قرآن حکیم کے ہم پر حقوق

   
۷ نومبر ۲۰۰۳ء

رمضان المبارک گزرتا جا رہا ہے اور دنیا بھر میں مسلمان اپنے اپنے ذوق اور توفیق کے مطابق اس کی برکتوں سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ یہ قرآن کریم کا مہینہ ہے، اسی لیے اس میں قرآن کریم سب سے زیادہ پڑھا جاتا ہے اور نماز کے بغیر بھی اس کی عام طور پر تلاوت ہوتی ہے۔ سمجھ کر پڑھنے والے بھی اس کے پڑھنے اور سننے کا حظ اٹھا رہے ہیں اور بغیر سمجھے پڑھنے سننے والے بھی اس کی برکات سے محروم نہیں ہیں۔ یہ قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ کسی اور کتاب کے حافظ موجود نہیں، مگر اس کے حافظوں کی تعداد دنیا میں اس وقت نوے لاکھ کے لگ بھگ بتائی جاتی ہے، جنہوں نے قرآن کریم کو صرف یاد نہیں کیا بلکہ اسے یاد رکھنے کے لیے اس کو پڑھتے سنتے رہنا بھی ان کے معمولات میں شامل ہے۔ یہ بھی قرآن کریم کا اعجاز ہے کہ جتنا اس کتاب کو باقاعدہ پڑھا اور سنا جاتا ہے، دنیا کی کسی اور کتاب کو یہ اعزاز حاصل نہیں ہے۔ سورج کی گردش کے ساتھ ساتھ قرآن کریم کی قراءت کے مناظر بھی زمین کے گرد چکر لگاتے رہتے ہیں اور شب و روز کا شاید ہی کوئی ایسا وقت ہو جب دنیا کے کسی نہ کسی حصے میں اس کی تلاوت نہ ہو رہی ہو۔

قرآن کریم اللہ تعالیٰ کا کلام اور خالق کائنات کا پیام ہے، جو ہر دور میں نسل انسانی کے لیے یہی رہا ہے کہ وہ اپنے مالک و خالق کو پہچانے اور اس کے احکامات اور منشا کے مطابق زندگی بسر کرے۔ قرآن کریم کی بنیادی دعوت وہی ہے، جو جنت سے حضرت آدم و حوا علیہما السلام کو زمین پر اتارتے وقت اللہ تعالیٰ نے دی تھی:

’’تمہارے پاس میری طرف سے ہدایات آتی رہیں گی، جو ان ہدایات کی پیروی کرے گا، وہ خوف اور حزن سے نجات پائے گا اور جس نے انکار اور تکذیب کا راستہ اختیار کیا، وہ دوزخ کا ایندھن بنے گا۔‘‘

حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک اللہ تعالیٰ کے ہر پیغمبر کا یہی پیغام رہا ہے کہ انسان اپنے خالق کو پہچانے، اس کے پیغام کو سمجھے، اس کے احکامات کے مطابق زندگی بسر کرے اور یہ بات ہر وقت ذہن میں رکھے کہ اس عارضی اور وقتی زندگی میں اس نے اس حوالے سے جو طرز عمل اختیار کیا، اس کی ابدی اور ہمیشہ کی زندگی کا فیصلہ اسی کی بنیاد پر ہو گا۔ اسے قیامت کے روز دنیا میں کیے گئے اپنے اعمال کا حساب دینا ہو گا، اس حساب کتاب کے بعد اس کے جنت یا دوزخ میں جانے کا فیصلہ ہو گا۔

قرآن کریم کے بحر ناپیداکنار سے غوطہ زنوں نے ہر قسم کے موتی حاصل کیے ہیں۔ چودہ سو برس سے مفسرین اور محققین ایک ایسے سمندر میں غوطہ زن ہیں جس کا کوئی کنارہ ہے نہ اس کی کوئی تہہ دکھائی دے رہی ہے۔ ہر غوطہ زن کو نئے موتی ملتے ہیں اور وہ نت نئے نکات سے دنیا کو روشناس کراتا ہے۔ مؤرخ کو تاریخی حقائق ملتے ہیں، سائنسدان کو کائنات کے نئے نئے حقائق تک رسائی حاصل ہوتی ہے۔ فلسفی کو راہرو فکر دوڑانے کے لیے نئے میدان میسر آتے ہیں، اور انسانی معاشرت کی ہیئت اور نفسیات کا ادراک حاصل کرنے والوں کو نئی حکمتوں اور باریکیوں کا فیض ملتا ہے، مگر قرآن کریم کا اصل موضوع بندے کو اس کے مالک و خالق سے جوڑنا اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کے دائرے میں لانا ہے اور یہی تمام حکمتوں سے بڑی حکمت، تمام رازوں سے بڑا راز اور تمام فلسفوں سے بڑا فلسفہ ہے۔

قرآن کریم پوری نسل انسانی کے لیے ہے، مگر ہم مسلمانوں نے اسے اپنے حصار میں لے رکھا ہے اور نسل انسانی تک اس کی رسائی کی راہ میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ مغربی ممالک میں مقیم مسلمانوں میں سے اگر کوئی مجھ سے پوچھتا ہے کہ کیا کسی غیر مسلم کو قرآن کریم دینا جائز ہے؟ مغربی ممالک کی بات اس لیے کر رہا ہوں کہ یہ سوال اکثر وہیں ہوتا ہے، ورنہ ساری دنیا کی صورتحال یہی ہے، قرآن کریم کے ادب و احترام کے حوالے سے یہ سوال درست بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ قرآن کریم کو طہارت والے لوگ ہی ہاتھ لگا سکتے ہیں، اور کافر عام طور پر طہارت کی حالت میں نہیں ہوتا اس لیے اس کے ہاتھ میں قرآن کریم دینا درست ہے یا نہیں؟ مگر میرا ذہن دوسری طرف چلا جاتا ہے اور بسا اوقات میرا جواب یہ ہوتا ہے کہ آپ جائز ہونے کی بات کر رہے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ غیر مسلموں تک قرآن کریم کو پہچانا ہمارے فرائض میں شامل ہے، دعوت کے نقطۂ نظر دیکھیں تو ہماری دینی ذمہ داری ہے کہ ہم غیر مسلموں تک نہ صرف اسلام کی دعوت پہنچائیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کا پیام بھی انہیں سنائیں اور اللہ تعالیٰ کا پیغام قرآن کریم کے بغیر کیسے پہنچایا جا سکتا ہے؟ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے:

’’قرآن کریم تمہارے بارے میں گواہی دے گا۔ یہ گواہی تمہارے حق میں بھی ہو سکتی ہیں اور تمہارے خلاف بھی ہو سکتی ہے۔‘‘

گویا ایک مسلمان کے بارے میں قرآن کریم کی گواہی بہرحال ضروری ہے۔ طرز عمل صحیح ہو گا تو یہ گواہی حق میں ہو گی اور رویہ درست نہ ہو گا تو گواہی خلاف ہو جائے گی۔ آج ہم قرآن کریم پڑھتے ہیں، سنتے ہیں اور اس کے ساتھ عقیدت و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ بجا ہے، درست ہے اور برکات کا باعث ہے، لیکن اس پہلو پر بھی ہمیں سوچ لینا چاہیے کہ کل قیامت کے روز ہمارے بارے میں اس کی گواہی کیا ہو گی؟ اور اگر اس کی گواہی ہمارے خلاف ریکارڈ پر آگئی تو پھر کون سی دلیل ہمارے کام آئے گی اور کون سا عذر ہم اللہ تعالیٰ کی عدالت میں پیش کر سکیں گے۔

قرآن کریم کے حقوق و اداب کی ایک لمبی فہرست مفسرین و فقہاء نے بیان کی ہے، لیکن ایمان و عقیدے اور عقیدت و محبت کے بعد تین امور کا لحاظ رکھنا انتہائی ضروری ہے، اور یہ قرآن کریم کے ایسے حقوق ہیں جن کی ادائیگی کے بغیر اللہ تعالٰی کی اس مقدس کتاب پر ایمان کا تقاضا پورا نہیں ہوتا:

  1. پہلا حق یہ ہے کہ اسے سمجھا جائے، کیونکہ کسی بھی پیغام کا سب سے پہلا حق یہی ہوتا ہے۔ ہر پیغام کو اس کے بھیجنے والے اور پیغام لے کر آنے والے کی اہمیت کے مطابق سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے اور پیغام وصول کرنے والا ہر شخص اپنی پہلی ذمہ داری یہی سمجھتا ہے کہ وہ اس پیغام کو سمجھے اور اس کے مفہوم و مقصد سے آگاہ ہو، جو اس کے لیے آیا ہے۔ مگر ہم مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت کا قرآن کریم کے ساتھ یہ معاملہ نہیں ہے، ہم قرآن کریم پر ایمان رکھتے ہیں، اس کی عقیدت و محبت ہمارے دلوں میں موجود ہے، اس پر کٹ مرنے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں، اور اس کی تلاوت بھی کرتے ہیں، مگر بدقسمتی سے اسے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے، بلکہ اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں کرتے۔ یہ قرآن کریم کی حق تلفی ہے اور تھوڑا گہرائی میں جا کر سوچیں تو قرآن کریم کو سمجھنے سے لاپرواہی، توہین اور بے ادبی کی حدود تک بھی جا پہنچتی ہے۔ ہمیں اس طرز عمل پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔

    قرآن کریم کو سمجھنے کے حوالے سے ہمارا طرز عمل بہت عجیب ہے۔ یا تو سرے سے اسے سمجھنے کی کوشش ہی نہیں کریں گے، اور اگر سمجھنے پر آجائیں گے تو پھر دوسری انتہا پر ہوں گے کہ اس کے فہم کا معیار بھی خود ہی بن بیٹھیں گے کہ ہم نے قرآن کریم کی اس آیت کا مطلب یہی سمجھا ہے۔ حالانکہ سادہ سی بات ہے کہ ملک کے قانون سے ناواقفیت کا مطلب کہیں بھی یہ نہیں ہوتا کہ قانون کی کتاب ہاتھ میں لے کر جس نے جو مطلب سمجھ لیا، وہی اس کے لیے دلیل بن گیا۔ بلکہ قانون سے واقفیت وہی معتبر ہوتی ہے جو قانون جاننے والوں کے ذریعے ہو۔ اسی طرح قرآن کریم کا فہم بھی اس کے ماہرین کی وساطت سے ہو گا تو صحیح ہو گا، ورنہ فکری انتشار کا سبب بنے گا۔ بہرحال یہ قرآن کریم کا پہلا حق ہے کہ اسے سمجھا جائے۔

  2. اللہ تعالیٰ کے پاک کلام کا دوسرا بڑا حق یہ ہے کہ اس کے احکام پر عمل کیا جائے اور اس کا کوئی حکم سامنے آ نے پر ایک مسلمان کو بریک لگ جائے۔ حضرت عمر بن الخطابؓ کے اوصاف میں ان کے سوانح نگار اس بات کا بطور خاص تذکرہ کرتے ہیں کہ ’’وہ اللہ کی کتاب پر رک جانے والے تھے‘‘۔ یعنی قرآن کریم کا کوئی حکم سامنے آنے پر ان کے قدم یوں رک جاتے تھے جیسے سڑک پر سرخ بتی کا نشان دیکھ کر ایک اچھے ڈرائیور کا پاؤں خودبخود بریک پر ٹک جاتا ہے۔ قرآن کریم کے حوالے سے ایک مسلمان سے شریعت کا یہی سب سے بڑا تقاضا ہے کہ وہ قرآن کریم کو سمجھ کر اس کے احکام و قوانین پر عمل کرے اور اگر کوئی کام کرتے ہوئے قرآن کریم کا حکم اس کے خلاف اس کے علم میں آجائے تو فوراً اسٹاپ ہو جائے اور اس کے قدم بے ساختہ رک جائیں۔
  3. اس کے بعد قرآن کریم کا تیسرا بڑا حق مسلمانوں کے ذمہ یہ ہے کہ قرآن کریم کے پیغام اور تعلیمات کو نسل انسانی کے ہر شخص تک پہنچانے کی کوشش کریں۔ یہ ہماری ذمہ داری بھی ہے اور ہمارے دینی فرائض میں بھی شامل ہے۔ اور اگر اس پہلو سے دیکھا جائے تو بات بہت سنگین ہو جاتی ہے کہ ہماری غفلت سے جن لوگوں تک اسلام کی دعوت اور قرآن کریم کا پیغام نہیں پہنچ پاتا، ان کے کفر اور گمراہی کے ذمہ داری میں ہم بھی شریک ہو جاتے ہیں۔

رمضان المبارک کا آخری عشرہ قریب آرہا ہے، اس میں قرآن کریم کی طرف ہماری رغبت بڑھ جاتی ہے۔ یہ بڑھنی بھی چاہیے کہ نزول قرآن کی رات ’’لیلۃ القدر‘‘ اسی عشرہ میں ہے۔ لیکن قرآن کریم کی قراءت، اس کے سماع، قرآن کریم کی محافل، شبینوں، نوافل اور دیگر سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ہم سب کو اس پہلو پر بھی توجہ دینی چاہیے کہ قرآن کریم کے حقوق کے حوالے سے ہماری صورتحال کیا ہے؟ اور اگر کل قیامت کے روز قرآن کریم نے بارگاہ ایزدی میں ہمارے خلاف ’’حق تلفی‘‘ کا استغاثہ کر دیا تو کیا بنے گا؟ اللہ تعالیٰ ہم سب کو قرآن کریم کے حقوق کو سمجھنے اور انہیں ادا کرنے کی توفیق سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین۔

   
2016ء سے
Flag Counter