کار فنانسنگ اور اسلامی نظریاتی کونسل

   
تاریخ : 
دسمبر ۲۰۰۳ء

روزنامہ جنگ لاہور ۳ نومبر ۲۰۰۳ء میں شائع شدہ ایک خبر کے مطابق اسلامی نظریاتی کونسل نے حکومت سے سفارش کی ہے کہ کار فنانسنگ اسراف کی حوصلہ افزائی ہے اس لیے حکومت اس پر پابندی لگائے۔ اسلامی نظریاتی کونسل کا کہنا ہے کہ شریعت نے بلا ضرورت قرض لینے سے منع کیا ہے جبکہ کنزیومر بینکنگ اور کار فنانسنگ کے پروگرام بلا ضرورت قرضوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں، اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ کنزیومر بینکنگ کو شخصی قرضوں کا ذریعہ بنانے کی بجائے ملکی صنعت کے فروغ کے لیے کام میں لائے۔

کار فنانسنگ کی اسکیم غالباً مغربی ملکوں بالخصوص امریکہ کے اس نظام سے لی گئی ہے جس کے تحت کوئی بھی شہری مکان، گاڑی یا کسی اور ضرورت کے لیے قرضہ لے سکتا ہے جو اسے آسانی سے مل جاتا ہے۔ لیکن اس کے بعد اس کی زندگی ان قرضوں کی قسطیں ادا کرتے گزر جاتی ہے کیونکہ سود در سود کے سسٹم کے تحت وہ قرضہ مسلسل بڑھتا رہتا ہے اور ایک طویل عرصہ تک اس کی قسطوں کی ادائیگی کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔

جہاں تک بنیادی ضروریات کا تعلق ہے ان کے لیے حکومت یا بینک کی طرف سے شہریوں کو قرضے کی فراہمی ایک اچھی بات ہے بشرطیکہ وہ غیر سودی ہو اور اس کی وصولی آسان اقساط میں کی جائے۔ مگر کار (گاڑی) بنیادی ضروریات میں شامل ہے یا نہیں، یہ بات بحث طلب ہے، اور ہمارے خیال میں اسے مطلقاً ضروریات سے خارج کرنا شاید مناسب نہ ہو کیونکہ اس کا انحصار حالات پر ہے۔ بعض حالات اور مواقع کے حوالہ سے یہ کسی شہری کی ضروریات میں شامل ہو گی اور بعض حالات میں یہ زائد از ضرورت اسراف کی مد میں شامل ہو جائے گی۔

البتہ اسلامی نظریاتی کونسل کی اس بات سے ہمیں اتفاق ہے کہ قرضوں کے اجرا میں شخصی قرضوں کی بجائے صنعت و تجارت کے حوالہ سے قرضوں کی پالیسی کو ترجیح دی جائے کیونکہ اس سے لوگوں کی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں گی اور رقوم کسی ترقیاتی کام میں بھی صرف ہوں گی، مگر یہ قرضے غیر سودی ہونے چاہئیں۔ ویسے اسلامی نظام میں تو ان قرضوں کی بھی کوئی ضرورت نہیں ہے اس لیے کہ شرعی نظام میں شہریوں کی بنیادی ضروریات بیت المال کی ذمہ داری ہوتی ہیں، اور بیت المال ان ضروریات کو قرض کے ذریعہ نہیں بلکہ وظیفہ اور امداد کی صورت میں پوری کرتا ہے۔ مگر اس کے لیے ضروری ہے کہ اسلامی اصولوں کے مطابق بیت المال کا نظام قائم ہو، ملک میں دولت کے وسائل کی شریعت کے مطابق تقسیم ہو، طبقاتی معاشرت اور معیشت کا نظام ختم کیا جائے، اور زکوٰۃ و عشر کا مکمل نظام ایک نظریاتی اسلامی حکومت کے زیر انتظام قائم ہو۔ اگر ایسا ہو جائے تو شہریوں کو اپنی ضروریات کے لیے کسی سے قرض مانگنے کی ضرورت نہیں رہے گی بلکہ بیت المال خودبخود ان کی ضروریات پوری کرتا رہے گا۔

   
2016ء سے
Flag Counter