سفر ایران کے چند تاثرات و مشاہدات

   
۲ جولائی ۲۰۱۹ء

ہفتہ کے روز ایران سے واپس گوجرانوالہ واپس پہنچ گیا ہوں مگر دوحہ سے لاہور کی فلائیٹ پانچ گھنٹے لیٹ ہونے کی وجہ سے اسباق میں حاضری نہیں ہو سکی۔ سفر کی مدت میں ایک دن کے اضافہ کی وجہ سے نیا روٹ قطر ایئرویز کے ذریعے تہران سے دوحہ اور وہاں سے لاہور کا ترتیب پایا۔ دوحہ میں اسٹاپ سات گھنٹے کا تھا مگر فلائیٹ کی روانگی میں پانچ گھنٹے کی تاخیر کی وجہ سے بارہ گھنٹے تک پھیل گیا جو میرے لیے آزمائش سے کم نہیں تھا۔ میرے ٹخنوں میں ایک عرصہ سے درد رہتا ہے جس کی وجہ سے زیادہ چلنا پھرنا دشوار ہو جاتا ہے، اللہ بھلا کرے گوجرانوالہ کے ایک نوجوان حافظ محمد صدیق کا جو گلاسگو سے آرہا تھا اور اسی فلائٹ سے اسے بھی لاہور آنا تھا، اس نے مجھے پہچان لیا اور بتایا کہ وہ گوجرانوالہ کے مولانا حافظ ریاض انور گجراتی کا شاگرد ہے اور ان کے ہاں میرے بیانات سنتا رہتا ہے، پھر وہ جہاز میں سوار ہونے تک مسلسل میرا سہارا بنا رہا، اللہ تعالٰی اسے جزائے خیر سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

اس میں لطیفہ کا پہلو یہ ہے کہ تہران ایئرپورٹ پر میں صبح جلدی پہنچ گیا تھا اور ناشتہ وہیں کیا، انڈے والا ایک برگر اور ایک چائے کا آرڈر دیا لیکن جب اس کا بل دیکھا تو وہ ساڑھے پچیس ہزار ایرانی ریال کا تھا۔ ایک دفعہ تو سر گھومنے لگا، پھر میں نے کاؤنٹر پر کھڑی لڑکی سے کہا کہ کسی اور کرنسی میں بتاؤ، اس نے کہا تین امریکی ڈالر، یہ سن کر میرا سانس بحال ہوا اور ایک کونے میں میز پر سامان رکھ کر اطمینان سے ناشتہ کیا۔ جبکہ شام کو دوحہ ایئرپورٹ پر ایک بڑا کپ چائے کا پانچ امریکی ڈالر میں میسر ہوا، جو دو چار سال پہلے پانچ سو روپے کے لگ بھگ بنتا تھا، اب ساڑھے سات سے آٹھ سو روپے کے درمیان بنتا ہے۔

میرا ایران کا یہ سفر تین عشروں کے بعد تھا، پہلے سفر کی خود اپنی لکھی ہوئی تفصیلی رپورٹ پرانے ریکارڈ سے نکلوا کر میں ساتھ لے گیا تھا اور اب اسے دوبارہ کمپوز کر کے اپنی ویب سائیٹ www.zahidrashdi.org پر ڈالنے کا پروگرام ہے۔ وہاں کے کچھ دوستوں نے اسے پڑھا اور میرے استفسار پر بتایا کہ مجموعی صورتحال اب بھی کم و بیش اسی طرح ہے۔ جبکہ کوئی نمایاں فرق مجھے بھی دکھائی نہیں دیا البتہ یہ دیکھ کر اطمینان ہوا کہ ایران کے اہل سنت علماء کرام نے اپنے تحفظات و شکایات کے حوالہ سے تصادم اور کشمکش کی بجائے تعاون اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کر رکھا ہے جس کے مثبت اثرات دھیرے دھیرے سامنے آرہے ہیں اور اہل سنت کے حقوق و مفادات کے لیے پیشرفت دیکھنے میں آرہی ہے جس کا کریڈٹ یقیناً زاھدان کے حضرت مولانا عبد الحمید کو جاتا ہے جو بڑی حکمت عملی، تدبر اور حوصلہ کے ساتھ اہل سنت کی راہنمائی اور قیادت کر رہے ہیں اور ان کی بات کو سرکاری حلقوں میں بھی توجہ کے ساتھ سنا جاتا ہے۔

یہ بات وہاں پہنچنے کے بعد معلوم ہوئی کہ ۲۶ جون کو تہران یونیورسٹی میں منعقد ہونے والے عالمی موتمر کے اصل محرک یونیورسٹی کے سنی اساتذہ تھے بالخصوص فقہ شافعی کے شعبہ میں کام کرنے والے اساتذہ اور دانشور حضرات نے اس کی تحریک کی تھی جس میں انہیں سرکاری سرپرستی کے ساتھ ساتھ اہل سنت کے اکابر علماء کرام کی حمایت بھی حاصل تھی۔

میری حاضری پر سب سے زیادہ خوش یہ اکابر علماء کرام تھے، اس کے ساتھ ہی والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے تلامذہ اور خود میرے شاگردوں میں سے جو بھی وہاں آسکا اس نے ملاقات کی صورت ضرور نکالی۔ بالخصوص زاھدان کے مولانا غلام اللہ اور مولانا محمد شاہنوازی کی خوشی قابل دید تھی۔ یہ دونوں جامعہ دارالعلوم کراچی کے فضلاء میں سے ہیں، ایک سال کے لگ بھگ عرصہ الشریعہ اکادمی گوجرانوالہ میں گزار چکے ہیں اور اب دارالعلوم زاھدان میں تعلیمی و تدریسی فرائض سرانجام دے رہے ہیں۔ یہ دونوں حضرات باری باری پورے سفر میں میرے ساتھ رہے اور خدمت و میزبانی کا حق ادا کیا۔ اللہ تعالٰی انہیں دونوں جہانوں کی سعادتوں سے بہرہ ور فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔ ایران میں جامعہ دارالعلوم کراچی، جامعہ فاروقیہ، دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک، جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور جامعہ علوم اسلامیہ بنوری ٹاؤن کے بہت سے فضلاء مختلف مقامات پر تدریسی و تعلیمی خدمات میں مصروف ہیں، ان کی محنت و کاوش کا تسلسل دیکھ کر دل خوش ہوا۔

مختلف مجالس میں علمی و فکری مسائل پر بھی ہلکی پھلکی گفتگو ہوتی رہی، ان میں سے ایک کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا۔ ایک مجلس میں ایران کے سرکردہ علماء کرام سے ہمارے کسی ساتھی نے سوال کیا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ کرامؓ اور تابعین جن علاقوں میں بھی گئے وہاں عربی زبان کو فروغ ہوا اور آہستہ آہستہ وہ سب علاقے عرب بن گئے۔ مثلاً مصر، شام، عراق، سوڈان، الجزائر اور لیبیا وغیرہ ایسے ممالک ہیں جو عرب نہیں تھے مگر عرب بن گئے۔ جبکہ ایران میں ایسا نہیں ہوا حالانکہ صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کی اچھی خاصی تعداد یہاں آئی ہے، ایسا کیوں ہوا ہے؟ اس موقع پر میں نے عرض کیا کہ اس سوال میں میری طرف سے ایک اضافہ کر لیں کہ ایرانیوں نے نہ صرف یہ کہ خود عربی زبان کو قبول نہیں کیا بلکہ ہمارے لیے بھی رکاوٹ بن گئے اور ہمارے ہاں صدیوں تک فارسی بطور دفتری، عدالتی اور قومی زبان رہی، جو اب انگریزی میں تبدیل ہوگئی ہے اور اس سے پیچھا چھڑانا ہمارے لیے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

میں نے اس مجلس میں بتایا کہ مصدقہ معلومات کے مطابق پاکستان بن جانے کے بعد ممتاز مسلم لیگی لیڈر آغا خان نے تجویز دی تھی کہ اس نئے ملک میں انگریزی کی بجائے عربی کو سرکاری زبان بنایا جائے جس سے یہ ملک عرب کلچر سے وابستہ ہو جائے گا اور بہت سی ثقافتی الجھنوں سے محفوظ رہے گا، مگر ان کی بات قابل توجہ قرار نہیں پائی چنانچہ انگریزی زبان اب تک اپنے تمام تر ثقافتی ماحول اور تہذیبی رعب و ادب کے ساتھ ہم پر بدستور مسلط ہے اور اس کے حصار کو توڑنے میں دستور، پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے واضح فیصلے بھی کامیاب نہیں ہو پا رہے۔

یہ بات میرے لیے اطمینان کا باعث ہے کہ اپنی علمی و فکری جدوجہد کا اصل موضوع اس سفر میں بھی مجھے یاد رہا کہ آج کی سب سے بڑی علمی و فکری ضرورت انسانی حقوق کے عالمی فلسفہ و نظام اور بین الاقوامی معاہدات سے صحیح طور پر آگاہی حاصل کرنا اور اسلامی تعلیمات کی روشنی میں اس حوالہ سے امت کی راہنمائی کرنا علماء کرام کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔ چنانچہ گزشتہ ماہ مکہ مکرمہ کے سفر کے دوران اس سلسلہ میں اپنی تجاویز اور دیگر ضروری دستاویزات پر مشتمل فائل میں نے رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل سعادت الدکتور ڈاکٹر عبد الکریم العیسی حفظہ اللہ تعالٰی کے سپرد کی تھی، اور اب ایران کے سفر میں وہی فائل زاھدان اور تہران کے سرکردہ علماء کرام کے حوالہ کر کے آیا ہوں۔ اس درخواست کے ساتھ کہ وہ اس پر مذاکرہ و مکالمہ کا ماحول بنائیں گے اور نئی نسل کی صحیح طور پر راہنمائی کا اہتمام کریں گے، اللہ تعالٰی ہم سب کو توفیق دیں، آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter