(جمعۃ المبارک کے بیان کا حالات و واقعات والا حصہ)
آپ حضرات نے اخبارات میں پڑھ لیا ہوگا کہ افغانستان کی اسلامی حکومت پر اقوامِ متحدہ کی ظالمانہ پابندیوں کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے، اور الحمد للہ ملک کے تمام دینی مکاتبِ فکر طالبان کی حمایت میں متحد ہیں۔ پرسوں دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک میں اجتماع تھا، میں خود بھی اس میں شریک ہوا تھا، اس میں تمام مکاتبِ فکر کے قائدین تشریف لائے، طالبان کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کیا، ان کی حمایت کا اعلان کیا، اور یہ اعلان کیا کہ تمام مکاتبِ فکر دیوبندی، بریلوی، اہلحدیث ہر شہر میں متحد ہوں گے، طالبان کی حمایت بھی کریں گے، طالبان کے خلاف اقدامات کی مذمت بھی کریں گے اور طالبان کے لیے امداد کی مہم بھی چلائیں گے۔ یہاں بھی ان شاء اللہ العزیز طالبان کی حمایت میں ایک کونسل بنے گی۔
سب سے پہلے تو ہم اس پر خوشی کا اظہار کرتے ہیں طالبان کی کرامت سے دینی مکاتب فکر ایک بار پھر متحد ہوئے ہیں۔ ہم کبھی کبھار متحد ہوتے ہیں۔ عام لوگوں کی بھی یہی شکایت ہوتی ہے کہ مولوی اکٹھے نہیں ہوتے۔ تو اس دفعہ ہمیں طالبان نے متحد کیا ہے، ان کی برکت سے دینی جماعتیں ایک فورم پر اکٹھے ہوئے ہیں، چنانچہ آپ حضرات اس کے لیے ذہنی طور پر تیار رہیں، ہم نے جہادِ افغانستان میں بھی اپنے افغان بھائیوں کی مکمل طور پر سپورٹ کی تھی، اب ان بے انصاف پابندیوں میں بھی ہم مکمل طور پر اُن کے ساتھ ہیں۔ ہم طالبان کے ساتھ ہیں، ان کی حمایت بھی کریں گے، جو ہمارے بس میں ہوا اُن کی امداد بھی کریں گے، تعاون بھی کریں گے۔ ہم مکلف اتنے ہی ہیں کہ اپنی استطاعت کی حد تک ان کے ساتھ معاونت کریں۔ اگر جہادِ افغانستان کی طرح ان کی پشت پر پاکستان کی قوم کھڑی ہو گئی تو دنیا کی کوئی طاقت طالبان کے عزائم کو شکست نہیں دے سکے گی۔
اس کے ساتھ میں ایک اور بات عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ہمارے حکمران پابندیوں کے تو خلاف ہیں، جب پابندیاں لگی تھیں تو ہمارے پاکستان کے نمائندے نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کہا تھا کہ یہ پابندیاں ظالمانہ ہیں۔ جنرل پرویز مشرف بھی کئی بار یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ پابندیاں انصاف کے خلاف ہیں، یہ اچھی بات ہے۔ بات یہ ہے کہ حق بات جب معلوم ہو جائے تو اس کے اظہار میں بخل نہیں کرنا چاہیے۔ میں آپ کی وساطت سے اپنے حکمرانوں سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ جب آپ یہ بات خود تسلیم کرتے ہیں کہ یہ پابندیاں ظالمانہ ہیں، تو پھر ظالم اور مظلوم میں سے آپ کو کس کا ساتھ دینا چاہیے؟ جب یہ بات آپ پر واضح ہے کہ یہ ظلم ہے، اس کے باوجود اگر آپ نے مظلوم کی بجائے ظالم کا ساتھ دینا شروع کیا تو آپ سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہو گا۔ یہ بالکل سیدھی سی بات ہے کہ اس وقت آپ سے بڑا ظالم کوئی نہیں ہوگا کہ یہ تسلیم کرتے ہوئے بھی کہ یہ پابندیاں ظلم ہیں، پھر ظالم کے کیمپ میں جا کر کھڑے ہو جائیں۔ آپ حضرات طالبان کے ساتھ کھڑے ہوں اور ان پابندیوں کو مسترد کرتے ہوئے افغان قوم کی مدد کریں۔

