کرونا کی تیسری لہر

کرونا کی تیسری لہر کی تباہ کاریاں بڑھتی جا رہی ہیں اور دنیا کے بہت سے ممالک اس کی لپیٹ میں ہیں، بھارت سب سے زیادہ متاثر بتایا جاتا ہے اور پاکستان میں بھی اس کے دائرہ اثر میں روز افزوں وسعت پریشان کن ہے۔ یہ وائرس قدرتی ہے یا مصنوعی، اس پر بحث جاری ہے مگر بہرحال موجود ہے اور اپنا کام کر رہا ہے۔ ایک مجلس میں اس پہلو پر گفتگو چل نکلی تو میں نے عرض کیا کہ اگر واٹر سپلائی کی ٹینکی میں کوئی بدبخت زہر گھول دے تو اس کی تلاش ضرور کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ اپریل ۲۰۲۱ء

تحریک لبیک پاکستان کا مطالبہ اور سرکاری رویہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ تحریک لبیک پاکستان کے کارکنوں پر پرسوں لاہور میں ہونے والے تشدد پر ملک بھر میں جو اجتماعی ردعمل کا اظہار ہوا ہے وہ اطمینان بخش ہے، اور اس بات کی علامت ہے کہ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وسلم کا مسئلہ اور دینی شعائر کا تحفظ ملک بھر کے تمام مکاتب فکر اور تمام طبقات کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ سب نے اس درد کو محسوس کیا ہے اور سب نے اس پر اپنے جذبات، ردعمل اور یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات گرامی کے حوالے سے، ختم نبوت کے حوالے سے بات ہو یا ناموس رسالت کے حوالے سے بات ہو، ہمیشہ امت نے اور پاکستانی قوم نے یکجہتی کا اظہار کیا ہے، اس یکجہتی کا ایک بار پھر ر مکمل تحریر

۲۰ اپریل ۲۰۲۱ء

معاہدات – ذمہ داری یا ہتھیار؟

امریکہ کے صدر مسٹر جوبائیڈن نے افغانستان سے فوجوں کے انخلا میں یکطرفہ طور پر چار ماہ کی توسیع کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ معاہدہ کی مدت کے دوران انخلا مشکل ہے اس لیے اب افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا مئی کی بجائے ستمبر کے دوران مکمل ہو گا اور وہ بھی چند شرائط کے ساتھ مشروط ہو گا۔ اس کے ساتھ جرمنی کے وزیردفاع نے بھی کہا ہے کہ افغانستان سے نیٹو افواج کا انخلا ستمبر میں ہو گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اپریل ۲۰۲۱ء

نئے اوقاف قوانین ۔ تمام مکاتب فکر کے راہنماؤں کا مشترکہ اعلامیہ

دس اپریل کو منصورہ لاہور میں ’’ملی مجلس شرعی پاکستان ‘‘کے زیر اہتمام ’’کل جماعتی تحفظ مساجد و مدارس کانفرنس‘‘ منعقد ہوئی جس میں وفاقی دارالحکومت سمیت تمام صوبوں میں نافذ ہونے والے اوقاف کے نئے قوانین کا جائزہ لیا گیا اور ان قوانین کو شرعی احکام، دستوری دفعات، قومی خودمختاری اور مسلمہ شہری حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کرنے اور اس سلسلہ میں عوامی آگاہی و بیداری کی ملک گیر مہم چلانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اپریل ۲۰۲۱ء

ڈیرہ اسماعیل خان میں دو روز

تین اپریل کو دو روز کے لیے ڈیرہ اسماعیل خان جانے کا اتفاق ہوا۔ اہل حدیث دوستوں نے مسجد قاضیاں ڈیرہ شہر میں عصر کے بعد مختلف مکاتب فکر اور طبقات کے سرکردہ حضرات کے اجتماع کا اہتمام کر رکھا تھا جس میں ممتاز اہل حدیث راہنما مولانا محمد یوسف طیبی اور راقم الحروف نے خطاب کیا۔ اس موقع پر جو گزارشات پیش کیں ان کا اہم نکتہ یہ تھا کہ ہماری نئی نسل کا میٹرک سے پہلے کا دائرہ دینی تعلیمات سے بے خبری کا شکار ہے جبکہ کالج اور یونیورسٹی کا دائرہ شکوک و شبہات اور تذبذب کے حصار میں دکھائی دیتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ اپریل ۲۰۲۱ء

اسٹیٹ بینک کے بارے میں مجوزہ قانونی ترامیم کا جائزہ

آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے تحت اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے حوالہ سے ملکی قوانین میں مجوزہ ترامیم ان دنوں قومی حلقوں میں زیربحث ہیں اور انہیں قومی خودمختاری کے منافی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان شریعت کونسل کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل ریٹائرڈ سیشن جج چودھری خالد محمود نے ان کا جائزہ لیا ہے جو قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ مکمل تحریر

یکم اپریل ۲۰۲۱ء

وقف املاک کے نئے قوانین اور ہماری ذمہ داری

ملک بھر میں نافذ کیے جانے والے وقف املاک کے نئے قوانین کے بارے میں دینی حلقوں میں آگاہی اور بیداری کا ماحول بحمد اللہ تعالیٰ بنتا جا رہا ہے اور مختلف شہروں میں اس سلسلہ میں اجتماعات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ یہ قوانین جس عجلت میں منظور کرائے گئے ہیں اور جس طرح خاموشی کے ساتھ ان پر عملداری کی راہ ہموار کی جا رہی ہے وہ بجائے خود محل نظر ہے اور پس پردہ عزائم کی غمازی کر رہی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مارچ ۲۰۲۱ء

نیا اوقاف ایکٹ اور مساجد کی رجسٹریشن

مختلف شہروں میں مساجد کی رجسٹریشن کے حوالہ سے محکمہ اوقاف کی طرف سے مساجد کو نوٹس جاری کیے جا رہے ہیں اور محکمہ اوقاف کا عملہ ہر سطح پر خلاف معمول متحرک دکھائی دے رہا ہے۔ اسلام آباد کے لیے نئے اوقاف ایکٹ کے نفاذ سے جو صورتحال پیدا ہو گئی ہے اس کے تناظر میں محکمہ اوقاف کی یہ نقل و حرکت خصوصی طور پر لائق توجہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۴ مارچ ۲۰۲۱ء

مساجد و اوقاف کا نیا قانون اور دینی قیادتوں کی ذمہ داری

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی حدود میں نئے اوقاف ایکٹ کے نفاذ کو اسلام آباد اور راولپنڈی کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے مشترکہ طور پر احکام شریعت اور انسانی حقوق کے منافی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اس قانون کو واپس لیا جائے۔ جبکہ اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ کی قیادت کا کہنا ہے کہ قومی اسمبلی کے اسپیکر اور دیگر ذمہ دار حکومتی راہنماؤں نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ وہ انہیں اعتماد میں لے کر قانون میں ترامیم کرتے ہوئے اسے دینی حلقوں کے لیے قابل قبول بنائیں گے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۲۱ء

توہین رسالتؐ اور آزادیٔ رائے کے حوالہ سے مغرب کا افسوسناک رویہ

ملکۂ برطانیہ ایلزبتھ دوم نے سلمان رشدی کو نائٹ ہڈ (سر) کا خطاب دے کر مسلمانوں کے پرانے زخموں کو ایک بار پھر تازہ کر دیا ہے اور اس پر عالم اسلام میں احتجاج کی ایک نئی لہر شروع ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ ملکۂ برطانیہ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کے نزدیک ایک انتہائی قابل نفرت شخص کو اس اعزاز کے لیے کس بنیاد پر چنا ہے اس کی باقاعدہ وضاحت تو وہی کر سکتی ہیں لیکن ایک عام مسلمان کا دنیا کے کسی بھی خطے میں تاثر یہی ہے کہ اس سے سلمان رشدی کی ان خرافات کی ملکۂ برطانیہ کی طرف سے تائید جھلکتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۰۷ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter