قرآن کریم کا متن اور حدیث نبویؐ

   
۲۰۰۸ء/۲۰۰۹ء

امریکی ریاست ورجینیا کے دو دینی اداروں دارالہدیٰ اور مدینۃ العلوم میں منعقدہ سلسلۂ محاضرات کا ایک حصہ نذرِ قارئین کیا جا رہا ہے۔

بعد الحمد والصلوۃ۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کا فضل اور کرم ہے کہ اس نے زندگی میں ایک بار پھر ملاقات کا بلکہ چند ملاقاتوں اور دین کی کچھ باتیں کہنے سننے کا موقع عنایت فرمایا۔ اللہ تبارک و تعالیٰ اس حاضری کو اور ہمارے مل بیٹھنے کو قبول فرمائے اور کچھ مقصد کی باتیں کہنے سننے کی توفیق عطا فرمائے۔ اور پھر دین حق کی جو بات علم میں آئے، سمجھ میں آئے، اللہ تعالیٰ ہم سب کو عمل کی توفیق سے نوازے۔ کئی برسوں سے یہ معمول ہے کہ واشنگٹن (ڈی سی، امریکہ) حاضری کے موقع پر دو چار دن کے لیے آپ کے اس دینی ادارے ’’دارالہدی‘‘ میں حاضری کا موقع ملتا ہے اور کسی نہ کسی دینی عنوان پر گفتگو ہوتی ہے۔ اس سال بھی چند روز آپ کے پاس قیام ہوگا۔ تین دن تو مغرب کی نماز کے بعد گفتگو ہوگی جبکہ جمعہ والے دن جمعہ کا بیان ہوگا۔ اور اگر موقع ملا تو ہفتے والے دن صبح نماز فجر کے بعد چند باتیں کہہ کے آپ سے رخصت ہو جاؤں گا، ان شاء اللہ العزیز۔

قرآن کریم اور حدیث نبویؐ کا آپس میں جوڑ اور تعلق کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ کے کلام کو ہم قرآن کریم کہتے ہیں، جبکہ حدیث نبوی جناب نبی کریمؐ کا کلام ہے۔ جو بات اللہ تعالیٰ کی طرف وحی کے طور پر منسوب ہو کہ اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا اور اپنے کلام میں یہ کہا، وہ قرآن کریم ہے۔ اور جو بات نبی کریمؐ کی طرف منسوب ہو کہ حضورؐ نے یوں فرمایا، فلاں عمل کیا، یا کسی دوسرے کے عمل کی تصدیق کی، وہ حدیث ہے۔

اللہ تعالیٰ نے جو فرمایا اس کے دو درجے ہیں: ایک ہے قرآن کریم اور دوسرا ہے حدیثِ قدسی۔ قرآن کریم تو کتاب اللہ ہے اور اس کے اندر جو آیات اور سورتیں جو کچھ بھی بیان ہے، وہ قرآن کہلاتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ سے منسوب وہ باتیں جو قرآن کریم سے ہٹ کر جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نقل کی ہیں، روایت کی ہیں، وہ احادیثِ قدسیہ کہلاتی ہیں۔ یعنی ایسی باتیں جو روایت تو جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کرتے ہیں لیکن بات ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی۔ احادیثِ قدسیہ بھی سینکڑوں ہیں۔

قرآن کریم، جو وحی الہی کا تسلسل ہے، ’’بسم اللہ الرحمن الرحیم، الحمد للہ رب العالمین‘‘ سے لے کر ’’من الجنۃ والناس‘‘ تک ہمارے پاس ایک کتاب کی شکل میں موجود ہے۔ اور حدیث نبویؐ یعنی جناب نبی کریمؐ کے ارشادات مقدسہ اور اعمال مبارکہ کا ذخیرہ بھی ہمارے پاس موجود و محفوظ ہے۔ ان دونوں یعنی قرآن کریم اور احادیث مبارک کو صحابہ کرامؓ نے روایت کر کے آگے امت تک پہنچایا۔ چنانچہ آج میری گفتگو کا موضوع یہ ہے کہ قرآن کریم اور حدیث نبویؐ کا آپس میں تعلق اور جوڑ کیا ہے۔ اس پر میں دو تین نشستوں میں ان شاء اللہ العزیز بات کروں گا۔

قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی کوئی بات سمجھنے میں کوئی الجھن پیش آتی تو صحابہ کرامؓ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رجوع کرتے تھے، اس لیے کہ حضورؐ قرآن مجید کے شارح ہیں۔ حضورؐ کے ارشادات اور حضورؐ کی سنت قرآن کریم کی تشریح ہے۔ جبکہ تابعین، خیر القرون یعنی قرون اولی کے لوگ صحابہ کرامؓ سے رجوع کرتے تھے۔ اس لیے کہ ان کے سامنے قرآن کریم نازل ہوا اور وہ اس کے پس منظر کو اور موقع محل کو زیادہ بہتر جانتے تھے اور زیادہ بہتر تشریح کر سکتے تھے۔ صحابہ کرامؓ میں سے کسی کو الجھن پیش آتی تو حضورؐ سے سوال کیا جاتا کہ یا رسول اللہ! اس آیت کا مطلب سمجھ میں نہیں آیا۔ حضورؐ اس کی وضاحت فرما دیتے۔ جبکہ تابعین میں سے اگر کسی کو قرآن کریم کے متعلق کوئی بات سمجھنے میں کوئی دقت پیش آتی تو وہ کسی صحابیؓ سے رجوع کرتے کہ جناب یہ بات سمجھ میں نہیں آئی، آپ چونکہ وحی کے گواہ ہیں اور موقع محل سے واقف ہیں اس لیے آپ بتائیں کہ اس کا مطلب کیا ہے۔ اس پر حدیث کی کتابوں میں بہت سے واقعات ہیں۔

ہمارا ایمان ہے کہ اس وقت ہمارے سامنے جو قرآن کریم مصحف کی صورت میں موجود ہے اور جسے دنیا بھر کے مسلمان پڑھتے ہیں، یہی اصلی قرآن کریم ہے اور اسی پر جناب نبی اکرمؐ اپنی امت کو چھوڑ کر گئے ہیں۔ یہ قرآن کریم اس طرح کتابی شکل میں جناب نبی کریمؐ کی حیات مبارکہ میں موجود نہیں تھا بلکہ رسول اکرمؐ کے وصال کے بعد حضرت ابوبکرؓ کے دور خلافت میں حضرت عمرؓ کی تجویز و تحریک پر حضرت زید بن ثابتؓ نے قرآن کریم کو موجودہ کتابی صورت میں تحریر کیا۔ نبی کریمؐ کے دور میں قرآن کریم کو یاد کرنے کا ذوق زیادہ تھا اور سینکڑوں حفاظ صحابہ کرامؓ موجود تھے، اس لیے لکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی۔ ویسے بھی نبی اکرمؐ کے وصال تک وحی جاری تھی اور قرآن کریم کی مکمل صورت نے حضور علیہ السلام کے وصال کے بعد ہی سامنے آنا تھا۔

یہاں حضرت شاہ عبد القادر محدث دہلویؒ کے بیان کردہ ایک نکتہ کا ذکر بھی مناسب معلوم ہوتا ہے جو انہوں نے آیت کریمہ ’’بل ھو آیات بینات فی صدور الذین اوتوا العلم‘‘ کے ضمن میں لکھا ہے کہ قرآن کریم کی اصل جگہ سینہ ہے اور کتابت امرِ زائد ہے۔ یعنی کتابت قرآن کریم کی ضروریات میں سے نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ہماری کمزوریوں سے ہے کہ جو شخص قرآن کریم یاد نہ کر سکتا ہو وہ اپنی سہولت کے لیے لکھا ہوا قرآن دیکھ کر پڑھ لے۔

پہلی بات یہ ہے کہ قرآن کریم کا متن یعنی الفاظ، آیات، سورتیں اور ترتیب یہ سب کچھ ہمیں حدیث کے ذریعے سے ملتا ہے۔ قرآن کریم کے الفاظ بھی حدیث کے ذریعے معلوم ہوئے اور آیتیں بھی حدیث کے ذریعے سے معلوم ہوئیں۔ آیتوں اور سورتوں کی ترتیب کیا ہے، یہ بات بھی حدیث کے ذریعے معلوم ہوئی۔ ان میں سے کوئی بات بھی معلوم کرنے کا ہمارے پاس ذریعہ ایک ہی ہے، جسے حدیث کہتے ہیں، اور کوئی ذریعہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ مثال کے طور پر ہم میں سے ہر آدمی جانتا ہے کہ قرآن کریم کی پہلی وحی کونسی تھی۔

’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ اقرأ باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرأ و ربک الاکرم۔ الذی علم بالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔‘‘

یہ قرآن کریم کی پانچ آیتیں ہیں جو سب سے پہلے نازل ہوئی تھیں اور یہ بات ہر وہ مسلمان جانتا ہے جو تھوڑی بہت دین سے مناسبت رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہمیں یہ کیسے معلوم ہوا کہ یہ قرآن کریم کی آیتیں ہیں اور پھر یہ بات کہ یہ قرآن کریم کی سب سے پہلی نازل ہونے والی آیتیں ہیں۔ یہ بات پتہ چلانے کے لیے ہمیں غارِ حرا کا وہ واقعہ معلوم کرنا ہوگا۔ آنحضرتؐ کا نبوت سے پہلے معمول مبارک یہ تھا کہ آپ غار میں چلے جاتے تھے اور وہاں کئی کئی دن رہتے تھے۔ غور و فکر کرتے تھے، عبادت کرتے تھے، اللہ اللہ کرتے تھے، انسانیت کے مسائل پر غور کرتے تھے۔ چنانچہ ایک دن آپؐ غارِ حرا میں تھے کہ اس دوران فرشتہ آیا، اس نے کہا ’’اقرأ‘‘ پڑھیے جناب۔ حضورؐ نے فرمایا ’’ما انا بقارئٍ‘‘ میں پڑھنے والا نہیں ہوں۔

میں واقعے کی تفصیل میں نہیں جاتا لیکن یہ واقعہ تقریباً‌ ہر مسلمان کے ذہن میں ہے اور سب نے کسی نہ کسی موقع پر سنا ہوا ہے۔ یہ واقعہ ہمارے پاس یہ بات معلوم کرنے کا ذریعہ ہے کہ یہ قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں ہیں جو غارِ حرا میں نازل ہوئیں۔ اس واقعے کا واسطہ درمیان میں نہ ہو تو یہ بات معلوم کرنا کہ قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں یہ تھیں، اس کا کوئی اور ذریعہ ہمارے پاس نہیں ہے۔ چنانچہ ہمیں سب سے پہلے یہ واقعہ تسلیم کرنا ہوگا جو ظاہر ہے کسی صحابیؓ نے روایت کیا ہے۔ یہ واقعہ حضرت عبد اللہ ابن عباسؓ سے، حضرت عائشہؓ سے، حضرت جابرؓ سے اور ان کے علاوہ بھی دیگر صحابہؓ سے روایت ہے۔ تو پہلے ہمیں اس واقعے کی تفصیلات معلوم کرنی ہوں گی اور یہ واقعہ تسلیم کرنا ہوگا تب ہم یہ مانیں گے کہ یہ قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں ہیں۔

سوال یہ ہے کہ اگر ہمارا اس واقعے پر ایمان نہ ہو، تو کیا ان پانچ آیتوں پر ایمان ممکن ہے؟ یہ ساری تفصیل کہ فرشتہ آیا اور اس نے حضورؐ سے یہ کہا، حضورؐ نے اس کے جواب میں یہ بات کہی، پھر واپس گھر آئے تو بڑی گھبراہٹ تھی، اپنی اہلیہ حضرت خدیجۃ الکبرٰیؓ سے فرمایا کہ میں بہت گھبرا رہا ہوں مجھے چادر اوڑھاؤ۔ یہ ایک لمبا قصہ ہے۔ یہ سارا واقعہ وہ ماخذ ہے جس کے ذریعے سے ہمیں یہ پانچ آیتیں ملیں۔ اور صحابہؓ نے یہ سارا واقعہ اور قصہ آگے امت کو روایت کر دیا۔ یہی بات حدیث کہلاتی ہے۔ الغرض قرآن کریم کے الفاظ تک پہنچنے کے لیے ہمارے پاس واحد ذریعہ جناب نبی کریمؐ کی ذاتِ گرامی ہے۔

یا مثال کے طور پر یہ قرآن کریم جو کتابی شکل میں ہمارے پاس موجود ہے اور ہم دنیا بھر میں اسی مصحف کو پڑھتے ہیں۔ یہ کب لکھا گیا، کس نے لکھا اور کس بنیاد پر لکھا؟ رسول اللہؐ کے زمانے میں قرآن کریم کتابی شکل میں لکھا ہوا موجود نہیں تھا۔ یہ حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانے میں جمع کر کے لکھا گیا۔ وہ بھی حضرت عمر فاروقؓ کی تجویز پر اور احتیاط کے پیش نظر۔ ہوا یوں کہ مختلف محاذوں پر جنگیں ہو رہی تھیں، صحابہ کرامؓ شہید ہو رہے تھے، اور شہیدوں کی بڑی تعداد قرآن کریم کے حافظوں کی تھی۔ ستر حفاظ صحابہؓ تو جنگِ یمامہ میں شہید ہوئے۔ حضورؐ کے زمانے میں لوگ قرآن کریم حفظ کیا کرتے تھے، کوئی اپنی یادداشت کے لیے دو چار آیتیں لکھ لے تو لکھ لے، لیکن عمومی طور پر قرآن کریم یاد کیا جاتا تھا۔ سینکڑوں حافظ موجود تھے۔ اگر ستر ایک جنگ میں شہید ہوئے تو آپ اندازہ کر لیں کہ حافظوں کی کل تعداد کتنی ہوگی۔ جب مختلف محاذوں سے صحابہ کرامؓ کی شہادت کی مسلسل خبریں آنے لگیں تو حضرت عمرؓ کے ذہن میں یہ خدشہ پیدا ہوا۔ ذہین آدمی سوچتا ہے کہ کوئی مسئلہ پیدا نہ ہو جائے۔ یہ بھی ایک مستقل فراست ہے۔

حضرت عمرؓ کو اللہ تعالیٰ نے بڑی بصیرت اور فراست دی تھی۔ انہیں خطرہ لاحق ہوا کہ حافظ شہید ہوتے جا رہے ہیں، ایسا نہ ہو کہ قرآن کریم کے بارے میں کوئی الجھن پیش آئے۔ تو یہ خیال سب سے پہلے حضرت عمرؓ کے ذہن میں آیا۔ حضرت صدیق اکبرؓ کی خدمت میں گئے اور عرض کیا، یا خلیفۃ رسول اللہ، اے رسول اللہ کے جانشین! حافظ شہید ہوتے جا رہے ہیں، احتیاطاً‌ قرآن کریم کا ایک نسخہ لکھوا کر رکھ لیجیے تاکہ کوئی مسئلہ نہ پیدا ہو۔ ابتدا میں تو حضرت صدیق اکبرؓ نہیں مانے کہ بھئی جب حضورؐ نے ایسا نہیں کیا تو میں کیوں کروں۔ لیکن حضرت عمرؓ نے اصرار کیا کہ ایسا کر لیں اس کی ضرورت ہے ورنہ مسئلہ پیدا ہو جائے گا۔ چنانچہ مشکل سے حضرت صدیق اکبرؓ یہ بات مانے۔ حضرت زید بن ثابتؓ کو بلوایا جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے بڑے کاتب تھے۔ انصاری صحابیؓ تھے۔

حضرت زیدؓ کے حضورؐ کے سب سے بڑے کاتب ہونے کی دو وجہیں تھیں۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ بڑے ذہین نوجوان تھے۔ ان کی ذہانت کا اس بات سے اندازہ کیجیے کہ یہودیوں کے ساتھ گفتگو اور خط و کتابت کے لیے جب حضورؐ نے ضرورت محسوس کی کہ میرے اپنے کسی اعتماد کے آدمی کو حیبرو یعنی یہودیوں کی عبرانی زبان جاننی چاہیے تاکہ ترجمہ وغیرہ میں گڑبڑ کا اندیشہ نہ رہے۔ تو حضرت زیدؓ سے کہا کہ بھئی جا کر حیبرو سیکھو۔ زیدؓ کہتے ہیں کہ میں نے سترہ دن میں یہ زبان سیکھی، اس معیار کی سیکھی کہ بول بھی سکتا تھا، لکھ بھی سکتا تھا اور پڑھ بھی سکتا تھا۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ حضورؐ کے پڑوسی تھے۔ دن یا رات کو جب بھی ضرورت محسوس ہوتی، انہیں بلا لیا جاتا کہ آجاؤ بھئی۔ اس لیے زید بن ثابتؓ حضورؐ کے سب سے بڑے کاتب تھے۔

چنانچہ حضرت صدیق اکبرؓ نے زید بن ثابتؓ کو بلایا اور فرمایا کہ حافظ شہید ہوتے جا رہے ہیں اور حضرت عمرؓ کی یہ تجویز ہے، جس سے اب میں بھی متفق ہوں، کہ قرآن کریم کا ایک نسخہ ہمیں لکھ کر محفوظ کر لینا چاہیے تاکہ کل کوئی الجھن پیش نہ آئے۔ یعنی ہم ایک مصدقہ اور اسٹینڈرڈ نسخہ لکھ کر رکھ لیں تاکہ بعد میں کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے جب یہ فرمایا تو حضرت زید بن ثابتؓ نے بھی ابتدا میں اس سے گریز کیا کہ یاحضرت آپ یہ کیا کر رہے ہیں؟ لیکن حضرت صدیق اکبرؓ کے کہنے پر کہ اس کی بہرحال ضرورت ہے، تو وہ لکھنے پر تیار ہوئے۔ یہ قرآن کریم جس ترتیب کے ساتھ ہمارے پاس آج موجود ہے، یہ حضرت زید بن ثابتؓ کا لکھا ہوا ہے۔

یہاں جس بات پر میں غور کی دعوت دینا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے یہ قرآن کریم کیسے لکھا، ان کا ماخذ کیا تھا؟ فلاں آیت فلاں سورت کی ہے، اور فلاں آیت سے پہلے اور فلاں آیت کے بعد کی ہے، انہیں یہ سب کیسے پتہ چلا؟ حافظوں میں سے تو وہ بہرحال تھے۔

حضرت زید بن ثابتؓ قرآن کریم لکھنے کی یہ ساری بات خود روایت کرتے ہیں اور یہ بخاری کی طویل روایت ہے۔ کہتے ہیں مجھے قرآن کریم یاد تھا لیکن میں نے ایک فارمولا طے کیا کہ قرآن کریم کی ہر آیت پر مجھے کم از کم دو گواہ ملیں گے تب لکھوں گا، جو اس بات کی تصدیق کریں کہ یہ آیت ہم نے حضورؐ سے یوں ہی سنی ہے جیسے تم پڑھ رہے ہو۔ اس فارمولے کے تحت انہوں نے قرآن کریم لکھنا شروع کر دیا۔ کہتے ہیں جب میں نے قرآن کریم جمع کیا تو مختلف صحابہ کرامؓ سے، مختلف بزرگوں سے لکھی ہوئی آیات بھی ملیں۔ کسی نے چمڑے پر، کسی نے پرانے کاغذ پر، کسی نے ہڈی پر، کسی نے درخت کے پتے پر، کسی نے درخت کی چھال پر اور کسی نے پتھر پر لکھا ہوا تھا۔ لکھنے کے لیے کسی کو جو بھی چیز میسر آئی، اس نے استعمال کی۔ دو آیتیں فلاں سے مل گئیں، تین کسی دوسرے سے، چار کسی اور سے، اس طرح ایک اچھی خاصی گٹھری اکٹھی ہو گئی۔ اس میں پتھر بھی تھے اور ہڈیاں بھی، کاغذ بھی تھے اور چمڑہ بھی، پتے بھی اور درخت کی چھال بھی۔ جو کچھ مجھے ملا، سب اکٹھا کر کے ایک ذخیرہ بن گیا۔ کہتے ہیں سارا قرآن کریم میں نے بآسانی اکٹھا کر لیا، مجھے ہر آیت پر اپنے نصاب کے مطابق کم از کم دو گواہ ملتے چلے گئے، کئی آیتوں میں زیادہ بھی مل گئے۔ لیکن دو آیتوں پر آکر بات پھنس گئی۔ دو آیتیں ایسی تھیں جن پر ایک گواہ مل رہا تھا لیکن دوسرا نہیں۔ وہ دو آیتیں ہیں:

’’لقد جاءکم رسول من انفسکم عزیز علیھما عنتم حریص علیکم بالمؤمنین رؤوف الرحیم۔ فان تولوا فقل حسبی اللہ لا الٰہ الا ہو علیہ توکلت وہو رب العرش العظیم۔‘‘ (التوبۃ ۱۲۸، ۱۲۹)

حضرت زیدؓ کہتے ہیں کہ یہاں پر معاملہ اٹک گیا کہ ان پر ایک گواہ مل رہا تھا لیکن دوسرا نہیں مل رہا تھا۔ فرماتے ہیں کہ مجھے خود تو یہ آیت یاد تھی اور مجھے اس پر پکا یقین تھا اور اس پر مجھے ایک اور گواہ بھی مل رہا تھا، لیکن فارمولا میں نے طے کر رکھا تھا کہ دو گواہ ہوں گے تو آیت لکھوں گا ورنہ نہیں۔ چنانچہ یہاں مسئلہ پیدا ہوگیا۔ کہتے ہیں دو چار دن تو میں تلاش کرتا رہا، لیکن جب دوسرا گواہ نہیں ملا تو میں حضرت صدیق اکبرؓ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ یاحضرت! سارا قرآن کریم میں لکھ لیا ہے، الحمد للہ۔ لیکن ان دو آیتوں پر آ کر میرا یہ دو گواہوں والا اصول متاثر ہو رہا ہے۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے پوچھا کہ کونسی آیتیں ہیں، حضرت زیدؓ نے بتایا کہ یہ آیتیں ہیں۔ پوچھا کہ یہ ایک گواہ جو ملا ہے، وہ کون ہے؟ بتایا کہ خزیمہؓ بن ثابت ہیں۔ حضرت صدیق اکبرؓ نے پوچھا، یہ وہ خزیمہ تو نہیں ہے جس کی گواہی کو حضورؐ نے خود ایک مقدمے میں دو گواہیوں کے قائم مقام قرار دیا تھا؟ کہا حضرت، ہے تو وہی خزیمہؓ۔ فرمایا، پھر کیا تلاش کرتے ہو، بس تمہارا کام ہوگیا۔ تو حضرت خزیمہؓ کی گواہی کاسٹنگ شمار کی گئی، جس طرح ووٹ برابر ہو جائیں تو ایک ’’کاسٹنگ ووٹ‘‘ ہوتا ہے جس پر فیصلہ کیا جاتا ہے۔ ایک مقدمہ میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک گواہ مل رہا تھا جو حضرت خزیمہ بن ثابتؓ تھے، تو حضورؓ نے فرمایا تھا، یہ ایک نہیں بلکہ دو گواہ ہیں۔ تو حضرت صدیق اکبرؓ نے بھی حضرت زیدؓ سے فرمایا کہ بھئی تمہارا وہ اصول پورا ہوگیا، اس معاملے میں بھی خزیمہؓ کی گواہی دو گواہیوں کے برابر شمار کی جائے گی۔

حضرت زیدؓ بن ثابت فرماتے ہیں کہ میں نے اول سے آخر تک قرآن کریم اس اہتمام کے ساتھ لکھا۔ یہ مصحف مسجد نبویؐ میں ایک جگہ رکھ دیا گیا اور یہ اعلان کر دیا گیا کہ جس کو قرآن کریم کی کسی آیت میں کوئی الجھن ہو، کوئی شک ہو، یہاں آکر دیکھ لے، یہ مصدقہ نسخہ ہے۔ آج بھی مسجد نبوی کا وہ ستون استوانۂ مصحف کہلاتا ہے۔ یعنی وہ ستون جس پر حضرت زید بن ثابتؓ کا لکھا ہوا قرآن کریم کا وہ نسخہ تقریباً‌ دس سال تک موجود رہا، تاکہ کسی نے کوئی الجھن دور کرنی ہو، کسی نے کسی آیت کی تصدیق کرنی ہو، کوئی شک دور کرنا ہو، کوئی ترتیب دیکھنی ہو تو وہاں جا کر دیکھ لے۔ حضرت صدیق اکبرؓ کے زمانے میں قرآن کریم کا وہ پہلا لکھا ہوا نسخہ اس ستون کے ساتھ ایک جگہ بنا کر رکھا گیا تھا۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں یہ نسخہ وہاں موجود رہا۔ حضرت عمرؓ کی شہادت پر حضرت حفصہؓ نے وہ نسخہ حفاظت کے لیے اپنی تحویل میں لے لیا۔ جب حضرت عثمانؓ کو ضرورت محسوس ہوئی تو وہ نسخہ حضرت حفصہؓ سے منگوایا گیا کہ وہ اسٹینڈرڈ نسخہ ہمیں دے دیجیے ہم نے اس پر کام کرنا ہے۔

میں یہ عرض کر رہا تھا کہ قرآن کریم کے لکھنے میں حضرت زید بن ثابتؓ کا سورس اور ماخذ کیا تھا، انہوں نے یہ قرآن کریم کہاں سے لکھا؟ ظاہر ہے صحابہ کرامؓ سے۔ ہر آیت کے متعلق کسی صحابیؓ سے پوچھا کہ آپ نے یہ آیت سنی ہے؟ جواب ملا، جی سنی ہے۔ پوچھا، حضورؐ نے یوں ہی پڑھی تھی؟ صحابیؓ نے تصدیق کی، جی بالکل یوں ہی پڑھی تھی۔ پوچھا، میں حضورؐ کے ارشاد کے مطابق ٹھیک پڑھ رہا ہوں؟ جواب ملا، جی بالکل ٹھیک پڑھ رہے ہیں۔ اور پھر صحابیؓ کا یہ بتانا کہ میں نے حضورؐ سے یہ آیت فلاں سورت میں فلاں جگہ پر سنی تھی۔ اب یہ ساری باتیں کیا کہلاتی ہیں؟ اسے حدیث کہتے ہیں۔ یہی قرآن کریم کا سورس اور ماخذ ہے۔

اور قرآن کریم کی آیات کا جو ایک ذخیرہ جمع کیا گیا، وہ کیا تھیں؟ وہ صحابہ کرامؓ کی روایات تھیں۔ یعنی کسی صحابی کا یہ کہنا کہ میں نے حضورؐ سے فلاں سورت یوں سنی تھی اور لکھ لی تھی۔ کسی نے کہا میں نے حضورؐ سے فلاں آیات فلاں سورت میں اِس طرح سنی تھی اور لکھ لی تھی۔ سوال یہ ہے کہ حضرت زید بن ثابتؓ نے ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ سے لے کر ’’من الجنۃ والناس‘‘ تک جو قرآن کریم لکھا، اگر یہ حدیث ذریعہ نہ ہو، تو کیا قرآن کریم کے کسی جملے تک پہنچنا ممکن ہے؟

ایک صاحب سے گفتگو ہوئی، پرانی بات ہے۔ ان صاحب نے کہا، حدیث ماننا ضروری نہیں ہے، بس قرآن کریم کو ماننا ضروری ہے۔ میں نے کہا بھئی بات سنو، میرا آپ سے ایک سوال ہے: کیا ’’انا اعطیناک الکوثر‘‘ قرآن کریم کی سورت ہے؟ انہوں نے کہا، ہاں ہے۔ میں نے پوچھا، اس کی دلیل کیا ہے؟ آپ کیسے ثابت کریں گے کہ یہ قرآن کریم کی سورت ہے۔ کہتے ہیں، رسول اللہؐ نے بتایا کہ یہ قرآن کی سورت ہے۔ میں نے پوچھا، ’’رسول اللہؐ نے یہ سورت قرآن میں شامل کی‘‘ یہ بات کیا کہلاتی ہے؟ جب ہم یہ کہیں گے کہ فلاں آیت حضورؐ نے قرآن کی آیت قرار دی اور ایک صحابیؓ نے نقل کر کے ہم تک پہنچائی۔ یہ بات کیا کہلاتی ہے؟ یہی بات تو حدیث کہلاتی ہے۔ پھر دوسری بات یہ کہ حضورؐ کی اس بات پر ایمان لائے بغیر سورۃ الکوثر کے قرآن کریم کی سورت ہونے پر ایمان آخر ممکن کیسے ہوگا؟

سورۃ الکوثر قرآن کریم کی سب سے مختصر سورت ہے۔

’’بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ انا اعطیناک الکوثر۔ فصل لربک وانحر۔ ان شانئک ہو الابتر۔‘‘

یہ قرآن کریم کی سب سے چھوٹی سورت ہے۔ مثال کے طور پر ایک آدمی انکار کرتا ہے کہ یہ قرآن کریم کی سورت نہیں ہے۔ جبکہ میں اس سے اس بات کا اقرار کروانا چاہتا ہوں کہ یہ قرآن کریم کی سورت ہے، تو میرے پاس اس کی دلیل کیا ہے؟ کس نے کہا کہ یہ قرآن کریم کی سورت ہے۔ کس کے کہنے پر یہ تین آیتیں قرآن کریم میں شامل کی گئی ہیں؟ ظاہر ہے جناب نبی کریمؐ کے کہنے پر، کہ رات کو یہ تین آیتیں مجھ پر نازل ہوئیں، اس کا نام الکوثر ہے اور یہ قرآن کریم کی سورت ہے۔ اور پھر صحابہ کرامؓ نے یہ بات آگے امت تک پہنچائی۔ اب حضورؐ کی بات صحابہ کرامؓ کے ذریعے امت تک پہنچی، یہ بات کیا کہلاتی ہے؟ حدیث دراصل اسی کا نام ہے۔

ہم میں سے تقریباً‌ ہر کوئی یہ جانتا ہے اور ہمارا اس پر ایمان ہے کہ قرآن کریم کی جو سب سے پہلی سورت نازل ہوئی وہ سورۃ العلق تھی: ’’اقرأ باسم ربک الذی خلق۔‘‘ پھر دیگر آیتیں اور سورتیں نازل ہوتی رہیں۔ آخری سورتوں میں ایک سورۃ النصر ہے: ’’اذا جاء نصر اللہ والفتح۔‘‘ اور آخری نازل ہونے والی آیت ہے ’’الیوم اکملت لکم دینکم واتممت علیکم نعمتی ورضیت لکم الاسلام دینا۔‘‘

لیکن ہم قرآن کریم کس ترتیب سے پڑھتے ہیں؟ کیا ہم پہلے سورۃ العلق اور آخر میں سورۃ النصر پڑھتے ہیں؟ ہم یقیناً‌ اس ترتیب سے نہیں پڑھتے۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم جس ترتیب سے نازل ہوا، وہ ترتیب کس نے بدلی؟ کون اتھارٹی ہے اس پر؟ جب ہم یہ مانتے ہیں کہ قرآن کریم کی پہلی پانچ آیتیں سورۃ العلق کی نازل ہوئی تھیں، تو ہم پہلے وہ کیوں نہیں پڑھتے؟ ہمارے پاس جو مصحف ہے، سورۃ العلق اس کی آخری سورتوں میں سے ہے۔ اور پھر جسے قرآن کریم کی آخری آیت کہا جاتا ہے ’’الیوم اکملت لکم دینکم‘‘ یہ قرآن کریم کی پانچویں سورۃ میں ہے۔ اب ظاہر ہے یہ ترتیب کسی اتھارٹی نے بدلی ہے اور وہ اتھارٹی جناب نبی اکرمؐ کی ذاتِ گرامی ہے۔ ہم قرآن کریم کو نازل ہونے والی ترتیب کے ساتھ نہیں بلکہ حضورؐ کی قائم کردہ ترتیب سے پڑھتے ہیں۔

یہ سوال کہ قرآن کریم کی پہلی سورۃ الفاتحہ ہے، دوسری البقرۃ ہے، تیسری آل عمران ہے، چوتھی النساء ہے، پانچویں المائدۃ ہے، ایک سو تیرہویں الفلق ہے، ایک سو چودھویں الناس ہے۔ یہ ترتیب کس نے قائم کی اور ہمیں اس کے متعلق کس نے بتایا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ حضورؐ نے قرآن کریم کی یہ ترتیب قائم کی اور صحابہؓ نے آگے امت تک قرآن کریم اسی ترتیب کے ساتھ پہنچایا۔

حضرت زید بن ثابتؓ جو قرآن کریم کے سب سے بڑے کاتب تھے، فرماتے ہیں کہ جب قرآن کریم کی آیت نازل ہوتی تھی تو حضورؐ مجھے بلاتے تھے، اور فرماتے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی ہے، اسے فلاں سورۃ میں فلاں آیت سے پہلے اور فلاں آیت کے بعد لکھو۔ آپؐ نازل ہونے والی آیت بتاتے تھے، جس سورۃ میں درج کرنی ہوتی وہ بھی بتاتے، اور اس کے درج کرنے کی جگہ بھی بتاتے تھے۔ یہ جو ’’الحمد للہ رب العالمین‘‘ سے لے کر ’’من الجنۃ والناس‘‘ تک قرآن کریم تک جو ترتیب چلی آرہی ہے، جس ترتیب سے ہم آج تک پڑھتے چلے آرہے ہیں، اور قیامت تک اسی ترتیب سے پڑھتے رہیں گے، یہ ترتیب نزولی نہیں ہے یعنی اس ترتیب پر قرآن کریم نازل نہیں ہوا۔ یہ ترتیب توقیفی ہے جو بعد میں بنی اور اسے بنانے والے حضورؐ ہیں۔ صحابہ کرامؓ نے حضورؐ کی قائم کردہ ترتیب پر قرآن کریم آگے امت تک روایت کیا۔ اور صحابہؓ کا یہ روایت کرنا ہی دراصل حدیث کہلاتا ہے۔

قرآن کریم پہلی بار لکھا گیا جب جنگوں میں کافی تعداد میں حفاظ شہید ہوئے اور حضرت عمرؓ نے خطرہ محسوس کیا کہ قرآن کریم کے بارے میں کوئی مسئلہ نہ پیش آجائے۔ جبکہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں جو تدوینِ ثانی ہوئی وہ حضرت حذیفہؓ کے خطرہ محسوس کرنے پر ہوئی۔ لوگ مختلف قراءتوں میں قرآن کریم پڑھتے تھے۔ اب بھی قاری حضرات مختلف قراءتوں میں پڑھتے ہیں۔ لفظ بعض اوقات ایک لغت میں ایک طرح بولا جاتا ہے جبکہ کسی دوسری لغت میں دوسری طرح بولا جاتا ہے۔ عربوں کو تو پتہ تھا کہ اُس لغت کا لفظ بھی ٹھیک ہے اور اِس لغت کا لفظ بھی ٹھیک ہے۔ لیکن عجمیوں کے نزدیک دونوں لفظ مختلف ہوتے تھے۔ میں اس کی مثال اس طرح دیا کرتا ہوں کہ ہمارے علاقے میں پنجابی کا ایک لفظ بولا جاتا ہے ’’کیویں‘‘ جس کا مطلب ہے ’’کیسے‘‘۔ لیکن سیالکوٹ یا شکر گڑھ کے علاقوں میں ’’کِداں‘‘، جہلم کے علاقے میں ’’کنجوں‘‘، گجرات و کوٹلہ کے علاقوں میں ’’ککن‘‘ اور پنڈی میں ’’کیاں‘‘ کے لفظ بولے جاتے ہیں۔ ان سب لفظوں کا معنی ہے ’’کیسے‘‘۔ اب ہم پنجابیوں کو تو کوئی الجھن نہیں ہوتی۔ لیکن کسی دوسری زبان والے سے پوچھیں تو وہ کہے گا کہ بھئی یہ ایک نہیں بلکہ پانچ لفظ ہیں۔ حروف الگ ہیں، لہجہ الگ ہے اور تلفظ بھی الگ ہے۔

چنانچہ عربوں کو تو الجھن نہیں ہوتی تھی لیکن غیر عرب لوگوں کو الجھن پیدا ہوئی۔ حضرت حذیفہؓ ایک جنگ میں کمانڈر تھے آذربائیجان کے علاقے میں۔ میدانِ جنگ میں ایک خیمے میں بیٹھے ہوئے تھے، ساتھ والے خیمے میں لڑائی ہو گئی۔ بھاگے بھاگے گئے تو دیکھا کہ دو آدمی ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ پوچھا، کیا ہوا بھئی؟ دونوں عجمی تھے، عربی نہیں تھے۔ ایک نے کہا، یہ قرآن کریم غلط پڑھ رہا تھا، میں نے اسے منع کیا تو یہ مجھ سے لڑ پڑا۔ دوسرے نے کہا، میں صحیح پڑھ رہا تھا اور یہ مجھے غلط بتا رہا تھا۔ پڑھنے والے نے کہا کہ میں نے یہ حضرت ابو الدرداءؓ سے پڑھا ہے، میں کیسے غلط ہو سکتا ہوں۔ سننے والے نے کہا کہ میں نے حضرت عبد اللہ ابن مسعودؓ سے پڑھا ہے، وہ کیسے غلط ہو سکتے ہیں۔ اب دونوں کی سندیں مضبوط تھیں۔ حضرت حذیفہؓ نے ایک سے کہا کہ تم سناؤ، اس نے سنایا۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا، ٹھیک پڑھ رہے ہو تم۔ دوسرے سے کہا کہ تم سناؤ۔ اس نے سنایا۔ فرمایا کہ تم بھی ٹھیک پڑھ رہے ہو۔ یہ معاملہ ’’کیویں‘‘ اور ’’کِداں‘‘ کا ہی تھا۔ خیر حضرت حذیفہؓ نے دونوں کو سمجھایا کہ پڑھانے والوں نے تم دونوں کو ٹھیک پڑھایا ہے۔

لیکن حضرت حذیفہؓ نے خطرہ محسوس کیا کہ یہ تو ایک مستقل مسئلہ بن جائے گا اور عجمیوں میں تو ایک ایک لفظ پر لڑائی ہوگی۔ وہاں سے جب مدینہ منورہؓ گئے تو امیر المؤمنین حضرت عثمانؓ سے کہا کہ یا حضرت اس مسئلے کو سنبھال لیجیے ورنہ بعد والے لوگ لڑ لڑ کر مر جائیں گے۔ ان سب کو کسی ایک لغت پر اکٹھا کر دیجیے۔ حضرت عثمانؓ نے حضرت زید بن ثابتؓ کو بلایا، کہا کہ بھئی دیکھو، قریش کے جس لہجے میں حضورؐ قرآن کریم پڑھتے تھے، اس لہجے میں ایک نسخہ مرتب کر دو۔ باقی کوئی کسی دوسری لغت میں پڑھتا ہے تو اس کی مرضی لیکن اسٹینڈرڈ نسخہ وہی ہوگا جو قریش کی لغت میں ہے۔ چنانچہ صرف ایک لغت پر سب کو اکٹھا کرنے کے لیے کہ عجمیوں کو کوئی مسئلہ درپیش نہ ہو، ایک اسٹینڈرڈ نسخہ لکھوا دیا گیا۔ یہ وہ نسخہ ہے جو صحابہ کرامؓ کی ایک کمیٹی نے، جس میں حضرت زید بن ثابتؓ بھی شامل تھے، حضرت عثمان بن عفانؓ کے حکم پر تحریر کیا۔ اور جس کی متعدد نقول لکھوا کر امیر المؤمنین نے سلطنتِ اسلامیہ کے دور دراز علاقوں میں بھجوائے۔ انہی نسخوں میں سے ایک نسخہ جو لندن کی انڈیا آفس لائبریری میں موجود و محفوظ ہے، اس کی زیارت کا شرف مجھے بھی حاصل ہوا ہے۔

میں نے آج کی گفتگو میں قرآن و حدیث کے باہمی تعلق کے ایک پہلو پر بات کی ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ تک پہنچنے کا ذریعہ بھی حدیث ہے، قرآن کریم کی سورتوں تک پہنچنے کا ذریعہ بھی حدیث ہے، قرآن کریم جس ترتیب سے ہم پڑھتے ہیں، اس ترتیب تک پہنچنے کا ذریعہ بھی ہمارے پاس حدیث ہی ہے۔ حدیث کے بغیر ہم قرآن کریم کی سورتوں، آیات، جملوں اور ترتیب نہیں پہنچ سکتے۔

میں ایک بات عام طور پر عرض کیا کرتا ہوں، اور اسی پر آج کی بات سمیٹوں گا۔ بعض لوگوں کو شبہ ہے کہ حدیث پر ایمان لانا ضروری ہے یا نہیں۔ یہ بھی آج کے مسئلوں میں سے ایک مسئلہ ہے، کہ جی حدیث کو کیوں مانیں، کیا قرآن کافی نہیں ہے؟ یعنی تعجب کی بات یہ ہے کہ جو چیز ثابت ہے وہ تو مانیں، لیکن جس کے ذریعے سے ثابت ہوئی اور جس پر وہ موقوف ہے وہ ماننا ضروری نہیں ہے۔

میں یہاں بظاہر ایک سخت سی بات کہوں گا، لیکن دراصل واقعہ یوں ہی ہے کہ علم اور دلائل کی ترتیب میں قرآن کا نمبر پہلا ہے جبکہ حدیث کا نمبر دوسرا، لیکن ایمان کی ترتیب میں حدیث پہلے ہے اور قرآن بعد میں:

  1. ہم کسی مسئلے پر دلیل تلاش کریں گے تو پہلے قرآن میں دیکھیں گے، اگر نہیں ملے گی، یا کسی آیت یا جملے کی وضاحت کی ضرورت ہو گی تو حدیث کی طرف رجوع کریں گے۔
  2. ایمان کی ترتیب میں حدیث کے پہلے ہونے کی بات بظاہر سخت ہے لیکن امر واقعہ یہی ہے۔ پہلے ہم حدیث پر ایمان لائیں گے پھر قرآن پر۔ اگر ہم یہ کہیں کہ ’’آپؐ نے فرمایا کہ سورۃ فاتحہ قرآن کی سورت ہے‘‘ تو کیا ہم پہلے حضورؐ کے فرمان پر ایمان لاتے ہیں یا سورۃ فاتحہ کے قرآن کریم کی سورت ہونے پر؟ اسی طرح اگر ہم یہ کہیں کہ ’’رسول اللہؐ نے فرمایا کہ سورۃ الاخلاص قرآن کی سورت ہے اور ثلث قرآن ہے‘‘ تو ہم نے پہلے کونسی بات مانی؟ پہلے ہم نے حضورؐ کے ارشاد کو مانا یا پہلے سورۃ الاخلاص کے قرآن کریم کے سورۃ ہونے کو مانا؟

اس لیے میں عرض کیا کرتا ہوں کہ دلیل کی ترتیب میں قرآن پہلے اور حدیث بعد میں ہے۔ لیکن ایمان کی ترتیب میں حدیث پہلے اور قرآن بعد میں ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم ہمیں ملا ہی حدیثِ نبویؐ سے ہے۔ اگر حدیث درمیان میں نہ ہو تو ہم قرآن کریم تک نہیں پہنچ سکتے۔

(روزنامہ اسلام، کراچی۔ ۲۳ تا ۲۵ اپریل ۲۰۲۶ء)
   
2016ء سے
Flag Counter