کوڑوں کی سزا اور انسانی حقوق

   
مارچ ۱۹۹۶ء

روزنامہ پاکستان لاہور ۳۱ جنوری ۱۹۹۶ء کی خبر کے مطابق سینٹ آف پاکستان نے کوڑوں کی سزا ختم کرنے کا بل منظور کر لیا ہے جس کے تحت اب ملک میں حدود کے قوانین کے علاوہ اور کسی مقدمہ میں مجرم کو کوڑوں کی سزا نہیں دی جا سکے گی۔

کوڑوں کی سزا ختم کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اس کی وجہ معلوم کرنے کے لیے روزنامہ نوائے وقت لاہور میں ۲۵ جنوری ۱۹۹۶ء کو شائع ہونے والی یہ خبر ملاحظہ فرمائیے:

’’عراقی حکومت نے وہ تمام سزائیں ختم یا موقوف کر دی ہیں جن کے بارے میں مغرب کا کہنا ہے کہ یہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہیں۔ ان سزاؤں میں کان کاٹنا یا پیشانی کو داغنا شامل ہے۔ وزیر انصاف شباب الملکی نے بتایا کہ عراق ایسے تمام قوانین کا جائزہ لے رہا ہے جو اس کے شہریوں کی آزادی کو سلب کرتے ہیں اور ایسے تمام قوانین اور سزائیں ختم کر دی جائیں گی۔ انہوں نے کہا کہ ان سزاؤں کی موقوف کا حکم صدر صدام حسین نے دیا ہے۔‘‘

اس سے قبل پاکستان کے بعض سیاستدانوں کی طرف سے ہاتھ کاٹنے، سنگسار کرنے اور کوڑے مارنے کی سزاؤں کو غیر انسانی اور وحشیانہ قرار دینے کے بیانات قومی پریس کے ذریعے سامنے آ چکے ہیں اور انسانی حقوق کے نام سے کام کرنے والی متعدد تنظیمیں ایسے قوانین اور سزاؤں کی منسوخی کا ایک عرصہ سے مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان حلقوں کا موقف یہ ہے کہ اس قسم کی سزائیں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر کی رو سے انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے ضمن میں شمار ہوتی ہیں، کیونکہ چارٹر کی دفعہ ۵ میں کہا گیا ہے کہ

’’کسی شخص کو تشدد اور ظلم کا نشانہ نہیں بنایا جائے گا اور کسی شخص کے ساتھ غیر انسانی اور ذلت آمیز سلوک نہیں کیا جائے گا یا ایسی سزا نہیں دی جائے گی۔‘‘

گویا اس دفعہ کی رو سے کسی مجرم کو دی جانے والی سزا کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ سزا تشدد (جسمانی تکلیف) اور تذلیل سے خالی ہو، ورنہ وہ انسانی حقوق کے منافی قرار پائے گی۔ اور اس کی وجہ سے سنگسار کرنے، ہاتھ کاٹنے، قصاص میں جسم کے کسی عضو کو قطع کرنے، کوڑے مارنے اور کسی مجرم کو کھلے عام لوگوں کے سامنے سزا دینے کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے۔

ہماری حکومت نے اگرچہ عوامی ردعمل کے ڈر سے حدود کے مقدمات کو کوڑوں کی سزا ختم کرنے کے بل سے مستثنیٰ کر دیا ہے لیکن بنیادی طور پر یہ بل سزاؤں کے بارے میں مغرب کے تصور اور فلسفہ کو قبول کرنے اور اس سلسلہ میں معذرت خواہانہ طرز عمل اختیار کرنے کے مترادف ہے۔ ورنہ اسلام میں تو معاشرتی امن، انصاف اور عدل کی علامت ہی حضرت عمرؓ کا کوڑا ہے جو نہ صرف مجرموں کی پشت پر برستا تھا بلکہ زلزلے کے وقت زمین کی پشت پر برس کر مجسم سوال بن جاتا تھا کہ

’’کیوں کانپتی ہے؟ کیا عمرؓ نے تجھ پر انصاف نہیں کیا؟‘‘

   
2016ء سے
Flag Counter