بھارت کے ایٹمی دھماکے کے بعد پاکستان کے ایٹمی دھماکے کا انتظار تو تھا مگر یہ خدشہ بھی تھا کہ بین الاقوامی حلقے اور ملک کے اندر ان کی نمائندہ لابیاں جس طرح کا مسلسل دباؤ ڈال رہی ہیں اور پاکستان کو ایٹمی قوت بننے سے روکنے کے لیے جو سازشیں کی جا رہی ہیں وہ کہیں اپنا رنگ دکھا نہ دیں۔ چنانچہ اس تذبذب کے عالم میں گوجرانوالہ کے ایک صحافی دوست نے فون پر پاکستان کے ایٹمی دھماکوں اور ان کی کامیابی کی خبر دی تو دل کی دھڑکن میں اضافہ ہو گیا اور آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ اس خبر کا ایک مدت سے انتظار تھا اور یہ خوشخبری سننے کی ایک عرصہ سے دل میں حسرت تھی۔ خدا جانے کتنے لوگ اس خبر کے انتظار میں آسمان کی طرف دیکھتے دیکھتے دنیا سے رخصت ہو گئے اور کتنے بے چین دلوں نے اس آرزو میں رات کی تنہائیوں کو سجدوں اور آنسوؤں سے آباد کیا۔
ایٹمی قوت پاکستان اور عالمِ اسلام کا حق تھا جس سے ملتِ اسلامیہ کو محروم رکھنے کے لیے عالمی استعمار نے کتنے پاپڑ بیلے اور کیا کیا جتن کیے۔ مگر مبارکباد کے مستحق ہیں وہ لوگ جنہوں نے ان مشکلات و مصائب کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے دلجمعی اور استقامت کے ساتھ اپنے کام کو مکمل کیا اور بالآخر پاکستان اور عالمِ اسلام کو ایٹمی قوتوں کی صف میں کھڑا کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ اور سچی بات یہ ہے کہ اس روز پاکستان کے ایٹمی دھماکوں کی صحیح قدر و قیمت کا اندازہ ہوا جب گزشتہ سال لندن میں مصر کے ایک عربی اخبار میں عرب دنیا کے ایک معروف کالم نگار کے مضمون میں یہ جملہ نظر سے گزرا کہ اسرائیل اب ہوش سے بات کرے کیونکہ ہم اب ایٹمی طاقت ہیں۔
پاکستان کے بارے میں عالمِ اسلام کے جذبات کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ دو سال قبل لندن میں مختلف مسلم ممالک کی اسلامی تحریکات کے نمائندوں کا ایک اجلاس ہوا جس میں راقم الحروف بھی شریک تھا۔ اس اجلاس میں یہ نکتہ زیر غور تھا کہ مسلم ممالک میں سے کون سا ملک ایسا ہے جہاں اسلامی نظام کا عملی نفاذ باقی ممالک کی بہ نسبت آسان ہے اور وہ اس معاملہ میں دنیا کے باقی مسلم ممالک کے لیے نمونہ بن سکتا ہے۔ اجلاس میں کم و بیش بارہ تیرہ مسلم ممالک کے دانشور شریک تھے اور اس سوال کے جواب میں کم و بیش سبھی حضرات کا کہنا تھا کہ ایسا ملک تو پاکستان کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے اور ہم سب کی نگاہیں پاکستان کی طرف لگی ہوئی ہیں۔
مختلف مسلم ممالک کے دانشوروں کی زبان سے یہ سن کر خوشی بھی ہوئی کہ پاکستان کے بارے میں اسلامی تحریکات کے نمائندے اس قدر اچھے جذبات رکھتے ہیں، مگر دل ہی دل میں پریشانی بھی ہوئی کہ ہمارے ہاں تو اس معاملہ میں کوئی سنجیدگی نہیں پائی جاتی۔ اور حکمران طبقات تو رہے ایک طرف، خود دینی جماعتوں اور اسلامی نظام کے نفاذ کے علمبردار حلقوں کا حال یہ ہے کہ نفاذِ اسلام کی بات جلسوں کی قراردادوں اور اخبارات کے بیانات سے آگے نہیں بڑھ رہی، کوئی ہوم ورک نہیں ہے، کارکنوں کی ذہن سازی نہیں ہے، باہمی ربط و مفاہمت اور اعتماد کی فضا موجود نہیں ہے، اور مخالف لابیوں اور حلقوں کے ورک اور پیشرفت کا اندازہ نہیں ہے۔ ان حالات میں ہم عالمِ اسلام کی توقعات پر کیسے پورے اتریں گے، اور دنیا بھر کی اسلامی تحریکات نے ہم سے جو توقعات وابستہ کر لی ہیں وہ کیسے پوری ہوں گی؟
ایٹمی قوت بننے کے بعد تو عالمِ اسلام کی توقعات ہم سے اور زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ مسلم ممالک ہمیں اپنا بڑا بھائی اور محافظ سمجھنے لگے ہیں اور ملتِ اسلامیہ کی اسلامی تحریکات ہمیں اپنا راہنما تصور کرتی ہیں۔ اس لیے ’’یومِ تکبیر‘‘ کے موقع پر خوشی کے جائز اظہار کے ساتھ ساتھ ہمارے کرنے کا اصل کام یہ ہے کہ ہم اس حوالہ سے اپنی ذمہ داریوں کو پہچانیں اور ان سے عہدہ برآ ہونے کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔
اس سلسلہ میں حکمرانوں سے ہماری گزارش ہے کہ پاکستان کی ایٹمی حیثیت کے تحفظ اور اس کے بارے میں عالمِ اسلام کے اعتماد کو باقی رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کے بارے میں سی ٹی بی ٹی اور اس نوعیت کے دیگر بین الاقوامی تحفظات کو قبول نہ کرنے کا واضح اعلان کر کے ایٹمی پالیسی پر اپنا آزادانہ کنٹرول بحال رکھیں۔ ایٹمی قوت کے ساتھ نظریاتی قوت کا اظہار بھی ضروری ہے اور وہ ملک میں مکمل اسلامی نظام کے عملی نفاذ کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ یہ دونوں آپس میں لازم و ملزوم ہیں اور حکمرانوں کو اس کے لیے بھی اسی طرح کی جرأت کا مظاہرہ کرنا ہو گا جیسی جرأت ایٹمی دھماکوں کا فیصلہ کرتے وقت دکھائی تھی۔
جبکہ ملک کی دینی جماعتوں، علمی مراکز اور نفاذِ اسلام کے لیے کام کرنے والے حلقوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کا احساس کریں، مسائل و حالات کا ادراک حاصل کریں، اپنے علماء اور کارکنوں کی ذہن سازی کریں، اور رائے عامہ کو نفاذِ اسلام کے تقاضوں اور مشکلات سے آگاہ رکھنے کا اہتمام کریں، کیونکہ اسی صورت میں ہم ’’یومِ تکبیر‘‘ کے منطقی اور فطری تقاضوں پر پورا اتر سکیں گے۔

