پاکستان فلسطین فورم کا عوامی قافلہ اور ہماری ذمہ داری

   
۹ مارچ ۲۰۲۶ء

سنیٹر (ر) محترم جناب مشتاق احمد خان کے قائم کردہ ’’پاکستان فلسطین فورم‘‘ کا ایک وفد گزشتہ دنوں گوجرانوالہ آیا تو وفد نے الشریعہ اکادمی میں مجھ سے بھی ملاقات کی اور اپنے پروگرام سے آگاہ کرتے ہوئے اس میں تعاون کے لیے کہا۔ مسجد اقصیٰ اور فلسطین کے مسئلہ پر بحمد اللہ تعالیٰ ۱۹۶۷ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دور سے ہی کچھ نہ کچھ کہتے اور کرتے رہنے کی سعادت حاصل ہوتی چلی آ رہی ہے اور اخبارات میں شائع ہونے والے مختلف کالموں کے دو مجموعے ’’مسئلہ فلسطین‘‘ اور ’’صہیونیت کا تاریخی پس منظر‘‘ شائع ہو چکے ہیں۔

وفد نے محترم مشتاق احمد خان کا ایک گرامی نامہ بھی پیش کیا جس میں انہوں نے ’’پاکستان فلسطین فورم‘‘ کے پروگرام کے سلسلہ میں یہ تفصیل پیش فرمائی ہے:

’’… میں آپ کو پاک فلسطین فورم کے ایک اہم عوامی اقدام کے بارے میں آگاہ کرنا چاہتا ہوں۔ یہ پر امن قومی قافلہ Pakistanis March to Gaza: From Khyber to Karachi – A Caravan for Al-Aqsa غزہ کے عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار اور پاکستان بھر میں فلسطین میں بھاری انسانی بحران کے حوالے سے آگاہی پیدا کرنے کے لیے ترتیب دیا گیا ہے۔

یہ اقدام اہم شہریوں، سول سوسائٹی اور کمیونٹی رہنماؤں کو انسانی امدادی کوششوں کی حمایت اور وسیع تر سطح پر انصاف اور علاقائی استحکام کے مطالبے کے لیے متحرک کرنے کی کوشش ہے۔ یہ قافلہ ایک بڑے عالمی اقدام ’’گلوبل صمود فلوٹیلا 2.0‘‘ کا حصہ ہے، جس میں میں خود بھی شرکت کر رہا ہوں۔ اس قافلے کا مقصد فلسطین بالخصوص غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار، عوامی سطح پر شعور پیدا کرنا، اور عالمی سطح پر بھاری انسانی بحران کے خلاف ایک پر امن اور مؤثر آواز بلند کرنا ہے۔ یہ ایک پر امن، غیر سیاسی اور غیر متشدد عوامی اقدام ہے جس میں معاشرے کے تمام طبقات — طلبہ، وکلا، تاجر، علما، سوشل ورکرز اور عام شہری شریک ہوں گے۔

آپ کی سماجی حیثیت، اثر و رسوخ اور قیادت کے پیش نظر، آپ کی شمولیت اس مشن کو نہ صرف تقویت دے گی بلکہ عوام تک اس پیغام کو مؤثر انداز میں پہنچانے میں بھی کلیدی کردار ادا کرے گی ۔ ہم آپ سے درج ذیل امور میں تعاون کی درخواست کرتے ہیں: قافلے میں اپنی شرکت اور نمائندگی کو یقینی بنائیں۔ اپنے حلقہ اثر میں اس پیغام کو پھیلانے میں معاونت کریں۔ اس قومی و انسانی مشن کے لیے اخلاقی، سماجی اور ممکنہ مالی تعاون فراہم کریں۔ اپنے ادارے/تنظیم کے پلیٹ فارم سے اس اقدام کی حمایت کریں۔ …‘‘

جہاں تک فلسطین بالخصوص غزہ کے حوالہ سے مشتاق احمد صاحب اور ان کی اہلیہ محترمہ حمیرا مشتاق کی تگ و دو کا تعلق ہے وہ لائق تحسین ہے اور اس کے مختلف مراحل میں پاکستان شریعت کونسل کی طرف سے مجھے اور دیگر سرکردہ راہنماؤں کو بھی شرکت کا موقع ملا ہے اور ہم اسے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔ اور اب بھی پاکستان شریعت کونسل کے راہنماؤں اور کارکنوں کے علاوہ ملک بھر کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام، راہنماؤں اور کارکنوں سے گزارش ہے کہ وہ جس قدر ممکن ہو اس کارِخیر میں تعاون فرمائیں اور جس درجہ میں بھی اس میں شریک ہو سکیں، اس کا اہتمام کریں۔

اس موقع پر اب تک کی مجموعی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے کچھ ضروری پہلوؤں کی طرف توجہ دلانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ان کو ہمیں بہرحال سامنے رکھنا چاہیے:

  1. پہلی بات مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس کے تقدس اور حرمت کے ساتھ ساتھ صہیونی کنٹرول سے اسے آزاد کرانے کی ہے، جو بحیثیت امت مسلمہ ہم سب کی ذمہ داری ہے اور اس میں ہر طبقہ اور فرد کو اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
  2. دوسرے نمبر پر فلسطین کی وحدت اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام فلسطینی عوام کا جائز اور مسلّمہ حق ہے اور اسے مخالف قوتیں ہر صورت پامال کرنے پر تلی ہوئی ہیں۔ اس پر مسلم حکومتوں اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ ساتھ امت مسلمہ کے تمام طبقات کو سنجیدگی کے ساتھ کردار ادا کرنا ہو گا۔
  3. تیسری بات یہ کہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے سامنے نظر آنے والے اس خطرہ کا احساس و ادراک کرنا کہ امریکہ اور اسرائیل کی ہر ممکن کوشش ہے کہ اپنی جارحیت میں شدت پیدا کرنے اور اسے ناکامی سے بچانے کے لیے ان کے پاس ایک مؤثر ترین ہتھیار سنی شیعہ کشمکش کو باہمی محاذ آرائی میں تبدیل کرنا ہے، جس کے لیے ان کی کوششیں اب کھلم کھلا دکھائی دینے لگی ہیں۔ انتہائی بیدار مغزی اور حکمتِ عملی کے ساتھ ایسی ہر کوشش کو ناکام بنانا ہمارے اجتماعی اہداف کا بنیادی تقاضہ ہے جسے کسی صورت میں نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
  4. اور چوتھے نمبر پر پاکستان اس وقت چین کے تعاون سے امریکہ اور ایران کی جنگ رکوانے کے لیے جو لائق تحسین کردار ادا کر رہا ہے پوری دنیا اس کی کامیابی کی متمنی ہے اور ہم اس کے لیے مسلسل دعاگو ہیں، لیکن خدانخواستہ اس میں پیش رفت نہ ہونے پر بیت المقدس بلکہ اس سے بھی زیادہ حرمین شریفین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے تقدس اور تحفظ کو درپیش خطرات پر نظر رکھنا اور ان سے بچاؤ کی ہر ممکن صورت اختیار کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے، جس کے لیے سب سے زیادہ او آئی سی (اسلامی تعاون تنظیم)، عرب لیگ، دیگر بین الاقوامی اداروں اور مسلم حکومتوں کو سنجیدگی اختیار کرنا ہو گی۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

’’پاکستان فلسطین فورم‘‘ کے وفد نے ہمیں بتایا کہ غالباً‌ ۱۹ اپریل سے یہ عوامی قافلہ درہ خیبر سے روانہ ہو کر جی ٹی روڈ پر کراچی کی طرف رواں دواں ہو گا اور پر امن مارچ کرتے ہوئے عوامی جذبات و رجحانات کے منظم اظہار کا اہتمام کرے گا۔ ہم اس کی کامیابی کے لیے دعاگو بھی ہیں اور اپنی بساط کے دائرے میں ہر ممکن تعاون کا عزم بھی رکھتے ہیں، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

   
2016ء سے
Flag Counter