پاکستان میں علماء کرام کا کردار

   
۲۴ نومبر ۲۰۰۷ء

گزشتہ ہفتے معروف ماہنامہ جریدہ ”قومی ڈائجسٹ“ کے مدیر محترم نے دو نشستوں میں میرا تفصیلی انٹرویو لیا، ماضی کی یادیں کریدیں، بہت سے نازک مسائل پر دکھتی رگوں کو چھیڑا، خاندانی پس منظر اور تعلیمی مراحل کے بارے میں سوالات کیے اور موجودہ صورتحال پر اظہار خیال کے لیے متعدد نکتے اٹھائے۔ تفصیلی انٹرویو تو ”قومی ڈائجسٹ“ میں ہی شائع ہو گا، البتہ اس کے بعض چیدہ چیدہ حصے اس کالم میں قارئین کی خدمت میں پیش کیے جا رہے ہیں۔

ایک سوال جمعیت علماء اسلام میں دھڑے بندی کے حوالے سے تھا، جس کے بارے میں عرض کیا کہ ایک دھڑے بندی تو ۱۹۷۰ء کے الیکشن سے قبل تھانوی گروپ اور ہزاروی گروپ کے عنوان سے سامنے آئی تھی۔ جس کا پس منظر یہ تھا کہ ۱۹۵۶ء میں جمعیت علماء اسلام پاکستان کی تنظیم نو اور اسے ملک بھر میں پھیلانے میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا غلام غوث ہزارویؒ نمایاں تھے اور ان کا تعلق تحریک پاکستان کے پس منظر میں جمعیت علماء ہند اور مجلس احرار اسلام سے تھا، جنہیں سیاسی زبان میں نیشنلسٹ علماء کے نام سے یاد کیا جاتا تھا۔ جبکہ جمعیت علماء اسلام کی سابقہ قیادت کا تعلق حضرت حکیم الامت مولانا تھانویؒ اور شیخ الاسلام مولانا شبیر احمد عثمانیؒ کے سیاسی فکر کے ساتھ تھا، اس لیے نیشنلسٹ علماء کے ہاتھوں جمعیت علماء اسلام کی تنظیمِ نو کا ردعمل ایک فطری بات تھی اور سیاسی فکر کا اختلاف بھی ایک امرِ واقعہ تھا، اس لیے تھانوی سیاسی مکتب فکر کے علماء کرام نے ۱۹۷۰ء کے الیکشن سے قبل مرکزی جمعیت علماء اسلام کے نام سے جماعت قائم کی۔ دوسری طرف مولانا غلام غوث ہزارویؒ کی شبانہ روز جدوجہد نمایاں تھی، اس لیے یہ تقسیم تھانوی گروپ اور ہزاروی گروپ کے عنوان سے متعارف ہوئی، لیکن مرکزی جمعیت علماء اسلام زیادہ دیر تک میدان میں نہ رہ سکی اور قومی سیاست میں علماء دیوبند کی نمائندگی کا پرچم ہزاروی گروپ کے ہاتھ میں رہا۔

دوسری دھڑے بندی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت قائم کرنے پر ہوئی۔ اس وقت کی سیاسی صف بندی میں حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ کا رجحان بھٹو کی طرف تھا اور وہ کسی قیمت پر جماعت اسلامی کے ساتھ کسی اتحاد میں شریک نہیں ہونا چاہتے تھے، دوسری طرف مولانا مفتی محمودؒ بھٹو کے خلاف جماعت اسلامی سمیت تمام دینی اور سیاسی جماعتوں کے ساتھ مل کر مضبوط سیاسی محاذ بنانے کے خواہش مند تھے، جس پر مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے الگ ہو کر نئی جمعیت بنا لی اور جمعیت میں دوبارہ دھڑے بندی کی صورتحال سامنے آ گئی۔

تیسری بار جمعیت علماء اسلام کی تقسیم مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کی وفات کے بعد ہوئی، جب جمعیت علماء اسلام پاکستان کے امیر مولانا عبد اللہ درخواستیؒ نے پیپلز پارٹی کے ساتھ ایم آر ڈی کے سیاسی اتحاد میں شمولیت سے انکار کر دیا اور مولانا فضل الرحمٰن کی بجائے مولانا عبید اللہ انور رحمہ اللہ کو مولانا مفتی محمودؒ کے جانشین کے طور پر جمعیت کا سیکرٹری جنرل بنا دیا تو ان دو مسئلوں پر اختلاف کے باعث جمعیت علماء اسلام پھر تقسیم ہو گئی۔ ایک طرف کو درخواستی گروپ کہا گیا اور دوسری طرف کو فضل الرحمٰن گروپ کے نام سے پہچانا گیا۔

