یہودی لابی کا اسلام

   
۵ مئی ۱۹۸۹ء

لاہور کے روزنامہ ’’آوازِ خلق‘‘ نے ۱۴ اپریل ۱۹۸۹ء کی اشاعت میں مغربی جرمنی کے ایک جریدہ کے لیے پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن محترمہ بے نظیر بھٹو کے تفصیلی انٹرویو کا ترجمہ شائع کیا ہے جس میں انہوں نے اپنی پالیسیوں کا دوٹوک انداز میں اظہار کیا ہے۔ اس انٹرویو کے مطابق:

  • محترمہ بے نظیر بھٹو نے چور کا ہاتھ کاٹنے اور کوڑے مارنے کی سزاؤں کے بارے میں کہا ہے کہ ظالمانہ اور وحشیانہ قوانین کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں۔
  • ان کی حکومت اسلامی ہے کیونکہ وہ عوام کے ووٹوں سے بنی ہے۔
  • میرا عقیدہ ہے کہ اسلام نے مردوں اور عورتوں کو یکساں حقوق دیے ہیں اور ہماری حکومت میں عدالتوں میں عورت کی گواہی کو مرد کی گواہی کے برابر سمجھا جائے گا۔
  • عورت کی حکمرانی کو شرعاً ناجائز قرار دینے کا تصور غلط ہے، اسلامی تاریخ میں کئی عورتیں ریاست اور حکومت کی سربراہ رہی ہیں۔

محترمہ بے نظیر بھٹو اس قسم کے خیالات کا اظہار اس سے قبل بھی متعدد بار کر چکی ہیں اور ان کے یہ نظریات کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں رہی۔ اس پس منظر میں جب ان کی طرف سے یہ اعلان سامنے آتا ہے کہ

’’ان کی حکومت شریعت کے جلد از جلد نفاذ کے لیے ہرممکن اقدامات کرے گی۔‘‘ (جنگ لاہور ۔ ۲۶ اپریل)

تو معاً ذہن میں یہودی لابی کی اس سازش کا تصور ابھرتا ہے جو عالم اسلام میں اسلام کے نام پر اور شریعت کے لیبل کے ساتھ غیر اسلامی نظریات و تصورات کو فروغ دینے اور کافرانہ نظاموں کو مسلط رکھنے کے لیے منظم کی گئی ہے۔ اور مسلمان ممالک میں اس لابی کے کارندوں نے اب اسلامی قوانین اور شرعی احکام سے انکار کی بجائے اپنی ہر بات کو شریعت کے نام پر پیش کرنے کی حکمت عملی اختیار کر لی ہے۔

کیا بے نظیر بھٹو کے ذریعے اسلام کے نفاذ کی خواہش رکھنے والے علماء کرام صورتحال کے اس پہلو پر غور کی زحمت فرمائیں گے؟

   
2016ء سے
Flag Counter