ پوچھا، کتنے عرصے سے یہاں ہو؟ کہنے لگا، دو سال سے۔ پوچھا، کب تک رہو گے؟ کہنے لگا، یا افغانستان فتح ہو جائے گا یا میں شہید ہو جاؤں گا۔

جب روس کے خلاف جنگ تھی، تب تو امریکہ کو ان مجاہدین سے کوئی تکلیف نہیں تھی، امریکہ اخلاقی سپورٹ بھی کرتا تھا، سیاسی سپورٹ بھی کرتا تھا، پیسے بھی دیتا تھا، اسلحہ بھی دیتا تھا۔ میں پوچھتا ہوں کہ اُس جنگ اور اِس جنگ میں مجاہدین میں کیا فرق آیا ہے؟ داڑھیاں بھی تھیں، نمازیں بھی تھیں، اس وقت بھی جہاد کا نعرہ تھا، اس وقت بھی اسلام کی بات تھی، قرآن بات کے حوالے سے بات کرتے تھے، اللہ اکبر کا نعرہ لگاتے تھے۔ آج بھی وہ یہی کچھ کر رہے ہیں، لیکن چونکہ یہ امریکہ کے خلاف ہے اس لیے یہ دہشت گردی ہو گئی ہے۔ یہ کتنا ظلم ہے، کتنی منافقت ہے، کتنی بے ایمانی ہے۔ یا تو یہ بات بتائی جائے کہ آج سے دس سال پہلے کے مجاہدین کے نظریات میں اور آج کے مجاہدین کے نظریات میں کیا فرق ہے؟ اس وقت کے طریقۂ کار میں اور آج کے طریقۂ کار میں کیا فرق ہے؟ تب روس کے خلاف تھا تو سب مجاہدین تھے، آج امریکہ کے خلاف ہے تو سب دہشت گرد ہوگئے ہیں۔

بھئی اسلام کا جہاد تو سب کے ساتھ یکساں شرائط پر ہی ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے لیے تو ’’الکفر ملۃ واحدۃ‘‘، جہاں جہاد کی شرائط پوری ہوں گی، وہاں جہاد ہوگا۔ روس بھی کافر ہے اور امریکہ بھی۔ روس مسلمانوں پر ظلم کرے گا تو اُس کے خلاف جہاد ہوگا، اور اگر امریکہ مسلمانوں پر ظلم کرے گا تو اُس کے خلاف بھی جہاد ہی ہوگا۔ جہادِ افغانستان دس سال لڑا گیا، ذرا اِن لوگوں کی منافقت اور بے ایمانی کا اندازہ لگائیے کہ افغانستان کے جہاد کا نتیجہ کیا نکلا؟ جہادِ افغانستان کا کس کس کو فائدہ ہوا؟

  • کیا امریکہ کو جہادِ افغانستان کا فائدہ ہوا یا نہیں؟
  • جرمنی جو آج متحد ہوا ہے وہ کس کے نتیجے میں ہوا ہے؟ دیوارِ برلن کس کے نتیجے میں گری ہے، کیا جرمنی کو جہادِ افغانستان کا فائدہ نہیں ہوا؟
  • کیا جہادِ افغانستان کی بدولت مشرقی یورپ کے ملکوں کو آزادی نہیں ملی؟
  • کیا وسطی ایشیا کی ریاستوں کو آزادی نہیں ملی؟
  • بالٹک ریاستوں کو آزادی نہیں ملی؟

قربانیاں کن لوگوں نے دیں اور فائدہ کن لوگوں نے اٹھایا؟ موت کو کن لوگوں نے گلے لگایا اور آزاد فضاؤں میں زندگی گزارنے کا حق کن لوگوں کو ملا؟ اور ان لوگوں کو شرم نہیں آتی کہ جن لوگوں کے خونوں کی قیمت پر ان لوگوں کو آزادی ملی ہے اُن لوگوں کو اپنی جدوجہد کا فائدہ اٹھانے دینے کے لیے یہ لوگ تیار نہیں ہیں۔ بھئی جن کے خون سے تم نے فائدہ اٹھایا ہے، کیا انہیں خود بھی فائدہ اٹھانے کا حق حاصل ہے یا نہیں؟ دس سالہ جہادِ افغانستان سے امریکہ فائدہ اٹھائے تو وہ ٹھیک ہے، جرمنی کو فائدہ ہو تو وہ ٹھیک ہے، مشرقی یورپ کے ملک آزاد ہوں تو ٹھیک ہے، وسطی ایشیا کی ریاستیں آزاد ہوں تو ٹھیک ہے، بالٹک ریاستیں آزادی حاصل کریں تو ٹھیک ہے، اور پاکستان کی دو ہزار میل لمبی سرحد محفوظ ہو تو ٹھیک ہے، لیکن اس جہاد کے ثمرات افغانوں کو نہیں ملنے چاہئیں۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کیا اسے یہ لوگ انصاف کا نام دیتے ہیں؟ کیا اسے یہ لوگ انسانیت کہتے ہیں؟ ساری دنیا نے ان کے خون کی قیمت پر اپنے محلات تعمیر کیے ہیں، اور ان غریبوں کو یہ حق بھی حاصل نہیں ہے کہ وہ اپنے فیصلے خود کریں؟ یہ تہذیب، یہ اخلاقیات، یہ کلچر، یہ سولائزیشن، جسے ہم سے یہ لوگ منوانا چاہ رہے ہیں؟

ہم تو بھئی ایک بات جانتے ہیں کہ آسمانی تعلیمات، وحی الہٰی، اللہ کا حکم، پیغمبروں کی تعلیمات، جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنتِ مبارکہ، کل بھی یہی انسانیت کے لیے راہِ نجات تھی، آج بھی انسانیت کی راہِ نجات یہی ہے۔ ہمارا پوری دنیا کے لیے یہی پیغام ہے، اسی کے لیے یہی ہماری محنت اور جدوجہد ہے۔ اور یہ ظلم کا راستہ تو فرعون کا بھی تھا اور نمرود کا بھی کہ طاقت کے بل پر قوت کے بل پر کمزوروں کے حق کو دبانا۔ ان شاء اللہ العزیز ان کی قوموں نے بھی اللہ تعالیٰ کی مدد سے آزادی حاصل کی تھی اور آج کی مظلوم قومیں بھی آزادی حاصل کریں گی۔

گزشتہ دنوں مجھے ایک افغان سفارتکار ملے، مولوی رحمت اللہ کاکازادہ، میں نے ان سے پوچھا بھئی، کیا صورتحال ہے؟ کہنے لگے، مولوی صاحب! کوئی بات نہیں، ہماری ناکہ بندی ہو گئی ہے، پابندیاں لگ گئی ہیں۔ پھر انہوں نے کیا خوبصورت بات کی، کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی پابندیاں لگی تھیں جو تین سال تک رہیں۔

کیوں بھئی، یہ پابندیاں لگی تھیں یا نہیں؟ ابوطالب کی گھاٹی میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے ساتھیوں سمیت تین سال تک سوشل بائیکاٹ کا شکار رہے، اقتصادی پابندی لگی تھیں، گھیرے میں رہے تھے، اور سعد بن ابی وقاصؓ فرماتے ہیں کہ ہم پر ایسا وقت بھی آیا تھا کہ کھانے کو کچھ نہیں ملتا تھا تو ہم بیریوں کے پتے چبا کر گزارا کرتے تھے۔

افغانستان کے سفارتکار نے کہا کہ مولانا کوئی بات نہیں۔ یہ وقت حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی آیا تھا، صحابہؓ پر بھی آیا تھا، ان پر سے بھی یہ وقت گزر گیا تھا، ہم پر سے بھی گزر جائے گا، ان شاء اللہ العزیز، لیکن ہم اپنے مشن سے نہیں ہٹیں گے، بات ہماری وہی ہے کہ ہم قرآن و سنت کی بالادستی کے خلاف اقوامِ متحدہ نہیں، امریکہ نہیں، پوری دنیا ایک طرف ہو جائے، ہم کسی کی بات نہیں مانیں گے۔

اللہ تعالیٰ ان مجاہدین کو، اسلام کے ان سچے علمبرداروں کو استقامت عطا فرمائیں، صبر عطا فرمائیں اور کامیابی نصیب فرمائیں۔ ان کی قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی اور اسلام کے غلبے کا راستہ یہیں سے کھلے گا، ان شاء اللہ العزیز۔

2016ء سے
Flag Counter