تبلیغی سہ روزہ اور حضرت سندھیؒ کی یاد میں ایک مجلس

   
۱۵ نومبر ۲۰۱۶ء

رائے ونڈ کے عالمی تبلیغی اجتماع کو چار حصوں میں تقسیم کر دیا گیا ہے جس کے مطابق ملک کے تمام حلقوں کو علاقائیت کا تاثر دیے بغیر چار حصوں میں بانٹ کر ہر سال دو حلقوں کا اجتماع ایک ہفتہ کے فرق کے ساتھ منعقد ہوگا۔ اس سال کا پہلا اجتماع نومبر کے پہلے ہفتے میں اور دوسرا اجتماع گزشتہ روز دعا کے ساتھ اختتام پذیر ہوا ہے جبکہ دوسرے دو حلقوں کا اجتماع اسی ترتیب کے ساتھ ان شاء اللہ العزیز اگلے سال ہوگا۔ چند روز قبل میں نے لاہور میں ایک تبلیغی دوست سے کہا کہ اجتماعات کی ترتیب بتا دیں تاکہ میں اس کے مطابق اپنا پروگرام تشکیل دے سکوں تو انہوں نے جواب دیا کہ اس سال آپ لوگوں (گوجرانوالہ والوں) کا اجتماع نہیں ہے۔ میں نے پوچھا دیکھنے کی اجازت تو ہوگی؟ ہنس کر بولے کہ ہاں دیکھ سکتے ہیں۔ چنانچہ میں نے دوسرے اجتماع کے درمیانے دن حاضری کی ترتیب بنا لی لیکن اس سے قبل گوجرانوالہ کے علماء کے سالانہ اجتماعی سہ روزہ کا پروگرام بن چکا تھا۔ ہمارے شہر کے علماء کرام کا سالہا سال سے معمول ہے کہ سال میں ایک اجتماعی سہ روزہ لگاتے ہیں اور میں بھی ان کے ساتھ شریک ہوتا ہوں۔

اس سال کی ترتیب ۸،۹، ۱۰ نومبر کی بنی اور سرگودھا میں تشکیل ہوگئی۔ چنانچہ گوجرانوالہ کے تیس سے زیادہ علماء پر مشتمل قافلہ آٹھ نومبر کو ظہر تک سرگودھا کے تبلیغی مرکز پہنچ گیا۔ ہم تین دن وہیں رہے اور اس دوران شہر اور گرد و نواح کی مساجد و مدارس میں ہماری حاضری، ملاقاتوں اور گفتگو کا سلسلہ چلتا رہا۔ حسن اتفاق سے ۹ نومبر کو جامعہ اسلامیہ محمودیہ کی دعوت پر حضرت مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی سرگودھا تشریف لائے تو ہمیں بھی مرکز کی اجازت سے ان کے پروگرام میں حاضری اور خطاب سننے کا موقع مل گیا۔

۱۲ نومبر کو مولانا قاری جمیل الرحمن اختر کے ساتھ رائے ونڈ حاضری کی ترتیب طے تھی جبکہ اسی روز گیارہ بجے دن منصورہ میں ملی یکجہتی کونسل پاکستان کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس تھا۔ ہم دنوں اس میں شریک ہوئے اور اس کے بعد رائے ونڈ کی طرف روانہ ہوگئے، عزیزم حافظ محمد زبیر جمیل بھی ہمارے ساتھ تھے۔ ہم نے عصر کی نماز تبلیغی مرکز کی مسجد میں مخدوم و محترم حاجی عبد الوہاب مدظلہ کے ہمراہ ادا کی۔ ان سے ملاقات ہوئی اور ان کے رفقاء مولانا محمد فہیم اور مولانا مدثر کے ساتھ مختصر نشست میں محترم حاجی صاحب ہی کا تذکرہ ہوتا رہا کہ اس پیرانہ سالی، امراض اور ضعف کے باوجود پوری ہمت و استقلال کے ساتھ تبلیغی جماعت کی راہنمائی اور قیادت فرما رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ تادیر یہ فریضہ سرانجام دیتے رہنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

واپسی پر جامعہ مدنیہ کریم پارک لاہور میں مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی جدوجہد اور خدمات کے تذکرہ کے حوالہ سے ’’مجلس یادگار شیخ الاسلامؒ پاکستان‘‘ کے زیر اہتمام منعقدہ سیمینار میں شرکت کی سعادت بھی حاصل ہوگئی جس سے سینیٹر حافظ حمد اللہ، پروفیسر ڈاکٹر امجد علی شاکر، مولانا نعیم الدین اور دیگر زعماء نے خطاب کیا۔

راقم الحروف نے اپنی گفتگو میں عرض کیا کہ ہمارے ہاں یہ عمومی مزاج بنتا جا رہا ہے کہ اکابر میں سے کسی بزرگ کے بارے میں بات کرتے ہیں تو وہ گفتگو چند باتوں تک محدود ہو کر رہ جاتی ہے۔ کوئی بھی بڑا شخص جب مسائل پر اظہار خیال کرتا ہے یا ان کے لیے عملی کوشش کرتا ہے تو ظاہر ہے کہ دو چار باتیں ایسی ضرور ہوتی ہیں جن میں انفرادیت ہوتی ہے اور وہ عام روٹین اور روایت سے ہٹ کر ہوتی ہیں۔ ایسی باتیں ناقدین کے ہاں تو موضوع بحث بنتی ہی ہیں مگر ہم نوا حلقے بھی انہی کے دفاع میں مصروف ہو جاتے ہیں اور پھر اس شخصیت کے بارے میں سارا تذکرہ انہی باتوں کے گرد گھومتا رہتا ہے جس سے شخصیت کے مثبت ارشادات و اعمال نظروں سے اوجھل رہتے ہیں۔ ایسے طرز عمل سے بہت سی بڑی شخصیات اعتراضات و جوابات کے گرد ہی گھوم کر رہ جاتی ہیں۔ چنانچہ ہمیں اپنے بزرگوں سے صحیح استفادہ کے لیے اس نفسیات اور مزاج کے ماحول سے نکلنے کی کوشش کرنی چاہیے اور اکابر کی زندگیوں کے ان پہلوؤں کو سامنے لانا چاہیے جن کا تعلق امت کی اجتماعی راہنمائی سے ہے اور جن سے نئی نسل کو اس کی تربیت و اصلاح کے لیے آگاہ کرنا زیادہ ضروری ہے۔ اس پس منظر میں حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ کی جدوجہد، افکار و تعلیمات اور حوصلہ و کردار کے بارے میں چند گزارشات اس موقع پر میں نے پیش کیں جس کی کچھ تفصیل ایک مستقل کالم کی صورت میں سامنے لانے کا ارادہ رکھتا ہوں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

   
2016ء سے
Flag Counter