دینی جماعتوں کو وزیر داخلہ کا چیلنج

   
۴ ستمبر ۲۰۰۱ء

روزنامہ نوائے وقت لاہور ۸ ستمبر ۲۰۰۱ء کی خبر کے مطابق وفاقی وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر نے ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ دینی جماعتوں کے پاس اگر اسلامی نظام کا کوئی خاکہ ہے تو پیش کریں۔ ان کے اس ارشاد سے یہ تاثر ملتا ہے کہ دینی جماعتوں کے پاس اسلامی نظام کا کوئی خاکہ موجود نہیں ہے اور وہ اسلام کے نفاذ کا جو مطالبہ کر رہی ہیں وہ محض ایک نعرہ ہے۔ دینی جماعتوں کے بارے میں یہ بات ایک عرصہ سے کہی جا رہی ہے لیکن یہ نہ صرف خلافِ واقعہ ہے بلکہ یہ بات اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ ایسا کرنے والے لوگ یا تو حقائق و واقعات سے بے خبر ہیں اور یا جان بوجھ اسلامی نظام کے بارے میں کنفیوژن پیدا کرنے اور لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اسلام کے نفاذ اور مثالی اسلامی معاشرہ کے قیام کے نعرہ پر جب پاکستان کے نام سے ایک نئی ریاست دنیا کے نقشے پر نمودار ہوئی تھی تو اس وقت دو باتیں کہی جاتی تھیں:

  1. ایک یہ کہ دینی جماعتوں میں اتفاق نہیں ہے اور اسلام کی تعبیر و تشریح میں ہر ایک کا موقف الگ ہے، اس لیے نفاذِ اسلام ایک فرقہ وارانہ مسئلہ ہے اور یہ طے کرنا مشکل ہے کہ کس فرقے کا اسلام نافذ کیا جائے۔
  2. دوسری بات یہ کہی جاتی رہی ہے کہ اسلامی نظام کا کوئی مرتب خاکہ سرے سے دینی قوتوں اور جماعتوں کے پاس موجود نہیں ہے، اس لیے یہ بات واضح نہیں ہے کہ نفاذِ اسلام کے نام پر کون سے عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔

لیکن پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام نے مل بیٹھ کر ۲۲ دستوری نکات کی صورت میں نہ صرف اسلامی نظام کا خاکہ قوم کے سامنے پیش کر دیا تھا بلکہ یہ بات بھی واضح کر دی تھی کہ مختلف مکاتب فکر کے بنیادی ڈھانچے پر ملک کے تمام مکاتبِ فکر پوری طرح متفق ہیں۔ اور اس کے ساتھ ہی ۲۲ دستوری نکات کی صورت میں مختلف مکاتبِ فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام نے یہ بھی صراحت کے ساتھ بتا دیا تھا کہ وہ اجتماعیت کے جدید مسائل، سیاسی معاملات اور اجتہادی امور سے پوری طرح باخبر ہیں، اور انہیں اجتہادی صلاحیت کے ساتھ حل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔

یہ دستوری نکات آج بھی موجود ہیں اور ان پر تمام مکاتبِ فکر کا اتفاق بھی موجود ہے بلکہ ان میں سے بہت سی باتیں دستورِ پاکستان میں شامل بھی ہو چکی ہیں۔ لیکن اس سارے عمل کو نظرانداز کرتے ہوئے وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر ملک کی دینی جماعتوں سے فرمائش کر رہے ہیں کہ ان کے پاس اسلامی نظام کا کوئی خاکہ ہو تو وہ اسے پیش کریں۔ 

ہمارے محترم وزیر داخلہ شاید اس بات سے بھی بے خبر ہیں کہ ملک کا مروجہ عدالتی، انتظامی اور معاشی نظام ۱۸۵۷ء کے بعد اس خطہ میں برطانوی حکومت کی باقاعدہ عملداری کے بعد نافذ ہوا تھا، اور اس نے جس نظام کی جگہ لی تھی وہ ایک مکمل اور مربوط نظام اور سسٹم تھا جسے میدان سے ہٹا کر طاقت کے زور پر انگریزوں نے نیا نظام نافذ کیا تھا۔ وہ نظام کسی نظام کا محض خاکہ نہیں تھا بلکہ مکمل طور پر مربوط اور منظم سسٹم تھا جس نے اس خطہ میں صدیوں حکمرانی کی تھی۔ اور وہ نظام قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی بنیاد پر سلطان اورنگزیب عالمگیر کے دور میں سرکردہ علماء کرام اور قانون دانوں کی ایک کونسل نے مرتب کیا تھا، اسے فتاویٰ ہندیہ اور فتاویٰ عالمگیری کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ نظام بھی آج مکمل شکل میں کتابوں میں موجود ہے اور اس کی پشت پر صدیوں کی کامیاب عملداری کا تجربہ بھی تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔

اگر جناب معین الدین حیدر کا اس پر بھی اطمینان نہ ہو رہا ہو تو ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلام کو ملک کا سرکاری مذہب قرار دیتے ہوئے ملک کے تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کی ضمانت دی گئی تھی اور اس مقصد کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کے نام سے ایک آئینی ادارہ قائم کیا گیا تھا جس میں ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام، ممتاز قانونی ماہرین اور ریٹائرڈ جسٹس صاحبان ہر دور میں شامل رہے ہیں۔ اور آج بھی یہ کونسل سرکاری اور دستوری ادارہ ہونے کے باوجود ملک کے تمام مکاتب فکر کے سرکردہ علماء کرام اور جدید قانون کے ممتاز ماہرین کی موجودگی کی وجہ سے دینی حلقوں کا اعتماد رکھتی ہے اور ملک کی مذہبی قوتوں کی نمائندہ سمجھی جاتی ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل نے ملک کے تمام مروجہ قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھالنے کا کام اگرچہ بہت تاخیر سے مکمل کیا ہے لیکن یہ کام ہو چکا ہے اور ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جن قانونی تبدیلیوں کی ضرورت ہے ان سب کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کے مرتب کردہ مسودات وفاقی وزارتِ قانون کے فریزر میں منجمد پڑے ہیں اور ان کی پیشانی پر ‘‘صرف سرکاری استعمال کے لیے‘‘ کی مہر لگا کر ان کی عام اشاعت کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے یہ مسودات اور اس کی جامع رپورٹ نہ صرف اسلامی نظام کا مکمل خاکہ ہے بلکہ اسے ملک کے تمام مکاتبِ فکر کے علماء کرام کی تائید اور اعتماد بھی حاصل ہے اور بڑی بڑی دینی جماعتوں کی طرف سے ان مسودات کو قانونی شکل دے کر ملک میں نافذ کرنے کے مسلسل مطالبات ہو رہے ہیں۔

اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ مختلف مکاتبِ فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام کے مرتب کردہ ۲۲ متفقہ دستوری نکات اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ اور مسودات کے بعد کسی شخص کے لیے یہ کہنے کی گنجائش نہیں ہے کہ دینی جماعتوں کے پاس اسلامی نظام کا کوئی خاکہ نہیں ہے، یا نفاذِ اسلام کے بنیادی مسائل پر دینی جماعتوں میں کوئی اختلاف موجود ہے۔ اور اگر اِس سب کچھ کے باوجود کوئی شخص یہ بات کہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ یا ان حقائق و واقعات سے بے خبر ہے اور یا ان پر پردہ ڈالنے اور بلاوجہ کنفیوژں پیدا کرنے کا خواہاں ہے۔

ان گزارشات کے ساتھ ہم وفاقی وزیر داخلہ جناب معین الدین حیدر سے یہ عرض کرنا چاہتے ہیں کہ وہ اسلامی نظام کے خاکے کا دینی جماعتوں سے مطالبہ نہ کریں بلکہ وزارتِ قانون کے فریزر کا ڈھکن اٹھائیں، انہیں ہر چیز وہاں موجود ملے گی۔ اور اگر اس فریزر کی چابی بھی خدانخواستہ امریکی وزارت خارجہ کے جنوبی ایشیا کے ڈیسک کے حوالے کر دی گئی ہے تو ’’بچہ بغل میں، ڈھنڈورا شہر میں‘‘ کا ڈرامہ بار بار دہرانے اور دہراتے چلے جانے کا عمل آخر قوم کو دھوکہ دینے کی ناکام کوشش کے سوا اور کیا عنوان حاصل کر سکے گا؟

   
2016ء سے
Flag Counter