ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ ۔ ایک جید عالم دین
ڈاکٹر محمود احمد غازیؒ کی وفات کی خبر اس قدر اچانک ملی کہ اس پر یقین نہیں آ رہا تھا۔ میں اس روز مولانا عبد الرؤف فاروقی، مولانا قاری جمیل الرحمان اختر اور حافظ زبیر جمیل کے ہمراہ ڈیرہ اسماعیل خان میں تھا۔ ہم سابق سینیٹر مولانا قاضی عبد اللطیفؒ کی وفات پر تعزیت کے لیے کلاچی گئے تھے اور مولانا نور محمد ؒآف وانا کی تعزیت کے لیے وانا جانے کی خواہش تھی، مگر حالات کی نامساعدت نے اس کی اجازت نہ دی۔ ڈیرہ اسماعیل خان شہر میں ہم نے جمعیۃ علماء اسلام کے سابق مرکزی قائد خواجہ محمد زاہد شہیدؒ اور شیخ محمد ایازؒ کے اہل خاندان سے تعزیت کی اور بعض مدارس میں حاضری دی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ
حضرت مولانا خواجہ خان محمدؒ بھی ہمیں داغ مفارقت دے گئے۔ وہ گزشتہ چند برس سے صاحب فراش تھے، ۵ مئی کو ملتان کے ایک ہسپتال میں انہوں نے داعیٔ اجل کو لبیک کہا، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ گزشتہ سال اسی تاریخ کو میرے والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا انتقال ہوا تھا۔ دونوں دارالعلوم دیوبند میں ہم سبق رہے اور شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنیؒ کے شاگرد تھے۔ ان کا روحانی سرچشمہ بھی ایک ہی تھا کہ موسٰی زئی شریف کی خانقاہ کے فیض یافتہ تھے۔ نقشبندی سلسلے کی اس خانقاہ کے حضرت خواجہ سراج الدینؒ سے حضرت مولانا احمد خانؒ نے خلافت پائی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سردار عبد القیوم خان سے ملاقات
چند روز قبل راولپنڈی میں شادی کی ایک تقریب کے دوران آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان سے ملاقات ہوئی تو میں نے ان کے والد محترم سردار محمد عبد القیوم خان کی صحت کے بارے میں پوچھا، انہوں نے بتایا کہ وہ خاصے کمزور ہو گئے ہیں اور راولپنڈی میں ہی ہیں۔ اگلے روز میں نے ان کے پاس حاضری کا پروگرام بنا لیا اور تھوڑی دیر ان کے ساتھ گزارنے کا موقع مل گیا۔ مجاہد اول سردار محمد عبد القیوم خان کے ساتھ میرا اس دور سے تھوڑا بہت رابطہ چلا آ رہا ہے جب انہوں نے غالباً ۱۹۶۸ء کے دوران باغ بیرون موچی دروازہ لاہور میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
انسانی حقوق کا مغربی فلسفہ اور امتِ مسلمہ
آج کا دور انسانی حقوق کا دور کہلاتا ہے اور مغرب کا دعوٰی ہے کہ اس نے دنیا کو انسانی اقدار اور انسانی حقوق سے متعارف کرایا اور نسل انسانی کے مختلف طبقات بالخصوص کمزور طبقوں کو حقوق کا شعور بخشا۔ اس سے قبل انسانی معاشرہ جہالت، جبر، ظلم اور تشدد کی ظلمتوں اور تاریکیوں کا شکار تھا، مغرب نے اس تاریکی اور ظلمت سے نسل انسانی کو نجات دلا کر روشن خیالی اور علم کے نئے دور کا آغاز کیا۔ مغرب کے معاشرتی، سائنسی اور ثقافتی انقلاب سے پہلے کا دور تاریکی، جبر اور جہالت کا دور کہلاتا ہے ، جبکہ انقلاب فرانس کے بعد سے شروع ہونے والا دور روشنی، انصاف اور علم کا دور سمجھا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مذہبی تعلیمی اداروں کے حوالہ سے امریکی سپریم کورٹ کا ایک اہم فیصلہ
آٹھ دس برس قبل کی بات ہے امریکہ کے ایک سفر کے دوران چند دوست ورجینیا میں ملے جو ایشین امیریکن تھے اور اپنا تعلق اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ سے بتا رہے تھے، انہوں نے کہا کہ وہ ایک مسئلہ پر اسٹڈی اور عوامی سروے کر رہے ہیں کہ اگر مذہب سوسائٹی میں واپس آ گیا تو کہیں وہ ریاستی نظم اور اجتماعی معاملات میں دخل اندازی تو نہیں کرے گا؟ میں نے ان کے اس سوال پر عرض کیا کہ اگر تو یہ واقعی مذہب ہوا تو ضرور کرے گا۔ کیونکہ جو مذہب اصل آسمانی تعلیمات پر مشتمل ہے اور اپنے پاس وحی الٰہی کے ذخیرے کے ساتھ صاحب وحی پیغمبرؑ کی ہدایات کو موجود پاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے وفاقی وزارت مذہبی امور کی سفارشات
ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے حکومت کی ہدایت پر وزارت مذہبی امور نے سفارشات پر مبنی تفصیلی رپورٹ مرتب کی ہے جس میں نفاذ شریعت کے لیے دستوری تقاضوں، عدل و انصاف، تعلیم، معیشت، ذرائع ابلاغ، اصلاح جیل خانہ جات، معاشرتی اور دفتری اصلاحات کے حوالے سے تفصیلی سفارشات پیش کی گئی ہیں۔ وزارت نے یہ رپورٹ ملک کی مذہبی تنظیموں اور اسلامی نظریاتی کونسل کی مدد سے تیار کی ہے۔ اس رپورٹ کو کابینہ اپنے آئندہ اجلاس میں غور کرنے کے بعد پارلیمنٹ میں پیش کرے گی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملک کی موجودہ سنگین صورتحال، اکابر علماء کرام کی نظر میں
ملک کے بعض سرکردہ علمائے کرام نے ملک کی موجودہ سنگین صورتحال کے بارے میں ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا ہے جسے اس کالم کے ذریعے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خلافت کے لیے قریشی ہونے کی شرط
میں یہ بات ابھی تک نہیں سمجھ پایا کہ اگر محترم محمد مسکین عباسی کو بالآخر یہی تسلیم کرنا تھا کہ مولانا احمد رضا خان بریلوی ترکوں کی حکومت کو ’’شرعی خلافت‘‘ تسلیم نہیں کرتے تھے تو انہیں اتنی لمبی چوڑی بحث میں پڑنے کی ضرورت ہی کیا تھی؟ میں نے ایک مضمون میں یہ تذکرہ کر دیا کہ مولانا احمد رضا خانؒ ترکوں کی خلافت کو نہیں مانتے تھے اور اسی وجہ سے انہوں نے تحریک خلافت سے اتفاق نہیں کیا تھا۔ اس پر محمد مسکین عباسی صاحب نے مجھ سے اس کا حوالہ طلب کیا جس کے جواب میں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
بیت اللہ کی عظمت و حفاظت
ایک معاصر روزنامہ نے خبر دی ہے کہ مکہ مکرمہ پر ایٹم بم گرانے کا مطالبہ کرنے والے امریکی صحافی رچ لوری پر فالج کا شدید حملہ ہوا ہے اور اس کی حالت خطرے میں بتائی جاتی ہے۔ اوہایو میڈیکل ہسپتال کے ڈاکٹروں نے رچ لوری کی اچانک بیماری کی اطلاع دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی کوئی وجہ سمجھ میں نہیں آ رہی۔ خبر کے مطابق مذکورہ امریکی صحافی نے چند روز پیشتر ’’انٹرنیشنل ریویو‘‘ نامی رسالے میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں تمام مسلمانوں کو نیویارک اور واشنگٹن پر ہونے والے حملوں کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کعبہ پر ایٹم بم چلانے کا مطالبہ کیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شریعت کے نفاذ کی ضرورت کیوں؟ ڈاکٹر نوح فلڈمین کے خیالات
ڈاکٹر نوح فلڈمین (Noha Feldman) امریکہ کی ہاورڈ یونیورسٹی میں شعبہ قانون کے استاد ہیں اور نیویارک ٹائمز کے میگزین سیکشن سے بھی تعلق رکھتے ہیں، شریعت اسلامیہ ان کی اسٹڈی کا خصوصی موضوع ہے اور وہ اس کے بارے میں وقتاً فوقتاً لکھتے رہتے ہیں۔ انہوں نے کچھ عرصہ قبل نیویارک ٹائمز کے میگزین سیکشن میں ?Why Sharia (شریعہ کیوں؟) کے عنوان سے ایک طویل مضمون لکھا جس کے کچھ اقتباسات ٹوکیو کے جناب حسن خان نے دہلی سے شائع ہونے والے سہ روزہ ’’دعوت‘‘ کی ۴ دسمبر کی اشاعت میں اپنے ایک مضمون میں درج کیے ہیں۔ وہ قارئین کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 145
- 146
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »