روزنامہ وزارت لاہور کا انٹرویو

دینی جماعتیں وقتی ایجنڈے اور دباؤ کے تحت متحد ہوتی ہیں، مثلاً انتخابات یا کسی دینی ایشو، خاص طور پر ختم نبوت جیسے خاص اور حساس معاملات پر دینی جماعتوں کا اتحاد وجود میں آتا ہے لیکن انہوں نے کبھی کسی سنجیدہ اور مثبت ایجنڈے پر اتحاد نہیں بنایا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی خاص ضرورت کے لیے معرض وجود میں آنے والا اتحاد وقت گزرنے کے ساتھ شکست و ریخت کا شکار ہو جاتا ہے۔ حالانکہ قیام پاکستان کے بعد تمام مکاتب فکر کے اکابرین اور علماء کرام نے بائیس نکات کی صورت میں اپنا ایک ایجنڈا طے کیا تھا، وہ ایجنڈا آج بھی دینی سیاسی جماعتوں کے لیے ایک مثالی اتحاد کی معقول ترین بنیاد بن سکتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۴ ستمبر ۲۰۱۲ء

حدیث و سنت کی اہمیت اور امام بخاری کا اسلوبِ استدلال

عزیز طلبہ اور طالبات سے گزارش ہے کہ مدرسہ کے ماحول میں چند سال گزارنے کے بعد اب وہ عملی زندگی میں قدم رکھیں گے تو انہیں ایک نئے ماحول کا سامنا کرنا ہو گا، بہت سی نئی باتیں دیکھنے میں آئیں گی اور تغیرات محسوس ہوں گے۔ وہ مدرسہ کے محدود ماحول سے نکل کر سوسائٹی کے وسیع ماحول میں داخل ہو رہے ہیں جسے میں یوں تعبیر کیا کرتا ہوں کہ وہ جزیرہ سے نکل کر سمندر میں کود رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۱۴ء

علماء کرام کی تین اہم ذمہ داریاں

مجھے یہ کہا گیا ہے کہ آج کے حالات میں علماء کرام کی ذمہ داریوں کے عنوان پر آپ حضرات سے کچھ عرض کروں۔ میرے نزدیک یہ دو الگ الگ موضوع ہیں، آج کے حالات مستقل گفتگو کے متقاضی ہیں اور اپنے اندر اس قدر وسعت اور تنوع رکھتے ہیں کہ اگر ان پر بات شروع ہو گئی تو دوسرے عنوان پر کچھ کہنے کا وقت باقی نہیں رہے گا۔ جبکہ علماء کرام کی ذمہ داریاں ایک الگ موضوع ہے اور اس کا تقاضہ بھی یہ ہے کہ اس پر تفصیل کے ساتھ گفتگو کی جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۶ مارچ ۲۰۰۳ء

قربانی کے بارے میں چند شبہات کا ازالہ

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ بخاری شریف میں حضرت براء بن عازبؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے روز نماز عید کے لیے عید گاہ میں تشریف لائے، نماز پڑھائی، اس کے بعد خطبہ ارشاد فرمایا، اور اس میں یہ فرمایا کہ جس نے نماز کے بعد قربانی کی اس نے ہماری سنت کو پا لیا اور جس نے نماز عید سے قبل قربانی کر لی اس نے عام دنوں کی طرح گوشت کھایا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ فروری ۲۰۰۳ء

دینی و عصری تعلیم کے حوالہ سے چند ضروری گزارشات

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ دینی مدارس کے تعلیمی سال کا اس عشرہ میں آغاز ہو رہا ہے اور پورے جنوبی ایشیا میں ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں دینی مکاتب و مدارس سالِ رواں کے تعلیمی دورانیہ کا سلسلہ شروع کر رہے ہیں، اس لیے میں اس موقع پر دینی مدارس کے حوالہ سے کچھ سوالات کا جائزہ لینا چاہوں گا تاکہ دینی مدارس کے تعلیمی کام کی اہمیت کا آج کے تعلیم یافتہ لوگوں کو تھوڑا بہت اندازہ ہو جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۱۹ء

نسل انسانی کا امتیاز و اعزاز اور اس کی شکر گزاری

اللہ تعالٰی نے انسان کو باقی مخلوقات پر جو امتیاز بخشا ہے، قرآن کریم میں اس کا مختلف مقامات پر مختلف حوالوں سے تذکرہ کیا گیا ہے۔ مثلاً ایک جگہ فرمایا کہ ہم نے انسان کو ’’احسن تقویم‘‘ میں پیدا کیا ہے یعنی سب سے اچھے سانچے میں ڈھالا ہے۔ یہ احسن تقویم جسمانی ساخت کے حوالہ سے بھی ہے اور صلاحیتوں اور استعداد کے دائرے میں بھی ہے، جس کا مشاہدہ ہم روزمرہ کرتے رہتے ہیں، لیکن ساتھ ہی فرمایا کہ ہم اسے ’’اسفل سافلین‘‘ کے درجے میں بھی اتار دیتے ہیں، یعنی وہ سب سے نچلے درجے میں چلا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ اگست ۲۰۲۰ء

حرمین شریفین کی حاضری ۔ احساسات و تاثرات

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ آج کی نشست میں سفرِ حج کے کچھ تاثرات بیان کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔ پورے بیان کرنا تو مشکل ہے، ہلکی پھلکی گفتگو ہو گی۔ پہلی گزارش یہ ہے کہ حج اور اللہ تعالٰی کے گھر کی حاضری اللہ تعالٰی کی عنایت سے ہوتی ہے، طلبی ہوتی ہے تبھی حاضری ہوتی ہے۔ اور میں تو اس کا عینی شاہد ہوں کہ طلبی ہو تو اچانک ہو جاتی ہے، نہ ہو تو بندہ جا کے بھی رک جاتا ہے۔ میں دونوں کا شاہد ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ اکتوبر ۲۰۱۵ء

’’کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ناموس صحابہ کرامؓ و اہل بیت عظامؓ‘‘

ہر ملک میں قومی شخصیات کی عزت و احترام کے تحفظ کے قوانین موجود ہیں لیکن جب سے مذہب کو ریاستی اور قومی معاملات سے باہر کی چیز سمجھا جانے لگا ہے، مذہبی شخصیات کی حرمت و ناموس کے تحفظ کا مسئلہ بھی قانون کے دائرہ سے خارج کر دیا گیا ہے اور اسے غیر ضروری امر قرار دیا جا رہا ہے۔ حتٰی کہ عالمی سطح پر مقدس مذہبی شعائر و شخصیات کے ناموس کے تحفظ کے لیے قانون سازی کے مسلسل مطالبہ کے باوجود اقوام متحدہ اور اس کے متعلقہ ادارے اس کی طرف متوجہ نہیں ہو پا رہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۲ اگست ۲۰۲۰ء

الحاج سید امین گیلانی کے ساتھ ایک شام

پاکستان شریعت کونسل پنجاب کے سیکرٹری جنرل مولانا قاری جمیل الرحمان اختر نے ۱۸ مارچ ۲۰۰۳ء کو باغبانپورہ لاہور میں اپنی رہائشگاہ پر تحریک آزادی کے نامور شاعر الحاج سید امین گیلانی کے ساتھ ایک شام کا اہتمام کیا۔ قاری صاحب نے نیا مکان تعمیر کیا ہے جس میں وہ منتقل ہوئے ہیں، اس سے قبل وہ مسجد کی رہائشگاہ میں رہتے تھے، یہ تقریب نئے مکان کی خوشی میں بھی تھی اور الحاج سید امین گیلانی کے اعزاز میں بھی تھی، جس میں لاہور کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۲۰۰۳ء

’’امریکیو! پاکستان سے نکل جاؤ‘‘

گزشتہ روز پشاور میں وکلاء نے امریکہ کے خلاف مظاہرہ کیا۔ ایک قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق مظاہرین ایف بی آئی کے چھاپوں اور گرفتاریوں پر احتجاج کر رہے تھے اور انہوں نے جو بینر اٹھا رکھے تھے ان پر لکھا تھا کہ امریکیو! پاکستان سے نکل جاؤ اور ہمارے اندرونی معاملات میں مداخلت بند کرو۔ احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے بار کونسل کے صدر شیر اَفگن خٹک نے کہا کہ پاکستان امریکہ کی کالونی بن چکا ہے اور ایف بی آئی کے چھاپے پاکستان کی سالمیت اور آزادی کے خلاف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکی ایجنٹوں کو چھاپے مارنے کا کوئی اختیار نہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰۰۲ء غالباً

Pages


2016ء سے
Flag Counter