مولانا مجاہد الحسینی کی تصنیف ’’قرآنی معاشیات”

معیشت انسانی سماج کی اہم ترین ضرورت اور علم و فکر کے بنیادی موضوعات میں سے ہے جس کے بارے میں انسانی معاشرت کی راہ نمائی اور ہدایت کے لیے بارگاہ ایزدی سے نازل ہونے والی آسمانی تعلیمات میں مسلسل راہ نمائی کی گئی ہے اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کے ارشادات و فرمودات کا یہ اہم حصہ رہا ہے۔ قرآن کریم نے حضرت شعیب علیہ السلام کے ارشادات میں اس بات کا بطور خاص ذکر کیا ہے کہ انھوں نے اپنی قوم کو توحید اور بندگی کی دعوت دینے کے ساتھ ساتھ اس بات کی ہدایت فرمائی کہ ماپ تول میں کمی نہ کرو ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

ستمبر ۲۰۱۸ء

ختم بخاری شریف کی تقریبات میں غیر ضروری تکلفات کا رواج

حضرت مولانا سلیم اللہ خان دامت برکاتہم نے دورانِ گفتگو فرمایا کہ ختم بخاری شریف کی تقریبات میں خرابیاں بڑھتی جا رہی ہیں اس لیے ہم نے جامعہ فاروقیہ کراچی میں اس کا سلسلہ موقوف کر دیا ہے اور طے کیا ہے کہ بخاری شریف کا آخری سبق بھی معمول کے عام اسباق کی طرح ہوا کرے گا اور اس کے لیے کوئی خاص اہتمام نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں میری رائے دریافت کی تو میں نے عرض کیا کہ ہم نے تو جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں یہ سلسلہ کئی سال پہلے ختم کر دیا تھا اور اب ہمارے ہاں اس کے لیے کوئی خاص تقریب نہیں ہوتی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۰ جون ۲۰۱۱ء

مدارس کے طلبہ سے چند گزارشات

۱۰ جون کو عشاء کے بعد میں نے جامعہ عثمانیہ شورکوٹ کے سالانہ جلسے میں حاضری دی جو ہمارے پرانے دوست، جماعتی ساتھی اور تحریکی رفیق کار حضرت مولانا بشیر احمد خاکیؒ کی یادگار اور صدقہ جاریہ ہے۔ جبکہ ۱۱ جون کو عشاء کے بعد بیرون بوہڑ گیٹ ملتان میں حضرت مولانا غلام فرید صاحبؒ کے قائم کردہ مدرسہ مدینۃ العلم میں معراج النبی صلی اللہ علیہ وسلم پر منعقد ہونے والے جلسے میں مجھے شریک ہونا تھا۔ درمیان کا دن میں نے خانیوال اور کبیر والا میں احباب سے ملاقاتوں اور آرام کے لیے رکھا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۰ جون ۲۰۱۱ء

دینی مدارس کی افادیت کا دائرہ وسیع کرنے کی ضرورت

مدارس کے اردگرد رہنے والے مسلمانوں کے ساتھ ہمارے تعلقات و روابط کا عمومی ماحول قابل اطمینان نہیں ہوتا۔ مدرسہ میں آنے جانے والوں کے ساتھ گفتگو اور ضروری معاملات میں ان کی راہنمائی کے حوالہ سے بھی عمومی طور پر ہمارے طلبہ کا طرز عمل ’’آئیڈیل‘‘ نہیں ہوتا اور کسی مدرسہ میں جانے والا اجنبی شخص وہاں چند لمحے گزارنے کے بعد کسی خوشگوار موڈ میں وہاں سے واپس نہیں جاتا۔ بعض مدارس کا ماحول یقیناً اس سے مختلف ہوگا لیکن جب مدارس کے عمومی ماحول کی بات کی جائے گی تو تاثر کم و بیش وہی ہوگا جس کا ہم نے سطور بالا میں ذکر کیا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۸ جون ۲۰۱۱ء

قراء کرام اور نظم خواں حضرات کی خدمت میں!

۸ جون کو جامعہ اسلامیہ امدادیہ چنیوٹ اور ۹ جون کو جامعہ اسلامیہ محمدیہ فیصل آباد میں ختم بخاری شریف کی تقریب تھی جبکہ ۹ جون کو جامعہ فتحیہ چنیوٹ میں ختم مشکٰوۃ شریف کے حوالے سے حاضری ہوئی۔ چنیوٹ اور فیصل آباد دونوں مقامات پر عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت کے امیر حضرت مولانا عبد المجید لدھیانوی دامت برکاتہم کی زیارت اور ان کے درس حدیث میں شرکت کی سعادت حاصل کی اور اجتماعات میں دینی مدارس کی خدمات اور مقاصد کے حوالے سے گفتگو کا موقع بھی ملا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جون ۲۰۱۱ء

شیخ الہندؒ اکادمی

جب سے ہم نے اپنے اکابر سے نئی نسل کو متعارف کرانا بلکہ خود ان کی زندگیوں، جدوجہد اور دائرہ کار سے واقفیت حاصل کرنا چھوڑ رکھا ہے ’’اکابر‘‘ کا مفہوم ہی بدلتا جا رہا ہے۔ ہم نے دیوبندیت کے اپنے اپنے دائرے قائم کر رکھے ہیں اور ہر دائرے کے اکابر الگ ہیں۔ پرانے اکابر جو ہمارے اصل اکابر ہیں ان کا مصرف ہمارے ہاں صرف یہ رہ گیا ہے کہ اپنے اپنے طے کردہ دیوبندیت کے دائروں میں ان کا کوئی ارشاد یا عمل ہمیں اپنے مطلب کا مل جاتا ہے تو اپنی ترجیحات کی تائید میں اسے استعمال کر لیا جائے، اس سے زیادہ اکابر کا مفہوم اور مصرف اور کوئی دکھائی نہیں دے رہا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۳۱ مئی ۲۰۱۱ء

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کا اعزاز

جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میرے لیے مادر علمی کی حیثیت رکھتا ہے اور میری تدریسی سرگرمیوں کی جولانگاہ بھی ہے۔ میں نے ۱۹۶۳ء سے ۱۹۶۹ء تک یہاں درس نظامی کی تعلیم حاصل کی ہے اور دورۂ حدیث کے ساتھ رسمی تعلیم سے فراغت بھی یہیں سے پائی ہے۔ عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتیؒ نے ۱۹۵۲ء میں اس درسگاہ کا آغاز کیا، پھر ایک دو سال کے بعد والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی شریک کار ہوگئے اور تعلیمی نظام کی سربراہی انہوں نے سنبھال لی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۷ مئی ۲۰۱۱ء

دارالعلوم دیوبند کے ساتھ ہماری نسبت اور اس کے تقاضے

گزشتہ دنوں دارالعلوم دیوبند (وقف) کے مہتمم حضرت مولانا محمد سالم قاسمی پاکستان تشریف لائے اور مختلف اجتماعات میں شرکت کے بعد واپس تشریف لے گئے۔ مولانا موصوف حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ کے فرزند و جانشین ہیں۔ ۱۹۸۰ء میں دارالعلوم دیوبند کے صد سالہ اجلاس کے بعد، جسے جشن صد سالہ سے بھی تعبیر کیا گیا تھا، دارالعلوم دیوبند کی قیادت میں اختلافات پیدا ہوگئے جس کے بعد دارالعلوم دیوبند سے الگ ہونے والے علماء کرام نے دارالعلوم دیوبند (وقف) کے نام سے ایک نیا دینی تعلیمی ادارہ دیوبند میں ہی قائم کر لیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۷ مئی ۲۰۱۱ء

مشرقِ وسطٰی کی معروضی صورتحال اور چند تجاویز

تعطیلات کی وجہ سے گزشتہ تین دن سے کراچی میں ہوں اور حسب سابق جامعہ اسلامیہ کلفٹن اور جامعہ انوار القرآن آدم ٹاؤن میں تخصص کی کلاسوں میں انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات کے مختلف پہلوؤں پر گزارشات پیش کر رہا ہوں۔ اس دفعہ کراچی میں ایک نئی صورتحال سامنے آئی ہے کہ عرب ممالک کے موجودہ حالات بالخصوص بحرین کی شورش میں سعودی عرب کی مداخلت کے حوالے سے کراچی کی سڑکوں پر سعودی حکمرانوں کے خلاف بینرز آویزاں دیکھے جا رہے ہیں جن میں بحرین میں مداخلت پر سعودی عرب کے حکمران خاندان کے خلاف نعرہ بازی کی گئی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اپریل ۲۰۱۱ء

قادیانی مسئلہ ۔ چند شبہات کا ازالہ

قادیانیت کے حوالے سے چار سوالات اس وقت بڑے اہم ہیں۔ ایک سوال یہ کہ کسی شخص کو نبی کہہ دینے سے آخر کیا فرق پڑ جاتا ہے؟ ہم بھی تو اپنے بزرگوں کو بھاری بھر کم القابات سے نوازتے رہتے ہیں جو بسا اوقات خوفناک حد تک بھاری بھر کم ہو جاتے ہیں۔ اس سوال کا ایک جواب تو وہ ہے جو علماء کرام علمی حوالوں سے اور قرآن و سنت کی تعلیمات کی روشنی میں ایک صدی سے دیتے آرہے ہیں اور بڑے بڑے اہل علم نے اس کے لیے محنت کی ہے۔ یہ علمی اور تحقیقی جوابات اپنی جگہ درست اور ضروری ہیں لیکن ایک جواب علامہ محمد اقبالؒ نے دیا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۱ اپریل ۲۰۱۱ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter