بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
جناب سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ ہماری دینی راہ نمائی اور تعلیم و تربیت کا ایک مستقل ماخذ ہے کیونکہ ’’لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ‘‘ کے حکمِ خداوندی کی بجا آوری کے لیے سیرتِ طیبہ کے تاریخی اور واقعاتی ماحول سے واقفیت ہر مسلمان کے لیے ضروری ہے مگر ہمارے ریاستی و معاشرتی تعلیمی نظام و نصاب میں سیرتِ طیبہ بطور سیرتِ طیبہ باقاعدہ شامل نہیں ہے بلکہ دینی مدارس میں بھی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات و فرامین اور سنن مبارکہ کا ایک بڑا حصہ شامل ہونے کے باوجود ان کے واقعاتی اور معاشرتی ماحول و پس منظر سے آگاہی ہمارے نصاب کا حصہ نہیں ہے جبکہ ہماری تمام تر ابحاث اعتقادی اور فقہی مباحث کے دائرہ میں محصور رہ جاتی ہیں جو انتہائی ناگزیر ہونے کے باوجود کافی نہیں ہیں۔
ایک عرصہ سے اس ضرورت کا احساس دلانے میں میری بھی تھوڑی بہت کاوش بحمد اللہ تعالیٰ شامل ہے اور اس سمت کسی صاحبِ علم کی توجہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ ہمارے فاضل دوست مولانا حافظ سعید عاطف خطیب جامعہ فتحیہ اچھرہ لاہور بھی اسی فکر کے حامل ہیں اور کچھ نہ کچھ کوشش کرتے رہتے ہیں۔ انہوں نے ’’آثارِ سیرت‘‘ کے عنوان سے سیرتِ طیبہ کے اہم مضامین کو تدریسی انداز میں جمع و مرتب کر کے زیرنظر مجموعہ پیش کیا ہے جو اس مبارک مقصد کے لیے ایک اہم کاوش ہے اور نوجوان نسل کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور اسوۂ حسنہ سے واقف کرانے کے لیے بہت مفید ہے۔ اللہ تعالیٰ اسے قبولیت و ثمرات سے نوازیں اور زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نفع بخش بنائیں، آمین یا رب العالمین۔

