خواتین کے بارے میں امتیازی قوانین

   
۱۳ مارچ ۲۰۰۴ء

گزشتہ دنوں خواتین کے حقوق کا دن عالمی سطح پر منایا گیا۔ پاکستان میں بھی مختلف تقریبات ہوئیں، بعض مقامات پر خواتین نے اپنے حقوق اور مطالبات کے لیے مظاہرے کیے اور خواتین کے ساتھ ہونے والی مبینہ زیادتیوں کے بارے میں سالانہ رپورٹیں سامنے آئیں۔ ان رپورٹوں اور مطالبات میں بطور خاص جس بات پر زور دیا گیا وہ خواتین کے بارے میں امتیازی قوانین ہیں، جن کے خاتمہ کا مطالبہ ہوا اور مقتدر حضرات نے ان قوانین کی منسوخی کے وعدے کیے۔ چنانچہ ایک قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلامی جمہوریہ پاکستان کے وزیر اعظم میر ظفر اللہ خان جمالی نے پارلیمنٹ ہاؤس میں پارلیمنٹرینز حقوق انسانی کمیشن کے وفد سے ملاقات کے دوران یہ وعدہ کیا کہ حکومت خواتین کو تمام شعبوں میں ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے گی اور تمام امتیازی قوانین ختم کر دیے جائیں گے۔ اس وفد نے قومی اسمبلی کے ارکان جناب ریاض فتیانہ اور محترمہ کشمالہ طارق کی قیادت میں وزیر اعظم سے ملاقات کی ہے۔

اس کے ساتھ ہی وفاقی پارلیمانی سیکرٹری برائے بہبود آبادی ڈاکٹر دونیا عزیز نے اسلام آباد میں پاکستان انٹرنیشنل ہیومن رائٹس آرگنائزیشن کے زیر اہتمام منعقدہ ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ خواتین کے خلاف امتیازی قوانین ختم کرنے کے لیے قانون سازی کی جائے گی۔ انہوں نے اس موقع پر کہا کہ دنیا کا کوئی مذہب اور قانون خواتین سے امتیازی سلوک روا رکھنے کی اجازت نہیں دیتا۔

خواتین کے خلاف امتیازی قوانین کے خاتمہ کی یہ مہم مغرب کے اس تصور پر مبنی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ مرد اور عورت تمام معاملات میں یکساں اور برابر ہیں اور ان کے درمیان قوانین اور احکام میں بھی برابری اور یکسانیت قائم کرنا ضروری ہے۔ چنانچہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر میں اس بات کا عہد کیا گیا ہے کہ

’’مردوں اور عورتوں کے درمیان تمام معاملات میں برابری قائم کی جائے گی اور اجتماعی زندگی کے معاملات میں جنس کی بنیاد پر کوئی فرق روا نہیں رکھا جائے گا۔‘‘

اس منشور اور عہد نامہ پر اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کے دستخط ہیں اور اسی وجہ سے اقوام متحدہ کے مختلف اداروں، انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں اور این جی اوز کی طرف سے ایسے قوانین کی مسلسل نشاندہی کی جاتی ہے جو ان کے نقطہ نظر میں مرد اور عورت کی مساوات کے اصول سے مطابقت نہیں رکھتے اور مختلف ممالک میں موجود ایسے قوانین کے خاتمہ کے مطالبات مسلسل سامنے آتے رہتے ہیں۔

اس سلسلہ میں اس مثال سے بات زیادہ واضح ہو گی کہ ہمارا برادر مسلم ملک ترکی جو پون صدی سے یورپی یونین کی رکنیت حاصل کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے اور اس کے لیے اس نے اسلامی خلافت، شرعی نظام، اسلام کے ریاستی کردار اور قرآن و سنت کے قوانین و ضوابط تک کی قربانی دے ڈالی ہے جو صدیوں سے ترکی میں رائج تھے، لیکن چند سال قبل یورپی یونین کی طرف سے اس سب کچھ کے باوجود یہ شرط عائد کر دی گئی کہ ترکی کے قوانین میں مرد کو کنبہ کا سربراہ تصور کیا جاتا ہے، جو مرد اور عورت کی مساوات کے خلاف ہے اور امتیازی قانون ہے۔ چنانچہ اخباری اطلاعات کے مطابق ترک پارلیمنٹ کو اس مذکورہ قانون کے خاتمہ کا فیصلہ کرنا پڑا۔ مگر اس کے باوجود ترکی یورپی یونین کی رکنیت سے نہ صرف ابھی تک محروم ہے، بلکہ مستقبل قریب میں بھی اس بات کے کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے کہ ترکی کو ایک مسلم ملک کی بجائے یورپی ملک قرار دے کر یورپی یونین کی رکنیت دی جا سکے گی۔

اس پس منظر میں جب مسلم ممالک کے بعض حکمرانوں کی طرف سے عورتوں کے بارے میں امتیازی قوانین کے خاتمہ کی بات سامنے آتی ہے تو ہمیں ان پر ترس بھی آتا ہے اور ہنسی بھی۔ ترس اس لیے کہ برادر مسلم ملک ترکی کے ساتھ مغربی ممالک کے طرز عمل اور سلوک کو کھلی آنکھوں دیکھتے ہوئے بھی وہ اسی کے نقش قدم پر چلنا چاہ رہے ہیں اور ہنسی اس لیے کہ وہ جب یہ کہتے ہیں کہ ہم خواتین کے بارے میں تمام امتیازی قوانین ختم کر دیں گے تو خود انہیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ وہ کون کون سے قانون کے خاتمہ کا وعدہ کر رہے ہیں اور کیا ان قوانین کا ختم کرنا ان کے بس میں بھی ہے؟

اس پس منظر میں آج کی محفل میں ہم چند ایسے قوانین و احکام اور روایات و اقدار کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں جو مرد اور عورت کے درمیان فرق روا رکھتے ہیں اور اس بنیاد پر امتیازی قوانین کے زمرے میں آتے ہیں۔ انہیں ہم آسانی کے لیے چار حصوں میں تقسیم کریں گے: (۱) طبعی (۲) مذہبی، (۳) معاشرتی اور (۴) دستوری و قانونی۔

طبعی قوانین سے مراد مرد اور عورت کی تخلیق اور جسمانی صلاحیتوں کا وہ فرق ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تکوینی طور پر طے شدہ ہے اور جس میں رد و بدل کا کوئی امکان نہیں ہے۔ مثلاً:

  • مرد کی نفسیات اور جسمانی صلاحیتوں کی بنیاد افعالیت اور اقدام پر ہے اور عورت کی نفسیات اور جسمانی صلاحیتیں انفعالیت اور قبولیت پر مبنی ہیں۔
  • مرد میں تحفظ فراہم کرنے کا جذبہ اور صلاحیت ہے اور عورت میں تحفظ حاصل کرنے کی خواہش ہے۔
  • بچے کو جنم دینا عورت کا کام ہے، مرد اس ذمہ داری سے فارغ ہے۔
  • بچے کو دودھ پلانا اور اس کی پرورش کرنا عورت ہی کر سکتی ہے، یہ کام مرد کے بس میں نہیں ہے۔
  • گھر کی چار دیواری کے اندر کے کاموں میں فطری طور پر عورت کو زیادہ دلچسپی ہوتی اور وہی یہ کام بہتر طور پر کر سکتی ہے، جبکہ مرد عام طور پر ان کاموں میں پھسڈی ثابت ہوتا ہے۔
  • گھر سے باہر کے کام خاص طور پر محنت و مشقت کے کام مرد ہی صحیح طور پر سرانجام دے سکتا ہے اور عورت میں یہ صلاحیت نہیں رکھی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ خود مغرب میں جو مرد اور عورت کی برابری کا دعویدار ہے، اس سال کی عالمی رپورٹوں کے مطابق قومی زندگی کے مختلف شعبوں میں عورت کی شرکت کا تناسب گیارہ فی صد سے نہیں بڑھ سکا۔

