(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آپ نے اخبارات میں پڑھ لیا ہوگا کہ امریکہ سے ایک تجویز آئی ہے۔ امریکہ کا ایک رسالہ ہے ’’نیشنل ریویو‘‘، اس کے مضمون نگار نے ایک سروے کرنے کے بعد لکھا ہے کہ مسلمان جو اتنے بپھرے ہوئے ہیں اور ان کے درمیان امریکہ کے خلاف نفرت بڑھتی جا رہی ہے، اس کا حل کیا ہے؟ اس نے تجویز دی ہے کہ مکہ مکرمہ پر ایٹمی حملہ کر دو، قصہ ہی ختم ہو جائے گا۔
یہ بیت اللہ ہی مسلمانوں کی وحدت کا مرکز ہے۔ مسلمانوں کو اکٹھا رکھنے والی اس وقت عالمِ اسلام میں کونسی چیز ہے جہاں سارے مسلمان اکٹھے ہو جاتے ہیں؟ وہ کونسی جگہ ہے؟ دنیا کا کونسا ایسا مقام ہے جہاں آج کی تمام تر مشکلات، تمام تر پریشانیاں، تمام تر بد اعمالیوں اور خرابیوں کے باوجود دنیا بھر کے مسلمان ایک مرکز پر، ایک جہت پر اکٹھے ہو جاتے ہیں؟ وہ کونسی جگہ ہے؟ حرمین شریفین مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ۔ دنیائے کفر نے مسلمانوں کو متفرق کرنے کے لیے، انہیں ایک دوسرے کے خلاف لڑانے کے لیے سارے ہتھیار آزما لیے ہیں اور اس میں وہ کامیاب بھی ہوئے ہیں لیکن ایک نکتہ ایسا ہے جہاں ایک مسلمان سب کچھ بھول کر پہنچتا بھی ہے اور دنیا بھر سے آئے ہوئے مسلمانوں کے ساتھ مل کر عبادت بھی ادا کرتا ہے اور خدا کے سامنے روتا دھوتا بھی ہے۔
اس مضمون نگار نے کہا کہ مکہ مکرمہ پر ایٹمی حملہ کر دیا جائے تاکہ وہ جڑ ہی ختم ہو جائے جو ابھی تک مسلمانوں کا نکتۂ اتحاد ہے۔ یہ تجویز نئی نہیں ہے۔ آج سے سو سال پہلے بھی ایک فرانسیسی صحافی نے یہ تجویز دی تھی جو کہ ریکارڈ پر ہے، اس نے کہا کہ مسلمانوں کی یہ جو عقیدت محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ہے اور یہ جو روضے پر جا کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں، اس کو روکنا ہو گا۔ اس کی تجویز اس نے یہ پیش کی کہ نبی کریمؐ کی قبر کو کھودا جائے اور آپؐ کی لاش کو نکال کر پیرس کے میوزیم میں رکھ دیا جائے تاکہ مسلمانوں میں وہ ’’کششِ ثقل‘‘ باقی نہ رہے۔
اور اس سے بہت پہلے عملاً بھی ایسا کرنے کی کوشش کی گئی ہے، جب سلطان نور الدین زنگیؒ کے زمانے میں یہودیوں نے سرنگ لگا کر جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے روضۂ اطہر پر پہنچنے کی کوشش کی تاکہ آپ کے جسدِ مبارک کو تابوت میں ڈال کر لے جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواب میں زیارت کروا کر نور الدین زنگیؒ کو خبردار کیا تھا اور اس نے پھر اس سازش کو ناکام بھی بنوایا اور خندق کھود کر سیسہ بھی بھروایا۔ یہ لمبا قصہ ہے۔
میں عرض یہ کرنا چاہتا ہوں کہ یہ حرکتیں، یہ تجویزیں اور یہ سازشیں دو باتوں کی نشاندہی کرتی ہیں:
- ایک یہ کہ کفر کے دل میں کیا ہے، صاف ظاہر ہے۔ اس لیے یہ اسلام اور مسلمانوں کو بچانے کی لڑائی ہے۔ مسلمانوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کر کے اور اپنی بد اعمالیوں کی معافی مانگ کر اس کفر کی یلغار کے خلاف متحد ہونا ہوگا۔
- دوسری بات یہ ہے کہ الحمد للہ ثم الحمد للہ، کفر کو بھی اس بات کا یقین ہے کہ جب تک حرمین شریفین قائم ہیں اس وقت تک مسلمانوں پر قابو پانا ممکن نہیں ہے۔ اور حرمین شریفین قیامت تک قائم رہیں گے، ان شاء اللہ العزیز۔ جس دن یہ نہیں ہوں گے اس دن دنیا نہیں ہو گی۔ اس سے پہلے بھی بڑی کوششیں ہوئی ہیں، اور بیت اللہ پر پہلے بھی حملہ کیا گیا تھا، لیکن حرمین شریفین کی حفاظت اللہ تعالیٰ نے فرمائی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی فرمائیں گے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ ہمارے ایمان کا کیا حال ہے؟ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہمارے یقین کا کیا حال ہے؟ ہمیں اپنے ایمان کی فکر کرنی ہو گی، اپنے یقین کو اور اپنی کمٹمنٹ کو صحیح رخ پر لانا ہو گا، اصل ضرورت اس بات کی ہے۔ اگر آج بھی ہمارا ایمان اور یقین، ہمارے عقائد و اعمال درست ہو جائیں تو ہم دنیائے کفر کی ساری سازشوں کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔
آج جو ہم بکھرے ہوئے ہیں، اس کی وجہ ہماری اپنی کمزوریاں ہیں: ایمان کی کمزوری، اخلاق کی کمزوری، اعمال کی کمزوری، اور اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے ساتھ ہمارے تعلق کی کمزوری ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہدایت نصیب فرمائیں، سیدھے راستے پر چلائیں اور کفر کی سازشوں کا صحیح طریقے سے مقابلہ کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

