دینی مدارس کے اساتذہ کرام سے چند باتیں

   
جامعہ بیت النور، پی آئی اے سوسائٹی، لاہور
۱۲ مارچ ۲۰۲۱ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ میرے لیے یہ سعادت کی بات ہے، جامعہ بیت النور میں حاضری ہوتی رہتی ہے اور استفادہ بھی کرتا ہوں، کچھ کاموں میں شریک بھی ہوتا ہوں۔ آج تعلیمی سال کا آغاز ہے جو اپنی برادری اساتذہ کے ساتھ ہو رہا ہے۔ استاذ ایک برادری ہے۔ آپ اساتذہ کرام ہیں ما شاء اللہ اور میری بہنیں اور بیٹیاں فاضلات اور معلمات ہیں۔ تدریسی ماحول کی ایک مجلس سے ہم تعلیمی سال کا آغاز کر رہے ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ ہمارا یہ آغاز قبول فرمائیں اور خیر و خوبی کے ساتھ، عافیت کے ساتھ، ذوق اور محنت کے ساتھ اس کی تکمیل کی توفیق بھی عطا فرمائیں۔

اساتذہ کرام سے گفتگو ہوتی ہے تو عام طور پر بے تکلفی اور گپ شپ کے ماحول میں گفتگو کرتا ہوں۔ آپس میں جب بھائی بیٹھتے ہیں تو برادری کی باتیں برادری کے انداز میں ہی ہونی چاہئیں۔ بے تکلفی کے ساتھ میں کچھ باتیں آپ سے عرض کرنا چاہوں گا۔ کچھ مشاہدات کی، کچھ تجربات کی۔ الحمد للہ کچھ اساتذہ کو دیکھا ہے، ان کی خدمت میں رہنے کی سعادت حاصل کی ہے اور ان سے استفادہ کیا ہے۔ سب کچھ انہی سے استفادہ کیا ہوا ہے۔ اور اللہ پاک مہربانی فرمائیں، الحمد للہ تدریس کی نصف سنچری بھی اس سال پوری کر رہا ہوں، پچاس سال الحمد للہ ہو گئے ہیں تدریس میں۔ مجھے یاد ہے کہ میں نے پہلی کتاب ’’مالا بد منہ‘‘ پڑھائی تھی اور آج اس کو پچاس سال ہو گئے ہیں، الحمد للہ ۵۱واں سال شروع ہے، تو یہ اللہ پاک کی نعمت ہے، فضل ہے، اس کی مہربانی ہے۔

پہلی بات کوئی تمہید باندھے بغیر کہ تدریس کے تقاضے کیا ہیں؟ بات مشاہدے کی عرض کروں گا۔ میرے اساتذہ میں سب سے بڑے استاذ میرے والد محترم ہیں جو شیخ بھی ہیں اور مربی بھی ہیں، سب کچھ ہیں، حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر قدس اللہ سرہ العزیز، میں نے سب سے زیادہ انہی سے پڑھا ہے۔ اور الحمد للہ ان کی زندگی میں انہی کی زیرنگرانی تدریس بھی کی ہے۔ ایک بات وہ کرتے بھی تھے اور کہتے بھی تھے۔ سبق میں ناغے کو وہ کبیرہ گناہ سے بھی اوپر کی کوئی چیز سمجھتے تھے۔ کبیرہ گناہ ہلکا لفظ ہے، ان کے ذوق کے مطابق، سبق کی کسی مجبوری کے بغیر چھٹی اور ناغہ، ان کے ہاں اس کا تصور بھی نہیں تھا۔ گکھڑ سے آیا کرتے تھے۔ گکھڑ گوجرانوالہ سے سولہ کلو میٹر ہے۔ رہائش ان کی گکھڑ میں تھی۔ ایک زمانے میں ٹرین پہ آیا کرتے تھے۔ ریلوے اسٹیشن گکھڑ میں بھی ہے، گوجرانوالہ میں بھی ہے۔ وقت ان کا مقرر تھا۔ … دو شخصیات ایسی ہیں جن کے بارے میں محاورہ ہے کہ لوگ ان کو دیکھ کر گھڑیاں ٹھیک کرتے تھے۔ گھڑی پہ شک کرتے تھے کہ گھڑی میری آگے پیچھے ہو گئی ہو گی، یہ بندہ ٹھیک ہے، اپنے وقت پہ آیا ہے۔ یہ محاورہ عام ہو گیا تھا ہے، ضروری نہیں کہ ایسا ہوا بھی ہو، لیکن محاورہ بن گیا تھا کہ لوگ ان کو دیکھ کر اپنی گھڑی ٹھیک کرتے ہیں کہ یہ وقت پہ آ رہے ہیں، گھڑی میری آگے پیچھے ہو گئی ہے۔ ایک حضرت والد صاحبؒ تھے اور ایک مولانا ظفر علی خان مرحوم جو قومی لیڈر تھے، وزیر آباد کے تھے۔ دونوں ایک ہی تحصیل کے تھے۔ وہ بھی وزیر آباد کے تھے، ہمارے قومی لیڈروں میں بڑا نام ہے مولانا ظفر علی خان رحمۃ اللہ علیہ، بڑے آدمی تھے …

وقت کی پابندی کا حضرت والد صاحبؒ بہت اہتمام کرتے تھے۔ الحمد للہ کچھ نہ کچھ میں بھی کرتا ہوں۔ حضرت والد صاحبؒ کے یومیہ معمولات کا ہمیں معلوم ہوتا تھا، میں لندن میں بھی بیٹھ کر بتا دیا کرتا تھا کہ اس وقت وہ کیا کر رہے ہوں گے۔ کبھی کبھی میں تحدی کے انداز میں کہتا تھا کہ یار اس وقت وہ یہ کر رہے ہوں گے، فون کر کے پوچھ لو۔ رات بارہ بجے کیا کر رہے ہوں گے، دن کے ایک بجے کیا کر رہے ہوں گے۔ چوبیس گھنٹے کی ان کی ترتیب ایسی تھی کہ کوئی چیز اپنی ترتیب سے ہٹ کر نہیں تھی۔ وہ کہا کرتے تھے کہ ایمان اور فرائض کے بعد سب سے زیادہ ضروری چیز وقت کی پابندی ہے۔ وقت سے بے وقت ہونے پر ہمیں ڈانٹ پڑا کرتی تھی بلکہ بسا اوقات ڈانٹ سے بھی کچھ آگے ہو جایا کرتا تھا۔ چھٹی کا تو کوئی تصور ہی نہیں تھا کہ چھٹی بھی ہوتی ہے۔ تو وقت سے بے وقت ہونا، پانچ منٹ لیٹ ہو گئے، دس منٹ لیٹ ہو گئے تو ڈانٹ تو پڑھتی تھی اور اس سے آگے بھی کچھ کبھی کبھی ہو جایا کرتا تھا۔ کہتے تھے کہ گھڑی اسی لیے ہے کہ وقت دیکھا جائے اور وقت کی پابندی کی جائے۔ گکھڑ سے آیا کرتے تھے جو بڑا مشقت کا کام ہے۔ گھر سے ریلوے اسٹیشن پیدل جانا، گاڑی پہ بیٹھنا، گوجرانوالہ ریلوے اسٹیشن پہ اترنا، وہاں سے پیدل نصرۃ العلوم آنا، اور وقت پر آنا خاصا مشقت کا کام ہے لیکن وہ کرتے تھے۔

میں گوجرانوالہ میں نصرۃ العلوم میں رہا کرتا تھا، چھ سات سال وہیں رہا ہوں۔ صبح ان کے آنے پر گھنٹی بجتی تھی۔ ہمارے مدرسے کا نظام یہ ہے، حضرت والد صاحبؒ نے ایک نیا کام شروع کیا تھا جو الحمد للہ ہمارے مدرسے کے امتیازات میں سے ہے، کہ قرآن پاک کا ترجمہ مناسب تفسیر کے ساتھ دو سال میں مکمل ہوتا ہے۔ وفاق کے نصاب میں بہت بعد میں آیا ہے۔ حضرت والد صاحبؒ قرآن پاک کا ترجمہ و تفسیر پندرہ پارے ایک سال، پندرہ پارے دوسرے سال ہوتے ہیں۔ تعلیم کے آغاز کا پہلا گھنٹہ ترجمے کا ہوتا ہے، ترجمے کا پون گھنٹہ گزرتا ہے تو پھر اسباق شروع ہوتے ہیں۔ اس کی گھنٹی بجتی تھی حضرت والد صاحبؒ کے آنے کے بعد۔ جونہی گیٹ سے داخل ہوئے، گھنٹی بج گئی کہ استاذ جی آ گئے۔ بہت دفعہ ایسا ہوا کہ آندھی چل رہی ہے، بارش ہو رہی ہے، سخت کیچڑ ہے، ہم آرام سے لیٹ جاتے تھے کہ ’’اج حضرت نے کتھے آنا‘‘۔ ہم آرام سے ٹانگیں پسار کے لیٹتے ہوتے تھے کہ بارش میں کون آتا ہے۔ لیکن ٹھیک سات بجے گھنٹی بجی، اٹھے تو یہ دیکھتے ہیں کہ حضرت کے پاؤں کیچڑ میں دھنسے ہوئے ہیں، شلوار اڑیسی ہوئی ہے، چھتری ہاتھ میں ہے اور کپڑے سمیٹے ہوئے بابا جی آ رہے ہیں۔ یہ میں نے پہلی بات عرض کی ہے کہ وقت کی پابندی، سبق کی پابندی۔ ان کا جملہ پنجابی میں نہیں دہراؤں گا جو وہ کہا کرتے تھے لیکن کبیرہ گناہ سے کوئی اوپر کی چیز ہے وہ، جو وہ فرمایا کرتے تھے۔ سبق کا ناغہ اور وقت سے لیٹ ہونا۔ میرا مشاہدہ بھی ہے، تجربہ بھی ہے۔ الحمد للہ، الحمد للہ، کوشش کرتا ہوں کہ کم از کم اس بات میں تو پیروی کروں۔ باقی باتوں میں تو نہیں ہوتی۔ علمی کاموں میں تو نہیں ہوتی، لیکن چلو معمولات میں تو پابندی ہو جائے نا۔ تو یہ الحمد للہ میری کوشش ہوتی ہے۔

دوسری بات یہ کہ عام طور پر طالب علم کتاب حل کر کے آتا تھا اور وہ سنتے تھے، سن کر پھر اگر کوئی بات کہنی ہوتی تھی تو کہتے تھے۔ میرے دو استاذ ایسے ہیں جنہوں نے اسی طرز پہ پڑھایا ہے:

والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر رحمۃ اللہ علیہ، یعنی ’’شرح عقائد‘‘ تک تو سمجھ لیں ایسا ہوا کہ رات کو مطالعہ کر کے کتاب میں نے خود حل کرنی ہے، صبح عبارت پڑھنی ہے اور ان کو بتانا ہے کہ صاحبِ کتاب کیا کہہ رہا ہے۔ اگر رات مطالعہ نہیں کیا تو اُن کا یہ جملہ ہوتا تھا: ’’کیڑے جلسے وچ گیا سیں؟‘‘ کس جلسے میں تھے تم؟ یہ ان کو اندازہ ہوتا تھا کہ یہ حل کر سکتا تھا اور نہیں کیا، تو وہ نہیں بتاتے تھے کہ خود حل کرو۔ جہاں ان کو محسوس ہوتا تھا کہ یہ اس کے بس کی بات نہیں ہے وہاں بتا دیتے تھے۔ یہ پرانا طرز تھا۔ اَنّہی والے استاذ محترم حضرت مولانا ولی اللہ رحمہ اللہ تعالیٰ کا یہ طرز مشہور ہے۔ ہمارے ایک استاذ محترم حضرت مولانا عبد القیوم ہزاروی رحمۃ اللہ علیہ بہت اچھے استاذ تھے۔ ان سے بھی بہت سی کتابیں میں نے فنون کی اس طرز پہ پڑھی ہیں۔ بلکہ ایک لطیفہ ہے، واقعہ سمجھ لیں۔

اپنی اولاد کے ساتھ آدمی خصوصی معاملہ کرتا ہی ہے، فطری بات ہے۔ میں چھٹیاں گھر میں گزارتا تھا۔ حضرت والد صاحبؒ کی طرف سے میری ایک اور ڈیوٹی بھی ہوتی تھی کہ شعبان رمضان کی چھٹیوں میں، گزشتہ سال میں نے جو کتابیں دو چار پانچ سات پڑھی ہیں، تو ایک یا دو کتابوں کا انتخاب کر لیتے تھے کہ یہ تم نے مجھے سنانی ہیں۔ سنانی پڑتی تھیں۔ میں نے شرح عقائد ان سے جس زمانے میں پڑھی، طرز یہی تھا کہ میں نے حل کر کے جانا ہے اور سنانی ہے، انہوں نے اگر ضروری سمجھا ہے تو بتانا ہے، ورنہ کل بتا دو لیکن حل کر کے بتاؤ۔ میں نے شرح عقائد کو حل کرنے کے لیے النبراس رکھی ہوئی تھی، حضرت مولانا عبد العزیز پرہاروی رحمۃ اللہ علیہ کی، بڑی مزے کی کتاب ہے، وہ آسان کر دیتی ہے کتاب کو۔ میں اس کو دیکھ کر شرح عقائد کی عبارت حل کرتا اور جا کر سنا دیتا۔ ایک دن میرے ہاتھ میں النبراس دیکھ لی حضرت والد صاحبؒ نے۔ اللہ اکبر۔ اس دن جو میرا حشر ہوا۔ اچھا، نبراس دیکھ کر کتاب حل کرتے ہو! نبراس سے سبق سمجھتے ہو۔ وہ کتاب مجھ سے چھین لی۔ کتاب سے کتاب حل کرو بھئی۔ دماغ کی طرف اشارہ کر کے فرماتے کہ یہ اللہ پاک نے اسی لیے دیا ہے، کتاب سے کتاب حل کرو، خارجی مدد کیوں لیتے ہو؟ لطیفے کی بات یہ ہے کہ وفات سے کوئی چند مہینے پہلے ایک دن ویسے ہی ان کے پاس بیٹھے میں نے کہا کہ میری کتاب تو دے دیں۔ اس درمیان کوئی پینتالیس سال گزر گئے تھے۔ ایسے ہی بے تکلفی سے میں نے کہا ’’او میری نبراس تے دے دیو‘‘۔ اسی لہجے میں۔ چارپائی پہ تھے۔ کہتے ہیں ’’او پئی آ، لے جا‘‘ (وہ پڑی ہوئی ہے، لے جاؤ)۔ پینتالیس سال کے بعد وہ ضبط شدہ کتاب نبراس مجھے ملی، وہ میں نے برکت کے لیے رکھی ہوئی ہے۔

خیر، اب وہ طرز نہیں ہے۔ ایک مدرس کو میں نے خود دیکھا ہے کہ مفید الطالبین پڑھا رہے ہیں اور ڈیسک کے نیچے ترجمہ رکھا ہوا ہے، اب تو معیار یہ آ گیا ہے۔ وہ زمانہ تھا کہ طالب علم کو بھی عربی شرح دیکھنے کی اجازت نہیں تھی۔ اور زیادہ لمبا عرصہ نہیں گزرا، کوئی چالیس پینتالیس سال کا عرصہ ہے۔ یہ میں بتا رہا ہوں کہ اب یہ فرق آ گیا ہے۔ اس لیے اب ماحول ایسا ہوتا جا رہا ہے کہ استاذ کو محنت زیادہ کرنی پڑے گی۔ فرق تو ہو گیا ہے اور دیکھتے دیکھتے ہو گیا ہے۔ یہ میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ کتاب کو سمجھ کر پڑھانا چاہیے۔ ہمارے ہاں یہ بھی ماحول بن گیا ہے کہ ڈیوٹی ہے یار، تنخواہ لیتا ہوں، کام کرنا ہے۔ جب ہم ڈیوٹی سمجھ لیں گے کہ بھئی تنخواہ ملتی ہے پیریڈ پڑھانا ہے، تو پھر کتاب نہیں پڑھائی جائے گی۔ جبکہ یہ میرا فریضہ ہے، میری ذمہ داری ہے، ان بچوں کو میں نے کتاب سمجھانی ہے۔ اول تو یہ خود سمجھیں، یا کم از کم میں تو سمجھاؤں نا۔ اور ان کو سمجھانے کے لیے مجھے خود سمجھنا ہو گی۔ ہمارے ہاں یہ محنت بھی بہت کم ہو گئی ہے۔ اس پر ایک واقعہ عرض کروں گا۔

حضرت والد صاحب رحمۃ اللہ علیہ نے بخاری شریف تقریباً‌ پینتالیس سال پڑھائی ہے۔ جب وہ معذور ہوئے تو پھر مجھے حکم دیا کہ اس سال باقی حصہ تم پڑھاؤ۔ اب تک اس حکم کی تعمیل کی سعادت حاصل کر رہا ہوں۔ ہم پڑھا تو نہیں رہے لیکن بہرحال بیٹھ رہے ہیں، پڑھانا تو خیر ختم ہو گیا ہے۔ تو پینتالیس سال بخاری شریف مسلسل پڑھائی ہے انہوں نے۔ اور آخر تک یہ رہا ہے کہ شام کو بخاری شریف کے اس حصے کا مطالعہ کرتے تھے جو صبح پڑھانی ہے۔ ایک صاحب نے پوچھ لیا، انہوں نے مجھے بتایا کہ میں نے پوچھا، کہ حضرتؒ آپ کو ابھی بخاری یاد نہیں ہوئی، ابھی آپ دیکھتے ہیں، پینتالیس سال پڑھاتے ہوئے ہو گئے ہیں۔ فرمایا، نہیں بھئی، یہ میری ذمہ داری ہے، اور ایک بات میں تمہیں تجربہ کی بتاتا ہوں، جب بھی مطالعہ کیا ہے کوئی نہ کوئی نئی بات ضرور ملی ہے۔ علم کا خاصہ ہی یہ ہے۔ علم کے خواص میں سے یہ ہے کہ علم میں جتنا گھسو گے کوئی نہ کوئی نیا موتی ملے گا۔ سمندر میں جتنی بار بھی غوطہ لگاؤ، ہزار دفعہ لگا لو، ہزار دفعہ کوئی نئی چیز ملے گی۔ اِس عمر میں بھی اتنی دفعہ پڑھانے کے باوجود ترجمہ بھی دیکھتے تھے، صبح ترجمہ جو انہوں نے پڑھانا ہے، جو میرا خیال ہے پچاس دفعہ پڑھایا ہو گا، لیکن جو ترجمہ صبح پڑھانا ہے وہ رات کو دیکھتے تھے، اور بخاری شریف کے ایک دو صفحے تین صفحے جو پڑھاتے تھے وہ رات کو دیکھتے تھے۔

اب بات یہ ہے کہ استاذ کو ہی تیاری کرنی ہو گی۔ شاگرد کی تیاری کا تو میں نہیں کہتا کہ وہ مہربانی کر کے بعد میں تکرار ہی کر لیں تو ان کی بڑی مہربانی ہے۔ لطیفے کی بات یہ ہے کہ ایک دن میں نے ویسے ہی دل لگی میں، باپ تھے، میں بیٹا تھا، خوش طبعی بھی ہو جاتی تھی، ایک دن میں نے کہا جی ہمیں آپ بہت رگڑا دیا کرتے تھے … ’’ہُن شاگرداں دا کی حال اے؟‘‘ ایک جملہ بڑی حسرت سے کہا کرتے تھے کہ تم لوگ عبارت تو پڑھ لیتے تھے، اب تو بسا اوقات عبارت بھی خود پڑھنی پڑتی ہے۔ یعنی یہ فرق آ گیا ہے۔

ایک لطیفہ اور یہاں عرض کروں کہ میں ایک زمانے میں جامعہ انوار العلوم میں پڑھاتا رہا ہوں۔ ہدایہ، نور الانوار، مقامات اور جلالین وغیرہ میرے اسباق ہوتے تھے عام طور پہ۔ یہ دیکھیں کہ طلبہ کے مزاج میں تبدیلی کیا آئی ہے۔ استاذ تو عبارت سے چیک کر لیتا تھا کہ اس نے مطالعہ کیا ہے یا نہیں کیا، آدھا سبق تو عبارت ہی ہو جاتا تھا۔ شاگرد نے عبارت پڑھی تو استاذ کو پتہ چل گیا کہ کہاں کھڑا ہے، اس نے مطالعہ کیا ہے کہ نہیں کیا، کیسا کیا ہے۔ ہدایہ ثانی اکثر میرے پاس ہوتا تھا، نکاح طلاق کے مسائل۔ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ میرے سامنے اس سبق میں طالب علم نے عبارت شروع کی، دو سطریں پڑھ کر کہتا ہے ’’الیٰ آخرہ‘‘۔ ایک صفحہ ڈیڑھ صفحہ پڑھنا تھا، اس نے سطر ڈیڑھ سطر پڑھی اور کہا ’’الیٰ آخرہ‘‘۔ میں اس کا عادی نہیں تھا۔ ویسے ماحول ایسا بن گیا ہوا تھا۔ تو میں نے ڈیڑھ سطر کا مفہوم بیان کیا اور کہا ’’الیٰ آخرہ‘‘۔ میں نے کہا، اللہ کے بندو! خوف کرو، ہدایہ پڑھ رہے ہو، عبارت تو پوری پڑھو، تم نے الیٰ آخرہ کر دی ہے تو میں نے بھی الیٰ آخرہ کر دی ہے۔

یہ میں تبدیلیاں بتا رہا ہوں، اس لیے کہ اب آپ طالب علم سے توقع نہ رکھیں۔ اہتمام ضرور کریں، تھوڑی بہت سختی بھی کریں، پابندی بھی کروائیں، نگرانی بھی کریں، لیکن اس کے باوجود آپ اس سے یہ توقع نہ رکھیں کہ وہ ایک دفعہ سمجھانے سے سمجھ جائے گا۔ استاذ کو زیادہ محنت کرنی پڑے گی۔ اور محنت کیے بغیر جب تک سبق پہ خود کنٹرول نہیں ہے، بات نہیں بنے گی۔ اگر میں خود کنفیوژ ہوں تو بچے کو کیسے مطمئن کروں گا؟ وہ مجھ سے کنفیوژ زیادہ ہو گا۔ اگر میں خود بے دھیانی سے، بے توجہی سے اور تردد کے ساتھ پڑھا رہا ہوں کہ شاید جو میں کہہ رہا ہوں وہ پتہ نہیں کیا ہے، تو وہ اس سے زیادہ ’’پتہ نہیں وہ‘‘ ہو گا۔ استاذ کے صرف الفاظ طالب علم تک منتقل نہیں ہوتے، کیفیات بھی منتقل ہوتی ہیں۔ اور ’’باڈی لینگوئج‘‘ آج کل کی ایجوکیشن کا ایک مستقل موضوع ہے کہ آپ پڑھا رہے ہیں تو آپ کیا کہہ رہے ہیں اور آپ کی باڈی کیا کہہ رہی ہے۔ آپ جو پڑھا رہے ہیں آپ کا چہرہ اور اس کے تاثرات اس کے مطابق ہیں۔

ہمارے ہاں تو دل کی کیفیات بھی منتقل ہوتی ہیں۔ اگر استاذ صاحبِ دل ہے، صاحبِ نسبت ہے، ذکر اذکار والا ہے تو منتقل ہوں گی … استاذ کی محنت صرف الفاظ کی نہیں ہے، کتاب کی نہیں ہے، کیفیات کی بھی ہے … ابھی تک الحمد للہ کسی حد تک مدارس میں یہ ماحول موجود ہے، کالج میں تو ختم ہو گیا ہے کہ لیکچر دے دیا اور نوٹس لے لیے، بس ختم، استاذ جانے استاذ کا کام جانے۔ ہمارے ہاں یہ نہیں ہے۔ ہمارے ہاں طالب علم استاذ سے صرف پڑھتا نہیں ہے، فالو بھی کرتا ہے، سیکھتا بھی ہے۔ یہ جہاں خوبی کی بات ہے، وہاں بہت بڑی خطرے کی بات بھی ہے۔ ابھی راستے میں بات ہو رہی تھی کہ تربیت کا کوئی اجتماعی نظم نہیں ہے؟ طالب علم جس استاذ کے ساتھ زیادہ مانوس ہوتا ہے اس کے رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ پھر چھوٹے چھوٹے دائرے بنتے ہیں … جس استاذ سے زیادہ متاثر ہے اس کے رنگ میں، عقائد بھی اسی رنگ میں، تعبیرات بھی اسی رنگ میں، اعمال بھی اسی رنگ میں، لہجہ بھی اسی رنگ میں، گفتگو بھی اسی رنگ میں، اٹھنا بیٹھنا بھی، وہ رنگا جاتا ہے۔ استاذ پیر بھی ہوتا ہے نا۔ پیر خانے میں وہ رنگا جاتا ہے اور ایک ایک مدرسے میں تین تین چار الگ الگ رنگ دکھائی دیتے ہیں۔ اس کا فائدہ اپنی جگہ لیکن نقصانات ’’فیھما اثم کبیر و منافع للناس‘‘ (البقرۃ ۲۱۹)۔ اجتماعی تربیت کا ذوق ہمارے ہاں نہیں بن رہا۔ انفرادی تربیت ہے۔ تصوف کا رنگ زیادہ ہے تو اس رنگ میں ہے۔ دعوت کا رنگ زیادہ ہے تو اس رنگ میں ہے۔ جہاد کا رنگ زیادہ ہے تو اس رنگ میں ہے۔ اور بازو چڑھانے کا رنگ زیادہ ہے تو اس رنگ میں ہے۔

میں اس کو خون کے گروپ سے تعبیر کیا کرتا ہوں۔ خون کا گروپ کون سا ہے بھئی؟ ایک ایک ادارے میں خون کے دس دس گروپ ہیں، اور پھر خون کا گروپ تو نہ اختیار میں ہوتا ہے نہ کنٹرول میں ہوتا ہے۔ میرے پاس مختلف مناصب کے حوالے سے انٹرویو کی ذمہ داری ہوتی ہے، خطابت کے لیے، تدریس کے لیے، دیکھتا ہوں کہ کہاں پڑھا ہے، کیا پڑھا ہے، سوالات پوچھ کر چیک کرتا ہوں کہ لیول کیا ہے، آخر میں خود پوچھتا ہوں کہ خون کا گروپ کیا ہے یار؟ سپاہی ہے، جہادی ہے، تبلیغی ہے، جمعیتی ہے، احراری ہے، خدامی ہے، حیاتی ہے، مماتی ہے، کیا ہے؟ خون کا گروپ کیا ہے؟ بعض خون کے گروپ آپس میں مل جاتے ہیں، بعض نہیں ملتے تو وہاں آپ کیا کر لیں گے؟ لیکن تحدیثِ نعمت کے طور پر میں عرض کرتا ہوں، میرے خون کا گروپ ویسے فزیکلی بھی او پازیٹو ہے، کئی گروپوں کو مل جاتا ہے، کئی گروپوں کا مل جاتا ہے۔ بعض گروپ نہیں ایک دوسرے کو لگتے، ان کا ری ایکشن بڑا تباہ کن ہوتا ہے۔

میں یہ عرض کرتا ہوں کہ استاذ صرف ٹیچر نہیں ہے، مربی بھی ہے۔ یہ بات آپ بالکل مشاہدہ کر لیں کہ استاذ عزیمت پہ ہو گا تو شاگرد کس پہ ہو گا؟ سب سے زیادہ بحران ہمارا اخلاقیات کا ہے۔ عبادات کی پابندی بھی ہم کروا لیتے ہیں، فرائض واجبات کی بھی ہم نگرانی کر لیتے ہیں۔ آج ساری دنیا کا بحران یہ ہے اور ہمارے ہاں بھی ہے کہ لوگوں کے ساتھ ڈیلنگ اور اخلاقیات کا معاملہ کیسا ہے۔ میں بس یہ بات کہہ کے آگے بڑھتا ہوں کہ استاذ اگر عزیمت پہ ہو گا تو شاگرد پیچھے ہی رہے گا اور رخصت پہ ہو گا۔ اور استاذ رخصت پہ ہو گا تو شاگرد کس پہ ہو گا؟ مباحات پہ۔ اور استاذ خود مباحات پہ ہو گا تو شاگرد پھر مکروہات پہ ہو گا۔ اگر میں شاگرد کو کسی ڈھنگ پہ لانا چاہتا ہوں تو مجھے اس سے دو قدم آگے رہنا ہو گا۔ وہ مجھے فالو کرتا ہے، میرے پیچھے پیچھے چلتا ہے، میرے رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ مدارس میں ابھی تک یہ ماحول کافی حد تک باقی ہے، الحمد للہ۔ اس پر اللہ کا شکر بھی ادا کرنا چاہیے اور اس کے منفی پہلو سے بچنے کی کوشش بھی کرنی چاہیے۔

ایک بات اور بھی عرض کیا کرتا ہوں جو حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے زیادہ وضاحت سے لکھی ہے کہ ہمارے ہاں کتاب پڑھائی جاتی ہے، ہم فن نہیں پڑھاتے۔ آج کی دنیا میں فن پڑھایا جاتا ہے، کتاب نہیں پڑھائی جاتی۔ کالج یونیورسٹی میں آپ چلے جائیں، فن پڑھائیں گے وہ، کتاب نہیں پڑھائیں گے۔ لیکچر میں طالب علم کو فن سے پوری واقفیت کروا دیں گے۔ ہماری سب سے بنیادی کوشش کتاب فہمی کی ہوتی ہے۔ ٹھیک ہے، کتاب فہمی بھی ضروری ہے، ہم کتاب کو حل کرنے کے لیے پورا زور صَرف کرتے ہیں، حاشیہ در حاشیہ در حاشیہ۔ یہ متن ہے، یہ اس کی شرح ہے، یہ اس کی شرح کی شرح ہے۔ یہ بہت ضروری ہے، میں اس کی اہمیت کم نہیں کر رہا، لیکن یہ کتاب فہمی ہے۔ ہم پورا مہینہ لگا کے کافیے کے دو صفحے پڑھاتے ہیں، کتاب تو وہ سمجھتا ہے لیکن مسئلہ کیا ہے وہ نہیں سمجھتا۔ پھر ہماری ایک اور مجبوری سمجھ لیں کمزوری سمجھ لیں کہ فن سے بحیثیت فن واقف کروانے کا ہمارے ہاں معمول نہیں ہے۔ مثلاً‌ صَرف کیا ہے، اس کی ضرورت کیا ہے، اس کی اہمیت کیا ہے؟ یہ تو ہمارے موضوعات سے ہی خارج ہے۔

ایک بزرگ ہمارے بڑے اچھے استاذ ہیں گوجرانوالہ میں، گورنمنٹ کالج کے عربی شعبے کے انچارج تھے، درس نظامی بھی پڑھا ہے اور نصرۃ العلوم کے فاضل ہیں، پروفیسر غلام رسول عدیم صاحب، سینئر اساتذہ میں سے ہیں، بہت سے ایم اے کر رکھے ہیں، اب ریٹائرڈ ہیں، عربی کے استاذ رہے ہیں۔ ایک دن ہمارے ہاں الشریعہ اکادمی میں ان کا ایک لیکچر تھا۔ کہنے لگے، بات یہ ہے کہ عربی زبان آپ لوگ یعنی دینی مدارس کے اساتذہ و طلبہ زیادہ جانتے ہیں، لیکن عربی کے بارے میں ہم زیادہ جانتے ہیں۔ لفظ کیا ہے، مادہ کیا ہے، صیغہ کیا ہے، وزن کیا ہے، یہ آپ زیادہ جانتے ہیں۔ عربی زبان کی افادیت کیا ہے، ضرورت کیا ہے، اس کے تقاضے کیا ہیں، کب آئی تھی، یہ ہم زیادہ جانتے ہیں۔ کہتے ہیں، مدرسے والوں کو اس کی اہمیت اور اس کے استعمال کا پتہ نہیں ہے۔ ہم کالج والوں کو عربی کا پتہ نہیں ہے اور مدرسہ والوں کو عربی کے استعمال کا پتہ نہیں ہے۔

یہ بھی واقعہ ہے، آپ اس بات کو محسوس کرتے ہوں گے کہ صَرف و نحو میں انتہا کی مہارت رکھنے والے اور ادب، معانی اور لغت کی سالہا سال تدریس کرنے والے ہیں، لیکن جب کسی عرب سے گفتگو کا موقع آتا ہے تو اس غریب کا کیا حشر ہوتا ہے۔ اور کسی ایسے آدمی جس کو عرب ممالک میں ایک سال لگانے کا موقع مل گیا ہے، وہ میزان الصرف کے نام سے بھی واقف نہیں ہے لیکن کیسی عربی بولتا ہے۔ ہم اسی کو آگے کرتے ہیں کہ یار یہ عرب آیا ہے اس سے بات کرو۔ کتاب اور چیز ہے، فن اور چیز ہے، دونوں کا ملاپ ضروری ہے۔ کتاب سمجھنا بھی ضروری ہے، کتاب نہیں سمجھیں گے تو ہم اپنے ماضی کے لٹریچر سے لاتعلق ہو جائیں گے۔ یہ بھی ہمارے ہاں ایک مسئلہ چلتا ہے کہ فنون پہ زیادہ توجہ دینی چاہیے یا علوم پہ زیادہ توجہ دینی چاہیے؟ میں نے کہا، بھئی فنون پہ توجہ نہیں دو گے، آج اگر منطق اور فلسفہ بالکل نکال دو گے تو رازی کو کون سمجھے گا، کشاف کو کون سمجھے گا؟ فنون ضروری ہیں لیکن کس درجے میں؟ سب کے لیے نہیں۔ کچھ لوگ رازی والے بھی ہونے چاہئیں، کچھ لوگ کشاف والے بھی ہونے چاہئیں، اور غزالی والے بھی ہونے چاہئیں۔

لیکن بہرحال جو بنیادی بات کر رہا ہوں وہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں ذوق ہے کتاب فہمی کا، اور آج نیا انداز ہے فن اور علم سے واقفیت کا، ہمیں دونوں کو جمع کرنا ہو گا۔ بسا اوقات ایک کتاب پوری ہم پڑھا جاتے ہیں، طالب علم کو یہ پتہ نہیں ہوتا کہ اس کا مصنف کون ہے، کس زمانے کا ہے، کیوں لکھی تھی، اس فن کے مبادیات کیا ہیں۔ کتاب کی ایک سطر پہ دو گھنٹے کی تقریر کروا لو تو وہ کرے گا، لیکن یہ فن ہے کیا، اس کی اہمیت کیا ہے، کہاں ایڈجسٹ ہوتا ہے، دینیات میں اس کی کیا ضرورت ہے، دنیا میں کیا ضرورت ہے، وہ بالکل نہیں جانتا۔ مصنف کا نام بھی نہیں پتہ ہوتا بسا اوقات، کس صدی کا تھا، کس ماحول کا تھا۔ چونکہ ماحول ہمارا وہی ہے، یہاں بھی ذمہ داری استاذ کی زیادہ ہے۔ استاذ کو تھوڑی محنت زیادہ کرنی ہو گی، لیکچر تو میں اس کو نہیں کہتا کہ لیکچر کا طرز اور ہوتا ہے، اپنے سبق کے دوران استاذ تجربات اور اپنے مشاہدات طالب علم کو منتقل کرے گا تو کچھ نہ کچھ اس کا کام ہو جائے گا۔ کتاب کے ساتھ کتاب کے علم کے بارے میں آپ اپنے مطالعے کو وسیع کریں، اور جو آپ کے علم میں نئی بات آئے وہ طالب علم کو کسی نہ کسی طرح منتقل کریں۔ استاذ یہ کر سکتا ہے کہ استاذ تو استاذ ہوتا ہے۔ وہ تو قرآن پاک کی دو آیتیں پڑھ کے منطق پڑھا لے گا، استاذ کا فن ہے یہ۔ وہ حدیث کی عبارت پڑھے گا اور ساتھ فلسفہ بھی پڑھا دے گا۔

جو بنیادی مسئلہ میں نے عرض کیا ہے کہ کتاب اور فن دونوں میں مناسبت پیدا کرنا۔ اب نصاب کے طرز کو تو ہم نہیں بدل سکتے لیکن اگر استاذ کو اپنے فن سے واقفیت ہے تو کم از کم اپنی محنت میں تھوڑا سا اضافہ کر کے وہ کسی نہ کسی حوالے سے گفتگو کے دوران طالب علم کو اپنے مشاہدات اور تجربات منتقل کر سکتا ہے، اور یہ آج کی ضرورت ہے۔

اسی حوالے سے ایک بات اور عرض کرنا چاہتا ہوں۔ فن اور علم کبھی ایک جگہ پر نہیں رکے، ارتقا جاری رہتا ہے، بہتر سے بہتر، بہتر سے بہتر۔ کوئی فن بھی ہو، ہم کہیں کہ چوتھی صدی میں رک گیا تھا۔ نہیں بھئی آگے بھی بڑھا ہے۔ ہم کہیں کہ یہ علم تھا جو گیارہویں صدی تک مکمل ہو گیا تھا۔ نہیں بھئی وہ آگے چلے گا۔ ارتقا، ترقی، یہ قیامت تک چلتی رہے گی۔ ہمارے ہاں ایک مسئلہ یہ بھی ہے۔ میں ایک بات عرض کیا کرتا ہوں، بعض دوست تو سمجھتے ہیں لیکن بعض کہتے ہیں الٹی بات کر رہے ہو۔ ہم جو کتاب پڑھاتے ہیں وہ کتاب بنیادی طور پہ ٹھیک ہے، لیکن ایک کتاب میں پڑھا رہا ہوں جو اِس فن پر گیارہویں صدی میں لکھی گئی ہے، ٹھیک ہے، اس وقت تک کا فن تو میں نے پڑھا دیا، کیا اس کے بعد اس علم میں کوئی مزید ترقی بھی ہوئی ہے یا نہیں ہوئی؟ طالب علم وہ کہاں سے لے گا؟ علم وہاں رک تو نہیں گیا تھا۔ علم میں کہیں اسٹاپ نہیں ہوتا، ہر علم ارتقا میں آگے بڑھتا رہتا ہے، آگے سے آگے، ’’فوق کل ذی علم علیم‘‘ (یوسف ۷۶) قیامت تک رہے گا یہ۔ جب نصاب والوں سے بات ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر اصولِ فقہ میں بڑی بنیادی کتاب ہے نور الانوار، میں خود سالہا سال پڑھاتا رہا ہوں۔ میری پسندیدہ ترین کتابوں میں تدریسی اعتبار سے ہیں نور الانوار، حماسہ، مقامات، ہدایہ۔ یعنی مدرس جب خود انتخاب کرتا ہے کہ کیا پڑھانا ہے جی؟ میں یہ پڑھاؤں گا۔ تو میرا انتخاب یہی ہوتی تھیں۔

میں نے ایک دن اساتذہ سے کہا کہ نور الانوار مشکل تو ہے لیکن بہرحال ہماری بہت بنیادی کتاب ہے۔ نور الانوار ملا جیونؒ کی ہے جو اورنگزیب ؒکے استاذ تھے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چار سو سال ہو گئے ہیں۔ ہم طالب علم کو اصولِ فقہ کے حوالے سے دسویں صدی اور گیارہویں صدی تک تو لے آئے، آگے کون لے جائے گا انہیں؟ اس وقت اصولِ فقہ جہاں کھڑے ہیں، یہ چار سو سال کا خلا کون پُر کرے گا؟ طالب علم کی سمجھ میں نورالانوار بھی آجائے تو بڑی غنیمت ہے۔ اس کے بعد جو اس فن میں ارتقا ہوا ہے، یہ بھی استاذ ہی کی ذمہ داری ہے۔ میں اساتذہ سے عرض کیا کرتا ہوں کہ کسی بھی فن میں آپ جو کتاب بھی پڑھائیں ٹھیک ہے وہی پڑھائیں، لیکن اس فن کی کوئی نہ کوئی جدید کتاب آپ کے مطالعے میں ضرور ہونی چاہیے۔ طالب علم تو وہیں رکے گا، آپ تو نہ رکیں گیارہویں صدی میں۔ یہ گیارہویں صدی کی نہیں بلکہ دسویں صدی کی کتاب ہے، چلیں گیارہویں صدی کی سہی، آپ تو وہاں نہ کھڑے رہیں۔

آج اصولِ فقہ کیا ہے؟ اصولِ فقہ اور قانون سازی مترادف چیزیں ہیں۔ قانون سازی کے جو آج کی دنیا کے طریقے ہیں، یہ اصولِ فقہ ہی ہے۔ اصطلاحات کی وجہ سے ہم بہت سی باتیں نہیں سمجھ پاتے۔ یہاں ایک لطیفہ بھی عرض کروں گا۔ بہت سی اصطلاحات بدل جاتی ہیں، محاورات بدل جاتے ہیں، ہم وہیں کھڑے ہوتے ہیں۔ کم از کم استاذ کو اپ ٹو ڈیٹ ہونا چاہیے۔ استاذ کو فن کے اعتبار سے، علم کے اعتبار سے اپ ٹو ڈیٹ ہونا چاہیے۔ آج کے علوم کی ساری نہ سہی کوئی نہ کوئی ایک آدھ کتاب استاذ کے مطالعے میں ہونی چاہیے کہ مثلاً‌ نور الانوار کے بعد آج کے دور میں اصولِ فقہ میں کیا ارتقا ہوا ہے، کیا تبدیلیاں آئی ہیں۔ جب نہیں واقف ہوتے تو ہم بڑے بڑے مسائل میں الجھ جاتے ہیں۔

جنرل محمد ضیاء الحق مرحوم کے دور میں ایک بڑی مجلس ہوئی۔ اسلامائزیشن کے حوالے سے ان کا ذوق تھا اور وہ کرتے رہتے تھے۔ علماء اور قانون دان بھی ان کے ساتھ ہوتے تھے۔ مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے اپنی اصطلاح میں بات کرنی ہے، ہم نے اپنی اصطلاح میں بات کرنی ہے۔ ایک بڑی مجلس تھی، جنرل ضیاء الحق صاحب صدارت کر رہے تھے۔ جسٹس محمد حلیم سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تھے، انہوں نے سوال کر دیا کہ علماء کرام سے میری ایک درخواست ہے کہ یہ مسئلہ واضح کر دیں کہ اسلامی ریاست کی minimum requirements کیا ہیں؟ کم از کم شرائط اسلامی ریاست کی کیا ہیں؟ اب وہ تعجب میں ہیں کہ آپ نے کیا کہا؟ کہتے ہیں جی میں پوچھ رہا ہوں کہ اسلامک اسٹیٹ کی منیمم ریکوائرمنٹس کیا ہیں؟ پھر ایک بزرگ نے پوچھا کہ آپ نے کیا کہا؟ ڈاکٹر محمود غازی صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں بیٹھا ہوا تھا، میں نے سوچا کام خراب ہو جائے گا یہاں پر، مسئلہ صرف اصطلاح کا ہے، میں اٹھا، میں نے کہا حضرت، یہ دارالاسلام کی تعریف پوچھ رہے ہیں کہ دارالاسلام کسے کہتے ہیں۔ تو کہتے ہیں انہوں نے اتنی زبردست تقریر کی دارالاسلام کی تعریف پر کہ جسٹس صاحبان کی انگلیاں منہ میں تھیں۔ اب پہلے تو اُن کو سوال سمجھ میں نہیں آ رہا تھا، اب جواب میں جو تقریر کی تو وہ عش عش کر اٹھے کہ یار ایسی بات تو ہم نے درالاسلام پہ کبھی نہیں سنی۔ علم تو علم ہوتا ہے۔

بہرحال میں یہ عرض کرتا ہوں کہ جو تبدیلیاں آتی ہیں، جو فرق آتا ہے، استاذ کو اس سے واقف ہونا چاہیے، کچھ نہ کچھ مطالعہ اسے اپنی ذمہ داری اور فریضہ سمجھ کر کرتے رہنا چاہیے کہ مجھے طالب علم کو کچھ دینا ہے، کچھ منتقل کرنا ہے، کوئی پیغام دینا ہے۔

ایک بات اور عرض کروں گا جو میں اکثر عرض کیا کرتا ہوں۔ حماسہ میں وہ شعر آپ نے بھی پڑھے ہوں گے، پڑھائے بھی ہوں گے۔ ایک شاعر کا قصہ ہے کہ وہ قبیلے کا نوجوان تھا۔ غالباً‌ اکلوتا ہو گا۔ بڑے ناز و نعم سے پلا اور جوان ہوا۔ اولاد کے بارے میں باپ کی ذمہ داری صرف یہ نہیں ہوتی کہ کھلائے پلائے، اچھے کپڑے پہنا کے کلف لگا کے اس کو گھما پھرا دے۔ اس کو کن لوگوں سے واسطہ پیش آنا ہے، کل جوان ہو گا تو اس کا کن لوگوں سے پالا پڑے گا، اس کو ذہنی طور پہ تیار بھی کرنا ہوتا ہے۔ اُس نوجوان کو اس زمانے کے جو تقاضے تھے کہ دشمن سے کیسے نمٹنا ہے، انہوں نے اس کے لیے تیار نہیں کیا ہو گا۔ وہ جوان ہوا۔ دشمن داری تو سب کی ہوتی ہے اپنے اپنے زمانے میں۔ ہمارے ہاں بھی ہے۔ اب اس کی وہ تربیت نہیں تھی تو دو چار جگہ مار کھائی۔ وہ اپنے جذبات کا اظہار اپنے قبیلے کے خلاف اپنے والدین کے خلاف کر رہا ہے کہ ان کے علم میں تھا کہ میرے ساتھ کیا ہونا ہے اور کن لوگوں سے واسطہ پیش آنا ہے تو انہوں نے مجھے تیار کیوں نہیں کیا؟ مجھے تو نہیں پتہ تھا، میں تو بچہ تھا۔ وہ کہتا ہے:

ھلا اعدونی لمثلی تفاقدوا
اذا الخصم ابزی مائل الراس انکب

اپنے قبیلے کو بد دعا دیتا ہے کہ یہ ایک دوسرے کو گم پائیں، ان کا بیڑہ غرق ہو، جب ان کو پتہ تھا کہ میرا کسی متکبر اور ٹیڑھی گردن والے دشمن سے واسطہ پیش آنے والا ہے تو انہوں نے مجھے کیوں تیار نہیں کیا؟ میرے مد مقابل کے لیے انہوں نے میری تربیت کیوں نہیں کی؟ پھر دہراتا ہے کہ

فھلا اعدونی لمثلی تفاقدوا
وفی الارض مبثوث شجاع وعقرب

ان کو پتہ تھا کہ میں نے جس ماحول میں جانا ہے وہاں ہر طرف بچھو بکھرے ہوئے ہیں، سانپ پھیلے ہوئے ہیں، انہوں نے مجھے بتایا کیوں نہیں، تیار کیوں نہیں کیا؟

یہ بھی میں عرض کیا کرتا ہوں کہ اساتذہ کی ذمہ داری یہ بھی ہے۔ دیکھیں، ہم جزیروں میں رہتے ہیں، یہ مدارسِ دینیہ جزیرے ہیں۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے بہت عجیب تشبیہ دی ہے۔ مولانا نے اصحابِ کہف کا بڑے مزے لے کے قصہ بیان کیا ہے۔ مولانا کا اپنا انداز ہے بات کرنے کا، بات پھیلا کے اور مزے مزے سے کرتے ہیں۔ انہوں نے اصحابِ کہف کا قصہ بیان کیا اور ساتھ ہمیں جوڑا ہے۔ ’’انھم فتیۃ اٰمنوا بربھم وزدناھم ھدً‌ی‘‘ (الکہف ۱۳)۔ کچھ نوجوان تھے، ایمان بچانے کے لیے غار میں چلے گئے تھے۔ ایمان تو بچ گیا، باہر نکلے تو ہر چیز بدلی ہوئی تھی۔ یہی ہوا تھا نا؟ باہر نکلے تو زبان بھی بدلی ہوئی ہے، کلچر بھی بدلا ہوا ہے، ماحول بدلا ہوا ہے، سکہ بدلا ہوا ہے، ہر چیز بالکل بدلی ہوئی ہے، کوئی پتہ نہیں کیا ہو رہا ہے۔ مولانا مناظر احسن گیلانیؒ کہتے تھے کہ ہمارے بزرگوں نے ہمارے ساتھ یہی کیا ہے۔ انگریزوں کے آنے کے بعد ہمارا ایمان جب خطرے میں پڑا ہے تو انہوں نے ہمیں مدارس کی غاروں میں دھکیل دیا، ہمارا ایمان بچ گیا الحمد للہ، یہ ہمارے بزرگوں کا خلوص اور ان کی حکمتِ عملی تھی کہ ایمان پوری قوم کا بچا ہوا ہے۔

یہ ایک مستقل موضوع ہے گفتگو کا کہ وہ نتائج جو نوآبادیاتی دور میں نوآبادیاتی حکمرانوں نے دوسرے بہت سے مسلمان ملکوں میں حاصل کیے ہیں، یہاں کیوں حاصل نہیں کر سکے؟ یہ چھوٹی بات نہیں ہے، تاریخ کا بہت بڑا سوال ہے۔ پوری دنیا کا ماحول ان نوآبادیاتی حکومتوں نے بدل دیا لیکن ہمارا ماحول نہیں بدل سکے۔ اس کی بڑی وجہ یہ مدارس ہیں۔ مدارس اسی لیے آج کی دنیا کا ہدف ہیں۔ مغربی ملکوں نے دنیا میں ہر جگہ کا ماحول تبدیل، لباس تبدیل، اٹھنا بیٹھنا ہر چیز تبدیل کر دی ہے لیکن ہمارے ہاں پرانی طرز باقی ہے۔ اور صرف باقی نہیں بلکہ سر اٹھائے کھڑی ہے اور باقیوں کو بدلنے کو پھرتی ہے۔ دنیا پریشان ہے کہ یار یہ کیا مصیبت ہے۔

خیر، مولانا کی یہ بات میں عرض کر رہا ہوں، مولانا مناظر احسن گیلانیؒ نے لکھا ہے کہ ہمارے بزرگوں نے ہمیں ایمان بچانے کے لیے غاروں میں دھکیل دیا۔ وہ مدرسے کو غار کہتے ہیں۔ جب ہم آٹھ دس سال گزار کر باہر آتے ہیں تو ہر چیز اجنبی ہوتی ہے ہمارے لیے۔ نہ وہ ہماری زبان سمجھتے ہیں، نہ ہم ان کی زبان سمجھتے ہیں۔ زبان سے مراد یہ الفاظ نہیں ہیں، زبان سے مراد اُسلوب ہے، زبان سے مراد یہ ہے کہ نفسیات بدلی ہوئی ہوتی ہے، ماحول بدلا ہوا ہوتا ہے، طرز عمل بدلا ہوا ہوتا ہے۔ وہ ہمارے لیے اجنبی ہوتے ہیں، ہم ان کے لیے اجنبی ہوتے ہیں۔ یہ اجنبیت ابھی تک دونوں کو پریشان کر رہی ہے، ہمیں بھی پریشان کر رہی ہے، ان کو بھی پریشان کر رہی ہے۔

میں مولانا کی بات کو اس حوالے سے عرض کر رہا ہوں کہ باہر کے ماحول کے لیے ان کو نفسیاتی اور ذہنی طور پر تیار کرنا ضروری ہے جو بطور استاذ میں نے ہی تیار کرنا ہے کہ یہ معاشرے میں جب جائیں گے تو انہیں کن لوگوں سے واسطہ پڑے گا، ان کے لیے تو اچانک بات ہو گی۔ ایک آدمی کسی محلے میں خطیب بن کے گیا ہے، وہ اجنبی ہے۔ ہمارے ہاں مسئلہ کیا ہے کہ میں ماحول سے واقف نہیں ہوں، نفسیات سے واقف نہیں ہوں، ڈیلنگ مجھے نہیں آتی۔ میں اپنا ایجنڈا مسلط کرنے کی کوشش کرتا ہوں تو تصادم ہو جاتا ہے۔ لڑائی ہوتی ہے، یا دھڑے بندی ہوتی ہے، یا میں اُس کا شکار ہو جاتا ہوں، یا پھر آرام سے پیچھے ہٹ کر بیٹھ جاتا ہوں۔ وجہ یہ ہے کہ سوسائٹی کے ماحول سے واقفیت نہیں ہے، نفسیات سے واقفیت نہیں ہے۔

میں درمیان میں ایک بات عرض کروں۔ مجھے جب اپنے فضلاء کو دورۂ حدیث کے بعد الوداعی باتیں کہنی ہوتی ہیں تو ان سے کہا کرتا ہوں کہ یار دو باتوں میں سے ایک ضرور کرو:

  1. یا کسی شیخ کامل سے تربیت کا عملی تعلق قائم کرو۔ یہ تعلق رسمی نہ ہو۔ جس سے بھی آپ مانوس ہوں، ضروری نہیں کہ فلاں سے ہی، جہاں بھی آپ مانوس ہوں۔ یہاں بھی خون کے گروپ کی بات ہوتی ہے کہ جہاں آپ کا خون لگتا ہے ٹھیک ہے۔
  2. یا تبلیغی جماعت میں سال لگائیں۔ میں سال کی تلقین کیا کرتا ہوں اور بتاتا ہوں کہ اس کے باقی فائدے ایک طرف، آپ میں پبلک ڈیلنگ آجائے گی کہ دکاندار سے کیسے بات کرنی ہے، کسان سے کیسے کرنی ہے، مزدور سے کیسے کرنی ہے، چودھری سے کیسے کرنی ہے۔ یہ پبلک ڈیلنگ ہمارے موضوع سے خارج ہے۔ ہمارے بہت سے مسائل پبلک ڈیلنگ سے واقف نہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں۔ اگر ہم عوامی نفسیات سے، ان کے ماحول سے، ان کی عادات و کیفیات سے واقف ہوں تو بہت سے مسائل پیدا ہی نہیں ہوتے۔ مزاج میں، نفسیات میں، ڈیلنگ میں، ماحول میں فرق ہوتا ہے۔ کوئی مسئلہ کھڑا ہو جاتا ہے تو ہم سے حل نہیں ہوتا۔

میں نے عرض کیا ہے کہ استاذ کو یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ میرا یہ شاگرد مجھ سے فارغ ہو کر جب سوسائٹی میں جائے گا تو اس کو کس صورتحال کا سامنا ہو گا اور کن لوگوں سے واسطہ پیش آئے گا؟ اور ان لوگوں سے نمٹنے کے لیے اس کی تربیت کیسی کرنی ہے، یہ بھی ہماری ذمہ داری ہے۔ آپ کہیں گے کہ یہ سب کچھ استاذ کے کھاتے میں ڈال رہا ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ اور کوئی ہے نہیں تو کیا کیا جائے۔ اگر آپ کو کوئی اور نظر آتا ہے تو بتا دیں۔ ان کاموں کے لیے ہمارے ہاں سسٹم نہیں ہے۔ یہ سارے کام سسٹم سنبھالتا ہے جبکہ ہمارے ہاں سسٹم نہیں ہے۔ یہ کام اگر ضروری ہیں تو استاذ نے ہی کرنے ہیں۔ استاذ کیسے کرے گا؟ خود اگر استاذ کی گرفت ان معاملات پہ ہے تو وہ تھوڑا تھوڑا کر کے کوئی نہ کوئی انجکشن لگاتا رہے گا۔

ایک دفعہ ہمارے ہاں الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں فضلاء کے لیے ایک کورس چل رہا تھا۔ ہم چند فضلاء کو بٹھا لیتے ہیں ہر سال اور کچھ نہ کچھ انہیں پڑھاتے رہتے ہیں۔ حضرت مولانا محمد تقی عثمانی صاحب دامت برکاتہم نے ایک دفعہ مجھ سے پوچھ لیا کہ آپ کا نصاب کیا ہے؟ ہم نہ اس کو تخصص کہتے ہیں، نہ اس کو تربیت، کچھ بھی نہیں کہتے، بس کچھ علماء ہمارے پاس ہوتے ہیں، ہم ان کو کچھ نہ کچھ سناتے رہتے ہیں۔ مولانا نے پوچھا کہ آپ کا نصاب کیا ہے؟ میں نے کہا کہ ہمارا نصاب یہ ہے کہ جیسے اناڑی ڈاکٹر کے پاس کوئی مریض چلا جائے تو مریض کو لٹا کر اس کو بوتل لگا دیتا ہے اور اس میں ٹیکے ٹھونستا رہتا ہے کہ کوئی تو اثر کرے گا۔ میں نے کہا، ہمارا نصاب یہی ہے کہ کوئی نہ کوئی بات کچھ نہ کچھ تو اثر کرے گی۔

یہ بات میں اس لیے عرض کر رہا ہوں کہ اس پر محنت کریں تاکہ خود آپ کے ذہن میں فہم و ادراک مکمل ہو اور اس کی تھوڑی بہت تیاری ہو۔ میں نے چند باتیں کی ہیں ٹوٹی پھوٹی اِدھر اُدھر سے، ان میں سے شاید کوئی کام کی ہو۔

ایک بات میں عمومی ماحول کے حوالے سے عرض کیا کرتا ہوں۔ یہ بات اب بہت بڑھ رہی ہے اور ہمارے قابو سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔ آج کا جدید تعلیم یافتہ طبقہ شکوک و شبہات کے جنگل میں پھنسا ہوا ہے۔ حضرت مولانا سید ابوالحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو فکری ارتداد سے تعبیر کیا تھا اور ان کا مستقل مقالہ ہے ’’ردۃ ولا ابابکرؓ لہا‘‘۔ آج کا نوجوان ایمانیات کے سارے کلمے پڑھے گا لیکن فکری طور پر ارتداد کا شکار ہو گا۔ حضرت شیخؒ کا یہ رسالہ ہے، میں علماء سے کہا کرتا ہوں کہ وہ لازمی اسے پڑھیں۔ اصل عربی میں ہے، اردو ترجمہ بھی مل جاتا ہے۔ مولانا علی میاںؒ کا یہ مقالہ ہے، اس موضوع پر بڑی سیر حاصل گفتگو کی ہے کہ فکری ارتداد پھیل رہا ہے اور سنبھالنے والا کوئی نہیں ہے۔

یہ فکری ارتداد کیا ہے؟ یہ شکوک و شبہات ہیں۔ فکری ارتداد یہ ہے کہ شکوک و شبہات پھیلانے والے پھیلا رہے ہیں، اور ہم جواباً‌ اس فضا میں مناظرے اور مجادلے سے ان شکوک و شبہات میں اضافہ کر رہے ہیں۔ مجھے معاف فرمائیں، ہماری جوابی کارروائیاں شکوک میں کمی لانے کی نہیں ہیں، اضافے کی ہیں۔ ہم جب مجادلے اور مناظرے کا رنگ اختیار کرتے ہیں تو شکوک و شبہات میں کمی نہیں ہوتی، اضافہ ہوتا ہے۔ مسئلہ کیا ہے؟ آپ علماء کرام کو اور اساتذہ کو لازماً‌ اسے سمجھنا چاہیے۔ مسئلہ یہ ہے کہ آج سے تیس چالیس سال پہلے کا ماحول آج کے ماحول سے بالکل مختلف تھا۔

آج سے تیس چالیس سال پہلے جو جدید تعلیم یافتہ نوجوان تھا، دین کے بارے میں اس کی معلومات کا واحد ذریعہ میں تھا۔ تصور کریں کہ لڑکا بی اے ہے، ایم اے ہے، لڑکی بی اے ہے، ایم اے ہے۔ دینیات کے بارے میں کہ مسئلہ کیا ہے، قرآن کیا ہے، حدیث کیا ہے، فقہ کیا کہتی ہے، آج سے تیس چالیس سال پہلے یہ بات معلوم کرنے کے لیے میں بطور عالم اُس کے پاس واحد ذریعہ تھا۔ میں نے کہا کہ یہ قرآن کی آیت ہے، اس نے کہا ٹھیک ہے۔ میں نے کہا کہ یہ حدیث میں آتا ہے، اس نے کہا ٹھیک ہے جی۔ میں نے کہا امام صاحبؒ کا فتویٰ ہے، اس نے کہا ٹھیک ہے جی۔ مفتی صاحبان کی رائے یہ ہے، ٹھیک ہے جی۔ اس حوالے کے لیے اس کے پاس ذریعہ میں ہی تھا۔ اس نے قرآن بھی مجھ سے پوچھنا تھا، حدیث بھی مجھ سے، فقہ کا مسئلہ بھی، اگر کسی نے امام صاحبؒ کا موقف پوچھنا ہے تو مجھ سے پوچھنا ہے۔ جو میں نے کہہ دیا، کہہ دیا۔

اب یہ صورتحال نہیں ہے۔ اس کے پاس متبادل سورس نہیں بلکہ سورسز آ گئے ہیں۔ اس کے پاس قرآن پاک کے بارے میں، حدیث کے بارے میں، فقہ کے بارے میں، مسائل کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے متبادل ذریعہ نہیں بلکہ ذرائع آگئے ہیں۔ جو نوجوان نیٹ پہ بیٹھتا ہے وہ آپ سے زیادہ جلدی اسٹڈی کر لیتا ہے کہ اس مسئلے پر شوافع کی رائے کیا ہے اور مالکیہ کی رائے کیا ہے۔ قرآن کی تفسیر فلاں نے کیا کی ہے اور فلاں نے کیا کی ہے۔ اس حدیث کو فلاں نے ضعیف کہا ہے اور فلاں نے قوی کہا ہے۔ مجھے تو بہت دیر لگتی ہے، آپ کو بھی دیر لگے گی، اس کو اتنی دیر نہیں لگے گی اور وہ پانچ سات منٹ میں سارے نتیجے نکال کر سامنے بیٹھا ہو گا۔ اس کی حاصل کردہ معلومات صحیح ہوں یا غلط مگر اس کے لیے معلومات وہی ہیں اور انہی سے اس نے موقف طے کرنا ہے۔

میں یہ بات کہہ رہا ہوں کہ اب میں اس کے نزدیک واحد سورس نہیں رہا، متبادل سورس اب اس کے پاس موجود ہیں۔ وہ میرے پاس بات پوچھنے کے لیے آتا ہے تو مسئلہ معلوم کرنے کے لیے نہیں آتا، بلکہ مسئلہ معلوم کرنے میں اس نے جو اسٹڈی کی ہے اس میں اگر کوئی شک پیدا ہو گیا ہے تو وہ شک دور کرنے کے لیے میرے پاس آئے گا۔ آج کے کسی تعلیم یافتہ نوجوان کو مسئلہ معلوم کرنے کے لیے میرے پاس آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ کہیں الجھن ہو گئی تب وہ میرے پاس آئے گا کہ مولوی صاحب یہ بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔ اب وہ بات میرے علم میں بھی نہیں ہے کہ کیا الجھن ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ وہ نیٹ دیکھتا ہے، مختلف چینلز دیکھتا ہے، پڑھتا ہے، سنتا ہے، کسی مسئلے میں الجھن پیدا ہو گئی ہے، کنفیوژن آ گئی ہے۔ کنفیوژن پیدا ہونے تو کوئی بڑی بات نہیں ہے، ہمیں بھی ہو جاتی ہے کبھی کبھی، بڑوں بڑوں کو ہو جاتی ہے۔ اب اس نے اس کنفیوژن کو دور کرنے کے لیے مولوی صاحب کے پاس آنا ہے۔ جبکہ ہماری تیاری نہیں ہے۔ مجھے کیا پتہ کہ فجر کی نماز میں مجھ سے کسی نے کیا سوال کرنا ہے۔ اس نے مجھ سے سوال کر دیا، میری تیاری نہیں ہے، اور ضروری بھی نہیں کہ ہر بات کی تیاری ہر وقت ہو۔ میرا طرز عمل کیا ہے؟ یا ڈانٹ دوں گا یا گول مول جواب دوں گا۔ پہلا ری ایکشن یہ ہے کہ ڈانٹ دوں گا کہ بے وقوف! کیوں یہ پروگرام دیکھا کرتے ہو، مت دیکھا کرو۔ اور اگر کوئی جواب دوں گا تو گول مول دوں گا کیونکہ میری اپنی تیاری نہیں ہے۔ دونوں صورتوں میں اس کے شک میں کمی نہیں ہو گی، اضافہ ہو گا۔

اور اگر وقت کا دامن تنگ نہ ہو تو ایک قصہ سنانا چاہتا ہوں۔ آج کی صورتحال بتا رہا ہوں کہ اس حوالے سے یہ آج کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ تشکیک اور اس کے جواب میں صحیح طرزِ عمل کا نہ ہونا، میرے نزدیک آج کے دور کا سب سے بڑا فتنہ ہے۔ ایک ذاتی واقعہ عرض کرتا ہوں۔ بچیاں بیٹھی ہیں، اس لیے بھی۔ میرا برطانیہ میں ایک عرصہ آنا جانا رہا ہے، اب وہ ویزا نہیں دے رہے تو نہیں جا رہا۔ اسکاٹ لینڈ کا ایک شہر ہے ایڈنبرا، ایک دفعہ مجھے وہاں سے گلاسگو آنا تھا، گھنٹے سوا گھنٹے کی ڈرائیو ہے۔ ہمارے پاکستانی دوست وہاں رہتے ہیں خانیوال کے، لیکن ان کے بچے بچیاں سب وہیں پیدا ہوئے اور وہیں کے ماحول میں ویسے ہی ہیں۔ یہ بش اور ٹونی بلیئر کا دور ہے۔ میں نے اپنے میزبان سے کہا کہ یار مجھے گلاسگو پہنچا دو۔ مجھے دس بجے تک پہنچنا تھا۔ اس نے کہا، ڈیوٹی پہ جا رہا ہوں اور چھٹی نہیں کر سکتا۔ وہاں یہ تصور ہمارے ہاں کی طرح نہیں ہے کہ چلو آج چھٹی کر لیتا ہوں۔ ٹرین کا پتہ کیا تو ٹرین بھی کوئی نہیں تھی۔ اس نے کہا، اچھا اس طرح کریں کہ میری بچیاں گلاسگو یونیورسٹی جاتی ہیں، ان کے ساتھ اگر چلے جائیں؟ میں نے کہا، چلا جاؤں گا، تمہاری بچیاں میری بھی بچیاں ہیں۔

ایک لڑکی گاڑی چلا رہی ہے اور دوسری اس کے ساتھ بیٹھی ہے۔ میں پیچھے بیٹھا ہوا ہوں۔ وہ پنجابی جانتی تھی، اردو نہیں جانتی تھی۔ میری عادت ہے میں چپ نہیں بیٹھتا۔ جب شہر سے نکلے تو میں نے بات چھیڑ دی کہ بیٹا ایک بات پوچھنی ہے بتائیں گی؟ انکل جی پوچھو۔ اب ایک لڑکی ہے جو برطانیہ میں پیدا ہوئی ہے، وہیں پلی بڑھی ہے، وہاں کی یونیورسٹی کی اسٹوڈنٹ ہے، آپ سمجھ لیں کہ اس کی کیفیات کیا ہوں گی اور نفسیات کیا ہوں گی۔ اس نے کہا، پوچھیں جی۔ اس وقت یہ بش اور ٹونی بلیئر اور عراق کی جنگ کا ماحول تھا۔ میں نے کہا، بیٹا آپ مسلمان لڑکیاں ہیں، پاکستانی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں، یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں، اس وقت کی صورتحال پہ آپ کیا محسوس کر رہی ہیں؟ ایک بچی کہتی ہے، ’’انکل جی تسی غصے ہو جانا‘‘ (انکل، آپ غصے ہو جائیں گے)۔ میں نے کہا بیٹا، نہیں ہوتا۔ اس نے کہا، تسی ہو جانا (میں جواب دوں گی تو آپ ناراض ہو جائیں گے)۔ میں نے کہا بیٹا، نہیں ہوتا۔ اس نے پوری تسلی کر کے، جیسے پرانے زمانے میں ہوتا تھا کہ بادشاہ کے سامنے ’’جان کی امان پاؤں تو عرض کروں‘‘ کی گارنٹی لے کر بولا جاتا تھا، اس نے کہا کہ دو طبقوں پہ ہمیں بڑا غصہ آتا ہے ’’بڑی کوڑ چڑھدی آ‘‘۔ کس پر؟

  1. ایک بش اور ٹونی بلیئر پر۔ اس وقت امریکہ کا صدر جارج ڈبلیو بش تھا اور برطانیہ کا وزیر اعظم ٹونی بلیئر تھا۔ یہی قیادت کر رہے تھے ساری جنگ کی۔ میں نے کہا کیوں جی؟ ’’اے سانوں کٹی جاندے آ، کٹی جاندے آ‘‘ (مسلمانوں کو مارتے جا رہے ہیں، مارتے جا رہے ہیں)۔ میں نے کہا، بات تو ٹھیک ہے۔ میں نے کہا دوسرا؟
  2. انکل جی، سانوں مولویاں تے بڑا غصہ چڑھدا اے (ہمیں مولویوں پر بڑا غصہ آتا ہے)۔ میں نے کہا جی، کیوں؟ کہتی ہیں کہ انکل جی ہم یونیورسٹی میں پڑھتی ہیں، آج کا ماحول ہے ہمارا، بہت سی باتیں ہمارے سامنے آتی ہیں، بہرحال مسلمان تو ہیں ہم، قرآن پر بھی ایمان ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ایمان ہے، کبھی کوئی شبہ پیدا ہو جاتا ہے اور کوئی کنفیوژن آتی ہے تو ہم نے کنفیوژن حل کرنے کے لیے کس کے پاس جانا ہے؟ عقیدے کے بارے میں، کسی فریضے کے بارے میں، کسی حدیث کے بارے میں۔ ہم مولوی صاحب تلاش کرتی ہیں، وہ ہمیں ڈانٹ دیتے ہیں۔ ’’انکل جی اَسی کتھے جائیے؟‘‘ (ہم کہاں جائیں؟)

یہ ہے نکتہ۔ یہ ہے سوال آج کی نسل کا۔ ہم نے جو طرزِ عمل اختیار کیا ہوا ہے، میں یہ بات بڑی دردمندی سے عرض کرتا ہوں کہ ہم ڈانٹنے کی بجائے سمجھانے کا طرز کیوں نہیں اختیار کرتے؟ ایک آدمی اُس ماحول سے میرے پاس آیا ہے، کیا اسے ڈانٹنا ضروری ہے؟ فتویٰ لگانا ضروری ہے اس پر؟ اس کو بیٹا کہہ کر، بھائی کہہ کر ٹھنڈے دل سے سمجھانا کیا میری ذمہ داری نہیں ہے؟ لیکن ہوتا یہ ہے کہ چونکہ میری خود تیاری نہیں ہوتی، اس لیے مجھے بھی ڈانٹنے میں ہی عافیت محسوس ہوتی ہے کہ اس سے کام چل جائے گا۔

میں نے بہت سمع خراشی کی آپ حضرات کی، اور کڑوی کڑوی باتیں ٹھنڈے ٹھنڈے لہجے میں کی ہیں، لیکن جو کڑوی باتیں میں نے عرض کر دی ہیں اُن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ مجھے زندگی میں جو مشکلات پیش آ رہی ہیں، میرے سامنے جو شاگرد بیٹھا ہے، ان مشکلات کو سامنے رکھ کر مجھے اس کو تیار کرنا ہے کہ وہ مستقبل میں دین کی نمائندگی بہتر طریقے سے کر سکے اور ان مشکلات سے بچ سکے جو میرے تجربات میں آئی ہیں۔ یہ میری ذمہ داری ہے، اللہ پاک مجھے اور آپ سب کو کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

2016ء سے
Flag Counter