وہ چند امور ہیں جو فطری اور طبعی ہیں، جن میں کسی علاقہ، مذہب یا قوم کی کوئی تخصیص نہیں اور اس حوالہ سے ساری دنیا کی صورت حال تھوڑے بہت فرق کے ساتھ تقریباً یکساں ہے۔ جبکہ مذہبی اور معاشرتی حوالہ سے دیکھیں تو ہمیں پارلیمانی سیکرٹری محترمہ دونیا عزیز کے اس دعویٰ پر تعجب ہوتا ہے کہ

’’دنیا کا کوئی مذہب اور قانون عورتوں کے بارے میں امتیازی قوانین کا روادار نہیں ہے۔‘‘

خدا جانے انہوں نے اس حوالہ سے دنیا کے کون سے مذاہب کا مطالعہ کیا ہے، جبکہ خود ان کا اپنا مذہب اسلام، جس کے ساتھ اپنی نسبت پر یقیناً انہیں فخر ہو گا، ان کے اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔ مثلاً عبادات کے حوالہ سے ہی دیکھ لیجئے:

  • نماز میں امامت مرد کا حق ہے، عورت کے لیے یہ حق تسلیم نہیں کیا گیا۔
  • جمعہ اور عیدین کا خطبہ مرد دیتا ہے، عورت کو اس کی اجازت نہیں ہے۔
  • مرد پورا مہینہ نماز پڑھنے کا پابند ہے، جبکہ عورت کے چند ایام ہر ماہ اس سے مستثنیٰ ہوتے ہیں۔
  • روزے میں بھی یہی صورت حال ہے کہ زیادہ عورتیں پورے ماہ کے روزے نہیں رکھ پاتیں اور کچھ روزے انہیں بعد میں قضا کرنا پڑتے ہیں۔
  • حج میں مرد کا احرام الگ ہے اور عورت کا احرام الگ ہے اور عورت محرم یا شوہر کے بغیر حج اور عمرہ کا سفر تنہا نہیں کر سکتی۔
  • مرد جہاد میں حسبِ ضرورت شرکت کا پابند ہے، مگر عورت اس سے اکثر صورتوں میں مستثنیٰ ہے۔

معاشرتی طور پر معاملہ کا جائزہ لیں تو بھی عورتوں اور مردوں کے بارے میں ایسے واضح امتیازات دکھائی دیتے ہیں جو نہ صرف امت کے اجماعی تعامل کے ساتھ صدیوں سے آ رہے ہیں، بلکہ قرآن و سنت کے واضح ارشادات ان کی پشت پر موجود ہیں۔ مثلاً:

  • عورتوں اور مردوں کے مخلوط اجتماعات کی اجازت نہیں ہے اور اگر کسی جگہ مردوں کے اجتماع میں عورت کی شمولیت ضروری ہو جائے تو اس کے لیے حدود اور شرائط ہیں اور ایسے مواقع پر حجاب کی پابندی کا یہ عالم ہے کہ ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کا جس سفر میں ہار گم ہو گیا تھا اور وہ اس کی تلاش کی وجہ سے قافلہ سے بچھڑ گئی تھیں، اس میں حضرت عائشہؓ کا کجاوہ اٹھا کر اونٹ پر رکھنے والوں کو یہ تک پتہ نہ چل سکا کہ ام المؤمنینؓ اندر موجود بھی میں یا نہیں۔ وہ کجاوہ اونٹ پر رکھ کر چل دیے اور اگلی منزل پر پہنچ کر پتہ چلا کہ حضرت ام المومنینؓ تو کجاوہ کے اندر موجود ہی نہیں ہیں۔
  • اسلام نے عورت کو کسی ایسی ملازمت کی اجازت نہیں دی، جس میں وہ پردہ کی شرعی حدود کی پابندی نہ کر سکے اور دیگر شرائط کا لحاظ نہ رکھا جا سکے۔
  • اسلام نے عورت کے لیے زیبائش و آرائش کے ضابطے گھر کی چار دیواری کے اندر الگ رکھے ہیں اور پبلک مقامات پر اس کی الگ حدود بیان کی ہیں۔
  • نکاح و طلاق اور خاندانی قوانین کے بارے میں قرآن کریم نے مرد اور عورت کے درمیان واضح فرق قائم رکھا ہے۔ خاندان کا سربراہ مرد ہے، جبکہ عورت اس کی معاون ہے۔ اسی طرح طلاق کا اختیار مرد کے پاس ہے اور عورت کو طلاق کا براہ راست اختیار نہیں دیا گیا۔
  • وراثت کے قوانین قرآن کریم نے صراحت کے ساتھ بیان کیے ہیں اور ان میں بیشتر مقامات پر عورت اور مرد کا حصہ برابر نہیں اور اس وجہ سے کہ عورت پر مالی ذمہ داریاں نہ ہونے کے برابر ہیں قرآن کریم نے وراثت کی بہت سی صورتوں میں اس کا حصہ مرد سے کم رکھا ہے، جو کسی مجتہد کے اجتہاد پر مبنی نہیں بلکہ قرآن کریم نے اس کی خود صراحت کی ہے۔
  • گھریلو اخراجات کی ذمہ داری مرد پر عائد کی گئی ہے اور اسلام نے یہ سوجھ بوجھ عورت پر نہیں ڈالا۔
  • قرآن و سنت نے خاندانی نظام کا جو نقشہ دیا ہے اس میں واضح طور پر اس بات کی تقسیم ہے کہ گھر کی چار دیواری کے اندر کی ذمہ داریاں عورت کے سپرد ہیں اور بیرونی ذمہ داریوں کا ذمہ دار مرد کو قرار دیا گیا ہے۔

قانونی اور دستوری حوالہ سے دیکھا جائے تو وہاں بھی صورت حال اس سے مختلف نظر نہیں آتی۔ اس لیے کہ

  • اسلام نے عورت کو حاکم وقت کی ذمہ داریوں کے لیے اہل قرار نہیں دیا۔
  • عورت فوجی ذمہ داریوں سے مستثنیٰ ہے۔
  • بہت سے معاملات میں عورت کی گواہی کو مرد کی گواہی کے برابر تسلیم نہیں کیا گیا، وغیرہ

یہ چند امور ہیں جن کی نشاندہی ہم نے کی ہے کہ یہ وہ قوانین ہیں جو قرآن و سنت اور فقہ اسلامی کی روشنی میں ہمارے معاشرہ اور دستور و قوانین میں موجود ہیں۔ ان کے علاوہ اور بھی بہت سے امور ہیں جن کی نشاندہی کی جا سکتی ہے اور یہ وہ امور ہیں جن کی پشت پر قرآن کریم ہے، سنت رسولؐ ہے، صحابہ کرامؓ اور خلافت راشدہ کا تعامل ہے اور چودہ صدیوں سے امت کے جمہور علماء و عوام اس پر عامل چلے آ رہے ہیں۔ جبکہ یہ سب آج کے مغربی موقف اور اقوام متحدہ کے چارٹر اور اس کی مغربی تشریحات کی رو سے مرد اور عورت کی مساوات کے منافی ہیں، امتیازی قوانین ہیں اور انسانی حقوق کے معروف اور مروجہ نظام کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ ان میں سے بعض تو وہ طبعی اور فطری امور ہیں جن کا مغرب بھی کوئی حل پیش نہیں کر سکا اور نہ ہی مرد اور عورت کے اس طبعی اور فطری فرق کو ختم کرنا کسی کے اختیارات میں ہے۔

