اساتذہ کی ہڑتال

پنجاب بھر میں ہزاروں اساتذہ نے اپنے مطالبات منوانے کے لیے کچھ دنوں سے ہڑتال کر رکھی ہے اور تا دمِ تحریر حکومت اور اساتذہ کے درمیان مذاکرات کامیابی کی طرف بڑھتے نظر نہیں آرہے۔ اساتذہ قوم کا وہ اہم طبقہ ہیں جن پر نئی نسل کی تعلیم و تربیت کی ذمہ داری ہے لیکن ان اہم ذمہ داریوں کو سرانجام دینے والے یہ اساتذہ ان مراعات اور سہولتوں سے یکسر محروم ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۶ مارچ ۱۹۸۲ء

اساتذہ کے بعد ڈاکٹرز کی ہڑتال

اساتذہ کی طرح ڈاکٹر بھی معاشرہ کا ایک اہم حصہ ہیں۔ اساتذہ پر قوم کی ذہنی صحت کا معیار قائم رکھنے کی ذمہ داری ہے جبکہ ڈاکٹر جسمانی صحت کو برقرار رکھنے کی ذمہ داری قبول کیے ہوئے ہیں اور دونوں کے کام چھوڑ دینے کے نتائج کی سنگینی یکساں ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲ اپریل ۱۹۸۲ء

یہ عقیدہ کا مسئلہ ہے، احتیاط کیجئے!

مؤقر روزنامہ نوائے وقت نے ۱۳ اپریل کی اشاعت میں اسرائیل کی ’’مسلم آزاری اور امریکہ‘‘ کے عنوان کے تحت اداریہ کا اختتام ان جملوں پر کیا ہے: ’’امریکی قیادت کو احساس کرنا چاہیے کہ وہ اس قوم کے لیے دنیا بھر کی نفرت کیوں کما رہی ہے جس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو سولی چڑھانے سے دریغ نہیں کیا تھا۔ امریکہ کی عیسائی آبادی اور اس کی نمائندہ قیادت یہودیوں سے کس خیر کی توقع کر رہی ہے؟‘‘ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۳ اپریل ۱۹۸۲ء

امریکی شرائط کے خلاف قومی کنونشن

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے قائم مقام امیر حضرت مولانا محمد اجمل خان اور قائد جمعیۃ مولانا سمیع الحق نے اس تجویز کو منظور کر لیا ہے کہ پاکستان کی امداد کے لیے امریکہ کی طرف سے عائد کی جانے والی قابلِ اعتراض شرائط کے خلاف رائے عامہ کو منظم کرنے کے لیے رمضان مبارک کے بعد لاہور میں مختلف مکاتبِ فکر کا قومی کنونشن منعقد کیا جائے اور ان شرائط کے خلاف اجتماعی ردِعمل کا اظہار کیا جائے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مئی ۱۹۸۷ء

بسنت اور ویلنٹائن ڈے

پاکستان کے مختلف شہروں میں ان دنوں باری باری بسنت منائی جا رہی ہے اور اس بہانے رقص و سرور، فائرنگ اور بدکاری و بے حیائی کو فروغ دینے کے لیے ہر حربہ اختیار کیا جا رہا ہے۔ لاہور میں صدر پاکستان نے خود شریک ہو کر اس رسم بد کی حوصلہ افزائی کی ہے جبکہ ذرائع ابلاغ اسے اس انداز میں اجاگر کرنے میں لگے ہوئے ہیں جیسے اس وقت قوم کی سب سے بڑی ضرورت یہی ہو۔ بسنت میں پتنگ بازی کے ساتھ بے حیائی اور حرام کاری کی جو خرافات شامل ہوگئی ہیں ان کے علاوہ کروڑوں روپے کا نقصان بھی ہر سال ہوتا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

امریکہ کے خلاف عالمگیر مظاہرے

گزشتہ ہفتے دنیا کے سینکڑوں مختلف شہروں میں عراق پر امریکہ کے ممکنہ حملہ کے خلاف عوامی مظاہرے ہوئے اور متعدد ممالک کے مجموعی طور پر کروڑوں افراد نے سڑکوں پر آکر امریکی عزائم کے خلاف جذبات کا اظہار کیا، مظاہرین نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ وہ تیل کے چشموں پر قبضہ کرنے کے لیے عراقی عوام کو دہشت گردی کا نشانہ بنانا چاہتا ہے اور بے گناہ عوام کے خون سے اس کے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

صوبہ سرحد کی گلوکاراؤں کا احتجاج

روزنامہ جنگ لاہور نے ۱۷ فروری ۲۰۰۳ء کو اے ایف پی کے حوالہ سے پشاور سے خبر دی ہے کہ مختلف رقاصاؤں اور گلوکاراؤں نے صوبہ سرحد میں گانے اور ڈانس پر پابندی کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پابندی سے جسم فروشی کو فروغ حاصل ہو رہا ہے۔ ۳۰ سالہ گلوکارہ مہ جبین نے کہا کہ مجلس عمل کی حکومت قائم ہونے کے بعد اس پابندی نے اسے بارہ سال کے بعد دوبارہ جسم فروشی پر مجبور کردیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

مفتی اعظم سعودی عرب کا کلمۂ حق

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۱۵ فروری ۲۰۰۳ء کے مطابق اس سال حج کے موقع پر منٰی کے میدان میں خطبہ حج ارشاد فرماتے ہوئے سعودی عرب کے مفتی اعظم فضیلۃ الشیخ عبد العزیز بن عبداللہ آل شیخ حفظہ اللہ تعالیٰ نے عالم اسلام کی موجودہ صورتحال پر تبصرہ کیا ہے اور عالم اسلام کو اس طرف ان الفاظ کے ساتھ توجہ دلائی ہے کہ ’’اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کو اقتصادی طور پر اپنا غلام رکھنا چاہتی ہیں، یہ قوتیں اسلامی ممالک کی منڈیوں پر اپنا تصرف اور قبضہ چاہتی ہیں، وہ چاہتی ہیں کہ مسلمان مجبور رہیں اور اپنی اقتصادی ضرورتوں کے لیے صرف انہی کی طرف دیکھتے رہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

مارچ ۲۰۰۳ء

ڈاکٹر محمد حمید اللہؒ

عالم اسلام کے ممتاز محقق، دانش ور اور مؤرخ ڈاکٹر محمد حمید اللہ گزشتہ دنوں فلوریڈا (امریکہ) میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ان کا تعلق جامعہ عثمانیہ حیدر آباد دکن سے تھا اور وہ حضرت مولانا مناظر احسن گیلانی ؒ کے معتمد تلامذہ اور رفقاء میں شمار ہوتے تھے، انہوں نے سیرت نبویؐ کے سیاسی پہلوؤں اور اسلام کے اجتماعی نظام کے حوالہ سے نمایاں علمی خدمات سرانجام دیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

جنوری ۲۰۰۳ء

سوسائٹی اور دینی مدارس کے درمیان ربط کی ضرورت

دینی مدارس اس وقت جس جدوجہد میں مصروف ہیں اور ان کو جس طرح کی مخالفتوں، رکاوٹوں اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے اس کے بنیادی اسباب و عوامل کو سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ دینی مدارس کے اس نظام نے اب سے ڈیڑھ سو برس قبل ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد پیدا ہونے والے اس خلا کو پر کرنے کی کوشش کی تھی جو مغل حکومت کے خاتمہ اور برطانوی حکومت کے استعماری تسلط کے نتیجے میں ہمارے معاشرتی و تعلیمی ماحول میں پیدا ہوگیا تھا۔ درس نظامی کا پرانا نظام مکمل طور پر ختم ہوگیا تھا، دینی مدارس بند ہو گئے تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۲ مارچ ۲۰۱۶ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter