فہمِ قرآن کے بنیادی تقاضے

مدرسہ انوار العلوم مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں دورۂ تفسیر کے افتتاح کے موقع پر فہمِ قرآن کے بنیادی تقاضوں سے متعلق گفتگو کی تھی، جسے برخوردار حافظ فضل اللہ راشدی نے محفوظ اور مرتب کیا ہے۔ ان کے شکریے کے ساتھ یہ تحریر نذر قارئین کی جا رہی ہے۔ حمد و صلاۃ کے بعد، سب سے پہلے تو میں دورۂ تفسیر القرآن الکریم کے لیے آنے والے طلباء کو خوش آمدید کہتا ہوں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ فروری ۲۰۲۳ء

ایسٹ انڈیا کمپنی نے اقتدار پر کیسے قبضہ کیا تھا؟

تجارت اور صنعتوں پر کمپنی کی اجارہ داری قائم ہو جانے کی وجہ سے کمپنی اپنی من مانی شرائط پر کاریگروں اور دستکاروں سے مال تیار کرواتی تھی۔ کمپنی کے ایجنٹ منڈی کے مقابلے میں نہایت کم معاوضے اور بہت کم وقت میں مصنوعات تیار کرنے کا کہتے تھے۔ کاریگر اس صورتحال میں سخت نالاں تھے، مگر کمپنی کے سامنے اُف تک نہ کر سکتے تھے۔ اگر کوئی کاریگر احتجاج کرتا تو اسے سخت سزائیں دی جاتی تھیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ و ۲۵ مارچ ۲۰۲۱ء

سود سے متعلق قائد اعظم کے فرمان پر کب عمل ہو گا؟

تازہ صورت حال یہ ہے وفاقی شرعی عدالت نے ایک بار حکومت سے کہا ہے کہ وہ سود کے خاتمے کے لیے اقدامات کرے اور اس سلسلے میں درپیش رکاوٹیں دور کرے۔ سودی مالیاتی نظام سے متعلق وفاقی شرعی عدالت میں کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس وفاقی شرعی عدالت نور محمد مسکانزئی نے حکومت کو غیر سودی نظام لانے کے لیے اتفاق رائے پیدا کرنے کی ہدایت کی ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۴ جنوری ۲۰۲۲ء

نظریۂ پاکستان کیا ہے؟

۱۹۴۷ء میں اسلامی نظریہ اور مسلم تہذیب و ثقافت کے تحفظ و فروغ کے عنوان سے جنوبی ایشیا میں ”پاکستان“ کے نام سے ایک نئی مملکت وجود میں آئی تو یہ تاریخی اعتبار سے ایک اعجوبہ سے کم نہیں تھی کہ اس خطے میں مسلم اقتدار کے خاتمہ کو ایک صدی گزر چکی تھی، جبکہ مغرب میں اسلام کے نام پر صدیوں سے چلی آنے والی خلافت عثمانیہ ربع صدی قبل اپنے وجود اور تشخص سے محروم ہو گئی تھی ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ مئی ۲۰۲۴ء

کل جماعتی مشاورتی سیمینار

دینی جدوجہد کی موجودہ صورتحال کے حوالہ سے گوجرانوالہ میں منعقدہ سیمینار میں تحفظ تقدس مسجد نبویؐ، سودی نظام کے خلاف وفاقی شرعی عدالت کے فیصلہ اور ملک میں موجودہ سیاسی کشمکش اور خلفشار کے حوالہ سے اہم تجاویز دی گئیں اور قومی سطح پر معاملات کو آگے بڑھانے پر غور کیا گیا۔ اس سیمینار میں راقم الحروف کے علاوہ مولانا اقبال رشید، جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر ڈاکٹر فرید احمد پراچہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۱ مئی ۲۰۲۲ء

کفار کے ساتھ نبی اکرمؐ کا معاشرتی رویہ

جناب سرور کائنات حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی معاشرتی زندگی کے اس پہلو پر آج کی محفل میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ آپ نے کافروں کے ساتھ معاشرتی زندگی میں کیا معاملہ کیا ہے اور ان کے ساتھ زندگی کیسے گزاری ہے؟ اس حوالہ سے جناب سرور کائناتؐ کی حیات مبارکہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ (۱) پہلا حصہ اس چالیس سالہ دور کا ہے جو نبوت سے پہلے مکہ مکرمہ میں گزرا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

اکتوبر ۲۰۱۶ء

مسیلمہ کذاب کا دعوائے نبوت

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ کچھ عرصہ سے جمعۃ المبارک کے بیان میں سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے کسی نہ کسی پہلو پر گفتگو چل رہی ہے، آج سیرت مبارکہ کے اس پہلو پر کچھ عرض کرنا چاہوں گا کہ رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے دور مبارک میں جن لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا ان کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا طرز عمل کیا تھا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ میں چار اشخاص نے نبوت کا دعویٰ کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۵ جنوری ۲۰۱۶ء

منافقین کے خلاف جہاد کی نبویؐ حکمت عملی

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت طیبہ کے حوالہ سے ایک پہلو پر آج چند گزارشات پیش کرنا چاہوں گا۔ قرآن کریم میں اللہ رب العزت نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا کہ ’’یا ایہا النبی جاہد الکفار والمنافقین واغلظ علیہم‘‘ اے نبیؐ! کافروں اور منافقین کے ساتھ جہاد کریں اور ان پر سختی کریں۔ چنانچہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ کے دس سالہ دور میں کافروں کے خلاف مسلسل جہاد کیا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۱۹ دسمبر ۲۰۱۵ء

پاکستان میں نفاذِ شریعت کیوں ضروری ہے؟

بعد الحمد والصلوٰۃ! ہماری آج کی گفتگو کا عنوان ”پاکستان میں نفاذِ شریعت کی جدوجہد“ ہے، میں اس کے عمومی تناظر پر مختصراً کچھ عرض کرنا چاہوں گا۔ پہلی بات یہ ہے کہ باقی تمام پہلوؤں سے قطع نظر ہم بحیثیت مسلمان اس بات کے پابند ہیں کہ ہمارے معاشرے میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کا عملی نفاذ ہو، اس لیے کہ قرآن و سنت کے احکام و قوانین پر عمل ہر مسلمان کا فریضہ اور ذمہ داری ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

۲۵ نومبر ۲۰۱۵ء

آئی پی ایس کے زیر اہتمام مبارک ثانی کیس کے فیصلے پر ایک اہم مشاورت

اٹھائیس اگست کو اسلام آباد میں انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز کی دعوت پر مبارک ثانی کیس کے بارے میں سپریم کورٹ کے نئے فیصلہ پر ایک اہم مشاورت میں شرکت کا موقع ملا جس کی انسٹیٹیوٹ کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ قارئین کی خدمت میں پیش کی جا رہی ہے، راقم الحروف نے اس نشست میں جو معروضات پیش کیں وہ اگلے مرحلے میں نذر قارئین کی جائیں گی ان شاء اللہ تعالیٰ (راشدی) ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر

یکم ستمبر ۲۰۲۴ء

Pages


2016ء سے
Flag Counter