مولانا سعید الرحمٰن علویؒ کا مجموعۂ نگارشات اور حالاتِ زندگی

   
پیش لفظ / تقریظ / مقدمہ
۲۱ فروری ۲۰۲۶ء

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

حضرت مولانا محمد سعید الرحمٰن علوی رحمہ اللہ تعالیٰ میرے طالب علمی اور تحریکی دور کے رفقاء میں سے تھے، انہوں نے اپنے برادر بزرگ حضرت مولانا عزیز الرحمٰن خورشید کے ہمراہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں دورۂ حدیث کیا اور ہمارے شیخین کریمین حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر اور حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی رحمہما اللہ تعالیٰ سے تلمذ حاصل کیا۔ میں بھی اس دور میں جامعہ نصرۃ العلوم میں زیر تعلّم تھا، وہ دونوں بھائی مجھ سے ایک دو درجے آگے تھے مگر صبح ترجمہ قرآن کریم کی کلاس میں ہم ایک ساتھ رہ ہیں۔ طالب علمانہ سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ مسلکی و جماعتی ذوق و مزاج ہم ایک جیسا ہی رکھتے تھے اور اس حوالہ سے بھی ہماری مشترکہ سرگرمیاں جاری رہتی تھیں۔

درسِ نظامی سے فارغ ہونے کے بعد دونوں بھائی ہفت روزہ ترجمانِ اسلام لاہور اور ہفت روزہ خدام الدین لاہور سے وابستہ ہوئے۔ مولانا خورشید نے ترجمانِ اسلام کی ادارت سنبھالی جبکہ مولانا سعید الرحمٰن علوی خدام الدین کے مدیر تھے اور ان کے ساتھ تحریر و تقریر میں مجھے بھی رفاقت کا مسلسل شرف حاصل رہا اور جمعیۃ علماء اسلام کے کاموں میں بھی ہم متحرک رہے۔ ان کے والد گرامی حضرت مولانا محمد رمضان علوی نور اللہ مرقدہ کے ساتھ بھی میری نیازمندی رہی ہے اور ان کی شفقتوں اور دعاؤں سے فیضیاب ہوتا رہا ہوں۔

مولانا سعید الرحمٰن علویؒ دینی، قومی اور ملی جذبات و احساسات سے بخوبی بہرہ ور تھے اور تحریر و تقریر دونوں محاذوں پر ان کی تگ و دو جاری رہتی تھی۔ ان کی ایک خوبی میرے لیے ہمیشہ قابلِ رشک رہی کہ دوستوں کے ساتھ گپ شپ بھی کر رہے ہیں اور قلم بھی ساتھ ساتھ چل رہا ہے، ساتھیوں سے محوِ گفتگو بھی ہوتے تھے اور ساتھ ساتھ لکھتے بھی جاتے تھے، جبکہ میں انہیں اس کیفیت میں دیکھ کر رشک و حسرت کے احساسات سے دوچار ہو جاتا تھا کہ مجھے لکھنے کے لیے یکسوئی اور تنہائی درکار ہوتی ہے اور دیگر مصروفیات کے ساتھ کچھ لکھنے کا ذوق مجھے حاصل نہ ہو سکا۔ وہ گفتگو اور تحریر دونوں میں کچھ تیکھا پن بھی رکھتے تھے جس سے ہم ساتھی محظوظ ہوا کرتے تھے۔

مولانا سعید الرحمٰن علویؒ نے ایک عرصہ خطابت اور صحافت کے کوچوں میں گزارا ہے اور بیسیوں عنوانات پر قلم اٹھایا ہے جو مختلف جرائد و رسائل میں بکھرا ہوا ہے۔ کافی عرصہ سے سوچ رہا تھا کہ کوئی صاحبِ ہمت ان کو جمع و مرتب کرنے کی صورت نکال لیں تو ایک اچھا خاصہ علمی ذخیرہ نئی نسل کی راہ نمائی اور استفادہ کا باعث بنے گا۔ زیرنظر مجموعہ ان کے خاندان کی اسی کاوش کا ثمرہ ہے جس میں ان کی نگارشات کے ساتھ ساتھ تگ و تاز کے واقعات اور حالاتِ زندگی بھی اچھے انداز میں پیش کیے گئے ہیں۔ اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ رب العزت یہ محنت کرنے والوں کی کاوش کو قبولیت سے نوازیں اور برادرم مولانا سعید الرحمٰن علویؒ کو جنت میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter