محسنِ ملت ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رحلت

   
۱۲ اکتوبر ۲۰۲۱ء

محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی ہم سے رخصت ہو گئے، انا للہ و انا الیہ راجعون۔ ایک ایٹمی سائنسدان کے طور پر انہوں نے وطن عزیز اور عالمِ اسلام کی جو خدمت کی وہ تاریخ کا ایک روشن باب ہے اور اس پر انہیں غیروں کے ساتھ ساتھ اپنا کہلانے والوں کی طرف سے کردارکشی اور حوصلہ شکنی کے جن کربناک مراحل سے گزرنا پڑا وہ بھی تاریخ کے ایک سیاہ باب کی صورت میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ وہ ایک غیور مسلمان اور شعوری پاکستانی تھے اور ان کی زندگی ملت، قوم اور ملک کی مسلسل خدمات سے عبارت ہے۔ انہوں نے ہمیشہ اسلام، پاکستان اور ملت اسلامیہ کی بات کی اور اس کے لیے اپنی صلاحیتوں کو وقف کیے رکھا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کے عظیم کارنامہ پر دنیا بھر کے مسلمان ان کے شکرگزار اور احسان مند ہیں جس کی ایک چھوٹی سی مثال ان کے حوالہ سے ہم نے کسی کالم میں ذکر کی تھی کہ جب پاکستان نے ایٹمی دھماکہ کر کے خود کو ایٹمی طاقت کے طور پر دنیا میں روشناس کرایا تو مصر کے ایک معروف کالم نویس نے اپنے کالم میں اسرائیل کو ان الفاظ سے مخاطب کیا تھا:

’’اسرائیلیو! اب سوچ سمجھ کر بات کرنا، ہم بھی ایٹمی طاقت ہیں۔‘‘

مگر ڈاکٹر عبد القدیر خانؒ کی اس عظیم قومی اور ملی خدمت پر انہیں صحیح مقام دینے کی بجائے جس منفی رویے کا سامنا کرنا پڑا اور ان کے ساتھ جو سلوک روا رکھا گیا وہ یقیناً‌ ہماری غلامانہ ذہنیت اور نفسیات کا آئینہ دار ہے۔ ان کا قصور صرف یہ تھا کہ چند عالمی اجارہ داروں نے ایٹمی صلاحیت پر اپنا کنٹرول قائم رکھنے اور خاص طور پر مسلم ممالک میں سے کسی کو اس صلاحیت اور توانائی کے قریب نہ آنے دینے کے لیے جو خودساختہ قوانین و ضوابط تشکیل دے رکھے ہیں انہوں نے ان کی پروا کیے بغیر اسلامی جمہوریہ پاکستان کو ایٹمی صلاحیت سے بہرہ ور کرنے اور ایٹمی قوت بنانے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دیں، اور اس میں وہ اپنی قوم کے ساتھ ساتھ بارگاہ ایزدی میں بھی سرخرو ہوئے۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان کی جدائی پر نہ صرف پاکستانی قوم بلکہ عالمِ اسلام سوگوار ہے اور ان کی خدمات پر خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے ان کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے ہم سب دعاگو ہیں، آمین یا رب العالمین۔ اس کے ساتھ ہم ڈاکٹر عبد القدیر خان کی آزمائش کے حوالہ سے ماہنامہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے نومبر ۲۰۰۶ء کے شمارہ میں شائع ہونے والا اپنا ایک شذرہ بھی شامل کرنا مناسب سمجھتے ہیں جو ہمارے جذبات و احساسات کی ترجمانی کرتا ہے:

ڈاکٹر عبد القدیر ہمارے ملک کے محترم سائنس دان ہیں جو اس حوالہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ عالم اسلام کے محسن ہیں کہ انہوں نے پاکستان کو عالم اسلام کی پہلی ایٹمی طاقت بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا اور ان کی اس عظیم محنت کے نتیجے میں آج ہمارے حکمران پاکستان کو ناقابل تسخیر قوت کے طور پر پیش کرتے ہوئے فخر محسوس کرتے ہیں۔ مگر عالمی دباؤ پر ڈاکٹر عبد القدیر کے ساتھ جو سلوک روا رکھا جا رہا ہے وہ انتہائی افسوسناک ہے اور خاص طور پر صدر پاکستان جنرل پرویز مشرف نے اپنی کتاب میں قوم کے اس محسن کا جس اہانت آمیز انداز میں ذکر کیا ہے وہ ملی حمیت و غیرت کے تقاضوں کے منافی ہے۔

آج مغربی طاقتیں اور ان کے ہمنوا ممالک ایٹمی اسلحہ پر چند ملکوں کی اجارہ داری قائم رکھنے کے لیے جن خود ساختہ بین الاقوامی قوانین کا سہارا لے رہے ہیں اور جن کے حوالہ سے ڈاکٹر عبد القدیر کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا جا رہا ہے ہمارے نزدیک وہ قوانین بجائے خود محل نظر اور یکطرفہ ہیں، کیونکہ ایٹمی ہتھیاروں کو صرف چند ملکوں تک محدود کر دینا اور باقی ممالک بالخصوص عالم اسلام کو ان کے حصول سے زبردستی روکنا انصاف اور عدل کے اصولوں کے یکسر خلاف ہے۔ ایٹمی ہتھیار اگر جائز ہیں تو سب کو ان کے حصول کا حق حاصل ہے اور اگر ناجائز ہیں تو سب کے لیے ناجائز ہیں اور دوسرے ممالک کو ایٹمی ہتھیار بنانے سے روکنے والوں کو پہلے اپنے ہتھیار ختم کرنا ہوں گے۔ لیکن ستم ظریفی کی بات ہے کہ ہمارے حکمران اس سراسر ظلم اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنے کی بجائے خود اپنے محترم سائنس دان اور قومی ہیرو کی کردارکشی میں مصروف ہیں۔

اس پس منظر میں لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محمد اختر شبیر کے یہ ریمارکس قوم کے زخموں پر کسی حد تک مرہم رکھنے کے مترادف ہیں کہ

’’ہیرو کبھی نہیں مرتے اور ڈاکٹر عبد القدیر نے پاکستان کی جو خدمت کی ہے اس پر ہم ان کے احسان مند ہیں‘‘۔

روزنامہ پاکستان لاہور ۱۸ اکتوبر ۲۰۰۶ء کی رپورٹ کے مطابق مسلم لیگ (ن) لائرز فورم کی جانب سے ایک رٹ کی سماعت کے دوران جسٹس موصوف نے کہا کہ ’’ہیرو کبھی مرا نہیں کرتے یہ بھی زندہ رہیں گے اور انہیں عدالتوں کی ضرورت نہیں ہوتی‘‘۔ ہم جسٹس موصوف کے شکرگزار ہیں کہ انہوں نے قوم کے جذبات کی ترجمانی کی` خدا کرے کہ ہمارے حکمران بھی اس حقیقت کا ادراک کر سکیں اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر کی کردارکشی سے دست کش ہو جائیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter