’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘

   
۳ مارچ ۲۰۱۷ء

گزشتہ دنوں پنجاب یونیورسٹی کے چند اساتذہ کے ساتھ ایک غیر رسمی گفتگو میں مذہب اور ریاست کے باہمی تعلق کی بات چل پڑی، ایک دوست نے کہا کہ مذہب اور ریاست میں تعلق کبھی نہیں ہوا۔ میں نے عرض کیا کہ ہمارے ہاں تو ایک ہزار سال سے زیادہ عرصہ تک ریاست کی بنیاد مذہب رہا ہے۔ خلافت راشدہ، خلافت بنو امیہ، خلافت عباسیہ اور خلافت عثمانیہ کا مجموعی دورانیہ تیرہ صدیوں کو محیط ہے اور ان سب کا ٹائٹل ہی ’’خلافت‘‘ تھا جو خالصتاً ایک مذہبی اصطلاح ہے۔ اس اصطلاح کی تعریف یہ کی گئی ہے کہ امت مسلمہ کے اجتماعی معاملات کو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت کرتے ہوئے قرآن و سنت کی ہدایت کے مطابق چلانے کا نام ’’خلافت‘‘ ہے۔ اور یہ خلافت مختلف ادوار اور دائروں سے گزرتی ہوئی اب سے ایک صدی قبل تک قائم رہی ہے۔

پھر سوال ہوا کہ برصغیر میں مغل سلطنت مذہبی نہیں تھی۔ میں نے عرض کیا کہ بے شک اس کا ٹائٹل خلافت کی بجائے سلطنت تھا لیکن اس کی پالیسیوں کا حوالہ ہمیشہ اسلام ہی رہا ہے جبکہ قانون و نظام کا ماخذ و سرچشمہ قرآن و سنت اور فقہ اسلامی تھے۔ غزنویؒ، لودھیؒ، غوریؒ، التمشؒ، ایبکؒ اور مغل خاندانوں میں عمومی طور پر عدالتی اور معاشرتی احکام و قوانین کا سب سے بڑا حوالہ اسلامی فقہ رہا ہے۔ حتٰی کہ مغل اعظم اکبر بادشاہ نے، جسے سب سے بڑا سیکولر حکمران کہا جاتا ہے، جب معاشرتی نظام میں تبدیلیوں کا پروگرام بنایا تو اپنے خود ساختہ مذہبی اور معاشرتی نظام کے لیے ’’دین الٰہی‘‘ کا عنوان اختیار کیا اور درباری علماء سے ’’مجتہد اعظم‘‘ کا خطاب حاصل کر کے یہ سارا کام ’’اجتہاد‘‘ کے نام سے کیا۔ چنانچہ جب ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں غلبہ پانے کے بعد ایسٹ انڈیا کمپنی کی جگہ تاج برطانیہ نے اس خطہ کا نوآبادیاتی نظام براہ راست اپنے کنٹرول میں لیا اور نئے تعلیمی، عدالتی اور انتظامی سسٹم کا آغاز کیا تو اس کے لیے جس نظام کو منسوخ کیا گیا وہ درس نظامی اور فتاویٰ عالمگیری پر مبنی تھا۔ اس لیے یہ کہنا تاریخی حقائق کے منافی ہے کہ مذہب اور ریاست کا باہمی تعلق نہیں رہا یا نہیں ہوتا، اور ایک ہزار سال سے زیادہ عرصے کا مسلم ماضی اس دعویٰ کی نفی کرتا ہے۔ اس پر مجلس میں شریک ایک اور استاذ محترم کہنے لگے کہ ہم اپنے اس ماضی سے نہ کٹ سکتے ہیں اور نہ ہی اس سے دستبردار ہو سکتے ہیں۔

ریاست اور مذہب کا تعلق کیا ہوتا ہے؟ یہ بحث اب اس قدر عام ہوگئی ہے اور ہر سطح پر گفتگو کا حصہ بن گئی ہے کہ اپنے عقائد، ماضی اور تہذیب و معاشرت کی پروا کیے بغیر میڈیا، لابنگ اور این جی اوز کے بیشتر ذرائع مسلسل یہ راگ الاپے جا رہے ہیں کہ مذہب اور ریاست کا آپس میں کوئی تعلق نہیں بنتا اس لیے مذہب کو ریاست اور حکومت کے معاملات سے الگ رکھنا چاہیے۔ مغربی فلسفہ کی نمائندہ یہ سوچ سیاسی حلقوں میں کہاں تک سرایت کیے ہوئے ہے اس کی ایک مثال مولانا مفتی منیب الرحمان کی طرف سے جاری کردہ ’’قومی بیانیہ‘‘ کا وہ متن ہے جو ابھی چند روز پہلے اخبارات کی زینت بنا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اب سے دو برس قبل وزیراعظم ہاؤس میں دینی مدارس کے تمام وفاقوں کے قائدین کے ساتھ ایک میٹنگ میں ان قائدین پر مشتمل ایک کمیٹی تشکیل دی گئی تھی کہ وہ موجودہ حالات کی روشنی میں ایک ’’قومی بیانیہ‘‘ مرتب کریں۔ تمام مذہبی مکاتب فکر اور دینی مدارس کے وفاقوں کے قائدین نے مل کر اس قومی بیانیہ کے لیے مشترکہ متن مرتب کر کے حکومتی حلقوں کو بھجوایا جو ’’داخل دفتر‘‘ کر دیا گیا اور وجہ یہ ظاہر کی گئی کہ اس میں شریعت کے نفاذ کا مطالبہ شامل ہے جبکہ حکومتی حلقوں کے خیال میں قومی بیانیہ میں شریعت کا ذکر نہیں ہونا چاہیے۔ ہم اس پر مفتی صاحب موصوف کے شکر گزار ہیں کہ ان کے اس مضمون سے دینی حلقوں اور حکومتی اداروں کے درمیان جاری کشمکش کی اصل وجہ سامنے آگئی ہے۔

مسئلہ اصل میں یہی ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان جس کی بنیاد اسلامی تہذیب کی حفاظت اور اسلامی نظام کے نفاذ کے وعدوں پر رکھی گئی تھی اور جس کے دستور میں اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اعلیٰ اور قرآن و سنت کی دستوری بالادستی کا واضح اعلان کیا گیا ہے، اس وطن عزیز کی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے یہ تقاضہ کیا جا رہا ہے کہ اسلام اور شریعت کو قومی معاملات سے الگ رکھا جائے۔ ہم اب تک یہ سمجھتے رہے کہ پاکستان کی اسلامی شناخت کو ختم یا کمزور کرنے کا مطالبہ صرف بیرونی ہے جس کے لیے عالمی ادارے دباؤ ڈال رہے ہیں اور بین الاقوامی سیکولر لابیاں مہم جاری رکھے ہوئے ہیں جبکہ ہمارے حکمران اس دباؤ کا سامنا نہیں کر پا رہے۔ لیکن اب یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ اس میں ’’سانوں مرن دا شوق وی سی‘‘ کا بھی اچھا خاصا عنصر شامل ہے۔ اور اس ’’شوق‘‘ کی وجہ بھی ظاہر ہے کہ اسلامی نظام حکومت میں قناعت پسندی، عوامی خدمت اور اقتدار کو خدائی امانت سمجھنے کی جو خصوصیات موجود ہیں، ان کے لیے ہمارا حکمران طبقہ خود کو تیار نہیں پاتا۔

یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ تاج برطانیہ کے دور میں جو ریاستیں نیم خودمختار حیثیت سے برطانوی نوآبادیاتی نظام کا حصہ تھیں انہیں یہ آزادی حاصل تھی کہ وہ اپنے داخلی، قانونی اور عدالتی نظام کو شریعت اسلامیہ کے مطابق چلاتی رہیں جیسا کہ قلات، بہاولپور، سوات اور بہت سی دیگر ریاستوں میں ان کے پاکستان کے ساتھ باقاعدہ الحاق تک یہ نظام چلتا رہا لیکن اب آزاد پاکستان میں اس کی گنجائش موجود نہیں رہی۔ ہم سمجھ نہیں پا رہے تھے کہ اسے عالمی دباؤ اور بیرونی مداخلت کا نتیجہ قرار دیا جائے یا ’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار‘‘ کی روایتی نفسیات کا ثمرہ سمجھا جائے لیکن یہ بات اب واضح ہوگئی ہے کہ قومی معاملات اور شریعت اسلامیہ کے درمیان فاصلہ قائم رکھنے کی ’’ڈپلومیسی‘‘ کے ڈانڈے کہاں کہاں ملتے ہیں۔ اس لیے وطن عزیز کے اسلامی تشخص، نفاذ شریعت اور مسلم تہذیب و ثقافت کے تحفظ کی جدوجہد کرنے والوں کو اب اپنی محنت کے دائروں اور ترجیحات کا ازسرِنو جائزہ لینے کا راستہ تلاش کرنا چاہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter