تحقیق کی اسلامی روایت اور اسلاف کا طرز عمل
تحقیق، روایت اور ہمارے اسلاف کا طرز عمل، اگر میں اس موضوع کو تھوڑا سا تقسیم کروں تو یہ تین بنیادی نکتے ہیں: (۱) تحقیق کیا ہے؟ (۲) ہماری روایت کیا ہے؟ (۳) اور آج کے دور میں اس کے تقاضے کیا ہیں؟ اس عنوان سے مزید شاخیں بھی نکلتی ہیں اور نئے عنوان بنتے ہیں لیکن میں انہی دو تین نکات کے گرد اپنی گفتگو مکمل کرنے کی کوشش کروں گا۔ تحقیق حق سے ہے، حق معلوم کرنا، حق تک رسائی حاصل کرنا، حق کو سمجھنا، حق کی وضاحت کرنا، حق کو پیش کرنا، حق کو ثابت کرنا، حق کی حجت قائم کرنا، یہ سارے تحقیق کے مراحل ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
زندگی کی حقیقت اور اس کیلئے فائدہ مند کام
زندگی میں پہلی بار ہانگ کانگ میں حاضری کا موقع ملا ہے، ہانگ کانگ کی مساجد کے بورڈ آف ٹرسٹیز کا شکرگزار ہوں جس کی دعوت پر یہ حاضری ہوئی ہے، اور مولانا قاری محمد طیب کا شکرگزار ہوں جنہوں نے اپنے اس مرکز میں آپ حضرات کے ساتھ ملاقات اور گفتگو کا اعزاز بخشا ہے اللہ تعالیٰ سب کو جزائے خیر سے نوازیں، ہمارا مل بیٹھنا قبول فرمائیں، کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرآن کریم اور حضرت عمرؓ کا ذوق
مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میری مادر علمی ہے اور تعلیمی و تدریسی سرگرمیوں کی جولانگاہ بھی ہے۔ اس کا قیام ۱۹۵۲ء میں عمِ مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی دامت برکاتہم اور ان کے رفقاء کی مساعی سے عمل میں آیا تھا، اور اپنے برادر گرامی مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے ساتھ مل کر انہوں نے کم و بیش نصف صدی تک اس گلشن علم کی آبیاری کی ہے۔ گزشتہ پانچ چھ برس سے دونوں بھائی معذور اور صاحب فراش ہیں اور ان کے حکم اور ہدایت پر ان کی جگہ یہ خدمت سرانجام دینے کی ہم ناکارہ لوگ کوشش کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
آسمانی مذاہب میں قربانی کا تصور
آج عید کا دن ہے، قربانی کی عید جس میں دنیا بھر کے مسلمان اللہ تعالی کی بارگاہ میں نذرانہ پیش کرنے کے لیے جانور ذبح کرتے ہیں اور اللہ تعالی کی رضا کے لیے اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔ یہ قربانی نسلِ انسانی کے آغاز سے چلی آرہی ہے، قرآن کریم نے سب سے پہلی قربانی کا حضرت آدم علیہ السلام کے دو بیٹوں ہابیل اور قابیل کے حوالہ سے ذکر کیا ہے۔ ان کا رشتے پر جھگڑا ہو گیا تھا، فیصلے کے لیے انہیں قربانی پیش کرنے کو کہا گیا، دونوں نے قربانی پیش کی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی ؒ
حضرت مولانا محمد عبداللہ درخواستیؒ ہمارے دور کے اکابر علماء میں سے تھے جن کی امارت و سیادت کو ملک بھر کے علماء تسلیم کرتے تھے۔ بزرگ تھے، بڑے تھے، وہ ہم سب کے رہنما اور سربراہ تھے۔ سیاسی میدان میں بھی، روحانی دائرے میں بھی اور علمی ماحول میں بھی۔ ضلع رحیم یار خان میں خانپور کٹورہ کے ساتھ ایک بستی ہے دینپور شریف، جو ہمارے بڑے علمی اور روحانی مراکز میں سے ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اہلِ سنت کے تمام مکاتب فکر کی مشترکہ جدوجہد
