’’فضائل اعمال‘‘ پر اعتراضات کا علمی جائزہ

   
۲۴ جولائی ۲۰۱۲ء

گزشتہ جمعۃ المبارک کو صبح نو بجے کے لگ بھگ دوبئی سے جدہ پہنچا تو ایئرپورٹ پر جہاز سے اترتے ہی عمرہ والوں کو دوسرے مسافروں سے الگ کر دیا گیا۔ میرا ویزا کسی گروپ کے ساتھ نہیں تھا اور میں احرام کی حالت میں بھی نہیں تھا کہ میرا معمول عام طور پر مدینہ منورہ جانے اور وہاں سے عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ حاضری کا چلا آرہا ہے۔ اس لیے میں دوسرے مسافروں کے ساتھ حج ٹرمینل کی بجائے عام ٹرمینل پر پہنچ گیا مگر جب انٹری کی مہر لگوا کر باہر نکلا تو پتا چلا کہ سامان تو عمرہ والوں کے سامان کے ساتھ حج ٹرمینل پر چلا گیا ہے۔ میرے ہم زلف قاری محمد اسلم شہزاد صاحب اور چھوٹے بھائی مولانا قاری عزیز الرحمان شاہد مجھے لینے کے لیے ایئرپورٹ آئے ہوئے تھے، سامان لینے کے لیے حج ٹرمینل جانا پڑا اور اتنا وقت لگ گیا کہ واپس آکر قاری محمد اسلم شہزاد کی مسجد میں بمشکل جمعہ پڑھ سکا۔

قاری محمد اسلم شہزاد نے اسی روز شام کو اپنی بچی کی شادی کا پروگرام رکھا ہوا تھا جو ایک ہوٹل کے ہال میں ہوا اور اس موقع پر بہت سے علماء کرام اور احباب سے اجتماعی ملاقات ہوگئی۔ اس سے اگلے روز ہمارے متحرک اور بزرگ دوست قاری محمد رفیق صاحب نے علماء کرام کے ایک اجلاس میں شرکت کی دعوت دے دی جو پہلے سے طے شدہ پروگرام کے مطابق ہو رہا تھا۔ جدہ میں مقیم پاکستانی علماء کرام اور قراء کرام نے کچھ عرصہ سے باہمی مشاور ت کا ہلکا پھلکا سا نظم قائم کر رکھا ہے، وقتاً فوقتاً جمع ہوتے ہیں، دینی اور مسلکی ضروریات اور تقاضوں کا جائزہ لیتے ہیں اور مشورہ کے ساتھ اپنی حکمت عملی اور پروگرام طے کرتے ہیں۔ میں نے حاضری کی دعوت قبول کر لی اور علماء کرام، قراء کرام اور احباب کے ساتھ ایک اور اجتماعی ملاقات میں شمولیت کا موقع مل گیا۔

اجلاس میں دیگر مسائل کے ساتھ ساتھ تبلیغی جماعت کے دعوتی نصاب ’’فضائل اعمال‘‘ پر مختلف حلقوں کی طرف سے کیے جانے والے اعتراضات بھی زیر بحث آئے اور ان کے جواب کی حکمت عملی پر غور ہوا۔ میں خاموشی کے ساتھ بحث سنتا رہا لیکن مجھے بھی کچھ عرض کرنے کے لیے کہا گیا تو میں نے اس حوالہ سے دو گزارشات پیش کیں۔

ایک یہ کہ ہمیں اس اصولی بحث کو پیش نظر رکھنا چاہیے کہ ضعیف احادیث کسی درجہ میں قابل قبول ہیں یا انہیں بالکل ہی مسترد کر دینا چاہیے۔ ہمارا موقف یہ ہے کہ ضعیف احادیث کو کلیتاً مسترد کر دینا درست نہیں ہے اور وہ فضائل اعمال میں قابل قبول چلی آرہی ہیں۔ یہ صرف ہمارا موقف نہیں ہے بلکہ امت کے جمہور محدثین کا موقف ہے اور ان محدثین کا بھی یہی موقف ہے جنہوں نے حدیث اور روایت کی صحت کے لیے سخت معیار قائم کیا ہے اور کڑی شرائط عائد کی ہیں۔ مثلاً امام بخاریؒ کی شرائط کو سب سے زیادہ مضبوط سمجھا جاتا ہے اور اسی وجہ سے صحیح بخاری کو ’’اصح الکتب بعد کتاب اللہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ لیکن الجامع الصحیح سے ہٹ کر باقی تصانیف میں امام بخاریؒ نے اس معیار کی پابندی نہیں کی حالانکہ وہ کتابیں بھی انہوں نے امت کے استفادہ کے لیے ہی لکھی ہیں اور امت مسلمہ کے اہل علم ان سے مسلسل استفادہ کرتے چلے آرہے ہیں۔ ’’الادب المفرد‘‘ کو دیکھ لیں، وہ بھی امام بخاریؒ کی تصنیف ہے لیکن اس کا معیار صحیح بخاری والا نہیں ہے۔ اسی طرح امام شمس الدین ذہبیؒ بھی حدیث اور سند کے نقادوں میں سے ہیں اور ان کا نقد کا معیار بہت مضبوط ہے لیکن جس معیار پر وہ احادیث کو پرکھتے ہیں اور ان کے صحیح یا ضعیف ہونے کا فیصلہ کرتے ہیں ان کی اپنی کتاب ’’الکبائر‘‘ کا وہ معیار نہیں ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ محدثین کے ہاں ضعیف احادیث کلیتاً مسترد کرنے کے قابل نہیں ہیں بلکہ کسی نہ کسی درجہ میں وہ ضرور قبول کی جاتی ہیں اور محدثین کا یہی موقف امت میں متواتر چلا آرہا ہے۔

دوسری بات یہ کہ احادیث سے استدلال کے بارے میں احناف کا طرز کیا ہے اور ان کے ہاں اس کی درجہ بندی کیا ہے؟ یہ بات بھی ہمیں نظر انداز نہیں کرنی چاہیے۔ ہمارا استدلال کا اپنا ایک نظام ہے اور علمی و فقہی ڈھانچہ ہے جس کے اندر رہ کر ہم احادیث کی درجہ بندی کرتے ہیں اور اسی کے دائرے میں احادیث سے استدلال و استنباط کرتے ہیں۔ مثلاً ایک پہلو کی طرف توجہ دلانا چاہوں گا کہ ہم عام طور پر حافظ ابن حزمؒ کے ایک قول کا حوالہ دیا کرتے ہیں کہ امام ابوحنیفہؒ قیاس پر ضعیف حدیث کو ترجیح دیتے ہیں۔ اس کا مطلب اس کے سوا کیا ہے کہ احناف کے ہاں ضعیف حدیث پر عمل ہوتا ہے اور اعمال میں بھی وہ اس درجہ میں قابل قبول ہے کہ اسے بسا اوقات قیاس پر ترجیح دی جا سکتی ہے۔

پھر یہ ضروری تو نہیں کہ جس حدیث کو ایک محدث ضعیف کہہ دیں تو وہ لازماً ضعیف ہی ہو۔ اور جس سند کے ساتھ حدیث کو ضعیف قرار دیا جا رہا ہے کسی دوسری سند یا سبب کے ساتھ وہ حدیث صحت کا درجہ حاصل نہ کر سکتی ہو۔ سند کے ضعف کا خلا پر کرنے کے لیے بہت سے دیگر اسباب بھی موجود ہیں اس لیے یہ کہہ دینا کہ کوئی بھی ضعیف حدیث کسی درجہ میں بھی قابل قبول نہیں، درست بات نہیں ہے۔ ہمیں اس کمزور موقف سے مرعوب نہیں ہونا چاہیے بلکہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنے علمی اور متوارث موقف پر قائم رہتے ہوئے اس کا دفاع کرنا چاہیے۔

میری گزارش یہ ہے کہ حنفی علماء کرام کو احادیث سے استدلال کے حوالہ سے اپنے علمی اور فقہی موقف سے واقف ہونا چاہیے اور اس کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ فقہائے احناف نے ہر دور میں اس پر بات کی ہے اور اپنا علمی موقف واضح کیا ہے۔ اگر تفصیلی مطالعہ اور استفادہ کا موقع نہ مل سکے تو ہمارے فاضل دوست مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے نماز کے بارے میں صاحبزادہ قاری عبد الباسط صاحب آف جدہ کی کتاب پر جو مقدمہ تحریر کیا ہے وہ بہت جامع تحریر ہے اور اس موضوع پر احناف کے مجموعی موقف اور طرز استدلال کا کم و بیش احاطہ کرتی ہے۔ میرے خیال میں اس کا مطالعہ اس موضوع سے دلچسپی رکھنے والے ہر عالم دین کے لیے ضروری ہے بلکہ اگر اسے درس نظامی کے نصاب میں طلبہ کو طحاوی شریف کے ساتھ سبقاً سبقاً پڑھا دیا جائے تو اس کا بہت فائدہ ہوگا۔

میں نے اصولی طور پر یہ بات عرض کی کہ ضعیف حدیث کے قابل استدلال ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں بعض متشددین کے موقف سے مرعوب ہونے اور اپنے موقف میں لچک پیدا کرنے یا اس کی بنیاد پر کیے جانے والے اعتراضات کو من و عن قبول کر کے دفاعی پوزیشن اختیار کر لینے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ پورے اعتماد کے ساتھ اپنے موقف پر قائم رہنے اور کمزور اعتراضات کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے ساتھ ہی یہ بات چونکہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد زکریاؒ کی کتاب فضائل اعمال کے بارے میں ہو رہی ہے اس لیے اس کتاب کی افادیت کے ایک اور پہلو کا تذکرہ کرنا چاہتا ہوں۔

گزشتہ دنوں جرمنی کے ایک اسکالر نے جن کا نام مشکل ہونے کی وجہ سے اس وقت میرے ذہن میں نہیں آرہا، اپنی ایک تحقیق اور ریسرچ کا موضوع اس بات کو بنایا کہ برصغیر پاک و ہند و بنگلہ دیش میں ۱۸۵۷ء کے بعد جو نئے فقہی اور مسلکی حلقے وجود میں آئے اور اہل سنت میں دیوبندی، بریلوی اور اہل حدیث کے نام سے جو نئی تقسیم ہوئی ان میں سے کون سے فقہی مسلکی دائرے نے عالمگیریت اختیار کی ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ اہل حدیث اور بریلوی دنیا کے مختلف ممالک میں پائے جاتے ہیں اور کام کر رہے ہیں لیکن یہ انہی افراد اور خاندانوں پر مشتمل ہیں جو جنوبی ایشیا سے ترک وطن کر کے ان ممالک میں آباد ہوئے ہیں جبکہ جنوبی ایشیا کے نسلی دائرہ سے باہر وہ اپنا حلقہ نہیں بنا سکے۔ لیکن دیوبندی مکتب فکر نے جنوبی ایشیا کے نسلی اور قومی دائروں سے ہٹ کر بھی اثر و رسوخ قائم کیا ہے اور اپنا حلقہ وسیع کیا ہے۔ اس لیے ان میں سے صرف دیوبندی حلقہ عالمگیریت اور انٹرنیشنل ماحول میں قدم رکھنے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ اس جرمن اسکالر کا موقف ہے اور انہوں نے لکھا ہے کہ دیوبندی دائرہ میں اس وسعت کا بڑا سبب تبلیغی جماعت اور اس کے ساتھ شیخ الحدیث مولانا محمد زکریا کی کتاب فضائل اعمال ہے جو غیر ایشیائی نسلوں اور قوموں میں اسلام کے ساتھ ساتھ دیوبندیت کے فروغ کا ذریعہ بھی بنی ہے۔ یہ جرمن اسکالر چند ماہ قبل اسلام آباد تشریف لائے تھے اور بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے شعبہ دعوۃ اکیڈمی کے زیراہتمام ایک سیمینار سے خطاب کے دوران انہوں نے یہ موقف پیش کیا تھا۔ اس لیے گبھرانے کی بات نہیں ہے، فضائل اعمال جہاں بعض اعتراضات کا ہدف بن رہی ہے وہاں اس کی افادیت اور کردار کو بھی بین الاقوامی حلقوں میں کھلے دل کے ساتھ تسلیم کیا جا رہا ہے۔

اس کے بعد اتوار اور پیر کا دن میں نے چھوٹے بھائی مولانا قاری عزیز الرحمان خان شاہد کے گھر گزارا اور اپنے بھتیجوں اور بھتیجی کے ساتھ سارا دن رہا۔ عزیز بھتیجوں ارسلان اور فائز نے شام کو مجھے ایئرپورٹ کے قریب تعمیر ہونے والی خوبصورت مسجد عائشہ دکھائی جہاں ہم نے مغرب کی نماز پڑھی اور امام صاحب محترم نے مغرب کی نماز میں شام کے مظلوم سنی بھائیوں پر ہونے والے مظالم کے لیے قنوت نازلہ پڑھ کر ان مظلوموں کے غم کو تازہ کر دیا۔ جبکہ اگلے روز منگل کو کوٹ مومن کے قاری محمد عثمان نے مجھے اپنی گاڑی میں مدینہ منورہ پہنچا دیا۔

   
2016ء سے
Flag Counter