اسی وجہ سے اسلام کا موقف آج بھی یہ ہے کہ جب ہم مرد اور عورت کی خلقت، نفسیات، صلاحیتوں اور استعداد کے درمیان فطرت کے پیدا کردہ فرق کو ختم نہیں کر سکتے تو اس فرق کی بنیاد پر مرد اور عورت کی معاشرتی ذمہ داریوں میں منطقی طور پر پیدا ہو جانے والے فرق کو کیسے ختم کر سکتے ہیں؟ یہ ناممکن ہے، غیر منطقی اور غیر فطری ہے اور وقت اور صلاحیتیں ضائع کرنے کے مترادف ہے۔ مردوں اور عورتوں کے معاشرتی حقوق اور ذمہ داریوں کی وہی تقسیم فطری اور منصفانہ ہے جو ان کی فطری صلاحیتوں، تخلیقی امتیازات اور صلاحیتوں کے فرق کو تسلیم کر کے اس کی بنیاد پر کی جائے گی اور اسلام نے یہی راستہ اختیار کیا ہے۔ اسلام عورت پر کوئی ایسی ذمہ داری عائد نہیں کرتا جسے وہ سرانجام نہ دے سکے۔

مغرب میں بھی عملاً یہی صورت حال ہے اور سیاسی اور قانونی طور پر تمام تر بلند بانگ دعووں کے باوجود قومی زندگی کے شعبوں میں عورت کی شرکت مرد کے برابر کجا، اس کے چوتھے حصے کے برابر بھی نہیں ہے۔ جس کا تذکرہ عورتوں کے حوالہ سے ہر سال ان کے عالمی دن کے موقع پر پیش کی جانے والی رپورٹوں میں ہوتا ہے اور یہ تذکرہ مسلسل ہوتا ہی رہے گا، اس لیے کہ تمام معاملات میں مرد اور عورت کے درمیان برابری قائم کر کے اور مردوں اور عورتوں میں امتیاز کرنے والے تمام قوانین کا خاتمہ کرنے کا دعویٰ ایک سراب ہے اور سراب کے پیچھے بھاگنے والوں کو حاصل تو کبھی کچھ نہیں ہوا، البتہ سراب کی صورت میں آگے آگے بھاگنے والا صحرا اکثر اپنا تعاقب کرنے والوں سے جانوں کا نذرانہ ضرور وصول کر لیا کرتا ہے۔

ہمارے نزدیک اس سلسلہ میں مغرب کے مطالبات اور دباؤ کا حل یہ نہیں کہ ہم سوچے سمجھے بغیر اسے یہ مطالبہ پورا کرنے کا یقین دلاتے رہیں اور اپنے معاشرتی اور خاندانی نظام کے گرد شکوک و شبہات کی لکیریں کھینچتے چلے جائیں، بلکہ اس کا صحیح حل یہ ہے کہ ہم حوصلہ اور جرأت سے کام لیتے ہوئے مغرب کو ’’مرد اور عورت کی برابری‘‘ کے حوالہ سے اس کے موقف کی غلطی کی طرف توجہ دلائیں، اس کے بھیانک نتائج سے آگاہ کریں اور اس پر واضح کر دیں کہ محض اس کو خوش کرنے کے شوق میں ہم اپنے مذہبی قوانین اور معاشرتی اقدار سے دست بردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

ہم اس بات سے انکاری نہیں کہ ہمارے معاشرے میں عورت مظلومیت کا شکار ہے، اسے بہت سے جائز حقوق حاصل نہیں ہیں، اس پر مظالم اور اس کی حق تلفی کی بہت سی عملی صورتیں موجود ہیں اور وہ بہت سے حوالوں سے معاشرتی جبر کا شکار ہے، مگر یہ سب کچھ اسلام سے انحراف اور اسلامی تعلیمات سے روگردانی کا نتیجہ ہے۔ اس سے عورت کو نجات دلانا ضروری ہے اور اس کے حقوق کے لیے جدوجہد ہماری دینی ذمہ داری ہے، لیکن اس کے لیے مرد اور عورت میں تمام معاملات میں برابری قائم کرنے اور تمام امتیازی قوانین کے خاتمہ کے سراب کے پیچھے بھاگنے کی ضرورت نہیں۔ اس کا حل اسلام کے فطری اور منصفانہ نظام اور تعلیمات میں ہے اور اسلام کا فکر و فلسفہ ہی عورت کو اس کے جائز اور فطری حقوق سے بہرہ ور کر سکتا ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter