اسلامی جمہوریہ پاکستان اور دستور کی پاسداری کا حلف

   
مکاتیب
یکم فروری ۲۰۰۰ء

محترمی!              السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ          مزاج گرامی؟

(۱)    دو اہم اخباری تراشے ارسال ہیں، انہیں بغور ملاحظہ فرمائیں، ان کے مطابق اعلیٰ عدالتوں کے ججوں کے حلف نامہ میں ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کے نام سے ’’اسلامی جمہوریہ‘‘ کے الفاظ اور ’’دستور کی پاسداری‘‘ کا حلف خارج کر دیا گیا ہے اور مالیاتی نظام کو شرعی نظام کے مطابق بنانے کے لیے جو کمیشن بنایا گیا ہے اس میں اکثریت ایسے افراد کی ہے جو سودی نظام کے حامی رہے ہیں۔

(۲)    جامعہ عبد اللہ بن مسعودؒ خانپور کے شیخ الحدیث حضرت مولانا شفیق الرحمٰن درخواستی پر گزشتہ روز جبکہ وہ حضرت مولانا عبد الحئی بہلویؒ کے جنازہ میں شرکت کے لیے اہل و عیال سمیت شجاع آباد جا رہے تھے، راستہ میں ڈاکوؤں نے حملہ کیا اور انہیں زخمی کر کے گاڑی چھین کر لے گئے، ان کے پیٹ اور ران میں گولیاں لگی ہیں اور اب وہ رو بصحت ہیں۔

(۳)    ۵ فروری کو ملک بھر میں کشمیری عوام اور مجاہدین کے ساتھ یکجہتی کا دن منایا جا رہا ہے اور پاکستانی عوام اس موقع پر کشمیری بھائیوں کی جدوجہدِ آزادی کی بھرپور حمایت کا اعادہ کریں گے۔

آنجناب سے استدعا ہے کہ ۴ فروری کو جمعۃ المبارک کے خطبہ، اخباری بیانات اور دیگر اجتماعات کے ذریعہ ان امور پر روشنی ڈالیں، دستورِ پاکستان کی اسلامی دفعات اور ملک کے نام ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ کی بحالی کا مطالبہ کریں، حضرت مولانا شفیق الرحمٰن درخواستی پر قاتلانہ حملہ کی مذمت کرتے ہوئے حملہ آوروں کی گرفتاری کا مطالبہ کریں، اور کشمیری عوام کی جدوجہد کی حمایت کرتے ہوئے عوام کو ۵ فروری کے پروگراموں میں بھرپور شرکت کی ترغیب دیں، شکریہ۔

والسلام

(مولانا) فداء الرحمٰن درخواستی، امیر پاکستان شریعت کونسل

ابوعمار زاہد الراشدی، سیکرٹری جنرل پاکستان شریعت کونسل


غیر سودی نظام کے لیے کمیشن کا قیام

وفاقی حکومت نے سپریم کورٹ آف پاکستان کے شریعت بنچ کے ۲۳ دسمبر ۱۹۹۹ء کے فیصلے کے مطابق سٹیٹ بینک میں ۱۲ رکنی اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا ہے جو موجودہ مالیاتی نظام کو شریعت کے مطابق بنانے کے عمل کو انجام دینے اور اس کی نگرانی کے لیے پوری طرح با اختیار ہو گا۔ سٹیٹ بینک کے سابق گورنر آئی اے حنفی اس کمیشن کے سربراہ ہوں گے۔ یہ کمیشن معیشت کو سود سے پاک کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کو یقینی بنائے گا۔

سپریم کورٹ کے شریعت بینچ نے ربا کو حرام قرار دینے کا جو فیصلہ دیا ہے وہ اپنی نوعیت کے لحاظ سے ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ پاکستان اسلام کے نام پر معرضِ وجود میں آیا ہے اور قیامِ پاکستان کے موقع پر ہم نے اعلان کیا تھا کہ پاکستان تمام دنیا کے لیے مینارہ نور ثابت ہو گا اور ہم دنیا کو اسلام کے عادلانہ نظام کا نمونہ پیش کریں گے۔ قیامِ پاکستان کو نصف صدی سے زیادہ کا عرصہ ہو چکا ہے، اس دوران دینی جماعتوں کی طرف سے سود کے خلاف مہم چلتی رہی اور پاکستان میں سود سے پاک مالی نظام کے قیام کا مطالبہ ہوتا رہا لیکن حکومت نے اس کی طرف توجہ نہ کی۔ اب سپریم کورٹ کے شریعت بینچ نے اپنے ۲۳ دسمبر کے فیصلے میں ربا کی ساری شکلیں غیر اسلامی قرار دی ہیں اور حکومت سے کہا ہے کہ وہ پاکستان میں غیر سودی مالی نظام قائم کرے۔

اس لحاظ سے حکومت کا یہ فیصلہ بڑا مستحسن ہے کہ اس نے اس فیصلہ پر عملدرآمد کے لیے ایک گیارہ رکنی اعلیٰ سطحی کمیشن قائم کیا ہے جو معیشت کو سود سے پاک کرنے کے لیے اپنی سفارشات پیش کرے گا۔ اس وقت دنیا میں مغرب کا مالیاتی نظام رائج ہے جو سرتاپا سود پر مبنی ہے۔ پاکستان بھی اس مالیاتی نظام میں جکڑا ہوا ہے۔ اس لحاظ سے غیر سودی نظام کا نقشہ پیش کرنا ایک جرأتمندانہ کام ہے اور اس کی توقع انہی لوگوں سے کی جا سکتی ہے جو اسلام کے مالیاتی نظام سے نہ صرف واقف ہوں بلکہ اس پر پختہ ایمان بھی رکھتے ہوں۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو اس اعلیٰ سطحی کمیشن کے قیام سے کوئی اچھا تاثر قائم نہ ہوتا۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ اس کمیشن میں کمٹڈ لوگ شامل کیے جاتے جو سود کو حرام سمجھتے، لیکن ایک آدھ کو چھوڑ کر اس کمیشن میں زیادہ تر ایسے لوگ شامل کیے گئے ہیں جو سود کے حق میں دلائل دیتے رہے ہیں۔ ایسے لوگوں سے کیسے توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ ’’سٹیٹس کو‘‘ سے ہٹ کر غیرسودی نظام کا نقشہ پیش کریں گے۔ اس کمیشن کے لیے انقلابی ذہنوں کی ضرورت تھی جو روایتی سودی نظام کو ختم کر کے غیر سودی اسلامی مالیاتی نظام پر یقین رکھتے ہوں۔

ہمیں امید ہے کہ حکومت اس کمیشن پر نظرثانی کرے گی اور ایسے لوگوں کو سامنے لائے گی جو واقعی کچھ کر کے دکھانا چاہتے ہوں، صرف لیپاپوتی کرنے والے نہ ہوں، ورنہ حکومتی اداروں کے بارے میں بھی شک و شبہے کا اظہار شروع ہو جائے گا۔

(روزنامہ نوائے وقت — ۲۵ جنوری ۲۰۰۰ء)

پی سی او کے تحت نئے حلف نامے کا متن

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) سپریم کورٹ آف پاکستان کے نئے چیف جسٹس اور جج صاحبان اور سندھ، سرحد، پنجاب اور بلوچستان کی ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اور جج صاحبان نے بدھ کی صبح عبوری آئین کے حکم کے تحت جو حلف اٹھایا اس میں انہوں نے دستوری حلف میں دیے گئے حلف کے یہ نکات نہیں پڑھے کہ

’’میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کو برقرار رکھوں گا اور اس کا تحفظ اور دفاع کروں گا۔‘‘

اسی طرح انہوں نے دستور میں دیے گئے حلف کی یہ عبارت بھی نہیں پڑھی:

’’میں اپنے فرائض کارہائے منصبی ایمانداری، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور اور قانون کے مطابق انجام دوں گا۔‘‘

عبوری آئین کے حکم نمبر ایک مجریہ ۱۹۹۹ء کے آرٹیکل ۳ کے تحت فاضل جج صاحبان نے جو حلف اٹھایا اس کا متن درج ذیل ہے:

’’میں، صدقِ دل سے حلف اٹھاتا ہوں کہ میں خلوصِ نیت سے پاکستان کا حامی اور وفادار رہوں گا، کہ بحیثیت چیف جسٹس پاکستان یا جج عدالتِ عظمیٰ پاکستان یا چیف جسٹس یا جج عدالتِ عالیہ میں اپنے فرائض و کارہائے منصبی ایمانداری، اپنی انتہائی صلاحیت اور وفاداری کے ساتھ عبوری آئین کے حکم نمبر ایک آف ۱۹۹۹ء (جیسا کہ ترمیم شدہ ہے) اور ۱۴ اکتوبر ۱۹۹۹ء کو نافذ شدہ ہنگامی حالت کے اعلان اور قانون کے مطابق سرانجام دوں گا کہ میں اعلیٰ عدالتی کونسل (سپریم جوڈیشل کونسل) کے جاری کردہ ضابطہ اخلاق کی پابندی کروں گا، کہ میں اپنے ذاتی مفاد کو اپنے سرکاری کام یا اپنے فیصلوں پر اثرانداز نہیں ہونے دوں گا، اور یہ کہ میں ہر حالت میں ہر قسم کے لوگوں کے ساتھ بلاخوف و رعایت اور بلا رغبت و عناد قانون کے مطابق انصاف کروں گا۔ اللہ تعالیٰ میری مدد اور رہنمائی فرمائے، آمین۔‘‘

(روزنامہ جنگ، لاہور — ۲۷ جنوری ۲۰۰۰ء)

حلف میں ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین‘‘ کے الفاظ حذف

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ) عدالتِ عظمیٰ کے چیف جسٹس اور دیگر ججوں کے لیے عبوری آئینی حکم (پی سی او) کے تحت نئے حلف کا متن التوا کا شکار آئین کے تیسرے شیڈول میں ترمیم کر کے ہی بنایا گیا جس میں سے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین‘‘ کے الفاظ کو حذف کر دیا گیا ہے۔

(روزنامہ نوائے وقت، لاہور — ۲۷ جنوری ۲۰۰۰ء)
   
2016ء سے
Flag Counter