جامع مسجد خلفاء راشدینؓ کھیالی دروازہ گوجرانوالہ کے منتظمین کا گزشتہ چار عشروں سے معمول چلا آ رہا ہے کہ وہ محرم الحرام کے آخری عشرہ کے دوران تحفظ ناموس صحابہ کرام و اہل بیت عظام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے عنوان سے دو روزہ کانفرنس منعقد کرتے ہیں جس میں اہل سنت کے تینوں مکاتب فکر دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کے سرکردہ علماء کرام کا خطاب ہوتا ہے اور ہزاروں عوام اس میں شریک ہوتے ہیں۔ بحمد اللہ تعالٰی میں اس کانفرنس کے بانیوں میں سے ہوں اور مسلسل شریک ہو رہا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حدیثِ نبویؐ کی ضرورت و اہمیت
’’حدیث‘‘ عربی زبان میں بات چیت اور گفتگو کو کہتے ہیں، لیکن جب ہم مذہبی حوالہ سے حدیث کا لفظ بولتے ہیں تو اس سے مراد ہر وہ بات ہوتی ہے جو جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول و منسوب ہو، یا ان کے بارے میں کسی روایت میں مذکور ہو۔ گویا کسی قول، عمل یا واقعہ میں جناب نبی اکرمؐ کا ذکر آجائے تو وہ حدیث بن جاتا ہے اور حضرت امام ولی اللہ دہلویؒ کے بقول حدیثِ نبویؐ تمام دینی علوم کا سر چشمہ ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
علومِ حدیث: امام بخاریؒ، امام طحاویؒ اور شاہ ولی اللہؒ کا اسلوب
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ہم اس وقت سب حدیث نبویؐ کے طلبہ بیٹھے ہیں اور حدیث نبویؐ کے حوالہ سے گفتگو کر رہے ہیں، حدیث نبویؐ اپنے عمومی مفہوم میں جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و اعمال اور احوال و واقعات پر مشتمل ہے اور تمام علوم دینیہ کا سر چشمہ اور ماخذ ہے۔ ہمیں قرآن کریم حدیث نبویؐ کی وساطت سے ملا ہے، سنت نبویؐ کے حصول کا ذریعہ بھی یہی ہے، اور فقہ کا استنباط بھی اسی سے ہوتا ہے۔ اسی لیے حدیث نبویؐ کو ہمارے نصاب میں سب سے زیادہ مقدار میں اور تفصیل کے ساتھ پڑھایا جاتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
نئے مورچے،پرانے ہتھیار ۔ لمحہ فکریہ!
بعد الحمد والصلوٰۃ۔ المرکز الاسلامی بنوں میں حاضری کی ایک عرصہ سے خواہش تھی مگر ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتا ہے۔ حضرت مولانا سید نصیب علی شاہ الہاشمیؒ ہمارے پرانے ساتھیوں میں سے تھے، ہم نے جمعیۃ طلباء اسلام اور پھر جمعیۃ علماء اسلام میں ایک عرصہ تک اکٹھے کام کیا ہے، ان کا یہ کام تو خود میرے ذوق کا کام ہے کہ آج کے جدید مسائل کا علمی حل اجتماعی طور پر تلاش کیا جائے اور علمی مسائل میں باہمی مشاورت اور علمی مذاکرہ کو ذریعہ بنایا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملک کی جغرافیائی، نظریاتی اور تہذیبی سرحدوں کا تحفظ
ایک خوش آئند اور فطری تسلسل قائم ہو گیا ہے کہ چھ ستمبر کو ہم نے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کے دفاع کا دن منایا ہے، سات ستمبر ملک کی نظریاتی سرحدوں کے تحفظ کے جذبہ سے منایا گیا ہے، جبکہ آٹھ ستمبر نے ملک کی تہذیبی سرحدوں کے دفاع کا عنوان اختیار کر لیا ہے۔ یہ تینوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور ملک و قوم کے بہتر مستقبل کی صورت گری کے لیے ان کا تسلسل یقیناً نیک فال ثابت ہو گا، ان شاء اللہ تعالٰی۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 146
- 147
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »