سورج اور چاند کی گردش کا اسلامی اعتبار

   
عثمانیہ میڈیا آفیشل
۳۰ دسمبر ۲۰۲۲ء

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ سال تین قسم کے ہیں۔ ایک شمسی اعتبار سے: جنوری، فروری، مارچ، سورج کی گردش کے حساب سے یہ سال۔ ایک قمری اعتبار سے: محرم، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، یہ چاند کی گردش کے اعتبار سے۔ ایک دیسی مہینوں کا: پوہ، ماگھ، بیساکھ، یہ ہمارے دیسی، موسموں کے اعتبار سے۔ ہمارے ہاں تینوں مروج ہیں۔ زمینداروں میں عام طور پہ یہ موسمی سال جو ہوتا ہے، یہ پوہ مہینہ ہے، یہ ماگھ کا ہے، یہ ہاڑ کا ہے، یہ جیٹھ کا ہے۔

ہمارے دینی حلقوں میں زیادہ تر ہجری چلتا ہے۔ ویسے قومی طور پر شمسی چلتا ہے۔ شمسی اور قمری سال میں تقریباً‌ دس دن کا فرق ہوتا ہے۔ سورج کا سال اور چاند کا سال، دس دن کا فرق ہوتا ہے۔ قمری سال دس دن چھوٹا ہے، وہ دس دن ہر سال پیچھے آتا رہتا ہے اور تقریباً‌ تینتیس سال میں ایک سال کا فرق پڑ جاتا ہے، یعنی شمسی تینتیس ہو گئے اور قمری چونتیس ہو گئے۔ یہاں فقہاء ایک مسئلہ بیان فرماتے ہیں کہ چونکہ زکوٰۃ قمری سال کے اعتبار سے ہے، اگر کوئی شخص شمسی اعتبار سے زکوٰۃ دیتا ہے، جنوری کے حساب سے، تو چونتیس سال میں ایک سال کی زکوٰۃ اس کی رہ جاتی ہے۔ اس لیے زکوٰۃ کا اعتبار قمری سال کے اعتبار سے ہو۔ یہ مسئلہ ہمارے فقہاء نے لکھا ہے کہ زکوٰۃ کا حساب محرم، صفر، رمضان، اس حساب سے کریں، سال کا حساب اس سے کریں، چونکہ تینتیس چونتیس سال میں ایک سال کا فرق پڑ جاتا ہے۔

ویسے سورج کی گردش اور چاند کی گردش، ان دونوں گردشوں سے ہمارا دینی معاملات کا تعلق ہے۔ ہماری نمازوں کا حساب سورج کی گردش کے ساتھ ہے: فجر کس وقت ہے، ظہر کس وقت ہے، عصر کس وقت ہے، مغرب کس وقت ہے، پورا سسٹم سورج کے آگے پیچھے چلتا ہے۔ سورج کی گردش کے ساتھ ساتھ ہماری نمازوں کے اوقات طے ہوتے ہیں اور ہماری سب سے بڑی عبادت نماز ہے۔

پھر ایک یہ بھی ہے کہ ہمارے عام طور پہ دنوں کا اعتبار ہوتا ہے قمری اعتبار سے، اوقات کا اعتبار ہوتا ہے شمسی اعتبار سے۔ مثلاً‌:

  • رمضان المبارک ہے، رمضان کب شروع ہو گا، کب ختم ہو گا، یہ قمری اعتبار سے ہے، چاند دیکھ کے کریں گے۔ لیکن روزے کا دورانیہ کتنا ہے، بارہ گھنٹے کا ہے، سولہ گھنٹے کا ہے، سترہ گھنٹے کا ہے، روزہ شروع کب کرنا ہے، ختم کب کرنا ہے، یہ سورج کے اعتبار سے ہے۔ ایک ہی عبادت ہے۔ دنوں کا تعین، لیلۃ القدر کب ہے، اکیسویں کب ہے، طاق راتیں کب ہیں، یکم رمضان کب ہے، یکم شوال کب ہے، یہ سارے دنوں سے متعلقہ معاملات کس سے طے ہوتے ہیں؟ چاند سے۔ لیکن روزے کا غروب کا وقت کونسا ہے، سحری کا وقت کونسا ہے، اور اس کا دورانیہ کتنا ہے، طلوعِ فجر کب ہو گی، یہ سارے اوقات سورج سے متعلق ہیں، سورج کی گردش کے ساتھ یہ سارے معاملات طے ہوتے ہیں۔
  • اسی طرح حج ہے، حج بھی بڑی عبادت ہے۔ حج میں ایام کا تعین چاند سے ہے۔ یہ ترویہ کا دن ہے، یہ عرفہ کا دن ہے، یہ یوم النحر ہے، یہ ایام تشریق ہیں، یہ ایام کا تعین چاند سے ہے۔ لیکن عرفات سے کب نکلنا ہے، رمی کب کرنی ہے، مزدلفہ میں کب جانا ہے، اعمال زیادہ تر متعلق سورج سے ہیں۔ ایام کا تعلق چاند سے ہے، اور اعمال کا تعلق زیادہ تر کس سے ہے؟ سورج سے۔ تو میں یہ دل لگی کے طور پہ عرض کیا کرتا ہوں کہ ہم ہجری سال کو تو اسلامی سال کہتے ہیں، اور شمسی سن کو ہم اسلامی سال نہیں کہتے، میں نے کہا یار سورج کو کب سے دائرہ اسلام سے خارج قرار دے دیا، وہ بھی ہمارا ہی ہے، وہ بھی مسلمان ہے۔ چاند بھی مسلمان ہے، سورج بھی مسلمان ہے، دونوں کے ساتھ ہماری عبادات متعلق ہیں۔

ہاں، ایک فرق ہے جو ہمیں ملحوظ رکھنا چاہیے۔ یہ ۲۰۲۲ء ہے نا، یہ عیسوی کہلاتا ہے۔ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ السلام کی ولادت کو ۲۰۲۱ سال ہو گئے ہیں، ۲۰۲۲واں سال شروع ہے۔ یہ میلادی کہلاتا ہے، عیسوی کہلاتا ہے۔ عیسوی اس اعتبار سے کہ یہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے شروع کیا گیا ہے، اس کا حساب، اور اس کا مطلب یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ الصلوٰۃ السلام کی ولادت کو ۲۰۲۱ سال گزر گئے ہیں اور ۲۰۲۲واں سال شروع ہے۔ اور ایک سوال میں یہ بھی کیا کرتا ہوں کہ دنیا میں آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے لمبی عمر کس کی ہے؟ ہم عام طور پر حضرت نوحؑ کی عمر زیادہ گنتے ہیں، چودہ سو سال۔ نہیں، حضرت عیسٰیؑ کی زیادہ ہے۔ ۲۰۲۱ سال تو ہو گئی ہے، اب اللہ کو کتنا منظور ہے، ہمارا عقیدہ ہے وہ حیات ہیں، آسمانوں پر ہیں، موت نہیں آئی، ’’ما قتلوہ و ماصلبوہ ولٰکن شبہ لہم‘‘ (النساء ۱۵۷)۔ وہ زندہ ہیں، موجود ہیں۔ ’’انہ لعلم للساعۃ‘‘ (الزخرف ۶۱) قیامت کی نشانیوں میں سے ہیں۔ تو آدم علیہ السلام کی اولاد میں سب سے لمبی عمر کس کی ہے؟ عیسیٰ علیہ السلام کی۔ یہ ۲۰۲۲واں سال ان کی عمر کا شروع ہو گیا ہے۔

اور ہجری سن، یہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے [شروع کیا تھا]۔ یہ ہمارے ہاں جمہور میں [نبی کریمؐ کی] ہجرت سے چلتا ہے، اس کو ہجری سن اس لیے کہتے ہیں۔ اس اعتبار سے ہم اسلامی کہہ دیتے ہیں، ٹھیک ہے، اس اعتبار سے ہجرت کو ۱۴۴۲ سال ہو گئے ہیں، ۱۴۴۳واں سال ہے۔ اس اعتبار سے اُس [شمسی سال] کا حساب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ولادت سے ہوتا ہے۔ اِس [ہجری سال] کا حساب [نبی کریمؐ کی] ہجرت سے ہوتا ہے۔

بعض علاقوں میں ولادت سے بھی ہوتا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجرت سے حضورؐ کی ولادت ۵۳ سال پہلے ہے۔ ۵۳ سال کے تھے جب حضورؐ نے ہجرت کی ہے۔ آپ مغرب کے ممالک میں چلے جائیں، لیبیا، مراکش وغیرہ، وہاں سنِ قمری جو ہے یہ میلاد سے چلتا ہے۔ ۱۴۴۳ کے ساتھ ۵۳ اور شامل کریں تو ہمارے ہاں یہ حساب بعض ممالک میں ہے۔ جمہور میں ہمارا ہجرت سے ہی ہے، ہجری ہے، لیکن وہ میلادی کہتے ہیں کہ جیسے عیسیٰ علیہ السلام کا ولادت سے ہے، یہ بھی ولادت سے ہے۔

بہرحال آج پہلا سال ہے، عیسیوی سن، شمسی سن۔ اور یہ بھی ایک حساب کتاب کا ’’لتعلموا عدد السنین والحساب‘‘ (یونس ۵)۔ قرآن پاک نے کہا ہے کہ سورج اور چاند کی گردش تمہارے حساب کتاب اور ایام کی اور اوقات کے تعین کا ذریعہ ہے۔ ’’لتعلموا عدد السنین والحساب‘‘ یہ اللہ پاک نے ایک سبب بنایا ہے اور اس سے ہم اپنے ایام کا تعین کرتے ہیں، اوقات کا تعین کرتے ہیں، دن کا تعین کرتے ہیں، رات کا تعین کرتے ہیں۔ تو یہ نئے سال کا آغاز ہوا ہے، اللہ پاک ہم سب کو یہ سال نیکی کے ساتھ، خیر کے ساتھ، سعادت کے ساتھ، عافیت کے ساتھ نصیب فرمائیں، اللھم صل علیٰ سیدنا محمدن النبی الامی وآلہ واصحابہ و بارک وسلم۔

https://youtu.be/V4s9wlObFt4

2016ء سے
Flag Counter