بیرونی مطالبات کا سلسلہ اور ہماری قومی حالت

   
مرکزی جامع مسجد، شیرانوالہ باغ، گوجرانوالہ
۴ جنوری ۲۰۰۲ء

(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)

حالات آپ کے سامنے ہیں، جس رُخ پر ہم جا رہے ہیں، اس کے سوا کوئی اور بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں گڑگڑا کر روئیں اور عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے گریہ کریں کہ یا اللہ! تو ہی روک سکتا ہے تو روک دے، ہمارے بس کی بات نہیں ہے۔ ہم سرنڈر ہونا شروع ہوئے اور ہوتے چلے گئے، جس طرح پہاڑ سے آدمی لڑھکتا ہے تو لڑھکتے ہی چلے جاتا ہے۔

پہلے امریکہ کے مطالبات تھے جو ہم نے پورے کیے، سوچتے سمجھتے ہوئے اور جانتے بوجھتے ہوئے پورے کیے، خدا کو ایک طرف کر دیا، ایمان کو ایک طرف رکھ دیا، قوم کے جذبات اور مفادات کو نظر انداز کر دیا، طاقت کے سامنے جھکتے ہوئے سارے مطالبات ہم نے پورے کیے۔ اب ہمارے سامنے انڈیا کے مطالبات کی ایک نئی فہرست آگئی ہے۔ ہم وہ بھی پورے کرنے جا رہے ہیں یا نہیں؟ آج بھارتی وزیر خارجہ نے جو بیان دیا ہے کہ جناب ہم بہت خوش ہیں، آپ بہت اچھا کر رہے ہیں کہ ہماری باتیں مانتے جا رہے ہیں۔ اگر آپ ہماری باتیں مانتے چلے جائیں گے تو پھر ہماری آپ سے لڑائی نہیں ہوگی۔

اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے، اللہ تعالیٰ ہمارے حال پر رحم فرمائے۔ میں اپنے حکمرانوں سے یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ خدا کے لیے اب بھی کہیں بریک لگا دو، تم نے تباہی کا راستہ منتخب کیا ہے اپنے لیے، قوم کے لیے اور عالم اسلام کے لیے۔ اب بھی کہیں بریک لگا سکتے ہو تو لگا لو شاید کچھ بچاؤ ہو جائے، ورنہ تم یکے بعد دیگرے دشمنوں کو اپنے اوپر مسلط کر کے خدائی عذاب میں اضافہ کرتے چلے جاؤ گے۔

2016ء سے
Flag Counter