اس کے بعد پھر ایک مرحلہ آیا کہ ۱۹۹۰ء میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ اور مولانا فضل الرحمٰن کے درمیان صلح ہو گئی اور جمعیت کو دوبارہ اس طور پر متحد کر دیا گیا کہ امیر مولانا درخواستیؒ اور سیکرٹری جنرل مولانا فضل الرحمٰن کو چنا گیا، جبکہ ایم آر ڈی اس وقت تک تحلیل ہو چکی تھی، اس لیے وہ اختلاف اب باقی نہ رہا تھا۔ لیکن اس موقع پر مولانا سمیع الحق نے، جو اس سے قبل حضرت مولانا عبد اللہ درخواستیؒ کی امارت میں کام کرنے والے درخواستی گروپ کے سیکرٹری جنرل تھے، اس اتحاد کو قبول نہ کرتے ہوئے ”سمیع الحق گروپ“ کے نام سے الگ جمعیت علماء اسلام قائم کر لی، جو اب تک اسی عنوان سے کام کر رہی ہے۔

اس دوران میری صورتحال یہ رہی ہے کہ میں ۱۹۶۳ء میں جب جمعیت علماء اسلام کا ممبر بنا تو اس وقت جمعیت کے امیر مولانا عبد اللہ درخواستیؒ تھے، اس کے بعد سے ان کی وفات تک میں انہی کے ساتھ رہا اور جمعیت کے جس دھڑے میں وہ رہے، میں بھی اس میں شامل رہا۔ ان کی وفات کے بعد، بلکہ ان کی زندگی کے آخری ایام میں میں نے انتخابی سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی، البتہ بدستور اسی جمعیت کا ”غیر فعال“ رکن ہوں، جس کے وہ آخر وقت تک امیر رہے ہیں۔

جہادِ افغانستان اور اس کے بعد کی صورت کے بارے میں ایک سوال پر میں نے عرض کیا کہ سوویت یونین اور چین میں کمیونسٹ حکومتوں کے قائم ہو جانے کے بعد دنیا میں ان کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے مغربی طاقتوں کا خیال یہ تھا کہ جنوبی ایشیا میں صرف مذہب ہی اس کے راستے میں رکاوٹ بن سکتا ہے، اس لیے اسی حوالے سے کمیونزم کو جنوبی ایشیا میں آگے بڑھنے سے روکنے کی حکمت عملی اختیار کی گئی۔

چین کا سوشلزم تو اپنی حدود میں بند رہا اور اس نے پھیلاؤ کی پالیسی اختیار نہیں کی، البتہ روس نے سوشلزم کو دنیا بھر میں پھیلانے کے لیے پورا زور صرف کیا اور اس سے سب سے زیادہ وسطی ایشیا کی مسلم ریاستیں، مشرقی یورپ اور بالٹیک ریاستیں متاثر ہوئیں۔ جنوبی ایشیا میں کمیونزم کے خلاف فکری محاذ کی قیادت مولانا مودودی نے کی اور پاکستان کی قومی زندگی کے کم و بیش ہر شعبے میں کمیونزم کے خلاف تحریک کو منظم کیا۔ ہم لوگ جو نیشنلسٹ علماء یا ان کی باقیات کہلاتے تھے، اس کشمکش میں تحفظات رکھتے تھے۔

کمیونزم اور سرمایہ دارانہ نظام کی اس باہمی کشمکش میں ایک طرف روس تھا، جو سوشلزم کا علمبردار تھا اور دوسری طرف امریکا تھا، جسے ہم اسی برطانوی استعمار کا تازہ دم جانشین سمجھتے تھے، جس کے خلاف ہم نے ڈیڑھ سو سال تک جنگ لڑی تھی۔ اس لیے ہم ایک عرصہ تک روس کے خلاف اس جنگ میں امریکا کے ساتھ فریق بننے کے لیے تیار نہیں ہوئے، بلکہ امریکا کی مخالفت میں اس قدر پیش پیش تھے کہ ہمیں ”سوشلسٹ علماء“ کہا جانے لگا۔

البتہ جب سوویت یونین نے وسطی ایشیا کی ریاستوں سے آگے بڑھ کر افغانستان کی طرف پیشرفت کی تو ہم نے روسی جارحیت کے خلاف افغانستان کے علماء کرام کے فتویٰ جہاد کی تائید کی اور ان کا بھرپور ساتھ دیا، جس سے ہمارا سیاسی کیمپ تبدیل ہو گیا۔ حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی رحمہ اللہ نے قبائلی علاقوں کا طوفانی دورہ کر کے اس علاقہ کے لوگوں کو افغان مجاہدین کی حمایت کے لیے تیار کیا اور حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ نے افغان علماء اور عوام کی اس جنگ کو کھلم کھلا جہاد قرار دے کر اس کی حمایت اور پشت پناہی کی۔ اور میرے خیال میں حضرت مولانا غلام غوث ہزاروی رحمہ اللہ کا ان بزرگوں کے ساتھ ایک اختلاف یہ بھی تھا کہ وہ اس جنگ میں سابقہ پوزیشن پر قائم رہنا چاہتے تھے اور اسے امریکا اور روس کی جنگ قرار دے کر اس میں فریق بننے کے لیے تیار نہیں تھے۔

ایک سوال یہ ہوا کہ سوشلزم سے تو سرمایہ داروں کو خطرہ تھا اور سرمایہ دارانہ نظام اس کی زد میں تھا، علماء کرام اس میں کیوں فریق بن گئے؟ میں نے عرض کیا کہ یہ بات درست ہے کہ سوشلزم سے سرمایہ دارانہ اور جاگیر دارانہ نظام کو خطرہ تھا، لیکن دینی حلقوں کو بھی براہ راست خطرہ لاحق تھا۔ اس لیے کہ روس نے وسطی ایشیا کی مسلم ریاستوں پر قبضے کے بعد وہاں کی مساجد و مدارس اور دینی حلقوں کے ساتھ جو کچھ کیا تھا وہ ہمارے سامنے تھا اور ہم اس بات کا خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے کہ روس وہی کچھ افغانستان میں بھی کرے اور پھر پاکستان میں بھی ہمارے ساتھ اس کا وہی معاملہ ہو۔ چنانچہ حضرت مولانا مفتی محمود رحمہ اللہ کھلے بندوں یہ کہا کرتے تھے کہ

”ہم جہادِ افغانستان کی حمایت کر کے اصل میں پاکستان کے دفاع کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ اس لیے کہ روس کی نظر پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان پر ہے، وہ اس راستے سے گرم پانی تک پہنچتا چاہتا ہے اور ہم اسے افغانستان سے پیچھے روک دینا چاہتے ہیں۔“

نیشنل ازم کے حوالے سے ایک سوال پر میں نے عرض کیا کہ ہمیں ”نیشنلسٹ علماء“ کا طعنہ دیا جاتا ہے اور یہ بلاوجہ نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے بزرگوں نے برطانوی استعمار کے خلاف آزادی کی سیاسی جنگ ”نیشنلزم“ کے نام سے لڑی ہے، اس لیے کہ اگر اس جنگ میں مسلمان، ہندو اور دوسری اقوام متحد نہ ہوتیں تو آزادی کی تحریک آگے نہیں بڑھ سکتی تھی۔ اسی طرح ہم نے جمال عبد الناصر مرحوم کے ”عرب نیشنلزم“ کے نعرے کی حمایت کی ہے، اس لیے کہ وہ اس نعرے کے ساتھ مغربی استعمار کے مقابل کھڑے تھے اور برطانوی استعمار اور اس کے جانشین امریکی استعمار کے خلاف لڑنے والے کسی بھی مسلمان گروہ اور حلقے کے لیے ہماری ہمدردی ایک فطری بات تھی۔

البتہ یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ہم نے نیشنلزم کو کبھی نظریہ اور اصول کے طور پر قبول نہیں کیا، بلکہ ہمیشہ ہتھیار اور حکمت عملی کے طور پر اسے اختیار کیا ہے۔ ترکی کا نیشنلزم اسلام کے خلاف تھا ہم نے اس کی حمایت نہیں کی، شریف مکہ حسین کا عرب نیشنلزم خلافت عثمانیہ کے خلاف تھا، ہم نے اس کا ساتھ نہیں دیا تھا، البتہ جمال عبد الناصر کا عرب نیشنلزم مغربی استعمار کے خلاف تھا اس لیے ہم نے اس کی بھرپور حمایت کی ہے۔

اس طرح کے اور بھی بہت سے چبھتے ہوئے سوالات کے جواب میں معروضات پیش کیں اور اپنے نقطہ نظر کی وضاحت کی، جن کی تفصیلات کا یہ کالم متحمل نہیں ہے۔

   
2016ء سے
Flag Counter