(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
پچھلے دنوں ہمارے ملک کے ایک بہت بڑے بزرگ، بہت بڑے عالمِ دین، محدث، شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد ادریس صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ دہشت گردی کا نشانہ ہوئے ہیں، شہید ہوئے ہیں، اللہ پاک ہمارے حال پہ رحم فرمائے۔ اسی ادارے سے حضرت مولانا سمیع الحق شہید ہوئے تھے، پھر مولانا حامد الحق شہید ہوئے، اب شیخ الحدیث مولانا ادریس صاحب شہید ہوئے، دارالعلوم حقانیہ کے، ہمارے بزرگوں میں سے تھے، صاحبِ علم تھے، ساری زندگی پڑھنے پڑھانے میں گزاری ہے۔ قرآن پاک، حدیث، سنت پڑھانے میں گزاری ہے۔ لیکن یہ اللہ پاک ہمارے حال پہ رحم فرمائے، ملک کی صورتحال ایسی بن گئی ہے، بلوچستان میں بھی ایک عالم شہید ہوئے ہیں، کس بات پہ؟ کہ ملک کے مفاد کی بات کرتے ہیں کہ بھئی اپنا ملک ہے، اس کو بچاؤ، اس ملک کے خلاف بات نہیں کرو۔
ہماری دو باتیں ہوتی ہیں، سیدھی سیدھی بات ہے: (۱) ملک دین کے لیے بنا ہے، دین نافذ کرو! (۲) دین کے لیے ملک بنا ہے، ملک کی حفاظت کرو! دین کے خلاف بھی کوئی سازش قبول نہیں ہے اور ملک کے خلاف بھی کوئی سازش قبول نہیں ہے۔
ملک کس کے لیے بنا ہے؟ اسلام کے لیے۔ اسلام کی حفاظت، اسلام کا نفاذ ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اور اسلام کے لیے ملک بنا ہے تو ملک کی حفاظت بھی کس کی ذمہ داری ہے؟ ہماری ذمہ داری ہے۔ اداروں کی بھی ہے، ہماری بھی ہے۔ دین کے خلاف کوئی بات ہو گی تب ہم چیخیں چلائیں گے اور ملک کے خلاف بات ہو گی تب بھی چیخیں چلائیں گے۔ یہ میں عرض کرتا ہوں کہ اللہ پاک بیرونی مداخلت سے — باہر کی طاقتیں آ کر خراب کرتی ہیں ہمیں۔
دین بھی ہمارا ہے، ملک بھی ہمارا ہے۔ دین کے خلاف کوئی بات ہو گی، تب بھی اپنا فرض ادا کریں گے، اور ملک کے خلاف کوئی بات ہو گی تب بھی اپنا فرض ادا کریں گے۔ یہ ہمارے بزرگ اسی لیے نشانہ بن رہے ہیں کہ دین کی بات بھی کرتے ہیں، ملک کی بات بھی کرتے ہیں۔
اللہ پاک حضرت مولانا محمد ادریس صاحب رحمۃ اللہ علیہ کے درجات جنت میں بلند سے بلند تر فرمائیں۔ ہمیں اپنے ملک کی اور اپنے دین کی حفاظت کرنے کی اور اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

