افغان طالبان اور پاکستانی طالبان: نئی حکومت کی ذمہ داریاں

انتخابات میں مرکزی حکومت اور صوبہ پنجاب میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کو جو مینڈیٹ ملا ہے وہ خود اس کی اپنی توقعات سے بڑھ کر ہے، اس لیے اس کی ذمہ داری بھی دوسروں سے کہیں زیادہ ہے۔ اس وقت نئی حکومت کو جن چیلنجوں کا سامنا ہے ان میں ڈرون حملوں کے ماحول میں ملکی خود مختاری کی بحالی، خود کش حملوں کے حوالہ سے ملک میں بد امنی اور قتل و غارت کے روز افزوں واقعات، لوڈشیڈنگ اور مہنگائی کا عذاب سر فہرست ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۳ء

لال مسجد کا سانحہ اور جنرل (ر) پرویزمشرف

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس نور الحق قریشی نے غازی عبد الرشید شہیدؒ کے فرزند ہارون الرشید کی درخواست پر اسلام آباد کی پولیس کو حکم دیا ہے کہ جامعہ حفصہؓ کے المناک سانحہ میں فوجی آپریشن کے نتیجہ میں جاں بحق ہونے والے غازی عبد الرشید شہید ؒ،ان کی والدہ محترمہ ؒ اور دیگر شہداء کے قتل کا کیس جنرل (ر) پرویز مشرف کے خلاف درج کیا جائے کیونکہ لال مسجد کے بارے میں عدالتی انکوائری کمیشن کی رپورٹ کے مطابق اس فوجی آپریشن کی ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۳ء

سودی نظام اور سپریم کورٹ آف پاکستان

روزنامہ اسلام ، اسلام آباد میں ۲۶ جون ۲۰۱۳ء کو شائع ہونے والی ایک خبر ملاحظہ فرمائیں: ’’سپریم کورٹ میں ہاؤس بلڈنگ کے حوالے سے ایک مقدمے کی سماعت کے دوران ۳ رکنی بنچ کے سربراہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے فیصلے کے لیے بینکنگ کورٹ کوئٹہ کو کیس واپس بھجواتے ہوئے ریمارکس دیے ہیں کہ سودی نظام ابھی تک چل رہا ہے، مذہب کے نام پر بے ایمانی کی جا رہی ہے، سود پر لفظوں کا غلاف چھڑا دیا گیا ہے، سود وصول کرنے والے مذہب سے مذاق کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اگست ۲۰۱۳ء

کیسا اسلام اور کون سی جمہوریت؟

پاکستان کے قیام کے بعد اسلام کے نام پر بننے والی اس ریاست کے ارباب حل و عقد کو سب سے پہلا اور اہم مسئلہ یہ درپیش تھا کہ اس کا دستور اور نظامِ حکومت کیا ہو گا اور حکمرانی کا حق کسے حاصل ہو گا؟ طاقت کے بل پر کسی کو حکمرانی کا حق دینے کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، برطانوی استعمار کے تسلط سے ملک کی آزادی اور پاکستان کا قیام دونوں جہادِ آزادی کے ساتھ ساتھ سیاسی عمل، رائے عامہ اور جمہوری جد و جہد کا نتیجہ تھے اور اس تسلسل سے انحراف سرے سے ممکن ہی نہیں تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مئی ۲۰۱۹ء

قومی اداروں میں بالادستی کی کشمکش

اس وقت ہمارے قومی اداروں میں بالا دستی کی کشمکش کا عجیب سا ماحول بن گیا ہے۔ (۱) پارلیمنٹ کو بالادستی حاصل ہے یا سپریم کورٹ آخری اتھارٹی ہے؟ (۲) دستور کی تعبیر و تشریح اور تطبیق میں پارلیمنٹ بالاتر ہے یا سپریم کورٹ کی بیان کردہ تعبیر و تشریح حتمی ہے؟ (۳) فوج اور خفیہ ادارے عدالت کے سامنے جواب دہ ہیں یا نہیں؟ (۴) اور اس کشمکش میں ایوان صدر کا مقام کیا ہے؟ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

لڑکیوں کا مبینہ قتل اور این جی اوز

گزشتہ دنوں کوہستان ہزارہ میں رقص و سرور کی کسی محفل میں پانچ لڑکیوں کے قتل کی ایک خبر عام ہوئی اور اس پر بنائی گئی ویڈیو کو مختلف حلقوں میں وسیع پیمانے پر پھیلایا گیا جس کا سپریم کورٹ آف پاکستان نے نوٹس لیا۔ روزنامہ اسلام لاہور کی خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے لڑکیوں کے قتل کی خبر کو جھوٹی خبر قرار دے کر اس کیس کو نمٹا دیا ہے۔ اس سلسلہ میں جسٹس منیرہ عباسی نے اپنی رپورٹ میں عدالت عظمٰی کو بتایا کہ لڑکیاں زندہ ہیں اور قتل کی خبر جھوٹی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

مسلم ممالک میں نفاذِ اسلام کی جدوجہد

روزنامہ نوائے وقت لاہور کی خبر کے مطابق مصر کی سپریم کورٹ نے مصر کے حالیہ پارلیمانی انتخابات کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو تحلیل کرنے کا حکم دے دیا ہے، فیصلے میں کہا گیا ہے کہ پارلیمانی انتخابات غلط قوانین کے تحت ہوئے تھے اور ایک تہائی نمائندے پارلیمنٹ کا رکن بننے کے اہل نہیں تھے۔ جبکہ کویت کی دستوری عدالت نے بھی ایک فیصلے میں، جسے کسی جگہ بھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا، کویت کے حالیہ انتخابات کو کالعدم قرار دے کر ماضی کی پارلیمنٹ بحال کرنے کا حکم صادر کر دیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جولائی ۲۰۱۲ء

یہ آزادیٔ رائے نہیں ہے

امریکی مندوب نے جنیوا میں انسانی حقوق کمیشن سے خطاب کرتے ہوئے اسلامی ممالک کی جانب سے توہین مذہب اور توہین رسالت ؐ کو غیر قانونی قرار دینے کے مطالبات پر رائے زنی کرتے ہوئے کہا کہ جب دنیا نے مذہب اور اظہار رائے کی آزادی کو ایک ساتھ فروغ دینے کی اجازت دی تو مذہبی یگانگت اور معاشی خوشحالی اور ترقی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا اور جب بھی دونوں آزاد یوں کو محدود کیا گیا تو تشدد غربت اور مایوسی کے جذبات پروان چڑھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

ملالہ یوسف زئی اور میڈیا

ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملہ کے بعد ورلڈ اور قومی میڈیا نے جو ہاہاکار مچائے رکھی اس نے چند دنوں تک تو اچھے بھلے ارباب دانش کو پریشان کیے رکھا ہے لیکن اب جوں جوں میڈیا اور لابیوں کا اڑایا ہوا غبار بیٹھتا جا رہا ہے لوگوں کو اصل حقیقت کا کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا ہے اور بہت سے سوالات جو زیرلب تھے اب سامنے آتے جا رہے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

مسیحیت اور سیکولرزم کی کشمکش

مسیحی ماہنامہ ’’شاداب‘‘ لاہور کے اکتوبر ۲۰۱۲ء کے شمارے میں شائع ہونے والی ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ: ’’عیسائیت کے پیروکاروں میں کمی اور سیکولرزم سے مقابلہ کے لیے دنیا بھر کے بشپس کا اجلاس ویٹی کن سٹی میں ہو گا، یہ اجلاس تاریخی مگر متنازعہ دوسری ویٹی کن سٹی کونسل کی ۵۰ ویں سالگرہ کے موقع پر کیا جا رہا ہے جس سے عیسائیوں کے روحانی پیشوا پوپ بینڈکٹ خطاب کریں گے۔‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

نومبر ۲۰۱۲ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter