رد قادیانیت کے لیے جدید اسلوب اپنانے کی ضرورت
فتنوں سے آگاہی حاصل کرنا اور امت کو ان سے خبردار کرنا دینی تقاضوں اور فرائض میں سے ہے، اور معاشرہ میں کسی بھی حوالہ سے پیدا ہونے والی خرابیوں کی نشاندہی کر کے مسلمانوں کو ان سے بچانے کی کوشش کرنا بھی ہماری دینی ذمہ داریوں میں سے ہے۔ اس لیے توحید و سنت، ختم نبوت، مقام صحابہ کرامؓ اور اہل سنت کے عقائد و مسلک کے تحفظ کے حوالہ سے مختلف مقامات پر اس قسم کے جو کورسز ہو رہے ہیں وہ دینی جدوجہد کا اہم حصہ ہیں اور ان کو کامیاب بنانے کی سب حضرات کو پوری کوشش کرنی چاہیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
ملی و قومی مسائل ۔ پاکستان شریعت کونسل کی قراردادیں
اجلاس میں پاکستان شریعت کونسل کی تشکیل نو کے موقع پر یہ دعوت دی گئی کہ ملک بھر میں ایسے اصحاب و دانش سے جو اقتدار اور الیکشن کی سیاست سے الگ تھلگ رہتے ہوئے نفاذِ شریعت کے لیے علمی و فکری جدوجہد کے خواہشمند ہیں، وہ پاکستان شریعت کونسل کے ساتھ شریک کار ہوں۔ اجلاس میں یہ وضاحت بھی دہرائی گئی کہ کسی بھی دینی یا سیاسی جماعت میں کام کرنے والے حضرات علمی و فکری جدوجہد کے لیے پاکستان شریعت کونسل میں شامل ہو سکتے ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
امام بخاریؒ کی علمی دیانت
امام بخاریؒ کے حوصلہ اور علمی دیانت کا یہ پہلو ہم سب کے لیے لائق تقلید ہے کہ ان کے اساتذہ میں امام محمد بن یحییٰ ذہلیؒ ایک بڑے محدث تھے جن کی مسند حدیث نیشاپور میں تھی۔ اور امام بخاریؒ نے ان سے استفادہ کے بعد نیشاپور میں ہی اپنی مجلس قائم کرنے کا ارادہ کر لیا تھا مگر استاذ محترم سے ایک علمی مسئلہ پر اختلاف ہوگیا۔ امام ذہلیؒ حنابلہ کے امام تھے اور خلق قرآن کے مسئلہ پر اس دور میں اس حد تک شدت آگئی تھی کہ ’’قرآن کریم مخلوق نہیں ہے‘‘ کا اطلاق ظاہری الفاظ اور قرآن کریم سے متعلقہ ہر چیز پر کیا جانے لگا تھا ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
اندرونِ سندھ کا سفر
علامہ علی شیر حیدری شہیدؒ نے مختلف مواقع پر تقاضہ کیا کہ میں خیر پور میرس میں ان کے ادارہ جامعہ حیدریہ میں حاضری دوں۔ متعدد بار وعدہ بھی کیا مگر ایسا نہ ہو سکا۔ ان کے شہادت کے بعد یہ تقاضہ عزیز محترم محمد یونس قاسمی کی طرف سے جاری رہا، مگر ہر کام کا ایک وقت قدرت کی طرف سے مقرر ہوتا ہے اس لیے یہ حاضری مؤخر ہوتی رہی۔ حتیٰ کہ گزشتہ دنوں کراچی سے واپسی پر ایک دن کا کچھ حصہ جامعہ حیدریہ میں گزارنے کا موقع مل گیا۔ کراچی سے ڈائیوو بس کے ذریعہ سکھر پہنچا تو مولانا اسد اللہ ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
کراچی میں تین دن
تین دن کراچی میں گزار کر آج ۵ مئی کو سکھر، لاڑکانہ اور خیرپور کے لئے روانہ ہو رہا ہوں۔ جامعہ اسلامیہ کلفٹن، جامعہ انوار القرآن، آدم ٹاؤن میں ختم بخاری شریف اور دستار بندی کی سالانہ تقریبات میں شرکت کے لئے حاضری ہوئی تھی۔ ۲ مئی کو جامعہ اسلامیہ کی تقریب ہوئی جو نماز مغرب کے بعد شروع ہو کر کم و بیش نصف شب تک جاری رہی۔ حضرت مولانا خواجہ خلیل احمد آف کندیاں شریف مہمان خصوصی تھے جبکہ جامعہ کے اساتذہ کے علاوہ مولانا عبدالقیوم حقانی اور راقم الحروف نے تفصیلی خطابات کیے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
حفظ حدیث کا قابل رشک ذوق
شاہ کوٹ ضلع شیخوپورہ میں ایک ایسی تقریب میں حاضری کا شرف حاصل ہوا جس کی خوشی کے اظہار کے لیے یقیناً میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ پرانے دور میں احادیث کو زبانی یاد کرنے کا ذوق پایا جاتا تھا اور قرآن کریم کی طرح حدیث کے حفاظ بھی بڑی تعداد میں موجود ہوتے تھے۔ یہ شوق رفتہ رفتہ کم ہوتا جا رہا ہے اور آج احادیث کو اہتمام کے ساتھ یاد کرنے اور یاد کرانے کا کوئی نظم کم از کم ہمارے علم میں نہیں ہے۔ قریب کے دور میں حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ اس شرف کے ساتھ موصوف تھے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قادیانی رپورٹ ۲۰۱۴ء
ہم یہ سمجھتے ہیں کہ یہ رپورٹ شائع کرنے کا مقصد اس خود ساختہ مظلومیت کا ڈھنڈورا پیٹنے کے سوا کچھ نہیں ہے جس کا روپ قادیانی جماعت نے عالمی سطح پر ایک عرصہ سے دھار رکھا ہے۔ اور جس کے ذریعہ وہ اپنی موجودگی کا احساس دلاتے رہنے کے ساتھ ساتھ اسلام اور پاکستان کے خلاف سرگرم عمل بین الاقوامی اداروں کی توجہ اور ان سے مفادات حاصل کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ ورنہ ملک کی کوئی بھی سیاسی یا دینی جماعت اس قسم کا سروے کر کے اپنے خلاف شائع ہونے والی خبروں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور امریکہ
ہم آج امریکہ کے صدر باراک اوباما کے ایک اہم انٹرویو کا تذکرہ کرنا چاہیں گے جو انہوں نے گزشتہ دنوں ’’نیویارک ٹائمز‘‘ کے صحافی تھامس فریڈمین کو دیا ہے اور مشرق وسطیٰ کی سنی آبادی کے حوالہ سے اپنے موقف اور احساسات کا اظہار فرمایا ہے۔ امریکی صدر محترم کا ارشاد ہے کہ ’’جہاں تک ہمارے سنی عرب اتحادیوں مثلاً سعودی عرب کی حفاظت کا سوال ہے تو میرے خیال میں سعودیوں کو واقعی چند حقیقی بیرونی خطرات کا سامنا ہے لیکن ان کو کئی اندرونی خطرات بھی لاحق ہیں ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
قرارداد مقاصد کی آئینی پوزیشن کی بحث
قیام پاکستان کی تحریک میں قائد اعظم مرحوم اور دیگر قائدین کے واضح بیانات اور ملک کی پہلی دستور ساز اسمبلی کی منظور کردہ ’’قرارداد مقاصد‘‘ کو دستور پاکستان کے ’’بنیادی ڈھانچہ‘‘ کی حیثیت حاصل ہے، اس لیے دستور کے کسی بنیادی ڈھانچے کی موجودگی سے انکار پاکستان کے نظریاتی تشخص اور قرارداد مقاصد کی اہمیت کو کم کرنا ہے جو ملک کو اسلامی تشخص سے محروم کر کے سیکولر ریاست بنانے کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ اور یہ خدشہ اس پس منظر میں اور زیادہ سنگین اور خطرناک ہو جاتا ہے کہ عالمی استعماری حلقے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
سنی شیعہ کشمکش ۔ خواہشات اور حقائق
کسی شخص کو کینسر ہو جائے تو اس کے اسباب کا جائزہ لینا ضروری ہوتا ہے اور اسے بے حوصلہ ہونے سے بچانے کے لیے اسے اس کے مرض سے آگاہ نہ کرنا بھی بسا اوقات حکمت عملی کا تقاضہ بن جاتا ہے، لیکن علاج تو بہرحال کینسر کا ہی ہوتا ہے اور موجود و میسر حالات و اسباب کے دائرہ میں ہوتا ہے۔ سنّی شیعہ کشمکش اور تصادم کو ہم عالم اسلام کے اجتماعی وجود کے لیے کینسر سے کم نہیں سمجھتے، لیکن المیہ یہ ہے کہ یہ کینسر نہ صرف موجود ہے بلکہ مسلسل آگے بڑھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ مکمل تحریر
Pages
- « شروع
- ‹ پچھلا صفحہ
- …
- 413
- 414
- …
- اگلا صفحہ ›
- آخر »