بعد الحمد والصلوٰۃ۔ عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کو اپنی اس مہم کے تسلسل پر مبارک باد دیتے ہوئے، سب سے پہلے تو میں اس بات پر خوشی کا اظہار کروں گا، ہمیشہ کی طرح آج بھی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کا یہ فورم امت کی وحدت کی علامت ہے۔ اور آپ دیکھ رہے ہیں، سٹیج پر جمعیت علماء پاکستان کے سربراہ مولانا ڈاکٹر ابو الخیر محمد زبیر تشریف فرما ہیں، جمعیت اہلِ حدیث کے راہنما حضرت مولانا سید ضیاء اللہ شاہ بخاری تشریف فرما ہیں، اور جماعۃ الدعوۃ کے رہنما جناب قاری محمد یعقوب شیخ اور باقی سب حضرات تشریف فرما ہیں۔ میں بطورِ خاص اپنے ان مہمانوں کا عالمی مجلس تحفظِ ختمِ نبوت کی طرف سے ایک کارکن کے طور پر خیرمقدم کرتا ہوں، اس پر خوشی کا اظہار کرتا ہوں۔
میں ایک تاریخی حقیقت کا اظہار کرنا چاہوں گا کہ تحریکِ ختمِ نبوت میں — جب سے مرزا غلام احمد قادیانی نے نبوت کا دعویٰ کیا، اس کی زندگی سے ہی — امت نے اجتماعی طور پر قادیانیت کے کفر کے خلاف مورچہ سنبھال لیا تھا، البتہ دھارے کچھ مختلف رہے: ایک دھارہ حضرت علامہ انور شاہ کاشمیری رحمۃ اللہ علیہ اور امیرِ شریعت حضرت سید عطاء اللہ شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی جدوجہد کا تھا۔ ایک دھارہ حضرت پیر مہر علی شاہ صاحب گولڑوی رحمۃ اللہ علیہ کی جدوجہد کا تھا۔ ایک دھارہ حضرت مولانا ثناء اللہ امرتسری رحمۃ اللہ علیہ کی جدوجہد کا تھا۔ ان دھاروں میں ہمارے قائدین آتے رہے اور آج ان تینوں بڑے دھاروں کے نمائندے سٹیج پر بیٹھے ہیں، آج بھی امت متحد ہے۔
مجھے یاد آ رہا ہے کہ ۱۹۷۴ء کی تحریکِ ختمِ نبوت، جس میں قادیانیوں کو امت کے متفقہ مطالبے پر غیر مسلم اقلیت قرار دیا گیا، اس میں اسمبلی کے فلور پر حضرت مولانا مفتی محمودؒ بھی تھے، حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ بھی تھے، حضرت مولانا عبد الحکیمؒ بھی تھے، حضرت مولانا شاہ احمد نورانیؒ بھی تھے، حضرت مولانا عبد المصطفیٰ ازہریؒ بھی تھے، حضرت مولانا محمد ذاکرؒ بھی تھے، اور عوامی سٹیج پر علامہ احسان الٰہی ظہیرؒ تھے، اور یہ سارے قائدین، انہوں نے مل کر ملک میں تحریک چلائی۔ آج ہم پھر دیکھ رہے ہیں اور مستقبل مجھے نظر آ رہا ہے، ان شاء اللہ العزیز، یہ قیادت ایک بار پھر تحریکِ ختمِ نبوت کے باقی ماندہ تقاضوں کی تکمیل کے لیے عوام میں آئے گی اور ان شاء اللہ العزیز ہم مزید پیشرفت کریں گے۔
میں صرف دو تین باتیں عرض کرنا چاہوں گا اختصار کے ساتھ۔ ایک بات تو حکمرانوں سے — آج ہمارے حکمران، ہمارے سیاستدان، ہماری عدالتِ عظمیٰ، ہمارے ملک کی قومی قیادت — ایک مسئلے کا ہر آدمی ذکر بھی کرتا ہے، پریشان بھی ہوتا ہے کہ دستور کی بالادستی ہونی چاہیے۔ آپ کا کیا خیال ہے، ہونی چاہیے یا نہیں ہونی چاہیے؟ دستور ہم نے مل جل کر بنایا ہے، ہمارے بڑوں نے بنایا ہے، متفقہ دستور ہے اور ہم اس دستور کے ساتھ متفق ہیں۔ اس دستور کی، جو ۱۹۷۳ء میں نافذ ہوا تھا، بالادستی ہونی چاہیے یا نہیں ہونی چاہیے؟ ہماری عدالتِ عظمیٰ بھی پریشان ہے، ہمارے حکمران بھی پریشان ہیں، ہمارے سیاستدان بھی پریشان ہیں، لیکن میں ایک سوال کرنا چاہوں گا کہ دستور سے انحراف کا راستہ سب سے پہلے کس نے کھولا؟ ۱۹۷۳ء میں دستور نافذ ہوا اور ۱۹۷۴ء میں دستور کا فیصلہ اور پارلیمنٹ کا فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا گیا۔ دستور سے انحراف کا راستہ سب سے پہلے کس نے کھولا؟ قادیانیوں نے۔ اور میں یہ بات عرض کرنا چاہوں گا، پوری ذمہ داری کے ساتھ، اگر دستور کے پہلے انحراف کا نوٹس لے لیا گیا ہوتا تو آج ہماری عدالتِ عظمیٰ کو اور ہمارے سیاستدانوں کو دستور کی بالادستی کا ڈھنڈورا نہ پیٹنا پڑتا، اور ہمارے وکلاء کی برادری کو دستور کی بالادستی کو سڑکوں پر نہ آنا پڑتا۔
پھر اسی کا دوسرا حصہ ہے، آج بھی — دستور کے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا، قادیانیوں نے؛ پارلیمنٹ کے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا، قادیانیوں نے؛ جمہوریت کے فیصلے کو ماننے سے انکار کیا، قادیانیوں نے؛ اور عالمِ اسلام کا شرعی فیصلہ تو ایک صدی پہلے جاری ہو چکا تھا، اس کو ماننے سے انکار کس نے کیا؟ قادیانیوں نے۔ کیا یہ انکار آج بھی جاری ہے یا نہیں؟ دستور کا فیصلہ ماننے سے انکار آج بھی قائم ہے یا نہیں؟ اس دستور کے خلاف پاکستانی کہلانے والوں میں سب سے بڑا مورچہ دنیا میں کون سا ہے؟ جس دستور کی بالادستی کی بات چیف جسٹس بھی کرتے ہیں، جس دستور کی بالادستی کی بات وزیر اعظم بھی کرتے ہیں، جس دستور کی بالادستی کی بات نواز شریف کرتے ہیں، جس دستور کی بالادستی کی بات ہماری وکلاء برادری کرتی ہے، سیاستدان کرتے ہیں، اس دستور کے خلاف پاکستانی کہلانے والوں کا دنیا بھر میں سب سے بڑا مورچہ کس کا ہے؟ کون ہیں جو کینیڈا میں بیٹھے ہیں، دستور کے خلاف مہم چلائے ہوئے ہیں؟ کون ہیں جو امریکہ میں بیٹھے ہیں، اس دستور کے خلاف مہم چلائے ہوئے ہیں؟ کون ہیں جو برطانیہ میں بیٹھے ہیں، اس دستور کے خلاف کمپین کر رہے ہیں؟ کون ہیں جو جرمنی میں بیٹھے ہیں، اس دستور کے خلاف کمپین کر رہے ہیں؟
میں پہلی بات اتنے جملے پہ سمیٹوں گا کہ جناب چیف جسٹس! جناب وزیر اعظم! اگر دستور کی بالادستی فی الواقع چاہتے ہیں تو دستور کے انحراف کا راستہ کھولنے والوں کا نوٹس لیجیے، ورنہ دستور کی بالادستی اس ملک میں قائم نہیں ہو گی۔
دوسری بات، میں قادیانی حضرات سے کہنا چاہوں گا اور بڑی ذمہ داری کے ساتھ کہنا چاہوں گا، مرزا مسرور احمد صاحب تک اگر میری آواز پہنچ سکے تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ آپ حضرات باہر بیٹھے ہیں، کینیڈا میں، جرمنی میں، برطانیہ میں، امریکہ میں، آپ گزشتہ آٹھ دس سال سے ایک نئی کمپین میں ہیں۔ میں جاتا ہوں، دیکھتا ہوں، آپ کے اشتہارات بھی پڑھتا ہوں، اخبارات میں آپ کے بیانات بھی پڑھتا ہوں، آپ کی تقریریں بھی پڑھتا ہوں۔ ابھی میں نے رمضان میں امریکہ میں تین چار اخبارات میں فل اشتہارات دیکھے ہیں، آپ دنیا کو یہ یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ ہم ختمِ نبوت کے منکر نہیں ہیں اور جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں۔ یہ دنیا کو یقین دلانے کی کوشش کر رہے ہیں، اور اپنے عقیدے کو — جس کا اظہار مرزا غلام احمد قادیانی نے کیا، مرزا بشیر الدین نے کیا، آپ کے تمام قائدین نے کیا، تحریروں میں صراحت کے ساتھ — اس کو گول مول کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اس کی تاویلات کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور دنیا کو یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ ہمارا وہ عقیدہ نہیں جو ہمارے ذمے لگایا جا رہا ہے۔
تو یار! ایک سادا سی بات ہے، اگر اس عقیدے سے آپ اتنے ہی تنگ ہیں تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ آپ کو ہر جگہ جو صفائی پیش کرنی پڑتی ہے کہ ہمارا یہ مطلب نہیں جی، ہمارا یہ مطلب نہیں جی، وہ فلاں عبارت کا یہ مطلب نہیں جی، فلاں عبارت کا یہ مطلب نہیں، ہم تو مانتے ہیں جی، ہم تو یہ کرتے ہیں جی۔ اتنی لمبی چوڑی تاویلیں کرنے کی ضرورت کیا ہے؟ اگر یہ عقیدہ اتنا ہی پریشان کن ہے تو چھوڑ کیوں نہیں دیتے؟ میں آج تمام تر تلخیوں کے باوجود پورے خلوص کے ساتھ مرزا مسرور احمد صاحب کو اور ساتھ ان کی قیادت کو دعوت دیتا ہوں کہ اسلام قبول کیجیے، واپس آئیے، آپ ہمارے بھائی ہوں گے، آپ ہمارے آگے ہوں گے۔ سوال میرا یہ ہے کہ میرے بھائی! جس عقیدے سے آپ اتنے تنگ ہیں کہ آپ کو ہفتے میں تین دفعہ وضاحت کرنی پڑتی ہے، تو چھوڑ دیں اُس کو، خوامخواہ تکلف کی کیا ضرورت ہے؟ اس مصیبت سے چمٹے رہنے کی کیا ضرورت ہے؟ چھوڑیے! کہیے کہ ہم جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو آخری نبی مانتے ہیں اور حضورؐ کے بعد کسی مدعی نبوت کو مسلمان نہیں سمجھتے۔ یہ دو جملے کہہ دیجیے، آپ ہمارے بھائی ہیں، آپ ہمارے ساتھ ہیں۔
تیسری اور آخری بات آپ سے کہنا چاہوں گا۔ یہ کشمکش ویسے تو سوا صدی سے چل رہی ہے، لیکن یہ موجودہ کشمکش، دستور کے حوالے سے اور پارلیمنٹ کے فیصلے کے حوالے سے اور عوام کے فیصلے کے حوالے سے، اور حکومتِ پاکستان اور پاکستان کی سالمیت اور پاکستان کی وحدت، یہ جو کشمکش ہے، کم از کم ۱۹۷۴ء کے بعد سے یہ چل رہی ہے اور ۱۹۸۴ء کے بعد تیز ہو گئی تھی، میں آپ سے یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ کیا ہمارا یہ فرض کہ ہم سال میں ایک کانفرنس میں یہاں آجائیں اور دو تین کانفرنسوں میں شریک ہو جائیں، جہاں ہمیں مجلس تحفظِ ختمِ نبوت بلائے، کیا خیال ہے ہمارا فرض ادا ہو جاتا ہے؟ ہم عوام کا اور بالخصوص ہم مولویوں کا؟
میں صرف ایک آپ کو دعوت دوں گا، لمبا چوڑا ایجنڈا نہیں دوں گا۔ میرے علماء کرام! خطباء کرام! دینی جماعتوں کے کارکن! دینی جماعتوں کے راہنما! اس سال میں صرف ایک کام کر لیں، اپنے اردگرد کام کرنے والی این جی اوز، جو غیر ملکی مال پہ چلتی ہیں اور جو اس ملک کی سلامتی، نظریاتی تشخص، وحدت، اس ملک کے کلچر، اسلامی ثقافت، اور مسلمانوں کے عقیدے کو کمزور کرنے کے ایجنڈے پہ کام کر رہی ہیں، اگر ایک شہر کے چار علماء مل کر ان این جی اوز کو واچ کر لیں اور بے نقاب کر دیں کہ فلاں یہ کام کر رہا ہے، فلاں یہ کام کر رہا ہے، ایک سال میں یہ کام اگر کر لیں تو میرے خیال میں آدھا محاذ ہم فتح کر لیں گے۔ کیا خیال ہے، کرنا چاہیے؟ ان شاء اللہ العزیز کریں گے۔
نظر تو رکھیں اپنے اردگرد، این جی اوز ہیں، باہر سے پیسہ آتا ہے، تین چار کام ہیں ان کے: آپ کا عقیدہ خراب کرنا، یہاں کی اسلامی روایات خراب کرنا، آپ کی علماء کے ساتھ کمٹمنٹ خراب کرنا، علماء کے درمیان تفریق پیدا کرنا، اور آپ کے عقیدے اور ایمان کو کمزور کر کے قادیانیوں اور دوسرے لوگوں کی راہ ہموار کرنا ان کا ایجنڈا ہے۔ ذرا اس ایجنڈے کو اپنی آنکھوں سے اپنے علاقے میں واچ کر کے دیکھیں، ایک سال میں آپ محنت کریں گے، آپ پر چودہ طبق روشن ہوں گے اور آپ پھر خود فیصلہ کریں گے کہ ہم کیا کر رہے ہیں اور ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
ایک بات اور بڑی ضروری تھی۔ اور میں وہ بات مولانا ابوالخیر محمد زبیر کی موجودگی میں کرنا چاہتا تھا۔ غازی ممتاز قادری کے حوالے سے آپ نے بہت جذبات کا اظہار کیا، لیکن ایک اصولی فیصلہ میں آپ سے چاہوں گا کہ گزشتہ دنوں، ایک ہفتہ ہوا تقریباً، جمعیت علماء پاکستان نورانی گروپ کے سربراہ مولانا ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر نے لاہور میں ایک آل پارٹیز کانفرنس کی تھی، اس میں تمام مکاتبِ فکر کے علماء تشریف لائے تھے، اس نے اجتماعی طور پر فیصلہ کیا ہے کہ ہم ممتاز قادری کی رہائی کے لیے جدوجہد کریں گے اور حکومت کو یہ موقع نہیں دیں گے کہ وہ اس غازی، ممتاز قادری کو، وہ اپنے عدالتی فیصلے کے مطابق سزائے موت تک لے جائے، ہم اس کی رہائی کے لیے محنت کریں گے۔ میں تفصیلات میں نہیں جاتا، ڈاکٹر صاحب خود بیان کریں گے۔ میں یہ چاہوں گا کہ ہم آج کے اس اجتماع کی طرف سے ڈاکٹر ابوالخیر محمد زبیر صاحب کی طلب کردہ آل پارٹیز کانفرنس کے فیصلوں کی حمایت کریں اور انہیں یقین دلائیں کہ ہم اس تحفظِ ناموسِ رسالت کانفرنس کے فیصلوں، اس کی قراردادوں کے ساتھ ہیں۔ اور جو بھی جدوجہد کا لائحہ عمل طے ہو گا ہم اس کے ساتھ ہوں گے، ان شاء اللہ۔

