بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ایک دو روز کے لیے مری حاضری کا موقع ملا، کل میں نے بھوربن میں عالمی تحریک خدام الدین کے سالانہ اجتماع میں شرکت کی سعادت حاصل کی، اور آج مدرسہ عربیہ اسلامیہ سنی بینک میں مری کے علماء کرام کے ایک بھرپور اجتماع میں شرکت، دوستوں سے ملاقات اور گفتگو کا شرف حاصل کیا۔ اللہ پاک حاضری کو قبول فرمائیں۔ مری کے علماء ہمیشہ دینی معاملات میں، ملی معاملات میں متحرک رہے ہیں اور آج بھی ماشاء اللہ متحرک نظر آ رہے ہیں، اور یہ وقت کی ضرورت بھی ہے۔
اس موقع پر میں باقی امور کے ساتھ ساتھ توجہ دلانا چاہوں گا کہ آزاد کشمیر کی صورتحال، اس کی کچھ باتوں کا مجھے یہاں آ کے علم ہوا، کیونکہ وہاں کی خبروں کا راستہ تو بالکل بند ہے اور براہِ راست معلومات حاصل کرنا ملک کے باقی حصوں کے لوگوں کے لیے بہت مشکل ہو گیا ہے، لیکن جو صورتحال مجھے سرسری طور پر معلوم ہوئی ہے، اس پر تشویش ہے کہ آزادکشمیر میں یہ صورتحال یہاں تک نہیں پہنچنی چاہیے تھی۔ مسئلہ کشمیر کے تقاضوں کو اس کی عالمی پیچیدگیوں کے حوالے سے، اور پھر اس تناظر میں کہ بیک وقت بلوچستان میں اس قسم کی صورتحال، اور خیبر پختونخوا کے جنوبی علاقوں میں اس قسم کی صورتحال، اور اسی وقت میں آزاد کشمیر میں اس قسم کی صورتحال، یہ بہت سی تشویش میں ڈال رہی ہے اور بہت سے خدشات پیدا کر رہی ہے، اس پر سنجیدگی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
میری اداروں سے بھی اور حکمرانوں سے بھی درخواست ہے کہ مذاکرات کا اور گفتگو کا راستہ اختیار کریں، معاملات کو نوریٹرن پوائنٹ تک جانے سے بچائیں۔ یہ ہماری قومی سلامتی کا تقاضا بھی ہے، مسئلہ کشمیر کا تقاضا بھی ہے، قومی وحدت کا تقاضا بھی ہے۔ اور میں اپنے حکمرانوں سے اور سیاسی پارٹیوں سے درخواست کے ساتھ ساتھ، بالخصوص آزاد کشمیر کی دینی قیادت سے عرض کرنا چاہوں گا۔ آزاد کشمیر کی دینی قیادت نے، علماء نے، تحریکِ آزادی میں اور تحریکِ کشمیر میں بھی بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ پھر آزاد کشمیر کی نظریاتی شناخت کے تحفظ میں اور یہاں شرعی قوانین کے نفاذ میں بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ اس کردار کا تسلسل اب بھی باقی رہنا چاہیے۔ اور آزاد کشمیر کے علماء کرام کو، مشائخ کو اور دینی قیادت کو اس موقع پر سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے معاملات کو سمیٹنے کی طرف کوئی راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ معاملات یہاں تک بھی نہیں بکھرنے چاہیے تھے، لیکن مزید بکھرنا، ملک کے لیے، قوم کے لیے، کشمیریوں کے لیے، ہم پاکستانیوں کے لیے بھی نقصان دہ بات ہو گی۔ تو میں اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آزاد کشمیر کی دینی قیادت سے، دینی جماعتوں سے، مشائخ سے بالخصوص درخواست کروں گا کہ وہ مل بیٹھیں، اور مل بیٹھ کے اس مسئلے کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں، اور حالات کو ایسے مقام تک جانے سے روکیں کہ مسائل کا حل مشکل ہو جائے۔
اللہ پاک آزادئ کشمیر کی تحریک کو تسلسل نصیب فرمائیں، اور کشمیری بھائیوں کو، ہمارے اداروں کو، حکومت کو، سیاسی جماعتوں کو اور دینی قیادت کو مل بیٹھ کر اپنی مشکلات اور اپنے مسائل کا حل باہمی مفاہمت کے ساتھ طے کرنے کی توفیق عطا فرمائیں، اللہ پاک قبول فرمائیں اور اس کی توفیق عطا فرمائیں۔

