قومی خود مختاری کا سوال اور ہماری سیاسی قیادت
مسلسل ڈرون حملوں نے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان کی قومی خود مختاری پر پہلے ہی سوالیہ نشان لگا رکھا تھا مگر شیخ اسامہ بن لادن شہید ؒ کے حوالہ سے ’’ایبٹ آباد آپریشن ‘‘نے اس سوالیہ پہلو کو اور زیادہ نمایاں کر دیا ہے اور پوری قوم وطن عزیز کی خود مختاری کی اس شرمناک پامالی پر چیخ اٹھی ہے۔ پوری قوم مضطرب ہے، بے چین ہے اور ایک ’’اتحادی‘‘ کی اس حرکت پر تلملا رہی ہے مگر حکومتی پالیسیوں کے تسلسل میں کوئی فرق دیکھنے میں نہیں آرہا اور وہ پالیسیاں جن کو ملک کی عوام نے گزشتہ الیکشن میں کھلے بندوں اپنے ووٹوں کے ذریعے مسترد کر دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سائنسی ایجادات، نعمت یا مصیبت؟
بھارتی پنجاب میں آئینی طور پر قائم ’’خواتین کمیشن‘‘ کی خاتون چیئر پرسن گورودیوکور سنگھ نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ: ’’تقریباً نوے فیصد نئے شادی شدہ مرد و عورت صرف اس لیے طلاق کا مطالبہ کرتے ہیں کہ لڑکا یا اس کے گھر والے سمجھتے ہیں کہ دلہن فون پر کسی دوسرے مرد سے بات کر رہی ہے جبکہ بیشتر معاملات میں حقیقت یہ ہوتی ہے کہ وہ اپنے سسرالی معاملات میں اپنے والدین سے مشورہ کر رہی ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
خانقاہ سراجیہ کندیاں شریف میں رسول اکرمؐ کے موئے مبارک کی زیارت
خانقاہ سراجیہ شریف میں حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد، حضرت مولانا خواجہ عزیز احمد اور ملک بھر سے آئے ہوئے مختلف بزرگوں سے ملاقاتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے امور پر تبادلۂ خیالات کا موقع ملا اور خواجہ صاحب نے سب سے بڑی شفقت یہ فرمائی کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے موئے مبارک کی زیارت سے شاد کام کیا جو خانقاہ شریف میں پورے احترام و انتظام کے ساتھ محفوظ ہیں اور ہر سال ۲۶ رمضان المبارک کے دن خانقاہ میں آنے والے حضرات کو ان کی زیارت کرائی جاتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کینیڈا کی طرف سے ایٹمی مواد کی فراہمی کا مسئلہ اور وفاقی وزیر اطلاعات
قائد جمعیۃ علماء اسلام مولانا مفتی محمود نے گزشتہ روز پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کیا اور حکومت کی خارجہ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے فرمایا کہ کینیڈا نے کراچی کے ایٹمی بجلی گھر کے لیے ایندھن وغیرہ سے جو انکار کیا ہے وہ ہماری خارجہ پالیسی کی کمزوری کی علامت ہے۔ انہوں نے کہا کہ خارجہ پالیسی اتنی کامیاب نہیں جتنی کہ اس کی تشہیر کی جاتی ہے چنانچہ میں نے ایک موقع پر قومی اسمبلی میں خارجہ پالیسی پر بحث کرنا چاہی تھی مگر حکومت اس مسئلہ پر بحث سے گریزاں ہے۔ (روزنامہ نوائے وقت لاہور ۔ ۵ جنوری ۱۹۷۷ء) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وزیر اوقاف پنجاب رانا اقبال احمد خان اور نظام شریعت کنونشن کی کسک
پنجاب کے وزیر اوقاف رانا اقبال احمد خان نے گزشتہ روز گوجرانوالہ میں کہا کہ نظام شریعت کانفرنس دراصل حکومت کے خلاف ایک سازش تھی جس میں مولانا مفتی محمود نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے (روزنامہ امروز، لاہور ۵ جنوری ۱۹۷۷ء)۔ معلوم ہوتا ہے کہ جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے زیر اہتمام اکتوبر ۱۹۷۵ء کے دوران گوجرانوالہ میں منعقد ہونے والا کل پاکستان نظام شریعت کنونشن صوبائی وزیر اوقاف کی کمزوری بن گیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
وفاقی وزیر جناب کوثر نیازی اور دینی مدارس
یادش بخیر جناب کوثر نیازی وفاقی وزیر مذہبی امور طویل عرصہ کی معنی خیز خاموشی کے بعد گزشتہ دنوں پشاور میں چہکے ہیں اور ان کی گفتگو کا عنوان وہی پرانا ہے جو ان کے ذمہ ہے یعنی دینی مدارس اور حکومت کی پالیسی۔ نیازی صاحب نے جو کچھ فرمایا روزنامہ نوائے وقت ۳ جنوری ۱۹۷۷ء کے مطابق اس کا خلاصہ کچھ یوں ہے: مولانا مفتی محمود کا یہ الزام درست نہیں ہے کہ حکومت دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینا چاہتی ہے۔ دینی مدارس کو سرکاری تحویل میں لینے سے اخراجات بڑھ جائیں گے اور تعلیمی بجٹ کو نقصان پہنچے گا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
جمعیۃ کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں اہم فیصلے
جمعیۃ علماء اسلام کی مرکزی مجلس عاملہ اور صوبائی امراء و نظماء کا مشترکہ اجلاس ۷ محرم الحرام ۱۳۹۷ھ بروز بدھ صبح ساڑھے دس بجے دارالعلوم حنفیہ عثمانیہ ورکشاپی محلہ راولپنڈی میں منعقد ہوا جس میں ملک کی تازہ ترین سیاسی صورتحال پر غور و خوض کے بعد متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔ حضرت الامیر مولانا محمد عبد اللہ درخواستی دامت برکاتہم علالت کی وجہ سے اجلاس میں شریک نہ ہو سکے، اس لیے اجلاس کی صدارت نائب امیر اول حضرت مولانا محمد شریف وٹو مدظلہ العالی نے فرمائی اور مندرجہ حضرات اجلاس میں شریک ہوئے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
شراب پر پابندی کا بل اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی
گزشتہ روز قومی اسمبلی کے حوالہ سے ایک افسوسناک خبر قومی اخبارات میں نظر سے گزری کہ قانون سے متعلق قائمہ کمیٹی کے ایک غیر مسلم رکن ڈاکٹر رامیش کمار نے ملک میں شراب پر پابندی کے بارے میں بل پیش کیا جو مسترد کر دیا گیا۔ ڈاکٹر رامیش کمار کا تعلق ہندو مذہب سے ہے اور وہ ایک عرصہ سے شراب پر پابندی کے حوالہ سے مسلسل آواز اٹھاتے چلے رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ شراب اسلام کی طرح ہندو مذہب میں بھی حرام ہے مگر پاکستان میں غیر مسلموں کے نام پر شراب کی خریدوفروخت کا سلسلہ جاری ہے جو درست نہیں ہے، اسے ختم ہونا چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
دنیا میں مسلمانوں کی بڑھتی ہوئی آبادی
روزنامہ پاکستان لاہور ۱۱ فروری ۲۰۱۱ء میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق ایک امریکی تھنک ٹینک نے بتایا ہے کہ دنیا میں مسلمانوں کی آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے جو اس وقت ایک ارب ساٹھ کروڑ کے لگ بھگ ہے اور آئندہ بیس سالوں میں دو ارب بیس کروڑ تک پہنچ جائے گی۔ یہ بات جو مسلمانوں کی افرادی قوت میں اضافے کے حوالہ سے مسلمانوں کے لیے خوش کن ہے مغربی ممالک کے لیے اسی درجہ میں قابل تشویش بھی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
توہین رسالتؐ کا قانون اور وزارت قانون کی سمری
وزارت قانون کی طرف سے بھیجی جانے والی سمری پر وزیر اعظم کے دستخط ثبت ہو جانے کے ساتھ وہ تکلیف دہ بحث و مباحثہ اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیا ہے جو ایک عرصہ سے توہین رسالتؐ پر موت کی سزا کے حوالہ سے قومی حلقوں میں جاری تھا اور جس میں عالمی حلقے اور لابیاں بھی بھرپور شرکت کا اظہار کر رہی تھیں۔ اس سمری کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوا کہ وزارت قانون سے مختلف اطراف سے یہ تقاضہ کیا جا رہا تھا کہ وہ تحفظ ناموس رسالتؐ کے قانون پر کیے جانے والے اعتراضات کے بارے میں اپنا موقف واضح کرے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 190
- 191
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »