اسلام کا نظام خلافت اور دور حاضر میں اس کا قیام ۔ اذان ٹی وی کا سوالنامہ

   
دسمبر ۲۰۱۰ء

سوال نمبر ۱: اسلامی نظام اور خلافت کیا ہے؟

جواب: قرآن و سنت میں انسانی زندگی کے انفرادی، خاندانی، معاشرتی، قومی اور بین الاقوامی مسائل کے بارے میں جو ہدایات و احکام موجود ہیں، ان کا مجموعہ اسلامی نظام ہے اور ان کے عملی نفاذ کا سسٹم خلافت کہلاتا ہے۔

سوال نمبر ۲: اسلامی نظام کے نفاذ کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

جواب: قرآن و سنت کے تمام احکام و قوانین ایک مسلمان کے لیے واجب الاتباع ہیں اور ان میں شخصی، خاندانی یا معاشرتی قوانین کی تفریق نہیں ہے۔ اس لیے جس طرح ایک مسلمان شخص کے لیے نماز، روزہ اور عبادات کے احکام پر عمل کرنا ضروری ہے، اسی طرح مسلمان سوسائٹی کے لیے اجتماعی احکام و قوانین پر عمل کرنا بھی ضروری ہے اور بحیثیت مسلمان سب اس کے پابند ہیں۔

سوال نمبر ۳: اسلامی نظام کو لانے کا کوئی خاص طریقہ کار ہے یا کوئی بھی مروجہ طریقہ انقلاب ہو، وہ اپنایا جا سکتا ہے؟

جواب: اسلامی نظام تو ایک اسلامی حکومت ہی نافذ کرے گی جب کہ ایک اسلامی حکومت کے قیام کے لیے سب سے بہتر اور آئیڈیل طریق کار وہی ہے جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد صحابہ کرامؓ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو باہمی مشورہ اور بحث و مباحثہ کے بعد اتفاق رائے سے خلیفہ منتخب کر کے اختیار کیا تھا۔ اس کے بعد مختلف خلفائے راشدین کے انتخاب کے طریقے اور حضرات صحابہ کرامؓ کی اختیار کردہ متفقہ صورتیں بھی اس طریق کار کی مختلف شکلیں ہو سکتی ہیں، لیکن ان کے لیے پہلے سے خلافت کا نظام اور سسٹم موجود ہونا ضروری ہے۔ آج کل چونکہ ازسرنو خلافت کے ڈھانچے کی تشکیل کا مرحلہ درپیش ہے، اس لیے حضرت صدیق اکبرؓ کے انتخاب والا طریقہ ہی اس کے لیے درست طریق کار ہے۔

سوال نمبر ۴: اسلامی نظام نے ماضی میں انسانیت کو درپیش اہم مسائل کو کیسے حل کیا؟ تاریخ کی روشنی میں اس کی وضاحت کریں؟

جواب:

  • اسلامی نظام کا سب سے بڑا امتیاز یہ ہے کہ اس نے شخصی حکومت کے طریق کار کو ختم کر کے دستوری حکومت قائم کی جس کا نقطہ آغاز حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت عمرؓ کے یہ اعلانات ہیں کہ ہم اگر کتاب و سنت کے مطابق چلیں تو لوگوں پر ہماری اطاعت واجب ہے اور اگر قرآن و سنت سے انحراف کریں تو عوام کو ہماری اصلاح کا نہ صرف حق حاصل ہے بلکہ یہ ان کی دینی ذمہ داری ہے۔
  • خلفائے راشدین نے خود کو عوام کے سامنے احتساب کے لیے نہ صرف پیش کیا بلکہ ہر وقت اپنے آپ کو عوامی احتساب کے دائرے میں رکھا اور ہر شہری کو یہ حق دیا کہ وہ ان کی کسی بات پر کسی وقت اور کسی جگہ بھی ٹوک سکتا ہے اور وہ اس کا جواب دینے کے پابند ہیں۔
  • خلفائے راشدینؓ نے عملی طور پر ایک ویلفیئر اسٹیٹ کا نمونہ پیش کیا اور حکومت کو عوام کی جان و مال اور عزت کی حفاظت کا ذمہ دار قرار دینے کے ساتھ ساتھ ان کی ضروریات زندگی کی فراہمی اور کفالت کی ضمانت بھی دی جس کا آج کی دنیا بھی اعتراف کر رہی ہے۔
  • خلفائے راشدینؓ نے حکمرانوں اور حکام کو سادہ زندگی، قناعت اور غریب عوام کے ساتھ ان کی سطح پر رہنے کا خوگر بنایا اور صحیح معنوں میں ایک عوامی حکومت کا تصور پیش کیا۔
  • اسلامی نظام نے صحیح معنوں میں سوسائٹی کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ قائم کیا اور تمام تر طرز عمل اور پالیسیوں کی بنیاد خوف خدا اور آخرت کی جوابدہی پر رکھی۔

سوال نمبر ۵: آپ کے نزدیک آج کے دور میں عالمی سطح کے وہ کون سے پانچ بڑے مسائل ہیں جن کو اسلامی نظام ہی حل کر سکتا ہے اور وہ کیسے کر سکتا ہے؟

جواب:

  • آج کی دنیا اور انسانی سوسائٹی آسمانی تعلیمات اور اپنے پیدا کرنے والے خدا کے احکام سے بیگانہ بلکہ باغی ہو چکی ہے۔ سوسائٹی کو وحی الٰہی اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیت کی طرف واپس لانے کے لیے اس وقت دنیا کے پاس اسلامی نظام کے سوا کوئی متبادل موجود نہیں ہے۔
  • آج کی دنیا نے انسانی سوسائٹی کو دو حصوں میں تقسیم کر رکھا ہے: ایک قانون بنانے والے اور دوسرے وہ جن پر قانون نافذ ہوتا ہے۔ اس تفریق کے منطقی نتائج اور منفی اثرات کو تمام تر کوششوں کے باوجود ختم نہیں کیا جا سکا اور دنیا حکمران اور محکوم کے دائروں میں بدستور بٹی ہوئی ہے۔ اس کا حل صرف اسلام کے پاس ہے کہ قانون بنانے والا صرف ایک ہے اور تمام انسان اس ایک ذات کے بنائے ہوئے قوانین و احکام کے یکساں طور پر پابند ہیں۔
  • سرمایہ دارانہ نظام اور کمیونزم کی عالمی کشمکش اور اس کے بعد سود، منافع خوری اور سٹہ پر مبنی اور حلال و حرام سے بے نیاز مارکیٹ اکانومی نے جس خوفناک معاشی بحران سے دنیا کو دو چار کر دیا ہے، اس کا حل اس کے سوا کوئی نہیں ہے کہ دنیا کو آسمانی تعلیمات کی بنیاد پر حلال و حرام کے دائرے کی طرف واپس لایا جائے، اور یکطرفہ منافع کی بجائے دو طرفہ منفعت اور عوامی مفاد پر مبنی معاشی اصولوں کو اختیار کیا جائے جو اس وقت صرف اسلام کے پاس ہیں۔
  • صحیح معنوں میں ایک ویلفیئر ریاست کے قیام کے لیے آج بھی دنیا کے سامنے آئیڈیل صرف خلافتِ راشدہ بالخصوص حضرت عمر بن خطابؓ اور حضرت عمر بن عبد العزیزؒ کی شخصیات ہیں۔ اور جزوی طور پر کچھ معاملات میں ان کی پیروی بھی کی جا رہی ہے، لیکن کسی نظام کے صرف جزوی پہلوؤں کو اختیار کر کے اس کے ثمرات حاصل نہیں کیے جا سکتے بلکہ اس سے صحیح استفادہ کے لیے پورے سسٹم کو اپنانا ضروری ہوتا ہے۔
  • قومیتوں، علاقائیت اور لسانی عصبیتوں نے ایک بار پھر انسانی سوسائٹی پر غلبہ حاصل کر لیا ہے اور آج کی عالمی دنیا میں انسانی سوسائٹی کے معاملات پھر سے قوم اور ملک کے حوالہ سے طے ہو رہے ہیں۔ جبکہ اسلام نے انہیں جاہلی قدریں قرار دے کر قوم، زبان اور ملک کے تصور کو صرف تعارف اور امتیاز کی حدود میں پابند کر دیا تھا اور نسلِ انسانی کو ان عصبیتوں کے استحصالی کردار سے عملاً نجات دلا دی تھی۔ آج پھر اس کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے اور اس سلسلہ میں صرف اسلام ہی کردار ادا کر سکتا ہے۔

سوال نمبر ۶: اسلامی نظام یا خلافت کا کیا کوئی خاص حکومتی ماڈل ہوتا ہے؟ مثلاً شوریٰ کے چند ممبران یا پارٹی اور پارلیمنٹری سسٹم یا ایک حاکم وقت جو اپنے فیصلے قرآن و سنت کی روشنی میں خود کرتا ہو؟ آخر اسلامی حکومت کا ماڈل کیسا ہو گا؟

جواب:

  • خلافت کا بنیادی تصور یہ ہے کہ خلیفہ خود مستقل حکمران نہیں ہوتا بلکہ حکمرانی کے معاملات میں جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نیابت و خلافت کرتا ہے اور اس طرح وہ خود حکومت کرنے کی بجائے جناب نبی اکرمؐ کے حق حکمرانی کو ان کی تعلیمات و ہدایات کے دائرے میں رہتے ہوئے نیابتاً استعمال کرتا ہے۔
  • خلیفہ کا انتخاب حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرح عوام کی اجتماعی رائے سے ہوتا ہے۔ عوام کا اعتماد و انتخاب ہی اس کے حق حکمرانی کی بنیاد ہے۔
  • وہ اپنی معاونت و مشاورت کے لیے اہلیت اور صلاحیت رکھنے والے افراد کا انتخاب کرے گا اور ان کے مشورہ سے حکومتی نظام چلائے گا۔
  • یہ طرزِ حکومت بظاہر شخصی ہے، لیکن خلیفہ چونکہ قرآن و سنت کی ہدایات و تعلیمات کا پابند ہے، اس لیے وہ اپنی ذاتی خواہش کی بنیاد پر کوئی کام کرنے کا مجاز نہیں ہے۔
  • رعیت کے ہر فرد کو بلا امتیاز مذہب خلیفہ سے کھلے بندوں باز پرس کا حق حاصل ہے، اور وہ ہر شخص کو مطمئن کرنے کا پابند ہے۔
  • خلیفہ کے کسی بھی حکم کو عدالت میں چیلنج کیا جا سکتا ہے اور وہ عدالت کی حاضری اور جوابدہی سے مستثنیٰ نہیں ہے۔

خلافت ان اصولوں کی بنیاد پر قائم ہو گی مگر اس کی عملی تفصیلات اور طریق کار ہر زمانے میں اور ہر علاقے کے ماحول اور ضروریات کو دیکھ کر اربابِ حل و عقد طے کریں گے۔ ہمارے نزدیک قیامِ پاکستان کے بعد دستور ساز اسمبلی نے جو ’’قراردادِ مقاصد‘‘ منظور کی تھی اور پھر تمام مکاتبِ فکر کے ۳۱ سرکردہ علماء کرام نے جو ۲۲ دستوری نکات متفقہ طور پر دیے تھے، وہ آج کے دور میں اسلامی حکومت کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ کی بہترین بنیاد بن سکتے ہیں اور اس کا خلاصہ دو اصولوں کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے:

  1. حکومت کا قیام عوام کی رائے سے ہو گا۔
  2. حکومت قرآن و سنت کے احکام کی پابند ہو گی۔

سوال نمبر ۷: اسلامی نظام میں غیر مسلموں کو کیا حقوق یا فوائد حاصل ہیں جو ان کو اس کے بغیر حاصل نہیں؟

جواب: اسلامی نظام میں مسلمان ریاست کے غیر مسلم باشندوں کو وہ تمام حقوق حاصل ہوں گے جو ان کے مسلمان ریاست کا شہری قرار پانے کے لیے باہمی معاہدہ کی صورت میں طے ہو جائیں گے۔ مثلاً اس وقت پاکستان میں جو دستور نافذ ہے، وہ غیر مسلم باشندوں کی رضا مندی کے ساتھ طے پایا تھا اور ان کی شراکت کے ساتھ نافذ ہوا تھا۔ اس دستور کی حیثیت معاہدہ کی ہے۔ پاکستان میں بسنے والی غیر مسلم سوسائٹیاں معاہد ہیں اور انہیں اس طرز پر دستور میں طے شدہ تمام حقوق حاصل ہیں۔

اسلامی تعلیمات کے مطابق مسلم اکثریت اپنے غیر مسلم ہم وطنوں کی جان و مال اور عزت و آبرو کی حفاظت کی ذمہ دار ہے۔ انہیں اپنے مذہب پر عمل کرنے، اپنی نئی نسل کو مذہبی تعلیم دینے اور اپنے مذہبی تشخص کے تحفظ کا پورا حق ہے۔ البتہ وہ ملک کے ریاستی نظریے کے خلاف کام کرنے کے مجاز نہیں ہیں اور انہیں ملک کے نظریاتی تشخص کی نفی کرنے اور اس کو نقصان پہنچانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

سوال نمبر ۸: اسلامی نظام اگر باعثِ رحمت ہے اور ضروری ہے تو کسی بھی مسلم ملک نے کیوں نہیں اس کا پورا نفاذ کیا اور اس کے نفاذ میں کیا پیچیدگیاں ہیں؟

سوال نمبر ۹: پاکستان میں اسلامی نظام کے نفاذ میں کیا بنیادی مشکلات ہیں اور ان کیا حل ہے؟

جواب: مسلم ممالک میں اسلامی نظام نافذ نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ ان کی رولنگ کلاس اور حکمران طبقات ہیں جن کی تعلیم و تربیت اسلامی تعلیمات اور ماحول میں نہیں ہوئی۔ ان کے مفادات مغرب کے ساتھ وابستہ ہیں ، ان کی بود و باش اور طرزِ زندگی اسلامی نہیں ہے اور اسلامی نظام کے نفاذ کو وہ اپنے مفادات کے لیے خطرہ سمجھتے ہیں، اس لیے اسلامی نظام کی مخالفت کا حوصلہ نہ ہونے کے باوجود وہ اس کے نفاذ میں رکاوٹ ہیں۔

مسلم ممالک میں اسلامی نظام کے نافذ نہ ہونے کی دوسری بڑی وجہ موجودہ عالمی ماحول اور سسٹم ہے۔ موجود عالمی نظام جو اقوام متحدہ اور اس میں ویٹو پاور رکھنے والے پانچ ممالک کی پالیسیوں اور خواہشات پر مرتب ہوا ہے اور چلایا جا رہا ہے، اس کی بنیاد ہی خلافت کی نفی اور انسانی سوسائٹی کے اجتماعی معاملات سے وحیٔ الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی بے دخلی پر ہے۔ اس لیے موجودہ عالمی نظام انسانی سوسائٹی میں اسلامی نظام کی صورت میں آسمانی تعلیمات کی عملداری دوبارہ قائم ہونے کی مخالفت بلکہ مزاحمت کر رہا ہے اور اس کے لیے اپنے تمام وسائل اور توانائیاں صرف کر رہا ہے۔

مسلم ممالک میں اسلامی نظام کے نافذ نہ ہونے کی تیسری بڑی وجہ یہ ہے کہ اسلامی نظام کا نفاذ چاہنے والے دینی حلقوں کی اکثریت آج کے معروضی حالات، رکاوٹوں، مشکلات اور مناسب طریق کار کے ادراک سے یا تو بہرہ ور نہیں ہے اور یا عمدًا انہیں نظر انداز کر کے محض جذبات اور میسر طاقت کے ذریعے آگے بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے جس کے نتائج وہی ہو سکتے ہیں جو نظر آ رہے ہیں۔ نفاذِ اسلام کی جدوجہد کرنے والوں کے درمیان مفاہمت و معاونت کی فضا موجود نہیں ہے اور نہ ہی اس کی کسی سطح پر ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔ اسی طرح مسائل و معاملات کے تجزیہ، تحقیق اور منفی و مثبت پہلوؤں کو سامنے رکھ کر ان کی روشنی میں ٹھوس لائحہ عمل طے کرنے کا کوئی ذوق دکھائی نہیں دے رہا ہے۔

سوال نمبر ۱۰: پچھلے پچاس سال میں اسلامی نظام کے لیے جو کوششیں مسلم ممالک میں کی گئی، وہ کیا تھیں اور وہ کیوں ناکام ہوئیں؟

سوال نمبر ۱۱: حال میں اسلامی نظام کے نفاذ کے لیے جو عالمی سطح پر کوششیں ہو رہی ہیں، وہ کون سی ہیں اور آپ کیا کسی کو صحیح معنوں میں کامیاب ہوتا دیکھتے ہیں؟

جواب: بیشتر مسلم ممالک نوآبادیاتی دور سے گزر رہے ہیں۔ برطانیہ ، فرانس، ہالینڈ، پرتگال اور دوسرے استعماری ممالک نے اپنے دورِ تسلط میں ان مسلم ممالک میں مسلم سوسائٹی کے اجتماعی مزاج کو بگاڑنے پر زیادہ کام کیا ہے، اور ان ممالک کی آزادی کے بعد ان میں نو آبادیاتی نظام ابھی تک باقی ہے اور معاشرتی مزاج کے بگاڑ کو درست کرنے کی طرف بھی کوئی کوشش نہیں کی گئی۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ آزادی کے بعد جن طبقات نے نظام سنبھالا ہے، وہ نوآبادیاتی نظام ہی کے پروردہ اور تربیت یافتہ تھے جنہیں نظام کی تبدیلی میں اپنے لیے خطرات محسوس ہو رہے ہیں اور وہ اس کا راستہ روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مسلم ممالک کے عوام اسلامی نظام کے نفاذ اور قرآن و سنت کی تعلیمات پر عملداری میں دلچسپی رکھتے ہیں، لیکن حکمران طبقات اور ریاستی ڈھانچہ اس کی راہ میں رکاوٹ ہے۔

پاکستان میں قراردادِ مقاصد کی منظوری اور ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلامی دفعات کی شمولیت کے ساتھ قرآن و سنت کے احکام کو نافذ کرنے اور خلافِ قرآن و سنت قوانین کی منسوخی کی جو دستوری ضمانت دی گئی ہے، اس کے بعد قرآن و سنت کے احکام کے نفاذ میں کوئی اصولی رکاوٹ باقی نہیں ہے۔ لیکن عالمی استعماری قوتوں کا دباؤ اور نوآبادیاتی نظام کے تسلسل کی وارث بیوروکریسی اپنے مفادات کی وجہ سے دستور کی اسلامی دفعات پر عملدرآمد نہیں ہونے دے رہی اور پاکستان سمیت مسلم ممالک میں اسلامی تحریکات کی اب تک ناکامی کا سب سے بڑا سبب یہی ہے۔ جب کہ موجودہ حالات میں جب تک اسلامی نظام کے نفاذ کے خواہاں حلقے اپنی حکمتِ عملی اور طرزِ عمل پر نظرثانی کر کے موجودہ حالات و ضروریات کو سامنے رکھ کر باہمی مشاورت و مفاہمت کے ساتھ کوئی مشترکہ حکمتِ عملی طے نہیں کرتے، تب تک مسلم ممالک میں نفاذِ اسلام کی تحریکات کی کامیابی کے کوئی آثار بظاہر دکھائی نہیں دیتے۔

سوال نمبر ۱۲: حدیث کی روشنی میں بتائیے کہ اسلامی خلافت کے بارے میں کچھ بتایا گیا ہے یعنی پیشگوئیاں؟

جواب: جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیسیوں احادیث میں خلافت کے بارے میں جو پیشگوئیاں فرمائی ہیں، ان کے مطابق خلافت کے دو درجے ہیں: ایک خلافت ’’علٰی منہاج النبوۃ‘‘ جسے ہم آئیڈیل خلافت کہہ سکتے ہیں، دوسرا درجہ مطلق اسلامی خلافت کا ہے۔ آئیڈیل خلافت کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ وہ ان کے بعد تیس سال تک رہے گی اور پھر قیامت سے پہلے امام مہدیؑ کے ظہور اور حضرت عیسٰیؑ کے نزول کے دور میں دوبارہ قائم ہو گی۔ جبکہ خلافتِ عامہ کا تسلسل جاری رہا ہے اور ۱۹۲۴ء میں ترکی کی خلافتِ عثمانیہ کے خاتمہ تک خلافت کا نظام کسی نہ کسی سطح پر موجود رہا ہے۔ مگر آج کے دور میں دنیا ’’خلافت‘‘ کے وجود سے خالی ہے جس پر فقہائے امت کے ارشادات کی روشنی میں امتِ مسلمہ بحیثیت امت ایک فریضہ کی تارک اور گنہگار ہے۔

سوال نمبر۱۳: اسلامی نظام میں عورت کو کیا حقوق حاصل ہیں؟

جواب: اسلام میں عورت کو وہ تمام حقوق حاصل ہیں جو مرد کو ہیں البتہ اس کی صنفی اور معاشرتی ذمہ داریوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس کے حقوق و فرائض کا مرد سے امتیاز رکھا گیا ہے جو فطری طور پر ناگزیر ہے۔ اور سوسائٹی میں خاندان کے یونٹ کو برقرار رکھنے اور اسے استحکام دینے کے لیے خاندانی سسٹم میں مرد کی فوقیت اور سنیارٹی کو ضروری سمجھا گیا ہے، کیونکہ کوئی بھی ادارہ برابر کے اختیارات کے حامل دو افراد کی سربراہی میں نہیں چل سکتا۔ اور خاندانی نظام میں مرد کی سربراہی کی نفی کر کے مغربی دنیا اس کا خمیازہ خاندانی نظام کے بکھر جانے کی صورت میں بھگت رہی ہے۔ چنانچہ صنفی اور معاشرتی ذمہ داریوں کے حوالہ سے ناگزیر فرق و امتیاز سے ہٹ کر باقی تمام معاملات میں مرد اور عورت برابر ہیں اور دونوں کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔

سوال نمبر ۱۴: اسلام میں سیاست کا کیا تصور ہے؟ لسانی اور فرقے کی بنیاد پر سیاسی جماعتیں بنانا کیا درست ہے؟

جواب: بخاری شریف کی روایت کے مطابق جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بنی اسرائیل میں سیاسی قیادت انبیاء کرام علیہم السلام کے پاس تھی، مگر اب چونکہ نبوت کا دروازہ بند ہو گیا ہے اور کوئی نیا نبی نہیں آئے گا اس لیے سیاسی قیادت کی ذمہ داری خلفاء کو منتقل ہو گئی ہے۔ اس حدیث مبارکہ میں جناب نبی اکرمؐ نے مسلمانوں کو خلافت کے نظام کے ساتھ وابستگی اور وفاداری کی تلقین بھی فرمائی ہے۔

اسلام کا سیاسی نظام ’’خلافت‘‘ کہلاتا ہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد مہاجرین، انصار اور خاندان نبوت کا اپنا اپنا سیاسی موقف الگ طور پر طے کرنا اور پھر صحابہ کرامؓ کے دور میں شیعانِ عثمان، شیعانِ علی اور شیعانِ معاویہ کے نام سے الگ الگ سیاسی گروہوں کی موجودگی یہ بتاتی ہے کہ اسلامی نظام میں مختلف سیاسی گروہوں کی موجودگی کی مطلقاً نفی نہیں کی جا سکتی، اور گروہی بنیاد پر سیاسی معاملات طے کرنا بھی اسلامی نظام میں نامانوس نہیں ہے۔ البتہ ان کی بنیاد ’’تعاونوا علی البر والتقوی ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان‘‘ پر ہو گی۔ اور حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف کے حوالے سے موافق اور مخالف دھڑوں کی آج کے مروجہ دور میں جو تقسیم پائی جاتی ہے، اس کی گنجائش اسلامی نظام میں موجود دکھائی نہیں دیتی۔ ایک گروہ کی ہر حال میں حمایت اور دوسرے کی ہر صورت میں مخالفت کا تصور اسلامی تعلیمات سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اسی طرح مذہبی فرقہ بندی اور لسانیت کی بنیاد پر سیاسی جماعتیں بنانا بھی درست نہیں ہے۔

سوال نمبر ۱۵: کسی بھی بڑے مقصد کے لیے اتحاد ضروری ہے۔ اسلامی نظام کا ہدف حاصل کرنے کے لیے جہاں عمومی مسلمانوں کا اتحاد ضروری ہے، اس سے پہلے علماء امت کا اتحاد ضروری ہے۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ علماء اس عظیم مقصد کے لیے اتحاد کیوں نہیں کرتے؟

جواب: جہاں تک پاکستان میں نفاذِ اسلام کا تعلق ہے، دینی جماعتوں اور علماء کرام نے اس کے لیے ہمیشہ اتحاد کا مظاہرہ کیا ہے۔ اکابر علماء کرام کے متفقہ ۲۲ دستوری نکات سے لے کر ۱۹۷۳ء کے دستور میں اسلامی دفعات کی شمولیت، عقیدۂ ختم نبوت کے تحفظ کا دستوری فیصلہ، اور اسلامائزیشن کے سلسلہ میں ہونے والے اب تک کے تمام اقدامات تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے اتحاد اور دینی جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد کے ذریعے ہی ہوئے ہیں۔ کم از کم پاکستان کی حد تک کوئی ایک مثال بھی پیش نہیں کی جا سکتی کہ نفاذِ اسلام کی دستوری اور قانونی جدوجہد کے کسی ضروری مرحلہ میں دینی جماعتوں نے اتحاد کا مظاہرہ نہ کیا ہو اور مشترکہ طور پر عوام کی رہنمائی نہ کی ہو ۔ ہمارا المیہ اس سے آگے شروع ہوتا ہے کہ دینی جماعتوں کی مشترکہ جدوجہد اور تمام مکاتب فکر کے علماء کرام کے اتحاد کے ذریعے جو مقاصد اور نتائج حاصل ہوتے ہیں، انہیں ہماری اسٹیبلشمنٹ طے شدہ پالیسی کے مطابق سبوتاژ کر دیتی ہے، اور اس میں اسے ورلڈ اسٹیبلشمنٹ کی مکمل حمایت اور پشت پناہی حاصل ہوتی ہے۔

سوال نمبر ۱۶: شریعت اور خلافت میں کیا فرق ہے اور موجودہ دور میں اس کے لیے کیا شکل ہو سکتی ہے؟

جواب: ’’شریعت‘‘ اسلامی احکام و قوانین کے مجموعہ کو کہتے ہیں اور ’’خلافت‘‘ ان کے نفاذ کا نظام اور سسٹم ہے۔ آج کے دور میں خلافت کے حوالہ سے دو باتیں خاص طور پر قابل توجہ ہیں:

  1. ایک یہ کہ خلافت کا قیام دنیا بھر کے مسلمانوں کا دینی فریضہ اور پوری مملکتِ اسلامیہ کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ نے قیامِ خلافت کے فرض ہونے پر دو باتوں سے استدلال کیا ہے۔ ایک یہ کہ قرآن و سنت کے بہت سے اہم احکام ایسے ہیں جن پر حکومت ہی عمل کر سکتی ہے اور حکومتی نظام کے بغیر ان پر عملدرآمد نہیں ہو سکتا۔ اس لیے ایسے قرآنی احکام کی عملداری کے لیے خلافت کا قیام ضروری ہے۔
  2. اور دوسری بات یہ ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد حضرات صحابہ کرامؓ نے سب سے پہلا کام یہ کیا تھا کہ حضرت ابوبکرؓ کو خلیفہ منتخب کر کے خلافت کا ادارہ قائم کیا، حتٰی کہ جناب نبی اکرمؐ کی تدفین بھی اس کے بعد ہوئی۔ اس طرح صحابہ کرامؓ نے اس سے پہلے اجماعی فیصلے کی صورت میں خلافت کے قیام کو ’’اہم الواجبات‘‘ کا درجہ دے دیا۔ اس لیے خلافت کے قیام کی پہلی عملی صورت تو وہی ہے جو حضرت صدیق اکبرؓ کے خلیفہ بنتے وقت اختیار کی گئی تھی کہ امت کے اجتماعی شعور اور اتفاق رائے کے ذریعے انہیں خلیفہ بنایا گیا تھا۔ جبکہ دوسری عملی صورت یہ ہے کہ کسی ایک اسلامی ملک پر کوئی دینی قوت طاقت کے ذریعہ برسراقتدار آجائے اور ایک اسلامی امارت کی حیثیت سے عالمی سطح پر خلافت کے نظام کے لیے محنت کر کے اس کے قیام کا راستہ نکالے۔ ہمارے خیال میں اس کے سوا کوئی صورت آج کے معروضی حالات میں قابل عمل نہیں ہے۔

سوال نمبر ۱۷: موجودہ دور کی جمہوریت اور خلافت کا موازنہ کریں۔ مسلمانوں نے ہمیشہ خلافت کے نظام میں ہی ترقی کی ہے۔ آج کی دنیا میں خلافت کے سسٹم کو پرانا سسٹم کیوں کہا جاتا ہے؟

سوال نمبر ۱۸: شریعت قائم کرنے کے اصول کیا ہیں؟

جواب: جمہوریت انسان پر انسان کی حکمرانی کی ہی ایک ترقی یافتہ شکل ہے۔ پارلیمنٹ کو بلاتفریق ہر قسم کا اختیار دے کر آسمانی تعلیمات کے نفاذ یا عدمِ نفاذ کو بھی اسی کے دائرہ اختیار میں شامل کر دیا گیا ہے، اور اسے احکامِ خداوندی پر بھی نعوذ باللہ بالادستی دے دی گئی ہے۔ جب کہ اس کے برعکس خلافت اگرچہ عوام کے اعتماد و اختیار کے ذریعے ہی تشکیل پاتی ہے، لیکن اس میں خلیفہ، یا اس کی شورٰی، یا پھر عوام کی منتخب پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کا پابند رہنا پڑتا ہے اور اسلامی احکام سے انحراف کی اجازت نہیں ہوتی۔

مغرب نے جب بادشاہت، پاپائیت اور جاگیرداری پر مشتمل تکون کے صدیوں سے چلے آنے والے مظالم سے تنگ آ کر ان تین ظالم طبقوں کے گٹھ جوڑ کے خلاف بغاوت کی، اور بادشاہت اور جاگیرداری کی طرح مذہب کو بھی معاشرتی زندگی سے بے دخل کیا، تو نئے مذہب بیزار نظام کی کامیابی کے لیے اس نے ضروری سمجھا کہ یورپ اور ایشیا کے سنگم پر خلافتِ عثمانیہ کو بھی راہ سے ہٹائے۔ چنانچہ خلافتِ عثمانیہ کے خلاف مسلسل سازشیں کر کے اسے ختم کر دیا گیا اور آج بھی مغرب کے ایجنڈے میں سرفہرست یہ ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصے میں خلافت کے قیام اور شریعت کے نفاذ کو روکا جائے۔ کیونکہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں آسمانی تعلیمات کی بنیاد پر کوئی ریاست و حکومت وجود میں آتی ہے اور کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے مغرب کے اس مذہب بیزار فلسفہ و نظام کی نفی ہو جائے گی جسے وہ دنیا بھر پر مسلط کرنے کی مسلسل تگ و دو کر رہا ہے۔ جب کہ مسلمانوں کے لیے آج بھی خلافت ہی واحد سیاسی نظام ہے جو پوری دنیائے اسلام کی اجتماعیت کا مرکز بن سکتا ہے اور اس کے زیرسایہ دنیا بھر کے مسلمان برکات و ثمرات کے ساتھ ساتھ دنیاوی اقتدار اور ترقی سے بہرہ ور ہو سکتے ہیں۔

سوال نمبر ۱۹: پاکستان میں سیاسی، مذہبی جماعتوں کا کیا مستقبل ہے، کیوں کہ اسلامک سسٹم میں جماعتیں نہیں ہوتیں؟

جواب: سیاسی جماعتوں کے حوالہ سے جواب ’’سوال نمبر ۱۴‘‘ کے ضمن میں گزر چکا ہے جب کہ پاکستان کی بیشتر مذہبی جماعتیں صرف پریشر گروپ ہیں جو مذہبی مکاتبِ فکر کی بنیاد پر جداگانہ تشخص کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ان کے پاس جب تک پریشر پاور ہو گی، اپنے محدود دائرے میں کام کرتی رہیں گی اور قومی سیاست میں بھی اسی حد تک شریک رہیں گی، اس سے زیادہ یہ کوئی رول ادا کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔ البتہ متحدہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کر کے یہ ایک طاقت ور پریشر گروپ کی صورت میں ملک میں مزید اسلامی قوانین و احکام کے نفاذ اور خلافِ اسلام امور کی روک تھام کے لیے زیادہ مؤثر کردار ادا کر سکتی ہیں۔ اس حوالے سے اصل ضرورت ایک ایسی سیاسی پارٹی کی ہے جس میں مختلف مکاتبِ فکر کے سرکردہ علماء کرام پارٹی ممبر کے طور پر شریک ہوں، مختلف طبقات کے سرکردہ حضرات بھی اس کا حصہ ہوں، اور سب مل کر ملک کی قومی سیاست میں اسلامی اقدار کی سربلندی کے لیے مشترکہ جدوجہد کریں۔

سوال نمبر ۲۰: میڈیا قوم میں بیداری پیدا کرنے کے لیے بہت کام کر سکتا ہے، اس کے لیے ہمارے میڈیا میں کن اقدامات کی ضرورت ہے؟

جواب: میڈیا اس وقت ابلاغ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے اور قوم کی بہتری اور نئی نسل کی ذہن سازی اور تعلیم و تربیت میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اسی حوالہ سے اس کی ذمہ داری بھی بڑھ گئی ہے۔ ہم اس وقت مغربی تہذیب و ثقافت اور ہندو تہذیب و ثقافت کی دو طرفہ یلغار کی زد میں ہیں۔ ان دونوں ثقافتوں سے اسلامی ثقافت کے فرق کو ملحوظ رکھتے ہوئے اپنے پروگراموں کو اس انداز سے پیش کرنا ہمارے میڈیا کی ذمہ داری ہے کہ اسلامی ثقافت کو فروغ حاصل ہو اور نئی نسل کو ہندو اور مغرب کی تہذیبی یلغار سے بچایا جائے۔

اسی طرح اسلامی اقدار و روایات اور احکام و قوانین پر آج کے عالمی فلسفہ و نظام بالخصوص انسانی حقوق کے حوالہ سے جو اعتراضات کیے جا رہے ہیں اور شکوک و شبہات پھیلائے جا رہے ہیں، ان کا جواب دیا جائے۔ اور آج کے عالمی تناظر میں اسلامی تعلیمات کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کے لیے علمی و فکری نوعیت کے پروگرام پیش کیے جائیں، اور مختلف مکاتبِ فکر کے ایسے سرکردہ علماء کرام اور دانشوروں کو سامنے لایا جائے جو آج کے حالات اور تقاضوں سے باخبر ہوں اور آج کے اسلوب میں بات کر سکیں۔ اس کے ساتھ ہی اپنی نئی نسل کو ماضی سے وابستہ رکھنے کے لیے عظیم اسلامی شخصیات اور تحریکات کے بارے میں معلوماتی پروگرام پیش کیے جائیں۔ آج کے سیکولر میڈیا کی یہ مخصوص تکنیک ہے کہ اسلام اور اسلامی اقدار و روایات کے خلاف تو باشعور اور جدید اسلوب سے بہرہ ور افراد کو قوم کے سامنے لایا جاتا ہے، مگر ان کے جواب اور ان سے مکالمہ کے لیے جان بوجھ کر ایسی مذہبی شخصیات کو ان کے سامنے بٹھا دیا جاتا ہے جو تمام تر احترام کے باوجود آج کے حالات اور اسلوب کے واقف نہیں ہوتے۔ اس تکنیک کا توڑ کرنے کی ضرورت ہے اور اس میں میڈیا کے دیندار حضرات کے ساتھ دینی اداروں اور دینی حلقوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اس صورتحال کا ادراک کریں اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔

   
2016ء سے
Flag Counter