وفاق المدارس کا کامیاب کنونشن

   
۲۰ مئی ۲۰۰۵ء

وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا ’’دینی مدارس کنونشن‘‘ ہماری توقعات سے بڑھ کر کامیاب رہا اور وفاق کی قیادت نہ صرف اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے میں کامیاب رہی بلکہ اس نے اپنی دوٹوک پالیسی اور موقف کا ایک بار پھر کھلم کھلا اظہار کر کے دنیا کو یہ پیغام دینے میں بھی کامیابی حاصل کی ہے کہ دینی تعلیم اور اس کے آزادانہ نظام کے بارے میں عالمی سطح پر ہونے والے منفی پروپیگنڈے اور کردارکشی کی مسلسل مہم نے دینی مدارس کے اعصاب پر اثر انداز ہونے کے بجائے ان کے لیے مہمیز کا کام دیا اور وہ پہلے سے زیادہ حوصلہ و عزم اور جوش و جذبہ کے ساتھ اپنے مشن پر کار بند ہیں۔

کنونشن میں حکمران مسلم لیگ کے قائد چودھری شجاعت حسین اور قائد حزب اختلاف مولانا فضل الرحمن کی شمولیت و خطاب نے اسے قومی رنگ دیا ہے اور وفاقی وزراء اعجاز الحق اور شیخ رشید احمد، نیز صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ محمد اکرم درانی کی شرکت سے دنیا کو یقیناً یہ اندازہ ہو گیا ہوگا کہ پاکستان میں دینی تعلیم کے فروغ اور اس کے لیے ڈیڑھ صدی سے چلے آنے والے ’’آزادانہ نظام‘‘ کے بارے میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کے بڑے حلقوں میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے اور اس بات سے معاشرہ میں دینی مدارس کے اثر و رسوخ کی سطح معلوم کی جا سکتی ہے۔

کنونشن میں وفاق المدارس کی کارکردگی اور موقف و پالیسی کے حوالے سے حضرت مولانا مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کے خطابات بہت جاندار تھے۔ مولانا محمد تقی عثمانی نے دینی مدارس کے مقصد وجود کی وضاحت کرتے ہوئے ان کے بارے میں پھیلائے جانے والے شکوک و شبہات کا جائزہ لیا اور مدارس کی پوزیشن واضح کی، جبکہ مولانا قاری محمد حنیف جالندھری نے حکومت کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کی تفصیل بیان کی۔ جس سے یہ بات پوری طرح واضح ہو گئی کہ دینی مدارس کے آزادانہ تعلیمی کردار اور خود مختاری کے بارے میں وفاق المدارس کی قیادت اپنے موقف پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہے اور حکومتی حلقے دینی مدارس کے وفاقوں میں اس حوالے سے کوئی رخنہ ڈالنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ کنونشن نے جو متفقہ اعلامیہ جاری کیا اس میں بھی اس امر کا واضح اظہار ہے کہ دینی مدارس پر کنٹرول کی کوئی سرکاری کوشش قبول نہیں کی جائے گی اور نہ ہی حکومت سے کوئی مالی امداد وصول کی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی کنونشن نے سرکاری مدرسہ بورڈ کو مسترد کرنے کا بھی اعلان کر دیا ہے۔

کنونشن میں ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک کے چاروں صوبوں، آزاد کشمیر اور وفاقی علاقوں سے پانچ ہزار کے لگ بھگ علمائے کرام، طلبہ اور دانشوروں نے شرکت کی اور کنونشن سینٹر کے منتظمین کی طرف سے یہ بات ہال میں گشت کرتی رہی کہ یہ ہال جب سے تعمیر ہوا ہے، پہلی بار فل ہوا ہے، حالانکہ کنونشن کے منتظمین کی طرف سے وفاق المدارس کے تحت تمام مدارس کو دعوت نامے جاری نہیں کیے گئے تھے اور انہیں جگہ کی قلت کے باعث وفاق سے ملحق مدارس میں سے دعوت نامے بھجوانے کے لیے انتخاب کرنا پڑا تھا۔

اپوزیشن لیڈر مولانا فضل الرحمن نے دینی مدارس کی اہمیت و کردار پر روشنی ڈالی اور پاکستان میں دستور سازی کے لیے علمائے کرام کی خدمات اور کردار کا جائزہ پیش کیا۔ ان کے علاوہ سنیٹر مولانا سمیع الحق، آئی ایس آئی کے سابق سربراہ جنرل (ر) حمید گل، مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی، ممتاز کالم نگار عرفان صدیقی، مکہ مکرمہ سے آئے ہوئے بزرگ عالم دین مولانا عبدالحفیظ مکی اور دیگر زعماء کے خطابات ہوئے۔

چودھری شجاعت حسین نے کنونشن میں بتایا کہ جب وہ وزیر داخلہ تھے تو انہوں نے دینی مدارس میں دہشت گردی کی تربیت کے الزام کے بارے میں انکوائری کرائی تھی مگر ملک میں ایک مدرسہ بھی دہشت گردی کی تربیت میں ملوث نہیں پایا گیا اور وہ دینی مدارس کے کردار کی اہمیت سے آگاہ ہیں اور ان کے تحفظ پر یقین رکھتے ہیں۔

وفاقی وزیر برائے مذہبی امور اعجاز الحق نے کنونشن کے شرکاء کو بتایا کہ حکومت نے ماڈل دینی مدارس کے نام سے متبادل دینی درس گاہوں کے قیام کا جو منصوبہ بنایا تھا، وہ ناکام ہو گیا ہے اور کروڑوں روپے کے خرچ سے جو تین ماڈل مدرسے بنائے گئے تھے، ان کی ناکامی کے بعد یہ سلسلہ ختم کر دیا گیا ہے، اور میں نے مقتدر حلقوں پر یہ بات واضح کر دی ہے کہ دینی مدارس کو علماء ہی بہتر طور پر چلا سکتے ہیں، یہ کام حکومت کے بس کا نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعلان کیا کہ حکومت دینی مدارس کے نظام میں مداخلت کا کوئی ارادہ نہیں رکھتی اور وہ ہرگز ایسا نہیں کرے گی بلکہ اگر کسی وقت حکومت نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو وہ اقتدار سے باہر آ کر دینی مدارس کی آزادی کے تحفظ کے لیے آواز بلند کریں گے۔

راقم الحروف سے بھی کچھ معروضات پیش کرنے کے لیے کہا گیا اور میں نے جو گزارشات پیش کیں، ان کا خلاصہ نذر قارئین ہے:

بعد الحمد والصلٰوۃ۔ دینی مدارس نے اپنے سفر کا آغاز ۱۸۶۶ء میں دیوبند کی ایک مسجد میں انار کے درخت کے سائے میں کیا تھا، اس کا ایک مرحلہ مکمل ہو گیا ہے، اور اس سفر کے دوسرے مرحلے کا آغاز آج اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے اس ’’کنونشن سینٹر‘‘ سے ہو رہا ہے۔ یہ یقیناً ایک نئے دور کا آغاز ہے اور اس پر وفاق کی قیادت مبارکباد کی مستحق ہے۔ یہ دینی مدرسہ مسلمانوں کے عقیدہ و ایمان، فکر و فلسفہ اور تہذیب و ثقافت کا مورچہ ہے اور اسلامی تعلیمات کے تحفظ و فروغ کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اسے اپنے اس کردار کے تحفظ کے لیے جنوبی ایشیا میں برطانوی استعمار اور وسطی ایشیا میں روسی استعمار کے جبر کا مسلسل سامنا کرنا پڑا، مگر ان دونوں معرکوں میں یہ مدرسہ سرخرو رہا ہے۔ اب اسے ایک نئے استعمار کا سامنا ہے جو میرے نزدیک اس کشمکش کا آخری راؤنڈ ہے اور تاریخ کے طالب علم کی حیثیت سے اس یقین کا اظہار ضروری سمجھتا ہوں کہ مدرسہ کو اس آخری راؤنڈ میں بھی سرخروئی نصیب ہوگی، ان شاء اللہ تعالٰی۔

میں اس تاریخی کنونشن کے موقع پر اس فورم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مغرب کو یہ پیغام دینا چاہتا ہوں کہ یہ مدرسہ مسلمانوں کی ضرورت تو یقیناً ہے، لیکن مغرب سنجیدگی سے غور کرے تو جنوبی ایشیا کا یہ آزاد دینی مدرسہ خود مغرب کی بھی ضرورت ہے۔ وہ اس طرح کہ مغرب نے اب سے تین صدیاں قبل آسمانی تعلیمات سے بغاوت اور وحی الٰہی کی پابندی سے آزادی کے جس فکر و فلسفہ کی بنیاد رکھی تھی اور ایک نئی آزاد ثقافت کا آغاز کیا تھا، اس کے تلخ ثمرات دنیا کے سامنے آرہے ہیں اور خود مغرب کی درسگاہوں میں آسمانی تعلیمات کی طرف واپسی کے راستے تلاش کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک موجود حقیقت ہے جس پر کئی شواہد پیش کیے جا سکتے ہیں۔ اس طرح آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی ہم مسلمانوں کے ہاں تو واحد آپشن کی حیثیت رکھتا ہے مگر مغرب کے لیے بھی وہ ایک آپشن ہے اور جلد یا بدیر مغرب کو اس آپشن کو اختیار کرنے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔ بلکہ مجھے تو تاریخ کی پیشانی پر مستقبل کے حوالے سے یہ فیصلہ لکھا ہوا صاف نظر آتا ہے کہ نسل انسانی کا مستقبل آسمانی تعلیمات سے وابستہ ہے اور انسانی سوسائٹی کو بالآخر وحی الٰہی کی طرف واپس پلٹنا ہوگا، اور جب تاریخ اس مرحلے پر پہنچے گی تو آسمانی تعلیمات کا اوریجنل اور محفوظ ذخیرہ اسے ان مدارس کے سوا کہیں اور سے نہیں ملے گا، اور یہی مدارس نسل انسانی کی راہنمائی کے فکری سرچشمے ثابت ہوں گے۔

اس حوالے سے مغرب سے میری گزارش ہے اور اس کے لیے میرا پیغام ہے کہ وہ آنے والے دور کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اس دینی مدرسے کی کردار کی ضرورت کو محسوس کرے اور اس آپشن کا دروازہ بند کرنے کی کوششوں میں وقت ضائع نہ کرے، کیونکہ یہ دینی مدرسہ صرف مسلمانوں کی نہیں بلکہ مستقبل کے ایک آپشن کے حوالے سے خود مغرب کی بھی ضرورت ہے۔ مجھے یقین ہے کہ وہ وقت آنے والا ہے جب پوری دنیائے انسانیت ان دینی مدارس کے اس کردار کی معترف اور شکرگزار ہوگی کہ انہوں نے انسانی سوسائٹی کے لیے آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کے محفوظ اور اوریجنل ذخیرہ کی نہ صرف حفاظت کی بلکہ اسے نسل در نسل منتقل کرنے کا کردار بھی کامیابی کے ساتھ ادا کیا، اور یہی آج کے عالمی تناظر میں اس مدرسہ کا صحیح کردار ہے۔

بہرحال وفاق المدارس العربیہ پاکستان کا یہ کنونشن اپنے عنوان کے حوالے سے گزشتہ دو سالوں کے دوران وفاق کے امتحانات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبہ اور طالبات میں تقسیم انعامات کی تقریب تھی مگر جیسا کہ ہم اس کالم میں کنونشن کے انعقاد سے قبل عرض کر چکے ہیں، موجودہ معروضی حالات اور عالمی تناظر میں اس کنونشن کو تاریخی حیثیت حاصل ہو گئی ہے اور وہ یقیناً دینی مدارس کی جدوجہد میں ایک نئے دور کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگا۔

ایک ضروری وضاحت

۱۸ مئی کے اخبارات میں بعض سرکردہ علماء کرام کی طرف سے جاری کردہ ایک فتویٰ شائع ہوا ہے جس میں خود کش حملوں کو حرام قرار دیتے ہوئے ان سے بیزاری کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس فتویٰ پر دستخط کرنے والے علماء کرام کی فہرست میں میرا نام بھی درج ہے، اس لیے میں یہ وضاحت ضروری سمجھتا ہوں کہ سولہ مئی کو ایوان اوقاف میں مختلف مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کے مشترکہ اجلاس میں قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق اور نسخوں کی حرمت و حفاظت کا مسئلہ زیرِ بحث تھا اور میں بھی اس اجلاس میں شریک تھا۔ اس موقع پر متفقہ طور پر یہ طے پایا کہ قرآن کریم کے بوسیدہ اوراق اور نسخوں کے تحفظ کی موجودہ دور میں سب سے بہتر صورت ری سائیکلنگ ہے، یعنی یہ کہ انہیں مشینی ذریعے سے دوبارہ قابلِ استعمال کاغذ کی شکل دے دی جائے۔ اس مجلس میں یہی مسئلہ زیرِ بحث تھا، جس پر متفقہ فیصلہ ہوا اور سب کے ساتھ میں نے بھی اس پر دستخط کیے ہیں۔ خود کش حملوں کا موضوع سرے سے اس مجلس میں یا کسی اور مجلس میں گفتگو کا عنوان نہیں تھا اور نہ ہی کسی نے اس پر کوئی گفتگو کی۔ اگر اس موقع پر کسی بہانے سے کسی اور فتوے پر بھی موجود علماء کے دستخط کرائے گئے ہیں تو یہ لاعلمی میں ہوا ہے اور میں اس سے قطعی طور پر برأت کا اعلان کرتا ہوں۔

میرے نزدیک خود کش حملے مظلوم اور بے بس قوموں کے لیے حالتِ جنگ میں آخری ہتھیار کی حیثیت رکھتے ہیں اور باغیرت قوموں نے ہر دور میں آزادی کے حصول اور عزت و وقار کے تحفظ کے لیے یہ ہتھیار استعمال کیا، البتہ غیر متعلقہ لوگوں اور سول آبادی کے خلاف کسی بھی ہتھیار کے استعمال کو میں جائز نہیں سمجھتا اور خود کش حملے سمیت کسی بھی ہتھیار کو سول آبادی میں خوف و ہراس پھیلانے کے لیے استعمال کرنا میرے نزدیک درست نہیں ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter