اللہ تعالیٰ کے خلاف امریکی سینیٹر کا مقدمہ

   
نومبر ۲۰۰۷ء

نیویارک سے شائع ہونے والے اردو ہفت روزہ نیویارک عوام نے ۲۱ تا ۲۷ ستمبر ۲۰۰۷ء کی اشاعت میں خبر دی ہے کہ امریکہ کی ریاست نبراسکا کے ایک سینیٹر ارتی چیمبر نے ڈگلس کاؤنٹی کی عدالت میں خدا پر مقدمہ دائر کر دیا ہے، اس نے اپنی درخواست میں الزام لگایا ہے کہ خدا نے اسے اور اس کے حلقہ انتخاب کے لوگوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کر دیا ہے۔ اوماہا کے سینیٹر نے کہا ہے کہ خدا نے زمین پر رہنے والے اربوں انسانوں کو بڑے پیمانے پر ہلاکتوں، تباہ کاریوں اور دہشت کے ذریعے دہشت زدہ کر دیا ہے، خدا خوفناک سیلاب لاتا ہے اور تباہ کن سمندری طوفان کے ذریعے تمام انسانوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ درخواست دہندہ نے عدالت سے خدا کے خلاف مستقل حکم امتناعی جاری کرنے کی استدعا کی ہے، اپنی درخواست میں امریکی سینیٹر نے کہا ہے کہ اس مقدمے سے اس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ کوئی بھی شخص کسی بھی شخص کے خلاف مقدمہ دائر کر سکتا ہے۔

اس مضحکہ خیز خبر میں لطیفے کا پہلو یہ ہے کہ مجھے جب یہ خبر بتائی گئی اور اس پر تبصرہ کرنے کے لیے کہا گیا تو میں نے عرض کیا کہ جہاں سینیٹر درجہ کے ایک امریکی نے اللہ تعالیٰ کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا حوصلہ کر لیا ہے وہاں اس امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا کہ اسی قماش کا کوئی جج خدا تعالیٰ کے خلاف حکم امتناعی جاری کرنے کی جرأت بھی کر لے، لیکن سوال یہ ہے کہ اس حکم امتناعی کی اللہ تعالیٰ سے تعمیل کون کرائے گا؟ (نعوذ باللہ)

یہ خبر جہاں سراسر مضحکہ خیز ہے وہاں اس پر سنجیدہ غور و خوض کا ایک پہلو بھی موجود ہے کہ مغرب نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں سے بغاوت اور فرد کی مطلق آزادی کا جو فلسفہ اپنا رکھا ہے، اور جسے ہم مسلمانوں سے قبول کرانے کے لیے بھی مغرب مسلسل کوشش کر رہا ہے، یہ اس کا نقطۂ عروج ہے کہ ایک شخص خدا کے سامنے کھڑا ہونے اور اس کے خلاف مقدمہ میں فریق بننے کو بھی اپنا حق تصور کر رہا ہے۔ انسانی حقوق کا یہی تصور ہے جسے مغرب نے مستقبل کی گلوبل سوسائٹی کا آئیڈیل فلسفہ قرار دے رکھا ہے، ورنہ آسمانی مذاہب میں اسے اللہ تعالیٰ کی توہین اور ارتداد سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ بائبل کی کتاب استثناء باب ۵ کی آیت ۹ میں ہے کہ:

’’میں خداوند تیرا غیور خدا ہوں اور جو مجھ سے عداوت رکھتے ہیں ان کی اولاد کو تیسری اور چوتھی پشت تک باپ دادا کی بدکاری کی سزا دیتا ہوں اور ہزاروں پر جو مجھ سے محبت رکھتے ہیں اور میرے حکموں کو مانتے ہیں رحم کرتا ہوں‘‘۔

فرعون بھی اللہ تعالیٰ کے مقابلہ میں اسی مقام تک پہنچ گیا تھا اور اسے اللہ تعالیٰ نے ڈھیل بھی بہت دی تھی لیکن خالق کائنات کے سامنے اکڑنے کی جو عبرتناک سزا اسے ملی، اسے اس امریکی سینیٹر اور اس قماش کے دوسرے لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کرنا چاہیے۔

   
2016ء سے
Flag Counter